Saturday, 06 June 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Haider Javed Syed
  4. Gilgit Baltistan Ki Intikhabi Muhim, Kon Kya Bech Raha Hai?

Gilgit Baltistan Ki Intikhabi Muhim, Kon Kya Bech Raha Hai?

ہماری رائے ہر گزرنے والے لمحے کے ساتھ پختہ ہوتی جارہی ہے کہ انڈس ویلی (آج کا پاکستان) کا سماج اپنے اصل سے کٹ چکا۔ آپ اس رائے سے اختلاف کا حق رکھتے ہیں اختلاف رائے پر دلیل کے ساتھ مکالمہ اٹھانا ہی کسی سماج کا حُسن اور تعارف ہوتا ہے۔ آپ اپنے چار اور نگاہیں دوڑا کر دیکھ لیجے کیا ہمارے ہاں برداشت تحمل مکالمے اور جُڑت کو دوام حاصل ہے یا عدم برداشت نفرت فتوے بازی غداری کے سرٹیفیکٹ کے اجرا کا دور دورہ ہے؟

سوال تلخ ہے مگر جواب کی کھوج بہت ضروری ہے۔ آپ گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کیلئے جاری انتخابی مہم کے جلسوں میں ہونے والی تقاریر کو دیکھ لیجے مثلاً گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے رہنماوں نے ایک جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 7 جون کو گلگت بلتستان کے عوام فیصلہ کریں گے کہ انہیں گلگت بلتستان کو کراچی کی طرح کھنڈر بنانا ہے یا پنجاب جیسی ترقی چاہئے۔

تحریک انصاف کے سربراہ بیرسٹر گوہر علی خان نے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو اتنا دیوار سے نہ لگائیں کہ وہ اسمبلیوں اور سینیٹ سے مستعفی ہوکر سسٹم سے باہر نکل جائے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری اپنی بہن آصفہ بھٹو کے ہمراہ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کیلئے انتخابی مہم چلارہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز غذر میں منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ن لیگ پنجاب کے حقوق کا سودا کرنے کو تیار ہے وہ جی بی کو کیا دیگی۔ آصفہ بھٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی عوام کا ساتھ نہیں چھوڑا ایک کالعدم مذہبی تنظیم کے سیاسی ایڈیشن راہ حق پارٹی کے امیدواروں کی انتخابی مہم حسبِ سابق سخت گیر خیالات اور نعروں کے سہارے جاری ہے۔

دو دوسری مذہبی سیاسی جماعتیں مخالفوں کو کوسنے کے ساتھ اپنوں کو "دھونے" کے مشن پر ہیں۔

گلگت بلتستان کی انتخابی مہم میں مقامی مسائل اور دوسرے مقامی موضوعات پر پیپلز پارٹی کے علاوہ کچھ آزاد امیدوار یا یوں کہہ لیجے کہ ترقی پسند خیالات کے حامل امیدواروں کے حامی اظہار خیال کررہے ہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ بیرسٹر گوہر علی خان اور درجن بھر ارکان قومی اسمبلی کے علاوہ عثمان ڈار اپنی والدہ ریحانہ ڈار سمیت جی بی کی انتخابی مہم میں شریک ہیں۔

لیکن پی ٹی آئی کا حامی سوشل میڈیا مختلف کہانیاں فروخت کررہا ہے اور وہ خریدی بھی جارہی ہیں۔ جی بی کی انتخابی مہم کے نتائج جو بھی ہوں لیکن اس انتخابی مہم کے دوران کی گئی تقاریر اور دوسری باتوں کی وجہ مقامی سماجی وحدت میں جو دراڑیں پڑی ہیں انہیں بھرنے میں وقت لگے گا دشنام طرازری فرقہ وارانہ نعروں اور الزامات سے پیدا ہونے والی تلخیوں اور دوریوں کا کسی کو احساس ہے نہ ملال۔

ایران امریکہ جنگ سے پیدا شدہ مسائل اور سانحات بھی جی بی کی انتخابی مہم کا موضوع ہیں۔ کچھ مولوی صاحبان نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے خلاف ایران و اسلام دشمنی کے فتوے جاری کرتے ہوئے انہیں ووٹ دینے کو شہید ایرانی رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی فکر سے غداری قرار دے دیا ہے۔

مذہبی استعاروں کے استعمال سے لوگوں کے مذہبی جذبات بھڑکائے جارہے ہیں مذہبی و مسلکی جذبات بھڑکانے والے کیا اس امر سے لاعلم ہیں کہ اس کے مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

جی بی الیکشن کمیشن کا تحریک انصاف کو رجسٹریشن سے محروم رکھنا کسی بھی طرح درست فیصلہ نہیں لیکن تحریک انصاف کے راہنما بھی پورا سچ نہیں بول رہے۔ ان کی تقاریر زہر اور نفرت سے بھری ہوئی ہیں پی ٹی آئی کے پاکستان کے مختلف علاقوں سے جی بی پہنچے رہنما پاکستانی سیاست کا کوڑے دان ساتھ لئے پھرتے ہیں اور اس میں موجود کوڑا کرکٹ نکال نکال کر جی بی میں پھینکتے چلے جارہے ہیں۔

ایک طرف ایران کی حکمران قیادت ایران امریکہ مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو سہرا رہی ہے لیکن مسلکی و سیاسی طور پر ایران کی ہم خیال ایم ڈبلیو ایم کے قائدین اور امیدواران اس کے برعکس خیالات کا اظہار کرکے پتہ نہیں کس کی خدمت کررہے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایک جانب ایم ڈبلیو ایم کربلائی استعاروں کا استعمال کررہی ہے تو دوسری جانب وہ تحریک انصاف کیلئے "حق خدمت" ادا کرنے میں بھی کسر نہیں چھوڑ رہی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف جی بی کی قیادت نے ہی پی ٹی آئی کو رجسٹریشن نہ ملنے پر ایم ڈبلیو ایم کے انتخابی نشان پر انتخابات میں شرکت کو یکسر مسترد کردیا تھا۔ مسترد کیئے جانے کی جو وجہ بیان کی گئی وہ تقریباً وہی ہے جو پاکستان میں تحریک انصاف کی حمایت سے قومی و صوبائی اسمبلیوں کا انتخابات جیتنے والوں کی ایم ڈبلیو ایم کی پارلیمانی پارٹی کا حصہ بننے سے انکار کے وقت پیش کی گئی تھی۔

فرق اتنا ہے کہ تب پیش کار اسد قیصر علی محمد خان اور شاہد خٹک تھے اب پیش کار خالد خورشید (سابق وزیراعلیٰ جی بی) ہیں۔

گلگت بلتستان آزاد کشمیر کی طرح ہی پاکستان کے زیر انتظام علاقہ ہے اسے باقاعدہ صوبہ بنانے کا وعدہ کرنے والوں میں پیپلز پارٹی پیش پیش ہے دیگر جماعتیں بھی اپنے اپنے تئیں ایسی آئینی اصلاحات کی حامی ہیں جن سے جی بی پاکستان کا پانچواں باضابطہ صوبہ بن سکے لیکن اس تجویز کے ناقدین بھی بہرحال گلگت بلتستان میں موجود ہیں قوم پرستوں کے علاوہ سخت گیر مسلکی خیالات رکھنے والی مذہبی سیاسی جماعتوں میں سے بھی بعض صوبہ بنانے کی بجائے اختیارات میں اضافے کی حامی ہیں۔

بہر طور گلگت بلستان میں انتخابات 7 جون کو ہونے ہیں انتخابی مہم کا آج (پانچ جون) آخری دن ہے ماضی کی روایات کو دیکھا جائے تو آزاد کشمیر کی طرح گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھی بڑی کامیابی اسی جماعت کو ملتی ہے جو یہاں کے انتخابی عمل کے وقت وفاق پاکستان میں برسر اقتدار ہو۔ اس وقت وفاقی حکومت مسلم لیگ ن کی ہے طویل انتخابی مہم بھی مسلم لیگ ن نے ہی چلائی۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے شوہر کیپٹن ر محمد صفدر انتخابی شروع ہونے سے چند دن پہلے سے جی بی میں موجود ہیں۔ انتخابی جلسوں میں وہ پیپلز پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری پر طنز کے نشتر چلاتے ہوئے ان کی بازاری انداز میں خوب نقلیں اتار رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں نہ کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا سچ ہی ہے ہمزاد فقیر راحموں کے بقول سیاست دانوں کی زبان کے نیچے ایک اور زبان بھی ہوتی ہے وہ کب کونسی زبان استعمال کرے کوئی نہیں جان سکتا۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 جون سے شٹر ڈاون ہڑتال بھی چند دنوں کے فاصلے پر ہے۔ ایکشن کمیٹی نے لوگوں کو ابتداً ایک ماہ کا راشن گھروں میں جمع کرلینے کی اپیل کی ہے۔ ایکشن کمیٹی کے ہمدردوں اور مخالفین کے درمیان سستی بیان بازی اور الزامات کا تبادلہ جاری ہے۔ گزشتہ روز آزاد کشمیر کی حکومت نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے معاملے پر آئینی رہنمائی کے لئے ریاستی سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا ہے ان سطور کی اشاعت تک ابتدائی سماعت کے نتائج آچکے ہوں گے۔

ایکشن کمیٹی کا 38 نکاتی چارٹرڈ آف ڈیمانڈ ہے مگر اب لگتا ہے کہ سارا معاملہ مہاجرین کی 12 نشستوں کے گرد "گھومایا" جارہا ہے اسی دوران طرفین ایک دوسرے پر ایسے سخت الزامات بھی لگاتے دیکھائی دے رہے ہیں جن سے عمومی سماجی ماحول متاثر ہورہا ہے۔

آزاد کشمیر میں پاکستانی ریاست کو ہدف ملامت بنانے میں نئی نسل کے مختلف الخیال نوجوان ایکشن کمیٹی کے کچھ رہنما اور قوم پرست پیش پیش ہیں کچھ شکایات اور الزامات بڑی حد تک درست بھی ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ مسائل ہیں اور وہ سنگین ہوتے جارہے ہیں۔

کم از کم مجھے ایسا لگتا ہے کہ مسائل حل کرنے یا کرانے میں سنجیدگی کا عنصر کم ہے اور سیاست چمکانے کا شوق زیادہ مثلاً اگر مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر سپریم کورٹ سے ہی رجوع کرنا تھا تو یہ بات ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کے وقت کیوں نہیں کی گئی؟