Wednesday, 22 July 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Haider Javed Syed
  4. Aik Khatta Aur Neem Meetha Column

Aik Khatta Aur Neem Meetha Column

پاکستان کے زیرانتظام آزاد جموں کشمیر کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات کیلئے انتخابی مہم جاری ہے پیپلز پارٹی کے سربراہ بلال بھٹو راولا کوٹ کے شہریوں۔ کے حوالے وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے نامناسب بیان کو اپنی انتخابی مہم کا سرنامہ کلام بنائے گرج برس رہے ہیں (یاد رہے کہ خواجہ آصف کا خاندان جموں کا مہاجر اور مقیم سیالکوٹ ہے)۔ وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے گزشتہ روز جواب آں غزل چھیڑتے ہوئے کہا خواجہ آصف بارے بلاول کا رویہ اور طرز تکلم اچھا نہیں۔ وزیردفاع نے جواب نہیں دیا یہ اُن کی مہربانی ہے رانا ثنا نے یہ بھی کہا کہ بلاول کی تقاریر حالات کو خراب کرسکتی ہیں۔ ادھر بلاول نے ایک بار پھر وزیردفاع کو کابینہ سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ حالیہ دنوں میں خواجہ آصف اور مسلم لیگ ن کے قریبی سمجھے جانے والے چند صحافیوں اینکروں اور یوٹیوبرز نے صدر مملکت آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کو جس طرح رگیدا اور سیاسی تنہائی کا "طبلہ بجایا" بلاول آزاد کشمیر اسمبلی کی انتخابی مہم میں حساب چکتا کررہے ہیں۔

دوسری رائے یہ ہے کہ وفاقی سیاست کے اتحادی اندرونی طور پر شیروشکر ہیں انتخابی مہم کی ضرورتیں ہی نہیں میدان بھی مختلف ہوتے ہیں اس میدان سے اٹھتی دھول سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس رائے کے حاملین کا کہنا ہے ایک دو دن انتظار کیجے جب میاں محمد نواز شریف اور پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز یا ان کی کوئی نمائندہ مظفرآباد اور میرپور میں انتخابی جلسوں سے خطاب کریں گے تو پیپلز پارٹی کا حساب سود سمیت ادا کردیا جائے گا۔

آزاد کشمیر کی ریاستی اسمبلی کیلئے انتخابی مہم ریاست بھر کے ساتھ مہاجرین مقیم پاکستان کے حلقوں میں جاری ہے۔ آزاد کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے راولاکوٹ وغیرہ میں دھرنے بدستور جاری ہیں۔ انتخابی مہم کے دوتین ناخوشگوار واقعات کے علاوہ بھی کچھ واقعات ایسے ہوئے جن پر افسوس کیا جاسکتا ہے پیپلز پارٹی کے ایک رہنما کی انتخابی مہم کے دوران ٹھکائی اور نومولود استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر کے انتخابی قافلے پر فائرنگ کے واقعات کو نظرانداز کرنا مشکل ہے۔ اس سے بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اگر ایکشن کمیٹی نے پولنگ کے عمل کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کردی ایسا ہوا تو ریاستی اسمبلی کے چناو کی ساکھ پر حرف نہیں حروف آئیں گے اسی لئے سنجیدہ حلقے یہ اپیل کرتے رہے کہ پہلے ان مسائل و مطالبات کا حل نکالا جائے پھر انتخابات کروائے جائیں۔

فی الوقت صورت یہ ہے کہ انتخابی مہم میں شریک قدیم ریاستی جماعت مسلم کانفرنس ہو یا پاکستانی سیاسی جماعتوں کی ریاستی شاخیں ان سب کے قائدین اور امیدواران مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں کے معاملے پر ایکشن کمیٹی کے مطالبات کی تائید نہیں کررہے۔ مہاجرین مقیم پاکستان کا ایک حلقہ ایل اے 39 جموں 6 ہے یہ حلقہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے 24 اضلاع پر مشتمل ہے اس کے پنجاب میں لگ بھگ 37 ہزار اور خیبرپختونخوا میں 680 ووٹرز ہیں۔ خیبر پختونخوا کے تین علاقوں میں ایک ایک ووٹ پول کروانے کیلئےبیس افراد مشتمل انتخابی پر عملے کے تین پولنگ اسٹیشن ہوں گے۔ پنجاب سے ریاستی اسمبلی کی مہاجرین والی نشستوں پر مسلم لیگ ن کی دھواں دھار انتخابی مہم جاری ہے باردیگر عرض ہے مسائل مطالبات اور دھرنوں کی موجودگی پولنگ کے عمل کو ریاست کی حدود میں متاثر کرسکتی ہے۔

پاکستانی سیاست میں ہفتہ بھر سے مرکز نگاہ اور زیر بحث جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمٰن ہیں ان کی گزشتہ روز والی دوسری تقریر پہلی تقریر سے زیادہ سخت ہے البتہ اس تقریر (دوسری) کے حوالے سے ان کی خدمت میں یہ عرض کیا جاسکتا ہے کہ حضور کارگل و ایم ایم اے ایڈونچرز ہر دو کے بانی جنرل پرویز مشرف تھے وہی پرویز مشرف جنکے دور میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے چناو کا طریقہ کار تبدیل کردیا گیا تھا تاکہ ملا ملٹری الائنس (ایم ایم اے) کو فیض پہنچایا جاسکے۔

مولانا کو یاد ہی ہوگا کہ ایم ایم اے نامی اتحاد کی تخلیق میجر جنرل احتشام ضمیر کے دفتر میں ہوئی تھی اور خیبرپختونخوا (اس وقت صوبہ سرحد) میں اس کے امیدواروں کی انتخابی مہم دوریاستی محکموں کی گاڑیوں پر چلائی گئی، کسی سرکاری محکمہ کے سیاسی کردار پر بات اور تنقید غلط ہے کفر نہ غداری مگر کیا ماضی میں ان محکموں کی سہولت کاری کا فیض حاصل کرنے والوں کی تنقید پر یہ پوچھنا غلط ہوگا کہ بندہ پرور کیا آپ نے ماضی کے تعلقوں و تعاونوں سے فیض پانے پر قوم سے معذرت کی؟

یہاں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ مولانا کو سنجیدہ جواب دینے کی بجائے ان پر طاہر اشرفی جیسوں کو چھوڑ دینا ایک اور بلنڈر ہے جس کسی نے حکومت اور محکموں کو طاہر اشرفی والا مشورہ دیا وہ دوست نہیں تماشائی ہے البتہ کم از کم مجھے نہیں لگتا کہ مولانا کے پیچھے کوئی کیانی جیسا کردار ہے کیونکہ مولانا جہاندیدہ سیاسی رہنماہ ہیں اور "خوب جانتے ہیں نبض شناسی کے گر"۔

ایران اور امریکا میں حملوں و دھمکی آمیز بیانات کا تبادلہ زور و شور سے جاری ہے اور بدقسمتی سے اس ایران امریکا جنگ کے آغاز کے وقت سے ہی سوشل میڈیا کے پاکستانی چپٹرز پر فرقہ پرستوں کے غول دندناتے پھررہے ہیں افسوس کے حکومتی محکموں نے اس غلیظ فرقہ وارانہ مہموں کا کوئی نوٹس نہیں لیا ایک طبقہ ٹرمپ کے ناشتے کا حقِ دہن ادا کرنے میں مصروف ہے۔

یہ صورتحال افسوسناک ہے ایران امریکا جنگ پر رائے دینے کی ہر کس و ناکس کو کامل آزادی ہے لیکن اس جنگ کو لے کر پاکستانی سماج کی بچی کھچی وحدت کو پارہ پارہ کرنا قابلِ مذمت ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس غلیظ مہم کا کسی تاخیر کے بغیر نوٹس لیا جائے تاکہ منظم انداز میں منافرت کی ترویج کسی فساد کی راہ ہموار نہ کرنے پائے اس غلیظ مہم نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

ان میں اہم سوال یہ ہے کہ اگر ایرانیوں کا قبول اسلام سے قبل کا مذہب آج بھی طعنہ ہے تو برصغیر کے نومسلموں کا ماضی یا دوسری ان قوموں کا ماضی کیسے قابل فخر ہے جو ظہور اسلام کے بعد کی فتوحات کی وجہ سے اسلام لائے؟

ادھر ایران و امریکا کے گرما گرم میدان جنگ میں گزشتہ روز امریکا نے ایران کے ایٹمی بجلی گھر کو نشانہ بنایا ایران نے جوابی طور پر کویت و بحرین اور خطے کے دوسرے ملکوں میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ جنگ کا میدان وسیع اور مزید گرم ہونا ناگزیر ہوچکا ہے۔