Sunday, 26 July 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Haider Javed Syed
  4. Bharat Mein Talba Ki Ehtejaji Tehreek Aur Hum

Bharat Mein Talba Ki Ehtejaji Tehreek Aur Hum

دہلی میں بھارتی وزیراعظم کی رہائش گاہ "جنتر منتر" کے باہر کاکروچ جنتا پارٹی کے طلبا کا دھرنا تادم تحریر جاری ہے، 20 جولائی کو جب دھرنے کے شرکا نے جلوس کی صورت میں بھارتی پارلیمنٹ کی جانب جانے کی کوشش کی تو پولیس و دیگر سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لاٹھی بردار سادہ پوش طلبا و طالبات پر بے رحمی سے پل پڑے۔ سینکڑوں طلبا و طالبات زخمی ہوئے درجنوں کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ دھرنے کے منتظمین دعویدار ہیں کہ 20 جولائی کے پولیس تشدد سے ایک طالبہ سمیت چار افراد جاں بحق ہوئے۔

منتظمین نے الزام لگایا کہ دہلی پولیس کے سربراہ کے حکم پر طالبات کو بطور خاص تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پولیس اہلکاروں نے طالبات کو جنسی طور پر ہراساں بھی کیا۔ جنتر منتر کے باہر دھرنے میں راہول گاندھی سمیت درجنوں اپوزیشن رہنما اور مختلف شخصیات یکجہتی کے اظہار کیلئے پہنچ رہے ہیں۔ اس دھرنے اور احتجاج کے تین پہلو قابل غور ہیں اولاً یہ کہ دہلی دھرنے میں بھارت بھر تمام ریاستوں (صوبوں) سے طلبا و طالبات کی نمائندگی کی جارہی ہے نیز دہلی اور قرب و جوار کے سکولوں کے طلبا بھی احتجاج میں اس موقف کے ساتھ موجود ہیں کہ "یہ ہمارے مستقبل کی لڑائی ہے اس لئے ہم یہاں آئے تاکہ جو آج ہو رہا ہے کل ہمارے ساتھ نہ ہونے پائے"۔

ثانیاً دھرنے کے مقام پر والدین اور خصوصاً مائیں بچوں سے یکجہتی کے لئے پہنچتی ہیں۔ بعض والدین انتہائی کم عمر بچوں کے ہمراہ یہ کہتے ہوئے دھرنے میں شرکت کرتے ہیں کہ یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے۔ ثالثاً دھرنے میں شریک طلبا و طالبات کا روشنی سے بھرا عصری شعور ہے وہ اپنے مطالبات کو زمین زادوں کے طور پر اجتماعی مقصد قرار دیتے ہوئے ذات پات اور دھرم و عقیدے کی باتوں کو اپنی جدوجہد پر حملہ قرار دیتے ہیں۔ ننانوے فیصد طلبا و طالبات کا عصری شعور تاریخ اور مطالعے سے گندھا ہوا ہے وہ کسی بھی سوال کا جواب اگر مگر چونکہ چنانچہ کی بجائے دوٹوک انداز میں دیتے ہیں۔

جنتر منتر کے باہر شروع ہوا طلبا کا احتجاج بھارت بھر میں پھیل چکا ہے۔ پولیس تشدد اور دیگر مسائل کا سامنا جس استقامت سے احتجاجی طلبا و طالبات کررہے ہیں وہ لائق تحسین ہے۔ بھارتی حکومت اور دہلی پولیس اس دھرنے کو پاکستان سپانسرڈ قرار دینے کے ساتھ شرکا کو دہشتگرد تک قرار دے چکی۔ یہی نہیں بلکہ گزشتہ روز بی جے پی کے سربراہ نے دھرنے کے شرکا پر الزام لگایا کہ وہ ملک توڑنے کی سازشوں کا حصہ بن رہے ہیں۔ پی جے پی حکومتی زعما اور پولیس و انتظامی افسران بات بات پر آئی ایس آئی کو دھرنے کے پیچھے پیش کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔

دہلی پولیس پر الزام لگایا جارہا ہے کہ اس کے افسران اور اہل کار ہندو مسلم اختلافات کو زیر بحث لاکر ماحول خراب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اس میں حکومت نواز میڈیا جسے بھارت میں گودی میڈیا کہا جاتا ہے کے لوگ پورا پورا حصہ ڈال رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ بھارتی ذرائع ابلاغ کے غالب حصے کے نمائندوں کو دھرنے کے مقام سمیت بھارت بھر میں احتجاجیوں کی مزاحمت تنقید اور گودی میڈیا واپس جاو کے نعروں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے یہی نہیں بعض مقامات پر طلبا و طالبات گودی میڈیا کے نمائندوں کی جیبوں میں پیسے ڈال کر بلند آواز کہتے سنائی دیتے ہیں " پیسہ تمہارا دھرم ہے لو پیسہ لگاو ہمارے احتجاج کی خبر"۔

بھارت میں رواں برس کے اب تک کے چھ ماہ تقریباً سات ماہ کے دوران اعلیٰ پرفیشنل تعلیم ڈاکٹری انجینئرنگ وغیرہ کے ساتھ سرکاری ملازمتوں کے خصوصی امتحانات کے پیپر آوٹ ہونے کے بعد 28 سے زیادہ طلبا و طالبات نے خودکشی کرلی۔ یہ تعداد پچھلے برس کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ احتجاجی طلبا مرکزی وزیرتعلیم کے استعفے کے ساتھ پانچ برسوں کے دوران پیپر آوٹ ہونے سے خود کشی کرلینے والوں کے خاندانوں کے لئے ایک کروڑ روپے فی کس معاوضے امتحانی پرچے آوٹ ہونے کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن کے قیام امتحانی نظام کو فول پروف بنانے کے مطالبات کررہے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ احتجاج کرنے والوں میں ہر طبقے کے طلبا و طالبات شامل ہیں مگر اکثریت درمیانے اور نچلے درجے کے خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ سطور لکھتے ہوئے خبر ملی کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایک ویڈیو پیغام میں پیپر آوٹ ہونے کی جامع تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے ان کے ویڈیو بیان پر دھرنا منتظمین کا موقف ابھی سامنے نہیں آیا۔ بظاہر نہیں لگتا کہ وزیراعظم مودی کے ویڈیو بیان سے احتجاج ختم ہوجائے گا۔ گزشتہ روز دھرنا منتظمین نے باضابطہ طور پر دہلی دھرنے کے شرکا کے خلاف درج مقدمات پولیس تشدد سے جاں بحق و زخمی ہونے والوں کیلئے معاوضہ دیئے جانے کے ساتھ دہشتگرد و ملک توڑنے کی سازش جیسے الزامات کو سرکاری طور پر واپس لینے اور معذرت کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

پاکستان میں سوشل میڈیا پر بھارتی طلبا و طالبات کی ملک گیر احتجاجی تحریک بالخصوص دہلی دھرنے پر بحث زوروشور سے جاری ہے متعدد سوالات اٹھانے کے ساتھ یہ پوچھا جارہا ہے کہ پاکستان میں ایسی تحریک کیوں نہیں چلتی۔ فیس بک پر ہمارے ایک سوشل میڈیائی دوست نے بھارتی طالبعلم کی گفتگو والی ویڈیو پوسٹ کرنے پر ہم سے سوال کیا "مرشد آپ کو دوسروں کے دلیر اور پڑھے لکھے لوگ اچھے لگتے ہیں اپنے ملک کے نہیں۔ یہاں کتنے ہیں جو جان ہتھیلی پر رکھے زہر کا پیالہ لئے پھرتے ہیں لیکن آپ کو وہ نظر بھی نہیں آتے۔ افسوس"۔

ہمیں نہیں معلوم کے انہیں کس بات کا افسوس ہے البتہ ہمیں کسی بات پر افسوس نہیں ہے۔ ضمیر مطمئن ہے کہ جو درست لگتا ہے اس پر بات کرتے ہیں ہاں چونکہ ہم ایک قلم مزدور ہیں درشنی فیشنی دانشور نہیں اس لئے حودوقیود کو مدنظر رکھنا لازمی ہوتا ہے ویسے پاکستانی فیڈریشن میں آباد قوموں اور پاکستان کے زیرانتظام علاقوں کے لوگوں کے مطالبات و احتجاج پر ان سطور میں ہمیشہ بات کی یہی ہمارا فرض ہے بلکہ ہم نے تو عمران خان اور ان کے حامیوں کیلئے ناپسندیدگی کے باوجود اپریل 2022 کی تحریک عدم اعتماد سے اب تک اپنی رائے کا ڈھکے چھپے نہیں کھلے الفاظ میں اظہار کرتے آرہے ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ قلم مزدوری کی حدوقیود کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے مثال رواں ماں کے اب تک کے چھ ماہ اور چوبیس دنوں کے درمیان میرے کالم شائع کرنے والے اخبارات نے دوکالم شائع کرنے سے معذرت کی اس معذرت کے پیچھے موجود حکومتی سیاسی اور مذہبی جنونیوں کے دباو کو ہم سے بہتر کون سمجھ سکتا کہ ہم ذاتی طور پر یہ دباو وغیرہ دیکھ بھگت چکے۔

بہر حال عرض یہ ہے کہ ہمارے ہاں بعض دوستوں کے اختلاف کے باوجود ہماری رائے یہی ہے کہ ہماری نئی نسل کا بڑا اکثریتی حصہ تاریخ سماجیات اور سیاسیات کے مطالعے و مشاہدے سے محروم ہے۔ مکالمہ نئی نسل میں رواج نہیں پاسکا شخصیت پرستی کے جوتوں سے عصری شعور پر چاندماری ہوتی ہے طلبا انجمنوں کا کردار ختم ہوچکا محنت کشوں کی تنظیمیں ہیں بھی اور نہیں بھی یہ دو یعنی طلبا انجمنیں اور مزدور تنظیمیں سیاسی عمل کو نیا خون فراہم کرتی ہیں ہماری سیاسی و مذہبی جماعتیں اپنے اپنے وقت پر اسٹیبلشمنٹ سے ساجھے داری کو عین واجب سمجھ کر "فرائض" ادا کرتی ہیں نکال دیئے جانے پر اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کا ناٹک کرتی ہیں اس پر ستم ہر چیز کی مسلمانی کرتے جانے کا شوق ہے جب تک ان خرابیوں کا علاج نہیں ہوتا بامقصد ملک گیر تحریک منظم نہیں ہوسکتی۔

نوٹ: یہ کالم گزشتہ صبح لکھ کر اخبار کو اشاعت کیلئے بھیجا تھا آج صورتحال مختلف ہے بھارتی وزیرتعلیم کے مستعفی ہوجانے پر اخباد کو بھیجا گیا کالم کل شیئر کروں گا۔