Monday, 27 April 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Haider Javed Syed
  4. Dekhne Sunne Ke Siwa Bhi Bohat Kuch Hai

Dekhne Sunne Ke Siwa Bhi Bohat Kuch Hai

ایران امریکہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کیلئے پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی وفد کے ہمراہ اسلام آباد آمد بظاہر انہی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ تجزیہ نگار پر امید ہیں کہ صدر ٹرمپ کی غیر مستقل مزاجی اور جنگی جنون سے عبارت بیانات کے باوجود مذاکرات کا عمل بحال ہوسکتا ہے لیکن اس میں کتنے دن لگیں گے فوری طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں۔

اس کی ایک بلکہ خاص وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں مغربی ذرائع ابلاغ کی کہانیوں کو الہامی داستانوں کا درجہ دیا جاتا ہے مثلاً ہمارے یہاں ایران میں مذہبی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان اختلافات اور کسی بھی گروپ کی فیصلہ سازی سے محرومی کا ذکر چبا چبا کر کیا جارہا ہے لیکن امریکہ میں دورانِ جنگ پنٹا گون میں ہوئی بڑی تبدیلیوں یا امریکی وزیر خارجہ مارکوروبیو کی نیم خاموشی پر بات کرنے سے اجتناب برتا جارہا ہے۔

ایران امریکا مذاکرات کے پہلے مرحلہ کے امریکی وفد کو دیکھ لیجے جو نائب صدر کی قیادت میں اسلام آباد آیا تھا اس میں ٹرمپ کا داماد تو شامل تھا مگر مارکوروبیو "غائب است"۔ ابھی گزشتہ روز بحری امور کے امریکی سیکرٹری مستعفی ہوگئے ہیں مستعفی ہوئے یا استعفیٰ طلب کیا گیا؟ دور کی کوڑیاں لانے کبوتر اور چڑیا والے بابے ہی نہیں اڈیالہ جیل کی دیوار کے اُس پار کی صورتحال کے ساتھ مشقتی تک سے عمران خان کی گفتگو لفظ بہ لفظ زیر زبر کے بغیر بیان کرنے والے ماہرینِ روحونیت بھی "دڑ وٹے" ہوئے ہیں کیا یہ "کھلا تضاد" نہیں۔

آگے بڑھنے سے قبل ایک خبر پڑھ لیجے وائٹ ہاؤس میں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کیلئے دی گئی سالانہ ضیافت کے دوران ایک شخص نے فائرنگ کی۔ کہا جارہا ہے یہ شخص صدر ٹرمپ پر حملے کیلئے آیا تھا سیکورٹی اہلکار نہ صرف امریکی صدر اور نائب صدر کو محفوظ مقام کی جانب لیجانے میں کامیاب ہوگئے بلکہ فائرنگ کرنے والے کو بھی دھر لیا جو زخمی حالت میں اب ہسپتال میں داخل ہے۔

کول ٹامس نامی حملہ آور کا تعلق ریاست کیلیفورنیا سے ہے اور پیشے کے اعتبار سے ٹیچر ہے، حملہ کیوں ہوا اور حملہ آور صحافیوں کیلئے سالانہ ضیافت کے اس مقام تک کیسے پہنچ گیا جہاں امریکی صدر و نائب صدر اور دوسرے اعلیٰ حکام موجود تھے اس سوال کا جواب ابھی آنا ہے بس شکر کیجے حملہ آور مسلمان نہیں تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ پر اس سے قبل بھی غالباً تین بار قاتلانہ حملے ہو چکے ان میں سے ایک میں تو وہ ہلکے پھلکے زخمی بھی ہوئے تھے۔ بہر حال حالیہ واقع نے بہت سارے نہیں تو دوتین سوالات کو ضرور جنم دیا ہے ہم اور آپ ان سوالات کا جواب ملنے کا انتظار کرنے کے سوا کر بھی کیا سکتے ہیں۔

ہمارے پاس کبوتر کیا چڑیا بھی نہیں ویسے اگر ہوتے بھی اتنی دور سے "خبر" کیسے چُگ کرلاتے اس لئے یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ صحافیوں کی ضیافت میں ہونے والی فائرنگ واقعی صدر ٹرمپ پر حملے کی کوشش تھی یا ان کی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دینے کیلئے اسٹیج کیا گیا ڈرامہ البتہ سوچنے والی بات تو ہے کہ مسلح شخص سخت ترین سیکورٹی حصار والی جگہ تک پہنچ کیسے گیا؟

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی گزشتہ جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب میں اپنے وفد کے ہمراہ اسلام آباد آئے تھے یہاں انہوں نے دو اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں شرکت کی پھر عمان گئے۔ عمان سے انہوں نے ماسکو جانا تھا مگر وہ ماسکو سے قبل ایک بار پھر اسلام آباد پلٹ آئے۔ وزیراعظم، وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل سے ملے ایک ملاقات مشترکہ ہوئی جس میں وزیر داخلہ بھی موجود تھے کہا جارہا ہے کہ انہوں نے عمانی حکام سے ہوئی بات چیت پر پاکستان کو اعتماد میں لیا۔

ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ عمان جانے سے قبل جب وہ اسلام آباد میں تھے تو انہوں (عباس عراقچی) نے پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار سے ایرانی وزارت خارجہ کی ایک تجزیاتی رپورٹ بھی شیئر کی جو پاکستانی وزیراطلاعات اور ذرائع ابلاغ کے ایران امریکہ مذاکرات پر بعض بیانات اور تجزیئوں پر تھی۔

اس حوالے سے ایرانی سفیر غالباً گزشتہ بدھ یا جمعرات کو پہلے ہی پاکستانی حکام سے بات کرچکے تھے۔ ایرانی سفیر اور پھر وزیر خارجہ کی بعض بیانات اور تجزیئوں پر بات اور تشویش بجا ہے کیونکہ وزیر اطلاعات کے بیان اور حکمران جماعت کے حلیف سمجھے جانے والے صحافیوں کے تجزیوں سے مثبت نہیں منفی تاثر ابھرا اور ان سے ان تجزیہ نگاروں کے دعووں کو تقویت ملی جو دعوے کررہے ہیں کہ "ایران امریکہ جنگ بندی اور مذاکرات کی پاکستانی کوششیں پاکستان کی اپنی داخلی و خارجی حکمت عملی سے عبارت ہونے سے زیادہ امریکی ڈوروں سے بندھی ہوئی ہیں"۔

ایرانی وزیر خارجہ کی 48 گھنٹوں میں دوبار اسلام آباد آمد خصوصی اہمیت رکھتی ہے ہماری دانست میں اس معاملے پر دانش کی "جگالی" سے اجتناب بہتر ہے وجہ یہی ہے کہ ایران پر مسلط جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان ترکیہ مصر اور قطر کے درمیان اس حوالے سے صلاح مشورے شروع ہوگئے تھے بعدازاں ان مشوروں میں سعودی عرب بھی شامل ہوا۔ سفارتکاری کے اس عمل میں پاکستان کو جو مرکزی اہمیت ملی اس میں اصل چیز ایران کا اعتماد رہا۔ یہ اعتماد کم از کم مجھے اب بھی قائم دکھائی دے رہا ہے یہی وجہ ہے کہ 48 گھنٹوں میں دوبار ایرانی وزیر خارجہ کی اسلام آباد آمد اور اس دوران مذاکرات کے اگلے مرحلے کیلئے ایک ایک نکات پر تبادلہ خیال بہت اہم ہے۔

دوسری جانب امریکی وفد کا دورہ پاکستان ملتوی کردیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں ملتوی کو منسوخ کہا لکھا گیا جہاں تک اس حوالے سے صدر ٹرمپ کے بیانات کا تعلق ہے تو وہ ہمیشہ ایسے ہی بڑبولے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں البتہ یہ حقیقت ہے کہ جنگ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے امکانات ختم نہیں ہوجاتے۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ پاکستان کی ناک کاٹنے کے شوق پر مٹی ڈال دی جائے کیونکہ جنگ اگر دوبارہ شروع ہوئی تو حالات قابو سے باہر ہونے کے خطرات زیادہ ہوں گے۔ یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وفد کے دورے کے ملتوی ہونے کا مطلب دوبارہ جنگ نہیں۔

کالم کے اس حصے میں ملکی سیاست میں پھوٹے شگوفوں پر بات کر لیتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے حامی دانشور اور صحافیوں کے سوشل میڈیا اکاونٹس پر جہاں ایران پر تنقید کے نشتر چلائے جارہے ہیں وہیں یہ تاثر بھی دیا پھیلایا جارہا ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ میں "ان بن شدید تر ہوتی جارہی ہے"۔

اس کارِ خیر میں ایک بڑے میڈیا ہاوس کے ملازمین بڑھ چڑھ کر حصہ ڈال رہے ہیں۔ یہ وہی میڈیا ہاوس ہے جس کے کراچی کے ایک رپوٹر کی پولیس افسر اہلیہ کے محکمانہ تبادلے کو لے کر رپوٹر موصوف نے ڈکیتی کی چند ماہ پرانی خبر کو ٹاکی شاکی مار کر نواں نکور بنانے کے بعد نشر کروا دیا تھا۔ اس سے ہم پاکستانی صحافت کی اعلیٰ معیار کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

زرداری سے استعفیٰ لینے یا انہیں "رخصت" کرنے کی پھلجڑیاں بھی اسی میڈیا ہاوس کے ایک ملازم نے لگ بھگ تین ماہ قبل چھوڑی تھیں۔ اب کہا لکھا جارہا ہے کہ صدر زرداری سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کیلئے ناقابل اعتبار ہوچکے کچھ دانے بینے یو اے ای کی جانب سے ساڑھے تین ارب ڈالر قرضے کی رقم واپس مانگ لئے جانے کو زرداری سے جوڑ کر پیش کررہے ہیں۔ کیا یہ اس امر سے لاعلم ہیں کہ یو اے ای نے اپنے قرضے کی رقم گزشتہ برس نومبر میں واپس مانگ لی تھی اور واپسی کی مدت میں تین بار اضافے کے بعد 31 مارچ تک رقم بہر صورت واپس کرنا تھی؟

حرف آخر یہ ہے کہ زرداری رخصت ہورہے ہیں نا کیئے جارہے ہیں اور اگر دونوں میں سے ایک کام ہوا بھی تو پورا نظام جائے گا۔ پورا نظام جاتا کم از کم مجھے نہیں لگ رہا ٹیکنو کریٹ یا مارشل لاء دونوں ممکن نہیں۔ سبھی اپنی موجودہ تنخواہوں اور عہدوں پر رہیں گے آصف علی زرداری چونکہ الزامات اور پروپیگنڈے کا جواب نہیں دیتے اس لئے آسان ہدف سمجھے جاتے ہیں۔