Sunday, 19 April 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Haider Javed Syed
  4. Social Media Ke Bazar Aur Tang Galiyan

Social Media Ke Bazar Aur Tang Galiyan

چار اور عجیب سی صورتحال ہے مسائل ہیں، کچھ مشکلات بھی۔ سوشل میڈیا کے میدانوں میں جھوٹ اور تکفیر ہر دو دھڑلے سے بیچے جارہے ہیں پتہ نہیں گودی میڈیا کی بد روح سوشل میڈیا کے پاکستانی صارفین کے بڑے حصے میں اثر کرگئی ہے یا محض لائک و کمنٹس کی بھوک ہے جو ٹھنڈی نہیں ہورہی؟

پچھلے کئی گھنٹوں سے یہی بالائی سطور لکھ سکا ہوں ذہن ماوف ہے کیوں، میں اس سوال کا جواب تلاش نہیں کرپارہا، ہم جیسے طالبعلم جو ہمیشہ سے یہ سمجھتے آئے ہیں کہ جدیدیت ارتقا کا راستہ ہے کبھی کبھی اس جدیدیت سے خوفزدہ ہونے لگتے ہیں۔

اللہ بخشے ہمارے اساتذہ کرام میں سے ایک سید محمد عباس نقویؒ کہا کرتے تھے "ہر نئے عہد میں کچھ لوگ ارتقا پر توجہ دیتے ہیں اور کچھ کی حالت اندھے کے پاوں تلے آئے بٹیرے والی ہوجاتی ہے"۔ پتہ نہیں مجھے کیوں لگتا ہے کہ سوشل میڈیا بھی اندھے کے پاوں تلے آیا بٹیرا ہے اور صارفین کی اکثریت بٹیرے باز، لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا فقط ہمارے ہاں ہی ہے یا اڑوس پڑوس اور باقی دنیا میں بھی یہی صورتحال ہے؟

اپنے مطالعے اور مشاہدے کی بنا پر یہ عرض کرسکتا ہوں ہرجگہ یہی صورتحال ہے یعنی چہرے اور سماج بدلتے ہیں کردار تقریباً ملتے جُلتے ہوتے ہیں۔

یہ سطور لکھتے ہوئے سیدی عدم (سید عبدالحمید عدم مرحوم) یاد آئے سیدی اردو زبان کے بلند پایہ شاعر تھے وہ "ظرف کے فرق سے آواز بدل جاتی ہے" (یہ دوسرا مصرعہ ہے) والا شعر انہی کا ہے، مثال کے طور پر جب سے ایران امریکہ جنگ شروع ہوئی (ان دنوں نام نہاد جنگ بندی چل رہی ہے) ہے۔ سوشل میڈیا کے پاکستانی صارفین کی محدود تعداد کے علاوہ باقی سب کے اکاونٹس مارٹر گنوں کی طرح بنے ہوئے مخالفین پہ گولہ باری میں مصروف ہیں۔

مادر پدر آزاد والی مثال بھی اس صورتحال کے مقابل ہیچ ہے یوں کہہ لیجے اس سے بھی آگے کے معاملات ہیں ہمارے ہاں سرائیکی وسیب میں ایک دور افتادہ قصبہ ہے رکن پور یہ ضلع رحیم یار خان میں دریائے سندھ کے قریب تر واقع ہے قدیم قصبہ ہے اس لئے پرانے وقتوں کے تنگ بازار اور گلیاں ہیں یہی رکن پور اپنی بذلہ سنجی کیلئے بھی مشہور ہے۔

خیر رکن پور کے حوالے مشہور ہے کہ اس کے بازار میں دو دکاندار گالم گلوچ میں مصروف تھے کہ اتنے میں بازار میں کچھ خواتین داخل ہوئیں لڑائی چونکہ عروج پر تھی تو ایک مرنجا مرنج سے دکاندار نے آگے بڑھ کر خواتین کو روکتے ہوئے کہا "میری ماوں اور بہنوں آگے گالیاں چل رہی ہیں آپ رُک جائیں کہیں کوئی گالی آپ کو نہ لگ جائے"۔

آجکل سوشل میڈیا کی حالت بھی قصبہ رکن پور کی تنگ گلیوں والے بازار کی سی ہے جہاں سیاست مذہب عقیدے قومیت زبان اور نجانے کس کس بنیاد پر اندھا دھند گالیاں چل رہی ہیں اور پتہ نہیں کون کس وقت کس گالی کی زد میں آجائے۔

مجھ سمیت بہت سارے لوگ گاہے تحریک انصاف کو موجودہ گالم گلوچ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں لیکن یہ پورا سچ ہرگز نہیں اس منافع بخش کاروبار کے ڈانڈے دستیاب مسلم تاریخ میں بہت دور تک جا ملتے ہیں۔

مگر ہم مسلم تاریخ کے اوراق الٹنے اور جواباً فتویٰ کھانے سے پرہیز ضروری خیال کرتے ہیں بزرگ کہا کرتے تھے جان ہے تو جہان ہے، ہمزاد فقیر راحموں کہتے ہیں شاہ جی عزت کا دھنیا کیوں کرایا جائے۔

اچھا یہ عرض کیئے دیتا ہوں کہ سوشل میڈیا صارف ہونے کے ناطے لگ بھگ پندرہ برسوں سے تواتر کے ساتھ اس رائے کا اظہار کرتا آرہا ہوں کہ کوئی ایسا طریقہ کار ہونا چاہئے کہ پاکستان کی حد تک سوشل میڈیا اکاونٹ صارف کی مسلمہ شناخت سے مشروط ہو۔ یہ شناخت شناختی کارڈ بھی ہوسکتا ہے میری دانست میں اس کی ضرورت ہمیشہ تھی اور رہے گی۔

مگر ایران امریکہ جنگ کے بعد سے سوشل میڈیا کو جس طرح قصبہ رکن پور کا بازار بنا کر جو گالم گلوچ اور تکفیر ہورہی ہے ایسے میں بہت ضروری ہوگیا ہے کہ کچھ قوانین سازی اس بابت میں بھی ہو۔ بار دیگر عرض کروں کہ کچھ فرقہ پرست جماعتوں کے ہمدرد اپنے اپنے عقیدوں کی حقانیت کے نام پر سوشل میڈیا پر جو کہہ لکھ رہے ہیں اس سے جنم لینے والی نفرتیں ہمارے سماج کو مزید بربادیوں سے "سرفراز" کردیں گی۔

کبھی کبھی حیرانی ہوتی ہے کہ اہل اقتدار و اختیار کے خلاف چھوٹی چھوٹی بات اور معمول کے کمنٹس پر کھٹ سے مقدمہ درج ہوتا ہے اور جھٹ سے گرفتاری مگر سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے ناشتے کی بدہضمی کا شکار ٹولہ ہو یا دوسرے فرقہ پرست سب رکن پور کے دکانداروں سے سات سات ہاتھ آگے نکل کر دشنام طرازی اور کفر کفر کھیلنے میں جُتے ہوئے ہیں۔

کنوئیں کے ان مینڈکوں کو کون سمجھائے کہ ریاستوں کے تعلقات مذاہب اور فرقہ وارانہ دھندوں پر نہیں سیاسی و معاشی مفادات پر استوار ہوتے ہیں۔

ہمارے سامنے زندہ مثال متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے تعلقات میں پیدا ہوئی دراڑیں ہیں۔ اگر مذہب اور عقیدہ ان تعلقات کی ضمانت ہوتا تو جو ہوا ہے وہ نہ ہوتا دوسری دو مثالیں آپ انہیں اس طرح سمجھنے کی کوشش کیجے۔ ایران، جنگ بندی کیلئے پاکستان کی حالیہ کوششوں کا معترف ہے۔ سعودی عرب سے پاکستان کا دفاعی معاہدہ ہے ایران امریکہ جنگ کے دوران ایران سعودی عرب کشیدگی میں اضافہ ہوا یہ پاکستان ہی تھا جس نے اس کشیدگی کو جنگ میں نہیں بدلنے دیا۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے ایران امریکہ جنگ میں ایران سے پیدا ہوئی کشیدگی کے مرحلے میں پاکستان سے جو امداد طلب کی وہ فراہم کرنا ممکن ہی نہ تھا اماراتی برا مان گئے پھر جو ہوا سب کے سامنے ہے۔

ہمارا اجتماعی المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص پاکستان کو اپنے عقیدے کی لاٹھی سے ہانک کر مرضی کی خارجہ پالیسی چاہتا ہے حالانکہ یہ ممکن نہیں اور جو ممکن ہے وہ پاکستان حالیہ دنوں میں کر ہی رہا ہے جو کر رہا ہے اس پر بھارت کی مودی سرکار گودی میڈیا اور تحریک انصاف کے سوشل میڈیا مجاہدین میں خاصی فکری ہم آہنگی دیکھنے میں آرہی ہے۔

گزشتہ روز ایک دوست نے ہماری ایک مختصر تحریر پر طنز کرتے ہوئے کہا شاہ جی مصلحت پسندی کا شکار ہوگئے ہیں، اس دوست کو کیسے سمجھاوں کہ میں نصف صدی سے اپنی جگہ کھڑا ہوں اس عرصے میں وہ ترقی پسند سے رجعت پسند ہوئے۔ درمیان میں عمران خان کی محبت کا شکار اور آجکل مسلم لیگ ن میں ہیں مقابلتاً 2022 کی تحریک عدم اعتماد سے اب تک موجودہ نظام اور اسٹیبلشمنٹ کیلئے کلمہ خیر لکھا نہ کہا۔ ہم نے البتہ اس رائے کا اظہار متواتر کیا کہ سیکورٹی اسٹیٹ کے کوچے سے حکمت عملی کے ساتھ نکلنا ہوگا کسی بھی طرح کی لڑائی سیکورٹی اسٹیٹ کو مضبوط بنانے میں معاون ہوگی کالم کے دامن میں گنجائش ختم ہوئی باقی باتیں پھر سہی۔۔