Friday, 20 March 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Haider Javed Syed
  4. Jang, Doghli Makhlooq, Trump Ki Dhamkiyan Aur Siskiyan

Jang, Doghli Makhlooq, Trump Ki Dhamkiyan Aur Siskiyan

ایران پر مسلط امریکی و اسرائیلی جنگ جاری ہے اس صورتحال کے خطے کے ممالک اور دنیا کی معیشت پر جس قسم تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے ابتدائی طور پر ان کا جادو کمزور معیشتوں والے نیم ترقی یافتہ اور پسماندہ ممالک میں سرچڑھ کر بولنے لگا ہے۔

پتہ نہیں کیوں آج کے حالات میں ایک مرحوم دوست جنید لاشاری یاد آرہے ہیں ان کی جیب میں جب آخری بیس بائیس روپے بچتے تو وہ بیس روپے کا پرتکلف عشایہ کیفے جارج نزد ریگل بس اسٹاپ صدر کراچی میں دینا واجب سمجھتے تھے۔ یہ 1970 کی دہائی کے آخری برسوں کی باتیں ہیں تب کیفے جارج میں مبلغ 10 روپے میں شاندار اور ذائقہ سے بھر پور پالک گوشت اور ہاف سیٹ چائے دونوں ملاکر 12 روپے میں شکم سیری کیلئے مل جاتے تھے باقی کے آٹھ روپے مزید کُھلی عیاشی (ڈن ہل سگریٹ وغیرہ پر خرچ کرکے ہم گھروں کو چل دیتے۔

ہمارے ہاں ملک اور صوبوں میں بھی آجکل ایسے ہی حالات ہیں ملکی خزانہ "کڑکی" کا شکار ہے۔ پہلے پنجاب حکومت کے 11 ارب روپے کے جہاز کا رولہ تھا پھر جہاز کی ویانا یاترا پر "شور مچا" اسی دوران چیئرمین سینیٹ کیلئے 9 کروڑ کی گاڑی خریدے جانے کا قصہ سامنے آیا اب خبر آئی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے محکمہ خزانہ کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے ٹرانسپورٹ ونگ کی سفارش پر 52 کروڑ روپے کی نئی گاڑیاں خریدنے کی منظوری دے دی ہے یہ گاڑیاں "وی آئی پیز" کے لئے خریدی جائیں گی۔

جیب میں موجود آخری 20 یا 22 روپے پر کیفے جارج میں پالک گوشت اور ہاف سیٹ چائے کا عشایہ اور ڈن ہل وغیرہ کی عیاشی پر جنید لاشاری مرحوم کہا کرتا تھا

"سئیں راجی شاہ رزق کا وعدہ اللہ تعالیٰ کا ہے اور اسباب کی فراہمی بابا سائیں کی ذمہ داری ہے کل تک منی آرڈر آجائے گا پریشانی کی کوئی بات نہیں"۔

کیا ہم اب یہ بھی نہ سمجھیں کہ اہل اقتدار کے اللوں تللوں کا ذمہ دار ملکی خزانہ ہے اسے بھرتے رہنا رعایا کی ذمہ داری ہے کمی بیشی ہوئی تو رعایا جانے اور رعایا ہی جانے صاحبان اقتدار پلے سے خرچ کرنے سے رہے۔

معاف کیجے گا ہم نے ایران پر مسلط امریکی اینڈ بُولی جنگ کی تازہ صورتحال پر باتیں کرنا تھیں بالائی سطور میں لکھا عشایہ اور جہاز و گاڑیوں کے قصے یونہی درمیان میں آن ٹپکے ٹپک ہی پڑے تو آپ کو سنا دیئے۔

آج بدھ ہے اور 18 مارچ امریکہ اینڈ بُولی کی ایران پر مسلط جنگ کا بھی 18 واں دن ہے آپ یہ سطور جنگ کے 20 ویں دن کی صبح پڑھ رہے ہوں گے یعنی جمعتہ المبارک کو عین ممکن ہے جمعہ کو ملک میں عید الفطر ہوجائے براہ کرم صدقہ زکوة اور فطرانہ اپنے قریبی مستحقین کی خدمت میں پیش کیجے گا یہی صدقہ زکوة اور فطرانے کا اصل مصرف ہے باقی کے سارے دھندے ہیں۔

خیر آئیے جنگ سے پیدا شدہ صورتحال کی باتیں کرتے ہیں تادم تحریر یہ اطلاع ہے کہ ایرانی سیکورٹی چیف علی لاریجانی اپنے صاحبزادے سمیت اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔ ایران سے مزید اہم عسکری قائدین کی شہادتوں کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں اُدھر امریکی انسداد دہشت گردی مرکز کے سربراہ جو کینٹ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ تجزیہ نگار کہتے ہیں یہ ٹرمپ کی جنگ بازی کے جنون پر امریکی اسٹیبلشمنٹ میں تقسیم کا اظہار ہے جبکہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے جو کینٹ کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اس کا جانا ہی بہتر ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ نیٹو اتحاد کے رکن ممالک کے علاوہ متعدد ملکوں پر "تپے" ہوئے ہیں ان ممالک اور نیٹو نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے امریکہ کی مدد کرنے سے دوٹوک انداز میں انکار کردیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے امریکہ نے اربوں کھربوں ڈالر یورپی اتحادیوں کی حفاظت کیلئے خرچ کئے لیکن وقت پڑنے پر ان ممالک اور نیٹو نے ہمارا ساتھ نہیں دیا تو اب ہمیں بھی ان کی ضرورت نہیں۔

ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کو دہائی پیچھے دھکیل دیا ہے ویسے ٹرمپ کے گزشتہ چند دنوں کے بیانات پر سوشل میڈیا پر بننے اور وائرل ہونے والی میمز نے خاصی رونق لگارکھی ہے ٹرمپ خود بھی "رونقی" شخص ہیں سب سے پہلے سب سے اہم امریکہ کا سلوگن ان کی سیاسی اٹھان کا باعث بنا لیکن ان کی پالیسیوں نے آج دنیا کو جہاں لاکھڑا کیا ہے یہاں سے دنیا واپس زمانہ امن کی طرف پلٹ پائے گی تو کیسے یہ سوال ہے سوال اور بھی بہت ہیں لیکن فی الوقت سارے سوالوں کا ایک ہی جواب ہے وہ یہ کہ

"سارے سوار دہلی جا رہے ہیں"

گزشتہ تین دنوں کے دوران امریکہ اینڈ بُولی نے ایران پر تباہ کن حملے کئے جواباً ایران نے بھی خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے بظاہر لگ رہا ہے کہ ایرانیوں نے چنددن قبل خام تیل کی قیمتوں کے حوالے سے جوبات کہی تھی وہ اگلے چند دنوں میں پوری ہوجائے گی یعنی تیل 200 ڈالر فی بیرل کی قیمت کی بلندی پر پہنچ جائے گا ایسا ہوا تو دوسری اور تیسری دنیا کے ملکوں کیلئے مشکلات بڑیں گی۔

اسی دوران پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ خوریف کا بیان سامنے آیا کہ تیل کی خریداری کے لئے پاکستان کے روس سے رابطہ کا مجھے علم نہیں لیکن رابطہ ہوا تو سستا تیل دیں گے یہاں ہمارے وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ مارچ کیلئے ایندھن محفوظ ہے اور اپریل کیلئے منصوبہ بندی کرلی ہے ان کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی سے سپلائی کے مزید ذرائع تلاش کررہے ہیں۔ یہ بھی کہا کہ لوگ گھبراہٹ میں خریداری یا غیر ضروری ذخیرہ اندوزی میں سے گریز کریں۔

ایران پر مسلط جنگ کی خبروں کے حوالے سے سوشل میڈیا تو بے اعتبارا تھا ہی اب ہرگزرنے والے دن کے ساتھ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بھی اعتماد سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ بعض تجزیہ نگار یہ کہتے دیکھائی دے رہے ہیں کہ ذرائع ابلاغ کو اشتہارات دینے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں ان کی ایڈیٹوریل پالیسیوں پر اثر انداز ہوتی ہیں ہماری دانست یہ بات کسی حد تک نہیں بلکہ سو فیصد درست ہے۔

یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ جنگ کی خبریں دیتا عالمی میڈیا ایران کے اسرائیل پر جوابی حملوں کی خبروں سے زیادہ خطے میں امریکی مفادات پر ایرانی حملوں کی خبریں اس انداز میں دے رہا ہے جیسے ایرانی حملے امریکی مفادات پر نہیں بلکہ خطے کے ممالک پر ہیں۔ لگتا ہے کہ اس طرح کی خبروں اور تجزیوں کا مقصد خطے کے ممالک کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ملکر ایران کے خلاف جنگ کے میدان میں اتارنے کیلئے ہے تاکہ امریکہ کی تنہائی دور ہو سکے۔

امریکی مفادات پر ایران کے حملوں کو منفی رنگ دے کر مسلکی بھاشن دینے والے ہمارے یہاں بھی جنگلی جھاڑ کی طرح اُگ آئے ہیں حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جنرل ضیا الحق کے دور میں قتل ہونے والے ایک مولوی کے صاحبزادے نے دعویٰ ٹھونک دیا کہ ایران نے ان کے اباجی کے سر کی پانچ لاکھ ڈالر قیمت رکھی تھی۔

ان کے والد ضیا الحق کے دور میں کیوں قتل ہوئے یہ سب جانتے ہیں ہمارے ہاں عجیب گھڑمس ہمیشہ سے ہے یہاں خواہرانِ نسبتی کے چکر میں مرنے والے بھی شہید قرار پاتے ہیں عدالتی مقتول ذوالفقار علی بھٹو بھی شہید ہیں اور پاکستان میں جہادی تباہی پھیلانے والا فوجی آمر جنرل چوہدری محمد ضیا الحق جالندھری بھی ایک طبقے کے نزدیک شہید ہے۔

ایران جنگ جاری ہے ایرانی رہبرِ کبیر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے بعد ایران کے دوسرے بڑے رہنما علی لاریجانی بھی شہید ہوگئے ہیں ایرانی وزیر خارجہ نے گزشتہ روز ایران کی عالمی سطح پر حمایت کرنے پر پاکستان کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا ان کی جانب سے تشکر بھرے جذبات کا اظہار ان مختلف الخیال " سپر مینوں کے منہ پر زور دار تھپڑ ہے جو اٹھتے بیٹھتے اپنی حکومت کو کوستے رہتے ہیں۔

یہ دو طرح کے لوگ ہیں ایک وہ جو چاہتے ہیں پاکستان ایٹمی ٹافیاں تھیلے میں ڈالے اور میدان جنگ میں کشتوں کے پشتے لگادے دوسرے وہ جو چاہتے ہیں کہ پاکستان خطے میں امریکی مفادات پر ایرانی حملوں کو مسلم عرب ممالک پر حملہ قرار دے کر ایران کے خلاف جوابی کارروائی کرے ان دونوں طبقات کیلئے دعا ہی کی جاسکتی ہے۔

ایران پر مسلط جنگ کے ان ایام میں پاکستان اور موجودہ افغان رجیم کے درمیان بھی محاذ کھلے ہوئے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ روز سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر "افغانی شہدا کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا" لیکن ان افغانی شہدا کے بھائی بچوں کی جانب سے پاکستان میں دہشتگردی کو بڑھاوا دینے کی کبھی مذمت نہیں کی یہی نہیں بلکہ تحریک انصاف کے مقامی و بیرون ملک سوشل میڈیا مجاہدین پچھلے برس کی پاک بھارت جنگ کے دنوں کی طرح اس بار افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے وکیل و ترجمان بنے ہوئے ہیں۔ دہشت گردوں کی حمایت اور اپنے ملک کی مذمت میں غلاظت بھرے جن خیالات کا اظہار وہ کررہے ہیں اس پر افسوس بے فائدہ ہے کیونکہ ان کی تعمیر و تربیت اسی بنیاد پر ہوئی ہے۔

اب چلتے چلتے ایک نگاہ اس امریکی انٹیلی جینس رپورٹ پر ڈال لیجے جس میں کہا گیا ہے کہ شدید حملوں کے باوجود ایران کی سخت گیر قیادت مزید مضبوط ہوئی ہے، بندہ پوچھے کیا ٹرمپ اور اس کا بُولی گلاب جامن بانٹتے پھرتے ہیں؟