Monday, 30 March 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Haider Javed Syed
  4. Iran Jang Ke 30 Din, Musalhati Koshishon Ka Aghaz

Iran Jang Ke 30 Din, Musalhati Koshishon Ka Aghaz

ایران جنگ کا ایک ماہ مکمل ہوگیا اس ایک ماہ کے دوران گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت کا تجزیہ اگر ایک دو لفظوں میں کیا جائے تو مجھے اپنی مادری زبان سرائیکی سے رجوع کرنا پڑے گا۔ ہم سرائیکی اگر انتہائی غصے میں ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی گالی دینا چاہیں تو بھی گالی نہیں دیتے بس اتنا کہتے ہیں "ونج ووئے توں تاں بادشاہ ہئیں" (جاو یار تم تو بادشاہ ہو)۔ بس میرے عزیزو ٹرمپ بھی بادشاہ ہی ہے لیکن سرائیکی والا اردو عربی فارسی والے بادشاہوں سے اپنا کوئی لینا دینا نہیں۔

اپنے سکہ بند بُولی کے ہمراہ ٹرمپ نے آج 29 مارچ سے ٹھیک ایک ماہ قبل 28 فروری کو اپنے "چار روزہ رجیم تبدیلی پروگرام" کا ڈنکا بجاتے ہوئے ایران کے خلاف سفاکانہ جارحیت کا آغاز کیا تھا اور ایرانی مزاحمت اس کے چار دنوں کو کھینچ کر ایک ماہ تک لے گئی جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے ایران جنگ کا 32 واں دن ہوگا۔ جنگ مزید کتنے دن چلے گی اس بارے کوئی اندازہ اور دعویٰ بادی النظر میں ممکن نہیں وہ اس لئے کہ ایرانیوں نے اعلیٰ مذہبی سیاسی اور عسکری قیادت کی دو سے تین پرتیں قتل ہونے بھانک تباہی و بربادی کا سامنا کرنے کے باوجود جس طرح مزاحمت کی اور مزاحمت جاری رکھی وہ اپنی مثال آپ ہے۔

ایرانی مزاحمت کے باقی ماندہ نتائج و مشکلات کو ایک طرف اٹھا رکھیئے اس نے لمحہ موجود کے کرہ ارض کی سب سے بڑی اور سفاک طاقت امریکہ بہادر کے صدر کی جو درگت بنائی اس نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت تک چھین لی ہے۔ حالت یہ ہوگئی ہے کہ ٹرمپ کا ہر نیا بیان پچھلے بیان کی نفی کرتا ہے عین ممکن ہے وہ بھی یہ سمجھتا ہوکہ "یوٹرن لینا بڑے سیاست دان کی نشانی ہے"۔

آگے بڑھنے سے قبل تھوڑی سی بات گزشتہ سپہر سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی صدر ٹرمپ کی اس ویڈیو پر کرلیتے ہیں جس میں اس نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے لئے انتہائی توہین آمیز الفاظ استعمال کیئے ہیں۔ ان الفاظ کو بعین لکھنا کسی بھی طور ممکن نہیں بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ ٹرمپ نے نازیبا الفاظ استعمال کیئے کیوں کیئے اس کا ایک جواب یہ ہے کہ ٹرمپ سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کو براہ راست ایرانی جنگ کے اکھاڑے میں اتارنے میں ناکام رہے۔ دوسرا یہ کہ گزشتہ روز ٹرمپ نے کہا "ایران کو بڑی حد تک ختم کردیا ہے اب سعودیہ عرب اسرائیل کو تسلیم کرلے"۔

یہ سطور اتوار کی صبح لکھ رہا ہوں آج اتوار کو ہی اسلام آباد میں پاکستان ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس منعقد ہونا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ عمان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ بھی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے لگ بھگ ایک گھنٹہ ٹیلیفون پر بات چیت ہوئی یہ بات چیت ظاہر ہے کہ پاکستان مصر اور ترکیہ کی جانب سے خلیج کی جنگ بند کرانے کیلئے اب تک کی کوششوں اور رابطوں کے تناظر میں ہی ہوئی۔

ایران پر مسلط جنگ اس وقت تک ختم ہونے کے مرحلے کی سمت نہیں جاسکتی جب تک ایران کا اعتماد بحال نہ ہو۔ غالباً اسی لئے ایرانی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کیلئے پاکستان کی کوششیں خوش آئند ہیں البتہ اعتماد کی بحالی کیلئے خطے کے ممالک ایران کے خلاف امریکہ کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں، پاکستانی قیادت پرامید ہے کہ مصر اور ترکیہ کے تعاون سے جنگ بندی کیلئے جاری کوششیں کامیاب ہوں گی۔

ادھر جنگ کے 30 ویں روز ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کرنے کے علاوہ خطے میں امریکی مفادات پر مزید حملے کئے تو اس کے ساتھ ہی لبنانی حزب اللہ اور یمنی حوثیوں نے بھی اسرائیل کو نشانہ بنایا۔ حزب اللہ نے جمعہ کی شام ایک ویڈیو جاری کی جس میں درجن بھر سے زائد اسرائیلی فوجی ہتھیار ڈال رہے ہیں۔ ایران جنگ کے 27 ویں حزب اللہ کی اسرائیل کے خلاف جنگ میں عملی شرکت نے لبنان سے ملحقہ اسرائیلی علاقوں کو خاصی تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔

گزشتہ بدھ اور جمعرات کو تل ابیب سمیت متعدد مقامات پر نیتن یاہو حکومت کی جنگی پالیسیوں اور سرحدی شہروں و قصبات کو محفوظ بنانے پر توجہ نہ دینے کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے گزشتہ روز (ہفتے کو) امریکہ کے لگ بھگ تین سو سے زائد شہروں میں ٹرمپ حکومت کے جنگی جنون کے خلاف بڑے بڑے مظاہرے ہوئے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ان مظاہروں میں 70 لاکھ سے زائد امریکی شہریوں نے شرکت کی مظاہرین نے ٹیکس دہندگان کا پیسہ بے مقصد جنگ اور اسرائیل نوازی پر پھونکنے کی مذمت کرتے ہوئے جنگ روکنے کا مطالبہ کیا ان جنگ مخالف مظاہروں کا مقبول ترین نعرہ "ٹرمپ بادشاہت نامنظور" تھا۔

ایران جنگ میں امریکہ کی بحری دہشت کی علامت دو طیارہ بردار بحری جہازوں ابراہم لنکن اور جیرالڈ فورڈ ناقابل تلافی نقصان اٹھانے کے بعد میدان جنگ سے کھسکنے پر مجبور ہوگئے۔ دوسری جانب کہا جارہا ہے کہ ایران جنگ کی وجہ سے ایک ماہ کے دوران عالمی مارکیٹس سے 32,200کھرب روپے اُڑ گئے ہوابازی کے شعبہ کو اربوں ڈالرز کا نقصان الگ سے اٹھانا پڑا۔

صورتحال کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیجے کہ پی آئی اے خریدنے والے عارف حبیب گروپ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ معاشی صورتحال جس طرح خراب ہورہی ہے ایسے میں ہمارے لئے ایئر لائنز کو چلانا ممکن نہیں رہے گا۔

اسی دوران بعض معاشی ماہرین صدر ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لیتے دیکھائی دیئے۔ ان ماہرین کا موقف ہے کہ جنگ سے دنیا کا مالیاتی نظام متاثر ہورہا ہے مگر ٹرمپ اور اس کیلئے سرمایہ کاری کرنے والے کھرب پتی دوستوں کی کمپنیاں منافع کما رہی ہیں۔ اسی طرح کی سخت تنقید کا سامنا اسرائیل کے جنگ باز وزیراعظم نیتن یاہو کو بھی ہے کہا جارہا ہے کہ وہ اپنی سیاست کیلئے سرمایہ کاری کرنے والے اسلحہ ساز کمپنیوں کے مالکان کو فائدہ پہنچانے کیلئے جنگی جنون کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔

کیا یہ محض اتفاق ہے کہ نیتن یاہو پر ان الزامات کی بوچھاڑ کے ساتھ ہی گزشتہ روز سرکاری پابندیوں کے باوجود یاہو کی کرپشن سے متعلق ایک ویڈیو وائرل ہوگئی؟

ایران جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی خلیجی ممالک میں امریکی مفادات کو ہدف قرار دے کر نشانہ بنانے کی ایرانی حکمت عملی پر ہمارے یہاں گز گز بھر کی لمبی زبانوں سے فرقہ وارانہ نفرتوں کو بڑھانے والے صدر ٹرمپ کی جانب سے سعودی ولی عہد کیلئے انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر اب تک مکمل خاموش ہیں۔ پتہ نہیں ناشتے کی لذت سے دہن بند ہیں یا کوئی اور مجبوری ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ٹرمپ کے بازاری بیان سے فرقہ پرستوں کو جس طرح سانپ سونگ گیا ہے اس پر بعض منچلے آوازیں کستے ہوئے کہہ رہے ہیں

"وچلی گل ہور اے" (اندر کی بات اور ہے)

جنگ کے حوالے سے بعض دفاعی تجزیہ نگار مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ جنگ شروع امریکہ اور اسرائیل نے کی لیکن اس کا خاتمہ ایران کی مرضی پر منحصر ہے ان تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے خطے میں امریکی مفادات پر تواتر کے ساتھ حملوں نے یہ تاثر برباد کرکے رکھ دیا ہے کہ امریکہ بڑی توپ چیز ہے اس کی دفاعی چھتری تلے چڑیا بھی پر نہیں مارسکتی۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ نہ صرف دفاعی توپ اُڑ گئی بلکہ امریکہ کیلئے خلیجی ممالک کی سرزمین کو ایرانیوں نے غیر محفوظ بنا کر رکھ دیا ہے گو ایران نے اس کی بڑی قیمت چکائی اور چُکا بھی رہا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران جنگ میں امریکیوں کو ویت نام کے بعد سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا اور یہ سلسلہ جاری ہے اسی لئے امریکی صدر کی زبان تالو سے نہیں لگ رہی وہ ہردوسری بات میں اپنی ہی پہلی بات کی نفی کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔

ایران پر مسلط جنگ کے معاشی اور سیاسی اثرات کا باقی ماندہ ممالک کی طرح پاکستان کو بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے مگر پاکستانی قیادت اور عوام نے ہوش کا دامن نہیں چھوڑا گو چند "پرانی اداکارائیں بازاری انداز میں اپنے کرش کی محبت میں اوئے توئے سالے کہتی نظر آتی ہیں"۔

لیکن اس کے مقابلے پڑوسی ملک بھارت کی حالت بہت پتلی ہے معاشی طور پر بھی اور سیاسی و اخلاقی طور پر بھی مودی سرکار کے وزرا اور بی جے پی کے چھوٹے بڑے واہی تباہی میں جُتے ہوئے ہیں تو مخالف انہیں آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں بھارتی یوٹیوبرز اور دیسی دانشوروں کی حالت تو بہت پتلی ہے وہ 56 انچ کی چھاتی والے وزیراعظم مودی کی جس طرح عزت افزائی میں مصروف ہیں وہ مناظر دیکھنے والے ہیں۔

حرف آخر یہ ہے کہ خلیج میں اصلاح احوال کیلئے پاکستان ترکیہ اور مصر کی کوششوں کی کامیابی کی بنیادی شرط ایران کے اعتماد کی بحالی ہے کیونکہ امریکہ و اسرائیل نے جس طرح جاری مذاکرات کے وقفے میں ایران پر جنگ مسلط کی اس کے بعد یہ ضروری ہے کہ مصالحت کیلئے کوشاں ممالک پر ایران کُھلا اعتماد کرے اور مصالحت کار بھی ایران خطے انسانیت کے مفادات اور امن کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھیں۔

جنگ بند کرانے کیلئے اب تک کی کوششوں میں پاکستان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے سادہ لفظوں یہ کہ پاکستان تنے ہوئے رسے پر اب تک سنبھل کر چل رہا ہے یہ توازن بہرطور برقرار رکھنا ہوگا اسی میں بھلائی ہے۔

ہم امید ہی کرسکتے ہیں کہ جنگ بند ہو اور امریکی و اسرائیلی جارحیت سے شدید متاثر ایران کی حقیقی معنوں میں دلجوئی اور داد رسی ہو نیز یہ کہ اس امر کی بھی ضمانت ملے کہ مستقبل میں امریکہ اینڈ بُولی پھر ایسی جارحیت کے مرتکب نہیں ہوں گے۔