Thursday, 24 September 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Tayeba Zia
  4. Masnoi Qalamkar Copy Paste Writers

Masnoi Qalamkar Copy Paste Writers

ادب اور تحریر کی اصل روح انسانی احساسات میں پنہاں ہوتی ہے۔ AI قلمکار جملے تو بہترین بنا سکتا ہے لیکن ان میں وہ اندرونی تڑپ اور سچائی پیدا کرنا مشکل ہے جو ایک انسان اپنے تجربے سے لکھتا ہے۔ بعض اوقات مصنوعی قلمکار معلومات کے لحاظ سے غیر مستند یا غلط مواد تیار کر دیتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت AI پرانسان کاحد سے زیادہ انحصار ذہنی صلاحیتوں کو سست اور کاہل بنا سکتا ہے۔ جب ہر سوال کا جواب اور ہر مسئلے کا حل ایک کلک پر تیار مل جائے تو انسان خود سے گہرا غور و فکر اور بنیادی تحقیق کرنا چھوڑ دیتا ہے۔

پہلے لوگ فون نمبرز، نقشے، حساب کتاب اور اہم معلومات ذہن میں رکھتے تھے۔ اب تمام معلومات کے لیے فون سکرین پرایک ٹچ پر بھروسہ کرنے سے دماغ کا وہ حصہ جو معلومات محفوظ رکھتا ہے، کم استعمال ہوتا ہے۔ چیلنجز اور پیچیدہ مسائل کے دوران جو ذہنی ورزش انسان کو مضبوط بناتی ہے، AI کے تیار حل استعمال کرنے سے وہ عمل متاثر ہوتا ہے۔ بے شک جدید ٹیکنالوجی کی سہولت کا مثبت استعمال وقت کی بچت ہے مگرکسی بھی مسئلے یا تحریر پر پہلے اپنا ذہنی خاکہ اور نقطہ نظر بنائیں، اس کے بعد جائزہ لینے یا اصلاح کے لیے AI کی مدد لیں اور نہ ہی AI کے دیے گئے جوابات اور معلومات کو آنکھیں بند کرکے قبول کریں بلکہ ان کا تنقیدی جائزہ لیں اور اپنے مطالعے سے تصدیق کریں۔

کتابوں کا مطالعہ، تحریر و تقریر اور پیچیدہ مسائل پر خود غور و فکر کرنا جاری رکھیں تاکہ دماغی لچک اور تخلیق کارانہ صلاحیتیں فعال رہیں۔ "مکتوب امریکہ"خون پسینے سے لکھے گئے کالمز ہیں۔ ہڈ ورتی، جگ ورتی سے گزری ہوئی تحریریں ہیں۔ آج کچھ "مکتوب امریکہ" سے متعلق لکھنے کو من کر رہا ہے۔ آج سے قریبا پچیس برس قبل محترم مجید نظامی مرحوم کی رہنمائی سے کالم نگاری کا سلسلہ نوائے وقت اخبار میں شروع ہوا، کالموں کا مستقل عنوان "مکتوب امریکہ بھی" محترم مجید نظامی نے رکھا۔

میری زندگی میں مجید نظامی مرحوم کا خلا کبھی پُر نہیں ہو سکا، سچ پوچھیں تو ان کی وفات کے بعد چراغوں میں وہ روشنی نہ رہی، ان انگلیوں میں وہ سکت بھی باقی نہ رہی مگر نوائے وقت سے نظریاتی عقیدت کے باعث کبھی کبھار لکھنے کی سعی کرتی رہتی ہوں۔ اکثر اوقات دوران سفر یا محافل میں مکتوب امریکہ کے مداحوں سے ملاقات ہو جاتی ہے تو پھر سے لکھنے کی ہمت پیدا کرنی پڑتی ہے۔ وہ سیاست رہی نہ وہ لوگ رہے نہ ہی وہ سنجیدہ ماحول رہا۔ اب تو سوشل میڈیا کا شارٹ کٹ فیک نیوز کا نشہ چھایا ہواہے اور لکھنے پڑھنے کے لئے آرٹیفیشیل ذہانت کے ایپ کا بے دریغ استعمال ہوتاہے۔

کتب بینی آخری ہچکیاں لے رہی ہے۔ ہم جیسے قلمکار انسایئکلو پیڈیا اور کتب بینی کھنگالنے والے لوگ شارٹ کٹ رائٹرز کو قلمکار بنتے دیکھ کر فقط مسکرا ہی سکتے ہیں۔ اے آئی کی مدد سے ریڈی میڈ مواد کاپی پیسٹ والے بھی رائٹرز کہلانے لگیں تو اصل ذہانت، محنت اور علم کا جنازہ پڑھنا ہی بہتر ہوگا۔ بہر حال مکتوب امریکہ کے کالموں نے نوائے وقت اور دیگر روزناموں میں ایک منفرد اور مضبوط شناختی جگہ بنائی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ قارئین آج بھی ان تحریروں کے منتظر رہتے ہیں۔ مکتوب امریکہ کے کالم محض امریکہ کی چمک دمک یا سفرنامے تک محدود نہیں تھے بلکہ ان میں وہاں رہنے والے تارکینِ وطن (بالخصوص پاکستانی اور مسلم کمیونٹی) کی زندگی، ان کے مسائل اور ان کی جدوجہد کی سچی تصویر کشی کی جاتی تھی۔

نائن الیون کے واقعہ کے بعد کی صورتحال، امریکی معاشرت، سیاسی و سماجی حالات اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی باریک بینی سے روشنی ڈالی جاتی تھی۔ ان کالموں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ دیارِ غیر میں رہتے ہوئے بھی مکتوب امریکہ کا محور ہمیشہ پاکستان، اس کی اقدار، تاریخ اور اسلام کے آفاقی اصول رہے ہیں۔ امریکہ میں پرورش پانے والی نئی نسل کے چیلنجز اور اپنے وطن سے ان کے رشتے کو بڑے دردِ دل کے ساتھ پیش کیا گیا۔ نوائے وقت کی نظریاتی روایات کے عین مطابق تحریروں میں قومی و ملی جذبہ اور مقصدیت واضح نظر آتی ہے۔ مکتوبِ امریکہ کی مقبولیت کے ساتھ ساتھ قارئین تحریروں سے جڑے اس گہرے انسانی جذبے کو بھی سراہتے ہیں جو بعد میں ایک وسیع سماجی خدمت کی شکل اختیار کر گیا۔

قلمی سفر کے ساتھ ساتھ مکتوب امریکہ نے مومنہ چیمہ فاؤنڈیشن کے ذریعے گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں میں تعلیم، صاف پانی اور خواتین کی ہنر مندی کے میدان میں جو عملی کام شروع کیا، اس نے ان کی تحریروں کی تاثیر اور قارئین کا اعتماد مزید بڑھا دیا۔ قارئین کی یہ خواہش اور انتظار اس بات کا ثبوت ہے کہ سچی تحریریں اور مقصد سے جڑے الفاظ وقت کے ساتھ پرانے نہیں ہوتے بلکہ دلوں میں قائم رہتے ہیں۔ مکتوب امریکہ آج بھی پرانی روش پر قائم رہتے ہوئے تحقیقی مطالعہ اور مستند حوالہ جات کو ہی ترجیح دیتا ہے۔

مصنوعی ذہانت (AI) کی ترقی نے جہاں زندگی کے مختلف شعبوں میں انقلاب برپا کیا ہے، وہیں ادب، صحافت اور مواد نویسی کی دنیا میں "مصنوعی قلمکار" ایک نئے دور کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ کسی بھی دیے گئے موضوع پر چند سیکنڈز میں مضمون یا کالم لکھ سکتے ہیں۔ ایک باصلاحیت قلمکار AI کے ذریعے اپنی تحقیق کو تیز کر سکتا ہے اور تحریر کے ڈھانچے کو وسعت دے سکتا ہے لیکن تحریر کو حتمی شکل، فکری گہرائی اور روح دینا ہمیشہ انسانی ذہن ہی کا مرہونِ منت رہے گا۔