Friday, 19 June 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Syed Badar Saeed
  4. Ai, Budget Aur Hamara Mustaqbil

Ai, Budget Aur Hamara Mustaqbil

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ہر گزرتا لمحہ ہمیں ایک نئی حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔ آج کی دنیا کل سے بالکل مختلف ہے اور اس تبدیلی کے پیچھے جو بڑی اور طاقتور قوت کارفرما ہے وہ 'آرٹیفیشل انٹیلیجنس' یعنی مصنوعی ذہانت (AI) ہے۔ یہ ٹیکنالوجی اب صرف سائنسی افسانوں یا کہانیوں کا حصہ نہیں رہی بلکہ ہمارے لیپ ٹاپ، اسمارٹ فونز اور ہماری روزمرہ زندگی کا اٹوٹ حصہ بن چکی ہے۔ کہیں اس کے چرچے ہیں، تو کہیں روزگار چھن جانے کے خوف کے سائے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ اے آئی کو نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا ہماری ملکی معیشت، ہمارے سالانہ بجٹ اور سب سے بڑھ کر ہمارے نوجوانوں کے روزگار کے مواقع سے کتنا گہرا اور براہِ راست تعلق ہے۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان اس وقت ایک کٹھن معاشی دور سے گزر رہا ہے۔ وفاقی حکومت کے مالی سال 27-2026 کا کل بجٹ تقریباً 18 سے 19 ٹریلین روپے کے درمیان ہے۔ اسی طرح، ملکی معیشت کا انجن سمجھے جانے والے صوبہ پنجاب کا سالانہ بجٹ بھی 6 سے 7 ٹریلین روپے کے لگ بھگ ہے۔ یہ وہ سرکاری اعداد و شمار ہیں جن پر ملک کا انتظامی نظام، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، پنشن اور ترقیاتی منصوبے چلتے ہیں۔ یہ بجٹ انتہائی اہم ہے لیکن اس کے متوازی ایک ایسی "خاموش معیشت" بھی تیزی سے پنپ رہی ہے جو سرکاری فائلوں، بجٹ کی منظوریوں یا سرکاری امداد کی محتاج نہیں بلکہ یہ معیشت ہمارے نوجوانوں کے تخلیقی ہنر، ان کی ڈیجیٹل مہارتوں اور انٹرنیٹ کی رفتار پر چل رہی ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی حالیہ رپورٹس اور ڈیجیٹل معیشت کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو ایک حیران کن تصویر سامنے آتی ہے۔ پاکستان کی آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک سروسز کی برآمدات اب 3.5 ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہیں جسے اگر ہم پاکستانی روپے میں دیکھیں تو یہ رقم تقریباً 1 کھرب روپے سے تجاوز کر جاتی ہے۔ یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو ہماری برآمدات کا ایک بڑا حصہ بن چکے ہیں۔

اس بڑی رقم میں سے تقریباً 500 ملین ڈالر یعنی تقریباً 140 ارب روپے کا خطیر حصہ ہمارے فری لانسرز نے اپنی انفرادی محنت، تخلیقی صلاحیتوں اور ڈیجیٹل مہارتوں سے کمایا ہے۔ اب ذرا اس کا تقابل کیجیے کہ ایک طرف حکومتی بجٹ کے کھربوں روپے کے اعلانات ہیں جن کے لیے اکثر بیرونی قرضوں کا سہارا لیا جاتا ہے اور دوسری طرف ہمارے نوجوانوں کی یہ 140 ارب روپے کی کمائی ہے جو خالصتاً ان کے اپنے دماغ اور ڈیجیٹل مہارت کا ثمر ہے۔ یہ اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ اگر ہمارے پاس وسائل کم بھی ہوں تو ہم جدید ٹیکنالوجی کی طاقت سے ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ اے آئی اس ساری معاشی کہانی میں کہاں کھڑا ہے؟ کیا یہ واقعی نوکریاں ختم کر دے گا؟ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ عالمی سطح پر کیے جانے والے سروے اور رپورٹس بتاتی ہیں کہ جن فری لانسرز اور پروفیشنلز نے اے آئی ٹولز جیسے چیٹ جی پی ٹی، مڈجرنی اور جدید ویڈیو ایڈیٹنگ اے آئی ٹولزکو اپنے کام کا لازمی حصہ بنایا ہے ان کی پیداواری صلاحیت میں 40 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ یعنی جو کام پہلے ایک ڈیزائنر یا کنٹینٹ رائٹر 10 گھنٹے میں کرتا تھا اب وہ اے آئی کی مدد سے انتہائی کم وقت میں اور اعلیٰ معیار کے ساتھ مکمل کر رہا ہے۔ وقت کی اس بچت اور معیار میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ ایک فری لانسر جو پہلے ایک پراجیکٹ پر پورا دن صرف کرتا تھا اب بیک وقت دو سے تین پراجیکٹس سنبھال کر اپنی ماہانہ آمدنی کو دگنا کر سکتا ہے۔ یہ بجٹ کے اربوں کھربوں کے اعلانات سے کہیں زیادہ حقیقت پسندانہ اور ٹھوس معاشی بہتری کا راستہ ہے۔

عالمی منڈی میں اے آئی سے منسلک مہارتوں اور نوکریوں کی مانگ میں 113 فیصد تک حیران کن اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دنیا اب روایتی کام کرنے والوں کی تلاش میں نہیں بلکہ ایسے افراد کو ڈھونڈ رہی ہے جو اے آئی کے ساتھ مل کر کام کر سکیں۔ پاکستان میں حکومت کا "اے آئی سیکھو" پروگرام اس بات کی نوید ہے کہ اب ہم ماضی کے بوجھ تلے دبے نہیں رہیں گے۔ یہ پروگرام نوجوانوں کو اے آئی پرامپٹ انجینئرنگ، ڈیٹا اینالسٹس اور اے آئی کنٹینٹ کریشن جیسے جدید اور منافع بخش شعبوں میں تربیت دینے کے لیے ایک بڑا اور خوش آئند اقدام ہے۔ جو نوجوان آج ان مہارتوں کو سیکھ رہا ہے، وہ کل کا سب سے زیادہ کمانے والا پروفیشنل ہوگا۔

پاکستان میں نوجوانوں کے لیے مواقع کی کمی نہیں، کمی صرف سمت کے تعین کی ہے۔ ڈگری حاصل کرنے کے بعد جب ملازمت نہیں ملتی تو مایوسی کے اندھیروں میں ہاتھ پیر مارنے کے بجائے موقع تلاش کریں۔ آپ کے ہاتھ میں موجود موبائل فون صرف ٹک ٹاک دیکھنے یا سوشل میڈیا پر اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل "ڈیجیٹل فیکٹری" ہے۔ ایک ایسا پلیٹ فارم جہاں سے آپ بیٹھے بٹھائے امریکہ، یورپ اور خلیجی ممالک کی بڑی منڈیوں تک رسائی پا سکتے ہیں۔ یاد رکھیں بجٹ کے کھربوں روپے کے اعلانات اپنی جگہ لیکن آپ کی اپنی مہارت ہی آپ کا اصل بجٹ ہے۔ اگر آپ نے آج اے آئی کے ٹولز کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا تو آپ نہ صرف خود کو معاشی طور پر مستحکم کر سکتے ہیں بلکہ پاکستان کو ڈیجیٹل دنیا کا ایک بڑا مرکز بنا سکتے ہیں۔

آج کے دور میں تعلیمی ڈگری کے ساتھ اے آئی کی مہارت کا ہونا ہی ایک کامیاب اور جدید انسان کی اصل پہچان ہے۔ اے آئی سے ڈرنے یا اسے محض ایک تفریح سمجھنے کے بجائے اسے اپنائیں اور اس کی باریکیوں کو سیکھیں۔ اسے دوسروں کے مسائل حل کرنے کا ذریعے بنائیں۔ پاکستان کے پاس افرادی قوت کی کوئی کمی نہیں، ہمارے پاس ذہین نوجوانوں کی ایک بڑی کھیپ موجود ہے، ہمیں بس اپنی سمت درست کرنی ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کو اپنے کام کا حصہ بنائیں، اس سے پہلے کہ ٹیکنالوجی ہمارے کام کے روایتی طریقوں کو مکمل طور پر تبدیل کر دے اور ہم زمانے کی رفتار سے پیچھے رہ جائیں۔ مستقبل انہی کا ہے جو وقت کے ساتھ چلنا جانتے ہیں اور ٹیکنالوجی کی لہروں پر سوار ہو کر منزل مقصود تک پہنچنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ یہی وقت ہے کہ ہم اپنے ہنر کو ڈالر میں بدلیں اور پاکستان کی معیشت کو ایک نئی ڈیجیٹل سمت عطا کریں۔