Friday, 07 August 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Syed Badar Saeed
  4. Technology Ka Naya Mahaz: System Dobara Faal Ho Sakta Hai

Technology Ka Naya Mahaz: System Dobara Faal Ho Sakta Hai

آج کی دنیا ٹیکنالوجی کی ایک ایسی تیز رفتار اور انقلاب آفریں تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے جس نے انسانی زندگی کے ہر چھوٹے بڑے پہلو کو متاثر کیا ہے۔ اب دنیا روایتی سیاسی اور معاشی کشمکش کے دائروں سے نکل کر ڈیجیٹل غلبے اور مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی بالادستی کے ایک ایسے اکھاڑے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ہر لمحہ نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں۔

حال ہی میں ورلڈ بینک یعنی عالمی بینک کی جانب سے مصنوعی ذہانت سے متعلق جاری کردہ جامع عالمی رپورٹ اور یورپی یونین کے نافذ کردہ سخت گیر قوانین اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اب ٹیکنالوجی محض روزمرہ کی سہولت یا تفریح کا نام نہیں رہی بلکہ یہ دنیا کے پورے سیاسی اور معاشی ڈھانچے کو بنیادوں سے از سر نو تشکیل دے رہی ہے۔ اس تمام صورت حال میں یہ دیکھنا اور سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ عالمی سطح پر جنم لینے والی یہ پالیسیاں ہمارے خطے اور بالخصوص پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے عوام کی زندگی پر کیا اور کتنے گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں۔

عالمی بینک کی ایک حالیہ اور اہم رپورٹ نے ترقی پذیر ممالک پر یہ بات بالکل واضح کر دی ہے کہ مصنوعی ذہانت کوئی پرتعیش سائنسی تجربہ یا عیش و آرام کی چیز نہیں ہے بلکہ یہ موجودہ دور میں معاشی بقا اور پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کا ایک بنیادی اور ناگزیر ذریعہ بن چکی ہے۔ اس رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ترقی پذیر معیشتوں کو اربوں ڈالر خرچ کرکے بڑے بڑے اور مہنگے ڈیٹا سینٹرز بنانے کی بجائے مقامی سطح پر کم لاگت والے اور نچلی سطح کے چھوٹے اے آئی ٹولز پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

اگرچہ امریکہ، چین اور یورپی یونین جیسے بڑے معاشی حریف اس وقت ٹیکنالوجی کے فرنٹ لائن کھلاڑی بنے ہوئے ہیں اور اس میدان پر چھائے ہوئے ہیں، لیکن پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے سامنے اصل اور بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اس عالمی ڈیجیٹل لہر کا حصہ کیسے بنیں۔ ہمارے ملک کے اندر تعلیم، صحت اور عوامی خدمات کے تمام شعبے برسوں سے انتظامی سستی، لاپروائی اور وسائل کی شدید کمی کا شکار چلے آ رہے ہیں۔ اگر ان تمام شعبوں میں ایمانداری کے ساتھ مصنوعی ذہانت کو شامل کر لیا جائے تو کرپشن، اقربا پروری اور کاغذی کارروائی کے ان روایتی اور سست سسٹمز سے آسانی کے ساتھ نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

پاکستان کی حقیقی ترقی کے لیے یہ کام اب کسی بھی صورت نظر انداز کرنے والا نہیں رہا بلکہ یہ اولین ترجیح بننا چاہیے۔ دوسری طرف اگر ہم یورپی یونین کی طرف دیکھیں تو وہاں جنرل پرپز اے آئی یعنی جی پی اے آئی ماڈلز اور ان کی کڑی نگرانی کے لیے نافذ کیے جانے والے سخت ترین قوانین اس بات کے صاف غماز ہیں کہ ڈیجیٹل دنیا میں اب قانون، اخلاقیات اور سکیورٹی کی اہمیت اپنی جگہ مستقل طور پر بنا چکی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے کے دوران مصنوعی ذہانت کے بے لگام اور غیر ذمہ دارانہ استعمال، ڈیپ فیکس، جھوٹی خبروں اور ڈیٹا پرائیویسی کے سنگین مسائل نے پوری عالمی برادری کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

یورپی یونین کا یہ قدم اس بات کا بہترین ضامن ہے کہ ٹیکنالوجی خواہ کتنی ہی انقلابی اور شاندار کیوں نہ ہو اسے انسانی حقوق، شفافیت اور سماجی اقدار کے دائرے کے اندر ہی رہنا چاہیے۔ ہمارے اپنے خطے کے تناظر میں اگر اس کا جائزہ لیا جائے تو انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ سائبر کرائم اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کے نام پر بنائے جانے والے قوانین اکثر و بیشتر سیاسی مقاصد کے لیے تو دھڑلے سے استعمال ہوتے نظر آتے ہیں لیکن عام شہریوں کے بنیادی ڈیجیٹل حقوق اور ان کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے کہیں بھی خاطر خواہ سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی۔

جب تک ہماری ریاست ڈیجیٹل سسٹمز میں اصل شفافیت اور احتساب کے شفاف اصول نافذ نہیں کرتی اس وقت تک ٹیکنالوجی کے حقیقی ثمرات کبھی بھی عام آدمی تک نہیں پہنچ سکتے۔ اگر ہم پاکستان کے داخلی اور زمینی حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو وفاقی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے بلند و بانگ دعوے اپنی جگہ درست سہی لیکن زمینی حقائق ان کے بالکل برعکس اور تلخ نظر آتے ہیں۔

اسلام آباد کے ایوانوں میں ہونے والے حالیہ قومی مباحثے اور ڈیجیٹل پاکستان جیسے خوبصورت نعرے اس وقت تک بالکل بے معنی اور کھوکھلے ہیں جب تک ملک کے طول و عرض میں انٹرنیٹ کی بنیادی اور تیز رفتار سہولت، سستا ڈیٹا اور بجلی جیسی بنیادی ضروریات عوام کو میسر نہیں ہیں۔ آج کا ہمارا نوجوان بالخصوص ملک کے نڈر فری لانسرز، باصلاحیت سافٹ ویئر ڈویلپرز اور محنتی ڈیجیٹل مارکیٹرز اپنی ذاتی محنت اور لگن کے بل بوتے پر بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں لیکن حکومتی سرپرستی اور پالیسی کی سطح پر ایک طویل المدتی وژن کی شدید کمی آج بھی ان کی راہ میں سب سے بڑی دیوار بنی ہوئی ہے۔

ہمارے ملک میں فور جی کی سست رفتار اور فائیو جی کے نفاذ میں ہونے والی مسلسل تاخیر اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہمارے پالیسی ساز ابھی تک ڈیجیٹل دور کے حقیقی تقاضوں کو اس سطح پر سمجھنے سے قاصر ہیں جس کی آج کے اس دور میں اشد ضرورت ہے۔ ڈیجیٹل جمہوریت، انفارمیشن انٹیگریٹی اور انفارمیشن سکیورٹی جیسے اہم ترین موضوعات اب محض کسی اکیڈمک سیمینار کی سجاوٹ یا زینت نہیں بننے چاہئیں بلکہ یہ ہماری براہ راست قومی سلامتی اور معاشی ترقی کا کلیدی حصہ ہیں۔ اگر واقعی پاکستان کو عالمی برادری کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھنا ہے تو ہمیں سب سے پہلے پالیسی سازی کے ان روایتی اور فرسودہ طریقوں کو ہمیشہ کے لیے ترک کرنا ہوگا۔

ہمیں بیوروکریٹک رکاوٹوں کی زنجیروں کو توڑ کر نجی شعبے، قابل ماہرینِ تعلیم، سینئر صحافیوں اور ٹیکنالوجی کے ذہین ماہرین کو ایک میز پر بٹھانا ہوگا تا کہ اجتماعی سوچ سے فیصلے کیے جا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے پورے تعلیمی نظام بالخصوص جامعات کی سطح پر ماس کمیونیکیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے نصاب کو بالکل نئے اور جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا تاکہ ہمارا نوجوان روایتی نوکریوں کی تلاش میں مارا مارا پھرنے کے بجائے خود ایک کامیاب ڈیجیٹل انٹرپرینیور اور انوویٹر بن سکے۔

اس حقیقت میں اب ذرا برابر بھی دو رائے نہیں ہیں کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل میڈیا اب زندگی کی ایک ایسی اٹل حقیقت بن چکے ہیں جن سے منہ موڑنا یا نظریں چرانا اپنی موت آپ مرنے اور خودکشی کے مترادف ہے۔ عالمی سطح پر جو تیز رفتار تبدیلیاں آ رہی ہیں وہ ایک طرف تو ہمارے لیے ایک بڑا اور کٹھن چیلنج ہیں تو دوسری طرف ہمارے نوجوانوں اور ملک کے لیے ترقی کے ان گنت سنہری مواقع بھی فراہم کرتی ہیں۔

ورلڈ بینک کی مفید تجاویز اور یورپی یونین کے ان مضبوط ماڈلز سے سبق سیکھتے ہوئے اب پاکستان کو بھی اپنی قومی ڈیجیٹل پالیسی کو از سر نو ترتیب دینا ہوگا۔ ریاست، تمام متعلقہ اداروں اور عوام کو مل کر ایک ایسا مضبوط، مستحکم اور محفوظ ڈیجیٹل ایکو سسٹم بنانا ہوگا جہاں شفافیت ہو، مکمل انصاف کا بول بالا ہو اور ٹیکنالوجی عام آدمی کی فلاح و بہبود اور ترقی کا اصل ذریعہ بن سکے۔ بصورت دیگر ہم دنیا کے اس تیز رفتار کارواں میں بہت پیچھے رہ جائیں گے جہاں اب فیصلے انسان نہیں بلکہ کمپیوٹر کے بے رحم الگورتھمز طے کر رہے ہیں۔