سیانے ٹھیک کہتے ہیں انسانی تجربے کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ مجھے یاد ہے میرے مرحوم دوست اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین ڈاکٹر ظفر الطاف مرحوم اکثر کہتے تھے پاکستانی کھلاڑیوں کی اوقات، سکل یا کلاس برصغیر میں نہیں بلکہ اسٹریلیا اور انگلینڈ پر چیک ہوتی ہے۔ وہاں کی پچز پر آپ کتنی دیر رک سکتے ہیں اور فاسٹ باولرز کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس سے بڑھ کر کتنی بے خوفی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔
اب وہی کچھ انگینڈ میں ٹیم کا حشر ہوا کہ سب تاش کے پتوں کی طرح بکھرتے گئے۔ آخری میچ رضا اللہ کی وجہ سے عزت بچ گئی اگرچہ میچ ہار گئے۔
ابھی پاکستان کے لیجنڈ فاسٹ باولر وسیم اکرم کو سن رہا تھا۔ انہوں نے ٹھیک کہا ایک باولر نے ایک سو پچاس کی رفتار سے گیند کیا پھینک دی لگتا ہے پورے ملک میں بھونچال سا آگیا۔ ان کا کہنا تھا ایک تیز بال پھینکنا مشکل نہیں لیکن وہ کتنے تسلسل کے ساتھ پورا دن اس رفتار اور لینتھ سے باولنگ کرا سکتا ہے وہ اہم ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا اسے وقت دیں۔۔ ابھی سے اسٹار نہ بنا دیں۔
اب یہ باتیں ہوسکتا ہے کچھ کو پسند نہ آئیں کہ وسیم اکرم اس رضا اللہ سے شاید جیلس ہورہا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں۔
مجھ سے پوچھیں تو پاکستان کرکٹ تاریخ میں اگر ایک باولر پیدا ہوا ہے تو وہ وسیم اکرم ہے (میری رائے میں) وسیم اکرم کو کسی سے جیلس ہونے کی ضرورت نہیں۔ وہ بہت بڑا کھلاڑی ہے۔ وہ ٹھیک بات کررہے ہیں۔
ہمارے ہاں کئی بڑے بڑے کھلاڑی آئے اور چند میچز میں پرفارم کیا پھر شہرت اور دولت اور میچ فکسنگ انہیں کھا گئی اور کچھ کو ہمارے قابل احترام طارق جمیل لے گئے اور باقی وہی ٹیم بچی ہے جو آپ نے انگلینڈ میں دیکھ لی۔
معذرت کے ساتھ جس بیک گراونڈ سے ہمارے نئے لڑکے آتے ہیں وہ کچھ دن بعد کے اچانک ملنے والی شہرت اور پیسہ نہیں سنبھال پاتے۔ بہت جلد ٹیم میں سیاست یا مذہبی ٹچ اور پھر فارغ۔۔
امید ہے رضا اللہ ہم سب کو غلط ثابت کرے گا لیکن اس گلیمر اور پیسے کی دنیا میں ان سب خطرناک ترغیبات، مزید پیسے کی لالچ، اسٹارٹڈم اور خوبصورت حادثوں سے بچنا اس نوجوان کے لیے ایک معجزہ ہی ہوگا۔
دیکھتے ہیں وہ اپنا الگ رنگ برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتا ہے یا وہ نوجوان بھی اس رنگ میں رنگا جاتا ہے جس میں اسے پہلے سارے Talented رنگے گئے تھے۔ ہم وہ قوم ہیں جو بہت جلد سر پر بھی چڑھا لیتے ہیں اور اگلے دن اتار کر پھینک بھی دیتے ہیں۔ بہت کم ہی خوش نصیب ہیں جو آج تک ہمارے کندھوں پر سوار ہیں اور ہمیں ان کی سواری پر فخر ہے۔