Saturday, 07 February 2026
  1.  Home
  2. Express
  3. Rao Manzar Hayat
  4. Siasi Adam Istehkam Khatam Karna Hoga

Siasi Adam Istehkam Khatam Karna Hoga

ملک کے موجودہ حالات سنجیدہ اور ٹھوس بنیادوں پر تجزیہ کے متقاضی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، کمال محنت سے حل طلب بھی ہیں۔ حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو مشکلات کا پانی عوام کے سر کے اوپر تک جا پہنچا ہے۔ یعنی لوگوں کا عمومی طبقہ ہر طریقہ سے دیوار سے لگ چکا ہے یا لگا دیا گیا ہے۔ قیامت یہ ہے کہ ان مصائب کو پیدا کرنے میں ان کا کسی قسم کا کوئی کردار نہیں ہے اور نہ انھیں اس قابل ہی چھوڑا گیا ہے کہ بذات خود حل تلاش کر لیں۔ یہاں تک جو گزارشات پیش کر رہا ہوں یہ بالکل عام سی باتیں ہیں۔ مگر میری نظر میں یہ تمام کے تمام جملے اس بگاڑ کی عکاسی کر رہے ہیں جو مسلسل بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

مشکل یہ ہے کہ اصل مسائل کو حل کرنے کی بجائے، جھوٹ کی لیپا پوتی کی جا رہی ہے۔ غیر سنجیدگی کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔ حکومتی ڈھانچہ حقیقت پسندی سے دور ہو جائے تو پھر کسی قسم کی بہترین پالیسی بھی اچھے نتائج نہیں دکھا سکتی۔ سب سے پہلے یہ عرض کروں گا کہ سیاسی عدم استحکام، پورے ملک کی بنیادوں کو ہلا چکا ہے۔ سیاسی تناؤ روز بروز بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ہر پل کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے، جو اس الجھاؤ کو مشکل تر کرتا چلا جا رہاہے۔

سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ وہ سیاسی راندہ درگاہ لوگ، جن کو اکثریت نے ووٹ نہیں دیا تھا پورے کا پورا حکومتی نظام، ان کے حوالے کر دیا جاتا رہا اور وہ کرپشن، اقربا پروری اور لوٹ مار کی ان مٹ داستانیں رقم کرتے رہے۔ اب تو انھیں کسی قسم کا خوف بھی نہیں رہا۔ یہ گھاگ لوگ یا چند خاندان ملکی سیاسی کھیل کی نفسیات سمجھ چکے ہیں۔ یہ جعلی تابعداری کا کھیل اس عیاری سے کھیلتے ہیں، کہ سسٹم انھیں اپنا حلیف گردانتا ہے۔ یہ ایک مہلک غلطی ہے۔ گہرائی سے معاملہ کو دیکھئے تو بات سمجھ میں آ جاتی ہے۔ لندن پلان کی جزئیات، مکمل طور پر کھل کر سامنے آ چکی ہیں۔

اسرائیل اور ہندوستان کا اس منصوبہ میں حصہ بھی کسی سے چھپا نہیں ہے۔ موجودہ نظام میں انتظامی اور اقتصادی ٹیم، عوام کو کسی قسم کا ریلیف دینے میں ناکام رہی ہے۔ موجودہ سیاسی ڈھانچہ کی ویسے بھی کوئی مثبت ساکھ نہیں ہے۔ ان لوگوں کی سوچ اتنی پختہ ہے ہی نہیں، کہ اپنے ذاتی فائدے سے آگے کچھ بھی دیکھنے کی استطاعت رکھتے ہوں۔ یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بین الاقوامی عوامل، اس نوعیت کے ہو چکے ہیں کہ اس پریشر کو بر داشت کرنا اب ممکن نہیں رہا۔

ڈوبتی ہوئی معیشت، خوفناک سیاسی عدم استحکام، ہولناک کرپشن اور طاقتور بین الاقوامی دباؤ کی بدولت، گھڑ سوار، اب راستہ بدلیں گے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا اب مشکل نہیں رہا۔ اپسٹین فائلز میں جس طرح اڈیالہ کے قیدی کو بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے، اس سے اہل فکر کچھ سوچنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ہمارے ہاں سیاستدان اور ان کے خانوادے ہمیشہ طفیلی رہے ہیں اور کسی بھی صورت میں انقلابی قوت نہیں بن سکتے۔ مگر کیا گھڑ سوار یہ برداشت کر لیں گے کہ، اس ناکام سیاسی نظام کو دوام بخشیں۔

دوبارہ عرض کروں گا کہ فوج ہمارے ملک کی سلامتی کی نشانی ہے۔ ہمارے پاس عسکری قوت کے علاوہ کوئی دوسرا مضبوط ادارہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے اور یہ کوئی خوشگوار صورت حال نہیں ہے۔ براہ راست، فوج سے تعلق میں رہا ہوں۔ عام لوگوں کو قطعاً اندازہ نہیں کہ عسکری ادارے میں کام کرنے والے جوانوں اور افسروں کی زندگی کتنی مشکل ہوتی ہے۔ سخت قواعد میں جکڑ کر زندگی گزارنے کا مطلب کیا ہے؟ کیڈٹ کالج حسن ابدال کے پانچ برس اور پھر عملی سرکاری زندگی میں ریاستی اداروں سے ہر سرکاری افسر کی طرح، رابطہ میں رہا ہوں۔ عینی شاہد ہوں کہ کسی طور پر بھی کسی بھی دفاعی اہلکار کی ذاتی زندگی آسان نہیں ہے۔ بلند ترین سطح پر کام کرنے والے افسران بھی ایک ڈسپلن کے پابند ہیں۔

دوسری جانب صورتحال یہ ہے کہ سیاستدان کسی ڈسپلن اور قاعدے کے پابند نہیں، یہی وہ وقت ہے کہ ایسے سیاستدانوں اور سیاسی یتیموں کو ان کی اصل جگہ پر پہنچا دیا جائے۔

آخر یہ کیسے ممکن ہوگا۔ جواب حد درجہ سادہ مگر دشوار ہے۔ سب سے پہلے، الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کرنی ہوگی۔ وہ افراد، جن کی ساکھ بہتر ہے انھیں، اس کمیشن میں تعینات کرنا چاہیے۔ میری اطلاع کے مطابق، اس پر سوچ بچار جاری ہے۔ مگر سیاسی گرگوں نے جو نام دیئے ہیں وہ معاملہ کو مزید بگاڑ دیں گے۔

بالکل، اسی طرح متنازعہ افراد کو الیکشن کمیشن میں لانا، خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ باکردار اور اچھی ساکھ والے افراد کو تلاش کرنا، بالکل مشکل نہیں ہے۔ غیر جانبداری ہی وہ عنصر ہے، جس سے الیکشن کمیشن کی ساکھ بہتر ہو سکتی ہے۔ دوسرا نکتہ حد درجہ اہم ہے اور ہمارے سیاسی عدم استحکام کو کافی حد تک ختم کر سکتا ہے۔ مکمل طور پر شفاف الیکشن کا ڈول ڈالا جانا چاہیے۔ ایک ایسا الیکشن جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔

اعتراض نہ کر پائے اور جس میں کسی حکومتی یا ریاستی ادارے کی مداخلت نہ ہو۔ چھوٹے صوبوں کے موجودہ استحصال کو بھی ختم کرنے کا واحد حل ایک بھرپور طریقے کا الیکشن ہی ہے۔ منتخب نمائندے عوام کی نبض پر ہر وقت ہاتھ رکھے ہوتے ہیں۔ انھیں معاملات کا سنجیدہ شعور ہوتا ہے لہٰذا حکومت ان نمائندوں کے ذریعے ہی چلائی جانی چاہیے۔ ہمارا آئین بھی یہی حکم دیتا ہے۔ ساتھ ساتھ، بلدیاتی اداروں کا الیکشن اور قیام حد درجہ اہم ہے۔ یہ نکتہ درست ہے کہ ہر صوبائی حکومت، اس کی مخالفت کرے گی۔

اگر مقصد ملک کی بہتری ہے تو بلدیاتی ادارے کو فعال کرنا بہت ہی اہم ہے؟ جنرل پرویز مشرف سے آپ جتنا مرضی اختلاف کریں۔ مگر ان کا بنایا ہوا، یعنی بلدیاتی نظامت کا نظام، ایک اچھا قدم تھا۔ جتنی ترقی اس دور میں ہوئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ گھڑ سوار بھی شاید اب سوچنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

حال ہی میں بلوچستان میں دہشت گردی کے مربوط حملے، کسی بڑی منفی حکمت عملی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ یہ ہرگز ہرگز معمولی واقعہ نہیں ہے۔ اس میں افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ حکومتی ادارے اور عوام کے درمیان خلیج بہت عریاں ہو کر سامنے آئی ہے۔ اس کے متضاد، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویوڈیوز موجود ہیں۔ دہشت گرد، جس وقت ہولناک وارداتیں کر رہے تھے۔

مگرعام لوگ ان کے اردگرد، بڑے اطمینان سے گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ سیاسی استحکام آیا تو، دہشت گرد ی بھی ختم ہونے کا امکان ہے۔ ملک کے لیے اپنی اپنی انا کو ختم کیجیے۔ اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے اور دوسرا کوئی راستہ بچا بھی نہیں ہے!