زرعی ملک کی شناخت رکھنے والا پیارا پاکستان آج صنعتی حوالے سے کچھ قابلِ قدر مقام کے قریب ہے۔ مزید اطمنان بخش پہلو یہ کہ تمام بڑی طاقتوں سے خوشگوار مراسم ہیں۔ ماضی میں ایسی نظیر کم ہی ملتی ہے۔ اگر امریکہ سے دوستی میں سرد مہری آئی تو روس کی طرف تھوڑا جھکاؤ کرلیا یا پھر شہد سے میٹھی اور سمندر سے گہری چین دوستی سے خود کو تسلی دے لی لیکن گزشتہ برس مئی کی جھڑپوں نے پاکستان کی اہمیت، طاقت اور افادیت کی تصدیق کردی اب کمزوری کا تاثر ختم ہوچکا ہے۔
دنیا سمجھ گئی ہے کہ یہ ملک تمام ڈھانچہ جاتی کمزریوں کے باوجود دفاعی حوالے سے کسی بھی میدان میں غیر متوقع نتائج دے سکتا ہے۔ اسی بنا پر تو وہ امریکہ جس کا خطے میں بھارت ترجیحی تزویراتی اتحادی ہے بھی پاکستان کو ساتھ لیکر چلنے لگا ہے۔ روس اور چین سے بھی اچھے مراسم ہیں اِن حالات میں ضرورت اِس امر کی ہے کہ عالمی مہربانیوں سے فائدہ اُٹھا کر ملک کی لاغر معیشت درست کی جائے تاکہ خطے کے ساتھ عالمی کردار مستحکم رہے۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو رہا بلکہ پاکستان معاشی مواقع کھو رہا ہے اور دستیاب عالمی مواقع سے فائدہ نہیں اُٹھایا جا رہا بلکہ سارا زور یہی بتانے پر ہے کہ دیکھو دنیا کی تمام بڑی طاقتوں سے اچھے تعلقات ہیں۔
کم امریکی محصولات، یورپی یونین سے جی ایس پلس کی سہولت، عرب اور وسط ایشیائی ممالک کی طرف سے تجارتی نرمی اور چین کا فیاضانہ رویہ ایسے مثبت پہلو ہیں جو ملکی معیشت لیے فائدہ مندثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک اور اہم پہلو یہ کہ چین اور سعودی عرب دو ایسے ممالک ہیں جو پاکستان کو دفاعی کے ساتھ معاشی طور پر مستحکم دیکھنے کے سنجیدگی سے خواہشمند ہیں اور اِس وقت کئی اہم منصوبوں سے جڑے ہیں۔ یہ خواہش اُن کی اپنی بھی ضرورت ہے کیونکہ مضبوط اور خوشحال پاکستان اُن کے مفادات کی بہتر نگہبانی کرسکتا ہے۔
خوش قسمتی سے اِن دونوں کا شمار امیر ممالک میں ہوتا ہے لہذا سرمایہ کاری حاصل کرنا آسان ہے۔ اِن ممالک سے بھی پاکستان خاص فائدہ نہیں لے رہا۔ اگر سعودیہ سے موخر ادائیگی پر تیل حاصل کرنے پر نظر ہے تو چین سے مزید قرضے لینے اور ادائیگی موخر کرانے پر توجہ ہے۔ یہ وقت گزار پالیسی ملک کو مزید معاشی گرادب کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ اگر منصوبہ بندی سے کام لیا جائے تو دستیاب مواقع سے فائدہ اُٹھا کر پاکستان چند برسوں میں معاشی استحکام کی طرف آ سکتا ہے مگر جانے معاشی ماہرین کی نظر میں وہ کون سے پہلو ہیں جو معیشت سے بھی زیادہ اہم ہیں؟
ایک ارب ڈالر کی ادائیگی پر متحدہ عرب امارات کا ساڑھے چھ فیصد شرح سود پر ایک ماہ کا وقت دینا جوہری پاکستان کے لیے شرمندگی ہے جس کا شاید حکمرانوں کو احساس تک نہیں اور وہ تصوراتی دنیا میں گم ہیں معاشی مواقع سے تبھی فائدہ ہو سکتا ہے جب توجہ خودانحصاری پر ہو۔ پیداواری شعبے کی استعداد بڑھے اور قرض حاصل کرنے کو ہی فن تصور نہ کیا جائے۔
اِس وقت پاکستان اگر دفاعی حوالے سے اچھے مقام پر ہیں تو تجارت میں پستی کی طرف گامزن ہے۔ امریکہ، یورپ، چین، وسط ایشیائی اور عرب ممالک کو برآمدات کم ہو رہی ہیں اور دیگر ممالک کو اِن منافع بخش منڈیوں میں قدم جمانے کا موقع مل رہا ہے جس سے اِس قیاس کو تقویت ملتی ہے کہ ملک کے معاشی ارسطو یا تو ناکام ہو چکے ہیں یا پھر وہ کام کرنا ہی چھوڑ بیٹھے ہیں وگرنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ دستیاب مواقع سے فائدہ اُٹھانے کے لیے مالِ تجارت بڑھانے پر توجہ ہی نہ دی جائے اور زرعی وصنعتی شعبوں کا بھٹہ بٹھا دیا جائے۔
بے زاری، لاپرواہی، سُستی اور کاہلی ملک کو اُس مقام پر لے آئی ہے کہ ہمارے پاس عالمی منڈیوں کے لیے کچھ بہت زیادہ نہیں رہا۔ زرعی ملک کی شناخت رکھنے والا پاکستان خوراک میں خودکفالت کی منزل کھوچکا ہے۔ گندم، چینی، خوردنی تیل جیسی مصنوعات درآمد کرنے پر مجبور ہے۔ صنعتوں کا یہ حال ہے کہ بے رحم پالیسیاں صنعتی پہیہ جام کرنے لگی ہیں۔ صنعت و زراعت پر سرمایہ کاری کی بجائے مالدار لوگ جائیداد کی خرید و فروخت پر سرمایہ کاری کرنا منافع بخش تصور کرتے ہیں جس سے زرعی رقبہ خطرناک حد تک کم ہو رہا ہے۔
اگر اِس پالیسی پر جلد نظرثانی نہ ہوئی اور زرعی زمینوں پر رہائشی مکانات بنانے کی حوصلہ افزائی ہوتی رہی تو پاکستان ہمیشہ کے لیے خوراک میں خودکفالت کی منزل سے دور ہوجائے گا۔ یہ معیشت کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔ مزید ستم یہ کہ پانی کی خطرناک کمی سے زرعی پیداوار ویسے ہی مشکل ہوتی جارہی ہے۔ اِن حالات میں اگر زرعی ماہرین کی تجاویز پر عمل ہواور زرخیز زمینوں کی بجائے بنجر علاقوں کی طرف آبادیاں بنائی جائیں تو زرخیز زرعی رقبے کا نقصان رُک سکتا ہے اور کسانوں کو بہتر بیج اور کھاد دے کر ملک کو خوراک میں دوبارہ خودکفیل کیاجا سکتا ہے۔
معاشی ناہمواری کے نقصانات سیاسی استحکام پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں لیکن حکمران طبقہ شاید یہ سمجھنے سے قاصر ہے اور اپنی حکمرانی کو ہی ملکی استحکام سمجھ بیٹھا ہے۔ ملک میں بے روزگاری کی شرح 7.2 ہے جو گزشتہ اکیس سال کی بلند ترین سطح ہے یہ ایک تشویشناک پہلو ہے کہ افرادی قوت سے معاشی فائد ہ نہیں لیا جارہا حالانکہ چین اور بھارت نے افرادی قوت سے خیرہ کُن معاشی ترقی کی ہے مگر پاکستان سے تعلیم یافتہ افراد بھی ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔
یہ ایسا خطرناک رجحان ہے جس کے ملک کی تکنیکی استعداد پر گہرے منفی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔ ہر برس مزید تیس لاکھ کا افرادی قوت میں شامل ہونا الگ مسئلہ ہے کیونکہ اِس تناسب سے روزگار اور رہائش کے مواقع دینے سے ملک قاصر ہے۔ تعلیم یافتہ اور ہُنر مند نوجوانوں کو مناسب روزگار دیکر معیشت کی بنیادیں مضبوط بنائی جاسکتی ہیں۔ معیشت کا فعال حصہ نہ بنانے کے سیاسی اور معاشی نقصان کا خدشہ بڑھتا ہے لیکن آج بھی چھوٹے اور متوسط کاروباروں کی حوصلہ افزائی اور آن لائن کام کے لیے مالی معاونت جیسے منصوبوں کا فقدان ہے۔
انشورنس کی سہولت بھی محدود ہے اگر حکومت منصوبہ بندی سے کام لے تو افرادی قوت کو کارآمد بناکر معیشت بہتر بنائی جا سکتی ہے اور نوجوان ملکی ترقی کا انجن ثابت ہو سکتے ہیں اور تھوڑی توجہ دے کر غیر قانونی ہجرت بھی روکی جا سکتی ہے۔ یہ کام کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ حکومت اگر حکومتوں سے معاہدے کرے اور افرادی قوت کو باضابطہ طریقے سے بھیجے توغیر قانونی زرائع سے رقومات کی منتقلی پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ اِس طرح ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہوگا لیکن حکومتی توجہ بیرونِ ملک جانے والوں کی راہ روکنے پر ہے جس نہ صرف غیر قانونی ہجرت میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ ملکی معیشت کا کچھ بھلا نہیں ہوگا۔