دو ہزار چوبیس میں ترک اسرائیل تجارت کا حجم سات سے نو ارب ڈالر سالانہ تھا۔ مگر فلسطینی نسل کشی کے خلاف ترکی نے نہ صرف اپریل دو ہزار چوبیس سے تجارتی تعلقات معطل کر دیے بلکہ اسرائیلی جہازوں کے لیے اپنی سمندری و فضائی حدود بھی بند کر دیں۔
ترک صدر رجب طیب اردوان پہلے شخص تھے جنہوں نے غزہ میں اسرائیلی کارروائی کو نسل کشی قرار دیا، نیتن یاہو کا موازنہ ہٹلر سے کیا اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں فلسطینی نسل کشی کی بابت دائر کردہ جنوبی افریقہ کی پیٹیشن میں ساجھے دار بنے۔
ترک طرزِ عمل کے برعکس سال دو ہزار پچیس کے آخری دنوں میں وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے خبر جاری ہوتی ہے کہ اسرائیل اگلے پندرہ برس میں مصر کو پینتیس ارب ڈالر کی قدرتی گیس فروخت کرے گا۔ امریکی انرجی کمپنی شیورون اور مصری گیس کمپنی کے درمیان طے پانے والا یہ معاہدہ بقول نیتن یاہو اسرائیل کی تاریخ میں گیس ایکسپورٹ کا سب سے بڑا معاہدہ ہے۔
شیورون اسرائیلی ساحل کے نزدیک تمار اور لیوتھان نیچرل گیس فیلڈز آپریٹ کرتی ہے۔ یہاں سے دو ہزار انیس میں گیس کی کمرشل پیداوار شروع ہوئی اور اسرائیل کی مقامی ضروریات پوری کرنے کے بعد نوے فیصد گیس مصر اور اردن کو فروخت کر دی جاتی ہے۔ اسرائیل مصر کو جو گیس فراہم کرتا ہے مصر اس کا ساٹھ فیصد یورپ کو ری ایکسپورٹ کرتا ہے۔
دو ہزار سولہ سے اردن اپنی ضروریات کی چالیس فیصد گیس اسرائیل سے خریدتا ہے۔ یہ گیس زیادہ تر بجلی کی پیداوار میں استعمال ہوتی ہے۔ اگر اسرائیل یہ گیس خود استعمال کرے تو یہ ذخائر اسرائیل کی چالیس سالہ ضروریات پوری کرنے کے قابل ہیں۔
انرجی سیکٹر کے موقر جریدے ایس اینڈ پی گلوبل کے مطابق سات اکتوبر دو ہزار تئیس کو غزہ کا انسانی بحران شروع ہونے کے باوجود مارچ دو ہزار پچیس تک مصر کو اسرائیلی گیس کی رسد جاری تھی۔ پھر پانچ چھ ماہ کے لیے یہ سپلائی معطل ہوگئی۔ مگر اگست میں حکومتِ اسرائیل نے گیس ذخائر کو ترقی دینے والی امریکی کمپنی شیورون کو مصر سے معاہدے کی تجدید کا اختیار دیا۔
اسرائیلی گیس کی سب سے بڑی تاریخی ڈیل کی خبر جب نیتن یاہونے خود بریک کی تب مصر کی جانب سے یہ وضاحتی بیان جاری ہوا کہ یہ پرائیویٹ سیکٹر کا باہمی معاملہ ہے۔ سرکار کا اس کاروباری ڈیل سے کوئی لینا دینا نہیں۔ اس ڈیل سے غزہ اور ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے بارے میں مصر کے سرکاری موقف پر کوئی اثر نہیں پڑے گا (مصر کو اسرائیل جس لیوتھان گیس فیلڈ سے گیس سپلائی کرتا ہے اس پر لبنان کا بھی دعوی ہے)۔
مصر اور اسرائیل کی دو ہزار چوبیس میں تجارت کا حجم چار ارب ڈالر تھا۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے دو ہزار چوبیس میں تین اعشاریہ چوبیس بلین ڈالر مالیت کی تجارت کی۔ اردن اور اسرائیل کی تجارت کا حجم دو ہزار پچیس میں لگ بھگ پونے چار سو ملین ڈالر رہا۔ اسرائیل اردن سے مصنوعی کھاد کی صنعت کے لیے پوٹاش خریدتا ہے اور بدلے میں گیس بیچتا ہے۔ وہ الگ بات کہ اردن کے دارالحکومت عمان میں شائد ہی کوئی ہفتہ ایسا جاتا ہو جب فلسطینیوں سے یکجہتی کے لیے جلوس نہ نکلتے ہوں۔
مراکش بھی معاہدہِ براہیمی کا حصہ ہے۔ اسرائیل نے مراکش سے دو ہزار چوبیس میں ایک سو بیالیس ملین ڈالر مالیت کی ٹیکسٹائیل مصنوعات، زرعی اجناس اور شکر خریدی جب کہ مراکش نے ایک سو پندرہ ملین ڈالر کی دفاعی ٹیکنالوجی کا سودا کیا۔ تاہم مراکش میں عوام کو اہلِ غزہ کے حق میں مظاہرے کرنے کی بھی آزادی ہے۔
معاہدہِ براہیمی کے ایک اور رکن بحرین اور اسرائیل کے مابین سو ملین ڈالر سالانہ کی تجارت ہوتی ہے۔ ترکی سے تعلقات میں کشیدگی کے بعد سے اسرائیلی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد بحرین اور امارات آتی ہے۔ کویت اور سعودی عرب و قطر کے اسرائیل سے تجارتی و سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
امارات کو اسرائیلی کمپنیاں سیمی کنڈیکٹرز اور اے آئی بیسڈ ٹیکنالوجی بھی فراہم کرتی ہیں اور اماراتی کمپنیاں سونا اور زیورات ایکسپورٹ کرتی ہیں۔ دونوں ریاستوں کی فضائی کمپنیاں بھی اس منافع بخش سیکٹر سے جڑی ہوئی ہیں۔ مگر یہ بھی ہے کہ امارات نے دو ہزار چوبیس میں غزہ کی انسانی و بحالی امداد کی مد میں دس کروڑ ڈالر مختص کیے۔
اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ میں اٹھارہ دسمبر کو یہ خبر بھی شائع ہوئی کہ معاہدہِ براہمی میں شامل ایک خلیجی ریاست نے الیکٹرونک دفاعی آلات بنانے والی سب سے بڑی اسرائیلی کمپنی ایلبیت سے نومبر میں دو اعشاریہ تین ارب ڈالر مالیت کے ایک آٹھ سالہ سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ ایلبیت کی کمرشل تاریخ کی سب سے بڑی ڈیل ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ایلبیت نے فی الحال سمجھوتے کی تفصیلات کے بارے میں باضابطہ طور پر نہیں بتایا۔ مگر اتنا اشارہ ضرور دیا ہے کہ یہ ڈیل ایک اعشاریہ تریسٹھ بلین ڈالر مالیت کی اس پانچ سالہ ڈیل کی طرح ہے جو ایلبیت نے اگست میں سربیا سے کی۔
اس سمجھوتے کے تحت سربیا کو طویل مار والا آرٹلری راکٹ نظام اور نگرانی و حملے کے خودکار نظام سے لیس فضائی سسٹم اور سراغرسانی کے الیکٹرونک آلات کا نظام بھی فراہم کیا جائے گا۔
ترکی کو چھوڑ کے اگر مصر، اردن اور معاہدہ براہیمی کے رکن ممالک اور اسرائیل کی تجارت کو دیکھا جائے تو اس میں دو ہزار تئیس تا دسمبر دو ہزار پچیس اوسطاً بیس تا چالیس فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ترکی اور اسرائیل کے مابین اٹھاون مصنوعات کی تجارت تھم جانے سے ترکی کو ضرور مالی دھچکا لگا ہوگا تاہم اسرائیل کو اس لیے خاص فرق نہیں پڑا کیونکہ اس نے ایسی متعدد مصنوعات دیگر ہمسایہ ممالک سے تجارت کے ذریعے حاصل کر لی ہیں۔ ویسے بھی ترکی کا اسرائیل کی مجموعی تجارت میں حصہ پانچ فیصد سے زیادہ نہیں تھا۔