اس مکالمے کا آغاز اس وقت ہوا جب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سے ایک طالبہ نے گڈ گورننس اور عوامی سہولتوں پر سوال کیا۔ سہیل آفریدی نے پہلے تو اس طالبہ کو مخالف سیاسی جماعت کا قرار دیا اوراس کے ساتھ ہی کہہ دیا کہ ان کی پارٹی انفراسٹرکچر کی بجائے شعور دے رہی ہے۔ یہ مکالمہ اس وقت زیادہ آگے بڑھا جب پنجاب کے دور دراز ضلعے راجن پور کو الیکٹرک بسیں دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ کیا شعور روٹی، تعلیم اور علاج دیتا ہے۔
مجھے وزیراعلیٰ پنجاب کے جواب سے ایک اختلاف ہے اور وہ اس امر کا باالواسطہ تسلیم کرنا ہے کہ پی ٹی آئی جو کچھ دے رہی ہے وہ شعور ہے۔ میرا دوٹوک اور واضح موقف ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا سربراہ ہو، اس کے رہنما اور عہدیدار ہوں یا سوشل میڈیا ٹرولز کا شتر بے مہار گروہ، ان میں سے کسی پر یہ تہمت نہیں رکھی جا سکتی۔ اس سے پہلے کہ ہم اس مکالمے میں جائیں کہ شعور کو شہری سہولتوں اور حکومتی کارکردگی سے جوڑا جا سکتا ہے یا نہیں، ہمیں اس سوال کا جواب چاہےے ہوگا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے موقف کے مطابق پی ٹی آئی جو کچھ عوام اور نوجوان نسل کو دے رہی ہے کیا وہ شعور ہے اوراگر وہ شعور ہے تو پھر بدتمیزی، جہالت، غداری وغیرہ وغیرہ کی تعریف کیا ہے؟
پاکستان تحریک انصاف کے بانی نے اپنی سیاست کے ذریعے اب تک جو کچھ دیا ہے ان میں سب سے نمایاں یوٹرن ہے یعنی اگر فوج اقتدار دے تو آرمی چیف باپ ہوتا ہے اور اگر اقتدار نہ دے تو وہی آرمی چیف (بندہ بدلے بغیر ہی) میر جعفر اور میرصادق ہوجاتا ہے۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ اگر" وہ" دوبارہ ان پر مہربان ہوجائے تویہ اسی کو دوبارہ باپ کے درجے پر لانے پر بھی آمادہ نظر آتے ہیں۔ ان کی تعلیم یہ ہے کہ فوج ان کو اقتدار میں لے کر آئے تو یہ عین ملک و قوم کی خدمت ہوتی ہے لیکن اگر وہی فوج نیوٹرل ہوجائے تو وہ جانور بن جاتی ہے۔
میں اسے شعور نہیں، موقع اور مفاد پرستی کی گھٹیاترین مثال سمجھتا ہوں۔ پی ٹی آئی سے وابستہ نوجوانوں سے لے کر بوڑھے بوڑھیاں تک جس قسم کی زبان سوشل میڈیا پر استعمال کرتے ہیں اسے بھی شعور نہیں کہا جا سکتا۔ ساٹھ ستر برس کی عمر کے شخص نے اپنے والدین سے جس بدتمیزی اور گستاخی کی تعلیم دی ہے وہ ہمارے تہذیب و تمدن کی نفی ہے۔ جب آپ اپنے ہی ملک کو دیوالیہ کرنے کی کال دیتے ہیں، ملک کو دولخت کرنے والے کو ہیرو بنا کے پیش کرتے ہیں، دشمن ملک حملہ کرتا ہے تواس کی ترجمانی کرتے ہیں تو اسے بھی شعور نہیں غداری کہتے ہیں۔ میں اس گروہ کے بانی کے اخلاقی معاملات پر نہیں جانا چاہتا کیونکہ وہ شعور اور اخلاق کی مکمل نفی ہیں سو میں اس پر واضح ہوں کہ جو کچھ پی ٹی آئی کی طرف سے دیا گیا ہے وہ شعور ہرگز نہیں، اسے جہالت، نفرت اور تعصب کے سواکچھ نہیں کہا جا سکتا۔
شعور بنیادی طور پر اپنے ذاتی اور اجتماعی مفادات کا تحفظ ہے یعنی آپ کی تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ آئین، قانون اور جمہوریت کی سربلندی۔ جب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز یہ کہتی ہیں کہ کیا آپ کو شعور روٹی دے سکتا یا تعلیم اور صحت تو میرا جواب ہے کہ ہاں، یہ کام شعور کا ہی ہے۔ میں شعور کی سب سے پہلی ذمے داری بقا یقینی بنانا اور امن قائم کرنا سمجھتا ہوں کہ اگربقا ہی نہیں ہوگی، اگر امن ہی نہیں ہوگا یعنی جب آپ ہی نہیں ہوں گے پھر کچھ بھی نہیں ہوگا۔
مجھے یہاں بھی افسوس کے ساتھ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کی حمایت میں پالیسیوں کی نشاندہی کرنی ہے جس نے امن و امان کو دگرگوں کر رکھاہے۔ یہ وہ پارٹی ہے جس کے بانی نے دہشت گردوں کو پشاور میں ہیڈکوارٹرز بنا کے دینے کی پیش کی۔ ہزاروں کی تعداد میں دہشت گردوں کو افغانستان سے واپس لے کر آیا جنہوں نے اس وقت خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ات مچا رکھی ہے۔
مجھے مزید افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ اس پارٹی نے دہشت گردوں کی حمایت میں فکری مغالطے پیدا کئے اور اس کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی نے بھی، دہشت گردی شعور کی مکمل نفی ہے۔ زندگی اور امن کے بعد اہمیت روزگار، صحت اور تعلیم کی ہے اور شعور ان کی منصوبہ بندی کرواتا ہے، ان کو اہمیت دلواتا ہے اور ان تین بنیادی ضرورتوں کے ساتھ چھٹے نمبر پر انفراسٹرکچر آجاتا ہے۔
انفراسٹرکچر بنیادی طور پر پہلی تمام ضرورتوں کی تکمیل کے لئے بھی ضروری ہے کہ اگر تھانے، ہسپتال اور سکول ہی نہیں ہوں گے تو امن، صحت اور تعلیم کیسے ہوگی، کس معیار کی ہوگی لہذا شعور یہی ہے کہ ان کے بارے حکمرانوں سے سوال کئے جائیں، اس پر ان کا احتساب کیا جائے اور یہیں سے آئین، قانون اور جمہوریت سامنے آتے ہیں سو میں پہلا اختلاف تو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے کروں گا کہ انہوں نے غلط بیانی کی، وہ شعور نہیں دے رہے بلکہ شعور چھین رہے ہیں، ایک کلٹ بنا رہے ہیں جو سوال اور احتساب کی نفی کر رہا ہے۔ یہ شاہ دولہ کے چوہے ہوتے ہیں جو سوال نہیں کرتے صرف تھوک پھینکتے ہیں۔
میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے بھی اختلاف کرتا ہوں اور کہتا ہوں، ہاں، یہ شعور ہی ہوتا ہے جو زندگی، امن، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، آئین، قانون اور جمہوریت دیتا ہے۔ شعور ہی سکول اور کالج لے جاتا ہے اور اس سے پہلے قوموں سے یہ ادارے بنواتا ہے۔ جو قومیں ہم سے شعور میں آگے ہیں انہوں نے ان سب میں ہم سے کہیں زیادہ ترقی کر لی ہے مگر شعور سے عاری (جیسے بدقسمتی سے ہمارے پڑوسی افغان) اب بھی منشیات اور سمگلنگ کو کاروبار سمجھ رہے ہیں، بدمعاشی اور دہشت گردی کودھندابنائے ہوئے ہیں۔
آپ کی تعلیم، آپ کی صحت، آپ کا انفراسٹرکچر ہی آپ کے شعور کی نشانی ہے جیسے آپ کا لباس، آپ کی گفتگو اور آپ کا طریقہ روزگار آپ کی شخصیت کی پہچان۔ کیا عمران خان پر یہ تہمت نہیں کہ اس نے شعور دیا اور اگر اس کے اپنے پاس شعور ہوتا یا اس نے شعور دیا ہوتاتو کیا یہ ممکن ہوتا کہ وہ پنجاب جیسے صوبے کی گورننس پر جو آدھا پاکستان ہے عثمان بزدار جیسا نمونہ مسلط کر دے یا جس صوبے کے لوگوں نے اس سے محبت کی ان پر علی امین گنڈا پور جیسی مضحکہ خیز شخصیت لگا دے یا اس کے بعد وہ شخص جس پر منشیات کی پیداوار اور دہشت گردوں کی حمایت کے الزامات ہیں۔ اس پراتفاق رائے ہے کہ عمران خان نے ایک کلٹ پیدا کیا ہے جو ذہنی غلامی سے بنتا ہے اورشعور کی نفی ہوتا ہے۔
خیبرپختونخوا جیسا جنت نظیر صوبہ تباہ ہو رہا ہے لہذا میں تو کم از کم اس کے فیصلہ سازوں پر باشعور ہونے کا الزام عائد نہیں کرسکتا۔ مجھے کہنے میں عارنہیں کہ اگر ان کے پاس شعور ہوتا تو امن ہوتا، گڈ گورننس ہوتی، تعلیم، صحت، روزگار ہوتے، خیبرپختونخوا ہر حوالے سے بوچڑ خانہ نہ ہوتا۔