Thursday, 09 July 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Speaker Khyber Pakhtunkhwa Ke Daira e Istehqaq Mein Hairan Kun Izafa

Speaker Khyber Pakhtunkhwa Ke Daira e Istehqaq Mein Hairan Kun Izafa

منیر نیازی کے بقول"عمر میری تھی مگر"، اس کو بسر (یعنی ضائع) ان لوگوں نے کیا جو 1980ء کی دہائی سے قوم کو جمہوری نظام اور آزادیِ اظہار کے خواب دکھارہے تھے۔ عمر تمام جن کی ستائش میں صرف کردی وہ اپریل 2022ء میں ملک کو "فسطائی نظام" سے بچانے کے لئے برسراقتدار آگئے۔ فروری 2024ء کے انتخابات ہوجانے کے بعد بھی حکومتی بندوبست ان ہی کے ہاتھ رہا۔ اقتدار سنبھالتے ہی لیکن وہ جمہوری کے بجائے "ہائی برڈ" حکومتی بندوبست کے پرچارک ومحافظ بن گئے۔ انتہائی عجلت میں ایسے قوانین اور آئین میں ترامیم متعارف و منظور کروائیں جن کی بدولت ایک لفظ لکھنے اور بولنے سے قبل سو بار سوچنا پڑتا ہے۔ گوشہ تنہائی میں اکثر بیٹھ کر لہٰذا اپنی ملامت میں مصروف رہتا ہوں۔

فیض احمد فیض کی طرح "غم جہاں کا حساب" کرتے ہوئے اکثر یہ خیال بھی آتا ہے کہ شاید کرکٹ کے کھیل کی وجہ سے کرشمہ ساز ہوئے عمران خان کی بنائی تحریک انصاف اتنی بھی "غیر جمہوری" نہیں تھی جتنا میں فرض کئے بیٹھا تھا۔ مذکورہ جماعت کے بارے میں 2011ء سے اپنے تحظات کا اظہار شروع کیا تو سوشل میڈیا پر چھائے "عاشقانِ عمران" نے نہایت لگن سے مجھے لفافہ اور بدکردار ثابت کرنا شروع کردیا۔ ڈھیٹ ہڈی کی وجہ سے میں گھبرایا نہیں۔ اسی باعث 2018ء میں اقتدار سنبھالتے ہی عمران حکومت نے مجھے میڈیا سے دھکے دے کر غائب کرنا شروع کردیا۔ "نوائے وقت" نے اپنے صفحہ نمبر 2 پر ہفتے کے پانچ دن بلاکانٹ چھانٹ یہ کالم چھاپتے ہوئے مجھے زندہ رکھا۔ بالآخر اچھے دنوں کی طرح بُرے دن بھی نہ رہے۔ تحریک انصاف کے البتہ بُرے دن شروع ہوئے تو میں اس جماعت کے بارے میں ذاتی تلخیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے تحفظات سے رجوع کرنے کو مجبور محسوس کرنا شروع ہوگیا۔

خود احتسابی کے ایام میں نہایت دیانتداری سے یہ بھی محسوس کیا کہ خود کو "عشقِ عمران" میں مبتلا بتانے والے سہیل آفریدی سیاست کے حوالے سے تقریباََ نومولود ہونے کے باوجود نہایت بردباری سے ملک کے حساس ترین صوبے میں اپنی جماعت کی حکومت بچائے ہوئے ہیں۔ موصوف کو تاہم بیرون ملک مقیم تحریک انصا ف کے "اونترے یوٹیوبر" سانس لینے کی مہلت لینے کو بھی آمادہ نہیں۔ بانی تحریک انصاف کی بہنیں بھی مستقل اڈیالہ جیل کے باہر پہنچ کر ایسا ماحول بنارہی ہیں جو سہیل آفریدی اور ان کی حکومت کو تحریک انصاف سے "غداری" کی جانب بڑھتا دکھارہا ہے۔ منگل کے روز مگر "اچانک" ایک خبر آنکھوں کے سامنے آئی۔ اس کا تعاقب کیا تو بالآخر تمام سیاستدانوں کے بارے میں بلااستثناء "ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے، " والی رائے اختیار کرنے کو مجبور ہوگیا۔

جو "خبر" دیکھی اس میں خیبرپختونخواہ کے وزیر اطلاعات یہ دعویٰ کرتے سنائی دئے کہ تحریک انصاف کے دشمن یہ جھوٹی کہانی پھیلارہے ہیں کہ حال ہی میں خیبرپختونخواہ اسمبلی نے اپنے اراکین کے لئے شاہی خاندانوں سے مختص مراعات کا حصول یقینی بنانے کے لئے قانون سازی کی ہے۔ جن مراعات کا تقاضہ ہے ان میں خیبرپختونخواہ اسمبلی کے اراکین کے لئے بلیو پاسپورٹ کا حصول بھی شامل ہے۔ خبر دیکھتے ہی مجھ سادہ لوح نے صوبائی وزیر اطلاعات کے دعویٰ پر اعتبار کیا۔ پاکستان کے کسی شہری کو پاسپورٹ کا اجراء محض وفاقی حکومت کے اختیار میں ہے۔ کوئی صوبائی اسمبلی قانون سازی کے ذریعے اس کے اختیار میں مداخلت نہیں کرسکتی۔

صوبائی وزیر کی تردید دیکھنے کے بعد مگر گھر آئے اخبارات کا پلندہ کنگھالتے ہوئے اردو اخبارات میں غیر نمایاں طورپر چھپی چند خبروں پر نظر ڈالی تو اندازہ ہوا کہ معاملہ فقط بلیوپاسپورٹ کے حصول تک محدود نہیں ہے۔ حال ہی میں نہایت عجلت وہوشیاری سے خیبرپختونخواہ اسمبلی نے یقیناََ ایک قانون منظور کیا ہے۔ اس کی بدولت تمام اراکین صوبائی اسمبلی کو شہنشاہی مراعات فراہم کرنے کا بندوبست ہوا ہے۔ ان کا"دائرہ استحقاق" بھی حیران کن حد تک بڑھادیا گیا ہے۔

خیبرپختونخواہ میں میرے بے تکلف صحافی دوست اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ جن پر اعتماد کرسکتا ہوں وہ عملی صحافت سے کنارہ کش ہوچکے ہیں۔ فخر کا کاخیل تحقیق کی جانب گامزن ہوچکا ہے۔ اسلام آباد میں تعینات نوجوان رپورٹروں سے تقاضہ شروع ہوگیا کہ حقائق کا سراغ لگائیں۔ بالآخر منگل کی شام 6بجے کے قریب 30اپریل کے روز متفقہ طورپر منظور ہوئے ایک قانون کا بھاری بھر کم مسودہ "دریافت" ہوگیا۔ اسے پڑھتے ہوئے حیران وپریشان ہوگیا۔

گزشتہ کئی مہینوں سے تحریک انصاف کا بیانیہ محض یہ پیغام دینے پر مبذول ہے کہ ان کی جماعت کے بانی کو اڈیالہ جیل میں عزیز واقارب اور وکلاء سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ مبینہ طورپر قید تنہائی میں رکھے عمران خان کی بینائی ضائع ہونے کے امکانات شدید سے شدید تر ہورہے ہیں۔ ایسے حالات میں فروری 2024ء میں موصوف سے وفاداری کے نام پر ووٹ لے کر قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پہنچے افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ سب کچھ بھلاکر سڑکوں پر نکل آئیں اور اپنے قائد کو جیل سے نکال نہیں سکتے تو کم ازکم ان کے مناسب علاج کے لئے ہسپتال منتقلی یقینی بنائیں۔

منگل 7جولائی 2026ء کی شام جب 30اپریل 2026ء کے روزخیبرپختونخواہ اسمبلی سے متفقہ طورپر منظور ہوئے قانون کا مسودہ ہاتھ لگاتو دریافت یہ ہوا کہ "عشقِ عمران" کا ڈرامہ رچاتے ہوئے خیبرپختونخواہ اسمبلی میں پہنچے اراکین کو اپنے قائد کی فکرکے بجائے اپنی مراعات اور استحقاق میں اضافے کا جنون لاحق ہے۔ جو قانون منظور کروایا گیا ہے وہ ہر اعتبار سے مضحکہ خیز ہے۔ اس کی بے شمار دفعات میری ناقص رائے میں قابل عمل ہی نہیں۔ چند مراعات ہماری عدلیہ کو خیبرپختونخواہ اسمبلی کا مکوٹھپنے کو اُکساسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایگزیکٹو یا انتظامی افسران کی کثیر تعداد بھی اراکینِ صوبائی اسمبلی کو ٹھینگا دکھانے کا ارادہ باندھ سکتی ہے۔

جو قانون تیار ہوا ہے اس کی تفصیلات اخباری کالم میں بیان ہونہیں سکتیں۔ وہ کتاب کی متقاضی ہیں جو لکھ دی جائے تو یقیناََ مزاحیہ ادب میں کلاسیک کا درجہ حاصل کرسکتی ہے۔ فی الوقت صرف ایک پہلو پر توجہ دینا ہوگی۔

اپنے قیام کے روزِ اوّل سے تحریک انصاف ہذیانی انداز میں یہ دہائی دہراتی رہی کہ سیاست کا روپ دھارے "چور اور لٹیرے" اقتدار میں باریاں لے رہے ہیں۔ موروثی سیاست اور مبینہ طورپر کرپشن سے کمائی دولت کی وجہ سے منتخب اداروں میں پہنچ کر وی وی آئی پی بن جاتے ہیں۔ تحریک انصاف مذکورہ وی وی آئی پی کلچر کے خاتمے کے لئے جدوجہد میں مصروف ہے۔ اسے ایک ملک میں دو قانون نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی کے لئے امیر وغریب کی برابری درکار ہے۔ "قانون سب کے لئے" والے نعرے کی بنیاد پر2018ء کے انتخابات کے ذریعے قائم ہوئی قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر اپوزیشن کے ان اراکین کی اسمبلی اجلاسوں میں شرکت کے لئے پروڈکشن آرڈر جارہی کرنے سے انکار کرتے رہے جنہیں احتساب بیورو نے سنگین الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا۔ صحافیوں کی اکثریت بھی نہایت سخت الفاظ میں ان اراکین اسمبلی کے لئے "وی وی آئی پی" سہولیات کی مخالفت کرتی رہی جو سنگین مالی بدعنوانیوں کے الزامات کے تحت گرفتار ہوئے تھے۔

30 اپریل 2026ء کے روز خیبرپختونخواہ اسمبلی نے تاہم جو قانون پیش کیا ہے اس کے اطلاق کے بعد اب کسی رکن صوبائی اسمبلی کو سنگین فوجداری الزامات کے تحت گرفتار کرنے سے قبل بھی متعلقہ پولیس کو سپیکر صوبائی اسمبلی کی اجازت درکار ہوگی۔ اجازت دینے سے قبل سپیکر اگر ضروری سمجھے تو پولیس سے وہ ایف آئی آر یا چالان کی نقل کا تقاضہ کرسکتا ہے جس کی بنیاد پر رکن صوبائی اسمبلی کی گرفتاری مقصود ہے۔ اس مواد کا جائزہ لینے کے بعد ہی وہ پولیس کو رکن صوبائی اسمبلی کی گرفتاری کی "اجازت" دے گا۔ سپیکر گویا عدالت سے پہلے عدالت کا کردار ادا کرے گا اور یہ قانون محض دیگ کا صرف ایک دانہ ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.