سالانہ بجٹ کی آمد کے قریب پہنچتے ہوئے دونمبر صحافت کے ذریعے رزق کمانے کا عادی ہوا یہ قلم گھسیٹ بہت خوش تھا کہ کم از کم آئندہ دو ہفتوں تک اس کالم میں سیاپا فروشی کے ذریعے اپنی ہٹی پہ رونق لگائوں گا۔ گزشتہ مالیاتی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ اورنگزیب صاحب نے قومی خزانے میں ٹیکسوں کی بدولت جو رقم جمع کرنے کا ہدف دیا تھا ہمارے افسران جمع کرنے میں ناکام رہے۔ تاجروں، دوکانداروں اور صنعت کاروں سے گفتگو کرو تو وہ کسادبازاری کا رونا روتے ہوئے "ٹیکس کہاں سے دیں " کی دہائی مچاتے ہیں۔ ان کی دہائی پر نوجوانی میں سوشلزم کی نذر ہونے کی وجہ سے اعتبار نہ کرتا۔
گزری عید کی طویل چھٹیوں کے دورن مگر چھوٹے رقبوں کے چند مالکان سے گفتگو ہوئی۔ ان کے دعوے ذاتی مشاہدے کی وجہ سے قابل اعتماد ٹھہرانے کو مجبور ہوا۔ حسبِ روایت عید قربان سے قبل انہوں نے کچھ جانور خرید کردو سے تین ماہ کے خرچ کے ذریعے منڈی میں فروخت کے لئے پرکشش بنائے تھے۔ وہ مگر اپنا خرچ بھی پورا نہ کرپائے۔ منافع سے محرومی نے انہیں مزید پریشان کردیا۔
چھوٹے رقبوں کے مالکان کے علاوہ اسلام آباد کے محلوں سے متصل چند مارکیٹوں کی روزمرہّ ضرورت کی اشیاء فروخت کرنے والے جنرل سٹورز کے مالکان سے گفتگو ہوئی تو وہ بھی مندی کی شکایت کرتے پائے گئے۔ میرے گھر کے قریب واقع ایک مشہور بیکری کے قریب آج سے 6ماہ قبل تک پھول اور ان کے گلدستے فروخت کرنے والوں کے چھ ٹھیلے فٹ پاتھوں پر موجود ہوا کرتے تھے۔ دس دن قبل ایک دوست کی سالگرہ کے لئے وہاں گیا تو صرف ایک گل فروش نظر آیا۔ اس سے باقی ٹھیلوں کے غائب ہونے کی وجہ پوچھی تو برجستہ جواب ملا کہ "گاہک" نایاب ہوگئے ہیں۔ وہ بھی دوکان بڑھانے کا سوچ رہا ہے لیکن اور کوئی دھندا اسے سمجھ نہیں آرہا۔
میرے چھوٹے بھائیوں جیسے ایک دوست اسلام آباد کو چکوال سے ملانے والی سڑک کے ایک انٹرچینج کے قریب مشہور ریستوران کے مالک ہیں۔ ان کا کھانا بہت لذیذ ہے اور وہاں بیٹھنا ہمیشہ خوش گوار محسوس ہوتا ہے۔ نشست کے حصول کے لئے وہاں انتظار کرنا پڑتا تھا۔ چند روز قبل مگر انہوں نے اطلاع دی کہ ان کے ہاں روزانہ سیل محض 30فی صد رہ گئی ہے۔ ان کے بتائے اعدادوشمار کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں نے متعدد ریستورانوں کے مالکان سے گفتگو کی تو پتہ چلا کہ سوائے چند مشہور ریستورانوں کے اکثر ریستوان بہت مشکل سے اپنا خرچ پورا کررہے ہیں۔
فون کے ذریعے کھانا گھرڈیلیور کرانا بھی چند ریستوانوں کی رونق میں کمی لارہا ہے۔ خاص کھانے بنانے کے ہنر سے آگاہ افراد البتہ چھوٹی دوکانیں کرائے پر لے کر موٹرسائیکل والوں کے ذریعے گھروں میں ڈیلیوری کروانے سے خوش ہیں۔ چند خواتین نے اپنے گھروں کے کچن بھی اس مقصد کے لئے استعمال کرتے ہوئے سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے ڈھنگ سیکھ لئے ہیں۔ ان تمام تجربات کو ذہن میں رکھتے ہوئے امید باندھے ہوئے تھا کہ قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران وہاں ہوئی تقاریر کو "عوام دوستی" کے جذبات سے مغلوب ہوکر بخیے ادھیڑتے ہوئے کالم لکھتے ہوئے ڈنگ ٹپالیا کروں گا۔
منگل کی شام مگر امریکی صدر ٹرمپ نے جو چند ہی گھنٹے قبل تک "آئندہ دو یا تین دنوں میں " ایران کے ساتھ دیرپاامن کے معاہدے کی نوید سنارہے تھے سوشل میڈیا پر یہ خبردی کہ ایران نے اس کے آبنائے ہرمز کی نگرانی کرنے والے ایک جدید ترین ہیلی کاپٹر کو مارگرایا ہے۔ اس کی وجہ سے کوئی امریکی فوجی ہلاک تو نہیں ہوا مگر ایران کو سبق سکھایا جائے گا۔ سبق سکھانے کی بات سے مجھ جیسے سادہ لوح یہ سمجھے کہ ایران-امریکہ جنگ بندی ختم ہوکر اب فیصلہ کن معرکہ کی جانب بڑھے گی۔ عالمی امور کو اپنے علم اور تجربے کی بدولت مجھ سے کہیں بہتر جاننے والوں نے مگر نہایت اعتماد سے مجھ بے وقوف کو یہ سمجھایا کہ معاہدے کرنے سے قبل تھوڑی "ٹھوں ٹھاں " ضروری ہے تاکہ امریکہ اور ایران اپنے عوام کو صلح کی اہمیت کا احساس دلاسکیں۔ میں ان پر اعتبار کرتے ہوئے دیگر کئی پریشانیوں کے باوجود نیند کی گولی کھاکرسوگیا۔
درمیان میں آنکھ کھلی تو صحافتی علت میں مبتلا شخص فون چیک کرنے کو مجبور ہوا۔ وہاں امریکہ کی سنٹرل کمانڈ نے یہ اطلاع دی تھی کہ امریکی فضائیہ نے نیوی کے ساتھ مل کر ایران کی چند اہم فوجی تنصیبات کو تباہ کرتے ہوئے ہیلی کاپٹر کو مارگرانے کا بدلہ لے لیا ہے۔
اپنے ردعمل کو اس نے Response Proportionate کا نام دیا۔ غالباََ اس ترکیب کا ترجمہ "متناسب ردعمل" ہوسکتا ہے۔ میں اس ترجمے سے تاہم مطمئن نہیں ہوں۔ سادہ لفظوں میں یہ بتانے کو ترجیح دوں گا کہ تھپڑ کا جواب تھپڑہی سے دیا گیا ہے۔ گھونسے یالاتیں استعمال کرنے تک بات نہیں بڑھائی گئی۔ مناسب یا متناسب ردعمل کی اطلاع نے تاہم مجھے مطمئن نہیں کیا۔ انگریزی کا ایک محاورہ ہے جو بتاتا ہے کہ سپین کے مشہور رقص ٹینگو(Tango)کے لئے آپ کو دو افراد درکار ہوتے ہیں۔ جنگوں کے مگر حریف ہوتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ ایک فریق کی جانب سے "متناسب یا مناسب" قرار دیا "ردعمل" دوسرے فریق کو بھی ویسا ہی محسوس ہو۔ سینٹکام کی پریس ریلیز پر اعتبار کرتا تو امریکی ہیلی کاپٹر مارگرانے کے جواب میں اپنی سرزمین پر ہوئے حملوں کو ایران نظرانداز کرسکتاتھا۔ اس نے مگر ایسا نہیں کیا۔
صبح آنکھ کھلی تو علم ہوا کہ امریکی حملوں کے جواب میں بدھ کی صبح ایران نے بحرین، کویت اور اردن میں قائم امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں کے ذریعے تباہ کرنے کی کوشش کی۔ وہ حملے ناکام بنانے کا دعویٰ ہے۔ اس دعویٰ کے باوجود ایرانی وزیر خارجہ کا اصرار ہے کہ خلیج میں دیرپا امن فقط اسی صورت ممکن ہے اگر امریکہ یہاں کے تقریباََ ہر ملک میں واقع اپنے فوجی اڈے خالی کرکے دم دباکر وطن لوٹ جائے۔ بات "متناسب یا مناسب ردعمل" تک رک نہیں رہی۔ ایسے میں جنگ بندی برقرار رہتے ہوئے بھی مجھے دیرپاامن کی تلاش میں فوری مذاکرات کی گنجائش نظر نہیں آرہی۔ میرے منہ میں خاک اگر میرے خدشات درست ثابت ہوئے تو تیل کی قیمت ہم جیسے ملکوں کے لئے ناقابل برداشت ہی رہے گی اور اگلا بجٹ شاید اس مالیاتی سال کیلئے تیار ہوئے بجٹ سے زیادہ عذاب مسلط کرے گا۔