رواں صدی کے آغاز میں روس سے کینیڈا منتقل ہوئے آندرے میر نامی صحافی نے برسوں کی تحقیق کے بعد اخبار کی موت کا اعلان کردیا تو مجھے بہت دُکھ ہوا۔ 2024ئکے برس کو اس نے ا خبار کی موت کا سال ٹھہرایا تھا۔ میری خوش بختی کہ 2026ئکے جون میں صبح اٹھ کر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ آندرے مگر ڈھیٹ ہڈی کا حامل ہے۔ کئی قدیمی اخبارات اس کی پیش گوئی کے باوجود زندہ رہے۔ آندرے مگر اصرار کئے چلے جارہا ہے کہ ہم مابعدِ صحافت کے دور میں زندہ ہیں۔ حال ہی میں اس نے اگرچہ ایک اور مضمون کے ذریعے اعتراف کیا ہے کہ دنیا صحافت کی کمی محسوس کرنا شروع ہوگئی ہے۔
صحافت کو زندگی اور توانائی سے محروم کرنے میں انٹرنیٹ کے مختلف پلیٹ فارموں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس کے مختلف پلیٹ فارم موبائل فون کے ہر مالک کو نام نہاد شہری صحافت (Citizen Journalism) کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ خبروں سے زیادہ مگر شہری مختلف امور پر اپنی رائے پوسٹ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے لکھے پیغامات یا سوشل میڈیا پر لگائی تصاویریا ویڈیو زیادہ سے زیادہ لائیکس اور شیئرز حاصل کرنا شروع ہوجائیں تو وہ اس گماں میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ عوام کی بے پناہ اکثریت بھی ان ہی کی طرح سوچتی ہے۔ ہر انسان مگر یکساں سوچ کا حامل نہیں ہوتا۔
آپ کی سوچ کے خلاف رائے کے حامل افراد بھی جب اپنے خیالات سوشل میڈیا پر پوسٹ کریں تو انہیں بھی ان جیسی سوچ کے حامل افراد کی جانب سے حوصلہ افزائلائیکس اور شیئرز مل جاتے ہیں۔ بتدریج لوگ اپنی جیسی سوچ کے حامل افراد کے حلقے ہی میں محدود ہوکر رہ جاتے ہیں اور اپنے سے مختلف رائے رکھنے والوں کے ساتھ مکالمے کی گنجائش محدود سے محدود تر ہوجاتی ہے۔ مکالمے کی گنجائش کا خاتمہ لوگوں کو گروہوں میں بانٹتے ہوئے بالآخر ایک دوسرے سے نفرت کو اُکساتا ہے۔ بے تحاشہ کتابوں اور تحقیقی مضامین نے ٹھوس اعدادوشمار کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں خونخوار فسادات کی وجہ سوشل میڈیا کی بدولت گروہوں میں تقسیم ہوئے افراد کے مابین ناقابل برداشت ہوئی منافرت تھی۔
سوشل میڈیا کی بدولت پھیلائی نفرت لیکن آج کے کالم کا موضوع نہیں۔ عمر تمام صحافت نامی ہنر کی نذر کردینے کے بعد مجھے صحافت کی موت گزشتہ کئی مہینوں سے مسلسل پریشان کئے ہوئے ہے۔ عمر کے آخری حصے میں اوائل عمری سے بہت چا کے ساتھ صحافی بننے کے بارے میں شرمسار محسوس کررہا ہوں۔ شرمساری سے زیادہ یہ خوف بھی لاحق ہے کہ صحافت واقعتا مرگئی تو میں گھر کا خرچ کیسے چلاں گا۔
صحافت کی موت کا اندازہ لگانا ہو تو اتوار کی رات میرے ساتھ ہوئی واردات دل تھام کر سن لیں۔ اپنے ایک عزیز از جان دوست کے ساتھ اس کے گھر کے لان میں بیٹھا ٹھنڈی ہوا کی تھپکیوں سے ذہن کو سکون دے رہا تھا۔ میرے دوست نے بھی عمر تمام صحافت کی نذر کی ہے۔ میری طرح عملی صحافت سے جزوی طورپر ریٹائر بھی نہیں ہوا۔ ایک طاقتور نشریاتی ادارے میں اہم عہدے پر فائز ہے اور نوجوان صحافیوں کی رہ نمائی کا فریضہ بھی سرانجام دے رہا ہے۔
اتوار کے روز گلگت-بلتستان کی صوبائی اسمبلی کے انتخاب ہونا تھے۔ پیر کی صبح چھپے کالم میں دیانتداری سے اعتراف کرچکا ہوں کہ آبنائے ہرمز کے بارے میں گزشتہ کئی ہفتوں سے روزانہ کی بنیاد پر کالم لکھنے والے مجھ عقل کل ہوئے صحافی کو یہ علم بھی نہیں تھا کہ گلگت-بلتستان کی صوبائی اسمبلی کے کتنی نشستوں پر براہ راست انتخاب ہونا ہیں۔ گلگت -بلتستان کی دفاعی اور تجارتی اہمیت سے کامل آگاہی کے باوجود وہاں کے انتخابی عمل سے میری بیگانگی باعث شرم تھی۔ بنیادی وجہ اس کی یہ تاثر ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے ہمارے عوام کی رائے حکومتیں بنانے اور ختم کرنے کے حوالے سے حتمی کردار کی حامل نہیں ہوتی۔ جاہل رعایا کو سیدھی راہ پر چلانے کو سرکار مائی باپ یہ طے کرتی ہے کہ کسے منتخب کہلاتے عہدوں پر بٹھانا ہے۔ انہیں وہاں بٹھانے سے قبل تاہم انتخاب کی رسم رچائی جاتی ہے۔
غلط یا صحیح بنیادوں پر پھیلی یہ سوچ کہ انتخاب محض ایک رسم ہیں گلگت-بلتستان کے حوالے سے بھی یہ تاثر پھیلانے کا سبب ہوئی کہ اگر بلاول بھٹو زرداری وفاق اور صوبوں کے مابین ایک نئے نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ تیار کرتے ہوئے کچھ لچک دکھانے کو آمادہ ہوجائیں تو سندھ اور بلوچستان کے بعد گلگت-بلتستان کی حکومت بھی ان کے حوالے کی جاسکتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے لچک دکھانے سے انکار کیا تو مسلم لیگ نون، تحریک انصاف سے جدا ہوکر ابھری استحکام پارٹی کی معاونت سے مخلوط حکومت کا قیام عمل میں لائے گی۔ انتخابی حرکیات وحقائق پر توجہ مرکوز رکھنے کے بجائے ہم روایتی صحافیوں کی بے پناہ اکثریت مندرجہ بالا سازشی تھیوری پر سعادت مندی سے اعتبار کرتی رہی۔
جھکی طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہوکر میں نے چند دوستوں کو یاد دلانا چاہا کہ بلاول بھٹو زرداری اپنی ہمشیرہ آصفہ بھٹو زرداری کے ہمراہ گلگت-بلتستان میں براجمان ہوئے جارحانہ انتخابی مہم چلارہے ہیں۔ ان کے برعکس مسلم لیگ نون کے قائد نوازشریف فقط ایک روز کے لئے وہاں گئے۔ ایک جلسے سے خطاب کیا۔ وہاں بھی مجھے کیوں نکالا کا سوال اٹھایا اور بیرون ملک روانہ ہوگئے۔ ان کی عدم موجودگی میں خواجہ سعد رفیق اور خرم دستگیر خان نے مسلم لیگ (نون) کی انتخابی مہم چلائی۔ استحکام پاکستان پارٹی کی انتخابی مہم مجھے روایتی میڈیا میں کہیں نظر نہ آئی۔
تحریک انصاف کے قائد بیرسٹرگوہر گلگت-بلتستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ ان کی جماعت سے وابستہ کئی افراد کو وہاں جانے کا این او سی نہ مل پایا۔ تمام تر کاوشوں کے باوجود میں تحریک انصاف سے رابطے میں رہنے والے صحافی دوستوں سے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں اور ان کے انتخابی نشان کی فہرست حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ یہ کالم لکھنے تک وہ فہرست میسر نہ ہوئی۔ روایتی میڈیا میں پیپلز پارٹی کی جارحانہ مہم کا مشاہدہ کرتے ہوئے میں نے چند دوستوں کو بتایا کہ پیپلز پارٹی گلگت-بلتستان کی واحد اکثریتی جماعت کی حیثیت اختیار کرسکتی ہے۔ ان کی اکثریت نے میری رائے کو مگر دیرینہ جیالے کی سوچ ٹھہراتے ہوئے نظرانداز کردیا۔ سازشی تھیوری ہی پرٹکے رہے۔
صحافت کی موت کا مزید احساس اتوار کے دن اپنے موبائل پر وقتاََ وفوقتاََ نگاہ ڈالنے کی وجہ سے بھی ہوا۔ وہاں ہر جماعت کا حامی دیگر جماعتوں کے انتخابی کیمپ ویران دکھارہا تھا۔ سوشل میڈیا پر چھائی سوچ یہ تاثردیتی رہی کہ ووٹروں کی بھاری بھر کم تعداد 8فروری2024ء کی طرح تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کو کامیاب کروانے کے ارادے سے گھروں سے باہر نکل آئی ہے۔ بھاری ٹرن آٹ سے گھبرا کر کئی پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی عمل روک دیا گیا ہے۔ نام نہاد فارم 47کے استعمال سے سرکار مائی باپ اپنی پسند کے امیدواروں کی جیت کا اعلان کرنے والی ہے۔ پیپلز پارٹی کے حامی تاہم اپنی جیت کا دعویٰ کرتے رہے اور مسلم لیگ (نون) کے سوشل میڈیا انفلوئنسرز ہر طرف شیر کی داستان پھیلانے میں مصروف۔
عمر تمام صحافت کی نذر کردینے کے باوجود اسلام آباد کے ایک لان میں بیٹھ کر خود کو ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے مطمئن رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے ہم دوصحافی دوست رات دس بجے کے بعد جس متحرک رپورٹر سے بھی رابطہ کرتے وہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (نون) اور آزاد امیدواروں میں سات سات نشستیں بانٹنے کی کہانی سناتا رہا۔ دریں اثنائسوشل میڈیا پر نگاہ ڈالی تو پیپلز پارٹی کی شازیہ مری صاحبہ نہایت جارحانہ انداز میں یہ شکوہ کرتی سنائی دیں کہ انتخابی نتائج کے اعلان میں دانستہ تاخیر اختیار کی جارہی ہے۔ اشاروں کنایوں میں وہ بھی فارم 45اور 47کا ورد کررہی تھیں۔
انٹرنیٹ کی بدولت اطلاعات کے مبینہ سیلاب کے باوجود ہم سینئر صحافی رات ساڑھے دس بجے تک گلگت-بلتستان کے انتخابی نتائج نہ جان پائے اور پھر ہم دونوں کی توجہ اسرائیل اور ایران کے مابین بڑھتی چپقلش کی جانب مبذول ہوگئی۔ نتائج کا علم پیر کی صبح اخبارات پڑھ کر ہوا اور اخبارات جو نتائج رپورٹ کررہے تھے وہ انتخابی حرکیات وحقائق کے ایماندارانہ ترجمان تھے۔ اخبار کی موت کا اعلان لہٰذامیں کر نہیں سکتا۔ معروضی حقائق جاننے کے لئے بالآخر خلقِ خدا کو روایتی صحافت ہی سے رجوع کرنا ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ حقیقی صحافت کے احیاء سے قبل میں اس دنیا میں شاید موجود نہ ہوں۔