Thursday, 09 July 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Syed Badar Saeed
  4. Berozgar Hain To Shukr Ada Karen

Berozgar Hain To Shukr Ada Karen

ہم تاریخ کے ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں وقت کی رفتار بدل چکی ہے۔ صنعتی انقلاب کے بعد یہ انسانی تاریخ کی دوسری بڑی تبدیلی ہے جس کا مرکز مشین نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی محض ایک نیا آلہ نہیں بلکہ ایک ایسا جادوئی چراغ ہے جس نے دنیا بھر کے ہر شعبے کے دروازے کھول دیے ہیں۔

پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ دور کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ وطن عزیز کی آبادی میں نوجوانوں کی تعداد انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور یہ انقلاب نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ ہم نے دہائیوں تک نوکریوں کے حصول کے لیے سڑکوں پر وقت ضائع کیا مگر اب وہ وقت آگیا ہے کہ دنیا بھر کے مواقع آپ کے لیپ ٹاپ کی سکرین پر سمٹ آئیں لیکن شرط یہ ہے کہ آپ اس ڈیجیٹل انقلاب کی لہر کو پہچان سکیں۔ آج کے اس ڈیجیٹل دور میں دنیا کی جغرافیائی سرحدیں ختم ہو چکی ہیں۔

ڈیجیٹل ورلڈ میں کام کرنے کے لیے کسی روایتی پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ اب ایک پاکستانی نوجوان اپنے کمرے میں بیٹھ کر جو آرٹ، کوڈنگ یا مواد تخلیق کرتا ہے وہ اسی وقت نیویارک یا لندن کی مارکیٹ میں فروخت ہو سکتا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت نے ہمیں یہ قوت دی ہے کہ ہم اکیلے ہونے کے باوجود ایک پوری ٹیم کے برابر کام کر سکیں۔ پاکستانی نوجوانوں کے لیے اس وقت سب سے بڑا موقع اپنی مقامی مہارتوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑنے میں ہے کیونکہ ہمارے پاس اردو ادب، اپنی دستکاریاں اور ثقافت کا ایک ایسا خزانہ موجود ہے جسے عالمی ڈیجیٹل دنیا میں ابھی بھی تلاش کیا جا رہا ہے۔

اس نئے افق کو سر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے آئی کیو کے ساتھ اپنا اے آئی کیو بڑھائیں یعنی صرف روایتی ڈگری پر انحصار کرنے کے بجائے یہ سیکھیں کہ آپ کا موجودہ ہنر اے آئی کے ساتھ کیسے بہتر ہو سکتا ہے۔ مثلاََ ڈاکٹر طبی اعداد و شمار کے تجزیے میں یا ایک صحافی ڈیجیٹل ویریفیکیشن اور پرامپٹ انجینئرنگ میں مہارت حاصل کرے تو دوسروں سے نمایاں ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اپنی مادری زبان پر گرفت برقرار رکھتے ہوئے انگریزی کو بھی اپنائیں کیونکہ عالمی مارکیٹ اب وہی مواد دیکھنا چاہتی ہے جو مستند ہو اور جس میں مقامی رویہ شامل ہو۔

اپنی صلاحیتوں میں تنوع لائیں یعنی ویڈیو ایڈیٹنگ کے ساتھ کہانی نویسی سیکھیں یا مارکیٹنگ کے ساتھ ڈیٹا انالیسز کا علم حاصل کریں کیونکہ آپ جتنے زیادہ ورسٹائل ہوں گے اے آئی کی مدد سے اتنی ہی بڑی ڈیجیٹل سلطنت کھڑی کر سکیں گے۔ نوجوانوں کو خاص طور ہر چاہیے کہ روایتی انداز میں پاکستان میں درپیش وسائل کی کمی یا بجلی اور انٹرنیٹ کے بحرانوں کا رونا رونے کے بجائے ان کے حل تلاش کرنے والی "پرابلم سالونگ" سوچ اپنائیں کیونکہ دنیا کو ایسے ہی ذہنوں کی ضرورت ہے جو محدود وسائل میں بڑا کام کر سکیں۔

مایوسی اس دور میں سب سے بڑا گناہ ہے لہذا خود پر یقین رکھیں کہ دنیا کی بڑی کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانی نوجوانوں نے بھی کہیں نہ کہیں سے شروعات کی تھی۔ یاد رکھیں کہ آپ کا لیپ ٹاپ ہی آپ کی یونیورسٹی بھی ہے اور آپ کا دفتر بھی۔ یہ وہ دنیا ہے جہاں آپ سو رہے ہوں تب بھی آپ کا بنایا ہوا ڈیجیٹل پروڈکٹ دنیا کے کسی دوسرے کونے میں آپ کے لیے آمدنی پیدا کر سکتا ہے۔ اپنی صلاحیتوں پر شک کرنا چھوڑ دیں کیونکہ ذہانت کا تعلق کسی خاص خطے سے نہیں بلکہ اس جستجو سے ہے جو آپ کے اندر پل رہی ہے۔ اگر آپ آج روزانہ صرف ایک گھنٹہ نئی ٹیکنالوجی سیکھنے پر لگائیں تو ایک سال بعد آپ کا موازنہ ان لوگوں سے ہوگا جو آج آپ سے کئی قدم آگے ہیں۔ یہ کوئی عام دوڑ نہیں بلکہ خود کو دریافت کرنے کا ایک سفر ہے جہاں آنے والا کل صرف ان کا ہے جو سیکھنے کے لیے تیار ہیں۔

پاکستان کا مستقبل، ہمارے میڈیا کا مستقبل اور ہماری معیشت کا مستقبل اسی ڈیجیٹل انقلاب میں پوشیدہ ہے۔ اس لیے اپنی آنکھوں سے وہ پٹی ہٹا دیں جو آپ کو صرف پرانے طریقوں پر چلنے پر مجبور کرتی ہے۔ نئی دنیا کے اصول بالکل مختلف ہیں جہاں ڈگریاں نہیں بلکہ آپ کا ہنر اور مہارت بولتی ہے۔ اٹھیں اور پورے اعتماد سے اس ڈیجیٹل سمندر میں غوطہ لگائیں کیونکہ دنیا آپ کی صلاحیتوں کی منتظر ہے اور آپ کامیابی سے صرف ایک کلک کی دوری پر ہیں۔ اے آئی کا یہ سفر آسان نہیں مگر اس کی منزل یقیناََ شاندار ہے۔ اس لیے اپنی ذات پر پختہ یقین رکھیں اور یاد رکھیں کہ جو رک گیا وہ تھم گیا اور جو چل پڑا وہی منزل تک پہنچا کیونکہ یہی وقت بدلنے کا ہے اور یہی وقت ثابت کرنے کا ہے کہ پاکستانی کسی سے کم نہیں۔

آج اگر آپ نے روزگار ہیں یا آپ کی آمدنی کم ہے تو اللہ کا شکر ادا کریں کیونکہ ممکن ہے آپ کے لیے یہی وہ دور ہو جہاں سے انسان ایک نیا سفر شروع کرتا ہے اور پھر بلندیوں پر پہنچ جاتا ہے۔ اکثر کامیاب افراد کی کامیابی کا سفر تبھی شروع ہوا جب وہ مکمل ناکام ہو چکے تھے۔ اپنی زندگی کے 6 ماہ ان سکلز پر فوکس کر دیں میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ 6 ماہ کی مکمل توجہ اور محنت آپ کو اس فہرست میں لا کھڑا کرے گی جہاں ڈالرز کمانے والے نوجوان کھڑے ہیں۔