Thursday, 25 June 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Modi Sarkar Ki Musalman Aur Pakistan Dushmani Ki Bharkai Aag

Modi Sarkar Ki Musalman Aur Pakistan Dushmani Ki Bharkai Aag

لوگ کیا پڑھنا، دیکھنا اور سننا چاہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب دورِ حاضر میں چند گھنٹوں کی تحقیق کے بعد بآسانی ڈھونڈا جاسکتا ہے اور اس کے لئے آپ کو کسی لیبارٹری یا لائبریری میں جانے کی ضرورت نہیں۔ اپنے گھر ہی کے کسی گوشے میں تنہا بیٹھ کر موبائل فون کھولیے۔ اسے کھولنے کے بعد سوشل میڈیا کے ان پلیٹ فارم پر چلے جائیں جہاں پوسٹ ہوئی تصاویر، مضامین یا ویڈیوز کو شیئر یا لائک کرنے کے آپشن موجود ہوتے ہیں۔ چند ہی گھنٹوں میں کچھ عنوانات کے ذکرکے بعد سرچ کا بٹن دبائیں اور سمجھ آجائے گی کہ سوشل میڈیا پر کیا بک رہا ہے۔

ہفتے کے پانچ دن ہر صبح نوائے وقت میں یہ کالم چھپتے ہی اسے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم کے لئے بنائے ذاتی اکائونٹس پر پوسٹ کردیتا ہوں۔ علاوہ ازیں نوائے وقت کی ویب سائٹس پر چھپے کالم کو بھی ری پوسٹ کرنے کی عادت ہے۔ گزشتہ دو مہینوں سے جب بھی فرصت ملی تو اپنے ہی نہیں دیگر دوستوں کے مختلف اخبارات کے لئے لکھے کالموں پر لوگوں کے تبصروں سے زیادہ یہ جاننے کی کوشش کررہا ہوں کہ کس موضوع پر لکھے کس دوست کے کونسے کالم کو شیئرز اورلا ئیکس کے حوالے سے زیادہ پذیریائی میسر ہوئی۔

مقصد اس مشق کا لاشعوری طورپر ایسے موضوعات تلاش کرنا ہوسکتا ہے جن پر لکھا جائے تو قارئین کی کثیر تعداد اسے توجہ سے پڑھے گی۔ شعوری طورپر لیکن میرا یہ مقصد نہیں تھا۔ عمر کے اس حصے میں پہنچ چکا ہوں جہاں ستائش کی تمنا نہیں رہی۔ عوامی پذیرائی سے زیادہ دیانتداری سے یہ چاہتا ہوں کہ عمر تمام صحافت کی نذر کرینے کی بدولت جمع ہوئے تجربات ومشاہدات قلم بند کردوں۔ اسے پڑھ کر ہاتھ کی انگلیوں کے برابر چند افراد بھی کچھ ٹھوس سبق یا نتائج ا خذ کرکے آئندہ نسلوں کو منتقل کرنا چاہیں تو جی کو تسلی ہوجائے گی۔

اتفاق یہ بھی ہوا کہ کل وقتی صحافت بہت چائو سے اختیار کرنے کے چند ہی برس بعد مجھے 1984ء میں پہلی بار بھارت جانے کا موقع ملا۔ تعلق میرا لاہور سے ہے۔ ہوش سنبھالتے ہی بزرگوں اور اہل محلہ سے 1947ء کے فسادات کی داستانیں سننا شروع ہوگیا تھا۔ پانچویں جماعت کا طالب علم تھا تو 6ستمبر1965ء کی صبح ایک زور داردھماکے کی آواز نے بوکھلادیا۔ معلوم ہوا کہ بھارت نے میرے شہر پر حملہ کردیا ہے۔ ہمارے محلے کے کئی نوجوان گھروں سے نکل کر "جنگ دیکھنے" واہگہ کی طرف پیدل روانہ ہوگئے۔ میں ایک ٹولی کے ہمراہ ہوگیا۔ ریلوے سٹیشن کے قریب پہنچا تو یاد آیا کہ میری ماں نے مجھے لال حلوائی سے پوریاں اور چنے لینے بھیجا تھا۔ وہ پریشان ہوکر مجھے ڈھونڈ رہی ہوں گی۔ ان کی محبت میں تیز چلتے ہوئے حلوائی کی دوکان پر لوٹا تو اس نے بتایا کہ میری ماں مجھے ڈھونڈ رہی ہیں۔ یوریاں چھوڑ کر گھر چلا گیا۔ باپ کی ڈانٹ سہی اور پریشان ماں نے گلے لگاکر تسلی دی۔

میٹرک ختم کرنے کے بعد کالج داخلے سے قبل منٹو کے افسانے پڑھے۔ ان کی تحریروں میں 1947ء کے فسادات اور بمبئی کا بھرپور ذکر ہے۔ کالج داخل ہوتے ہی 1970ء کے انتخابات دیکھے۔ ان کے انجام پر ہوئی پاک-بھارت جنگ اور اس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کا قیام ذاتی تجربات کی بدولت بھارت لہٰذا میری دانست میں دشمن ملک تھا۔

اتفاق یہ بھی ہوا کہ 1984ء میں میرے بھارت روانہ ہونے سے قبل اندراگاندھی اپنے سکھ محافظوں کے ہاتھ قتل کردی گئی تھیں۔ اس کے نتیجے میں دلی کے علاوہ شمالی بھارت کے کئی شہروں میں خوفناک سکھ دشمن خونی فسادات ہوئے۔ بھارتی میڈیا اپنی سرکار کے ایماء￿ پر دہائی مچاتا رہا کہ سکھ علیحدگی پسند تحریک کو پاکستان بھڑکارہا ہے۔ اندراگاندھی کے قتل سے چند ماہ قبل اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے نے صحافیوں کی ایک ورکشاپ کے لئے اسلام آباد کے روزنامہ دی مسلم سے ایک نمائندہ بھیجنے کی درخواست کی تھی۔ مشاہد حسین سید دی مسلم کے مدیر ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے مجھے اس ورکشاپ کے لئے نامزد کردیا۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے نے اسے منظور کرلینے کے بعد مجھے ایک سرکاری چٹھی بھجوائی۔ وہ درحقیقت اس خط کی نقل تھی جو مذکورہ ادارے نے اسلام آباد میں قائم بھارتی سفارتخانے کو مجھے ویزا دینے کی درخواست کرنے کو لکھی تھی۔

مذکورہ چٹھی سمیت میں نے اپنا پاسپورٹ بھارتی سفارتخانے میں ویزہ کے حصول کے لئے جمع کروادیا۔ سفارتخانہ مگر لیت ولعل سے کام لیتا رہا۔ غیر سرکاری طورپر ایک بھارتی سفارتکار نے اسلام آباد میں کسی اور ملک کے سفارتخانے کی جانب سے منعقد ہوئی تقریب میں آگاہ کیا کہ پاکستانی صحافی کوان دنوں بھارت میں ہر جگہ مشکوک نگاہوں سے دیکھا جائے گا۔ عوامی جذبات بھی دلی میں بہت بھڑکے ہوئے ہیں۔ میری سلامتی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ ویزہ کے حصول کو لیکن میں ڈٹا رہا اور اس کا حصول یقینی بنانے کے لئے اقوام متحدہ کے ذیلی ا دارے کو ایک احتجاجی مراسلہ بھی لکھ دیا۔

مجھے خبر نہیں کہ احتجاجی چٹھی کی بدولت یا کسی اور وجہ سے بآلاخر بھارتی سفارتخانے کے ویزہ افسر نے مجھے اپنے دفتر بلالیا۔ پولیس افسروں کی طرح نہایت مہارت سے میرے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے ہر سوال کا میں نے برجستہ اور سچا جواب دیا۔ وہ اس امر پر بہت حیران تھا کہ میں نے دلی کے علاوہ کلکتہ شہر کے لئے بھی ویزا کی درخواست کررکھی ہے۔ آبائی تعلق لاہور سے بتانے والے صحافی کی کلکتہ میں دلچسپی اس کی سمجھ سے بالاتر تھی۔ میری برجستگی نے مگر اسے قائل کردیا کہ فقط مشہور فلم ساز وہدایت کار ستیہ جیت رائے کی وجہ سے میں کلکتہ جانا چاہ رہا ہوں۔

کئی بار اس کالم میں ذکر کیا ہے کہ دہلی پہنچنے کے بعد اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کی جانب سے ہوئی ورکشاپ ختم ہونے کے فوراََ میں میں نے تھرڈ کلاس کا ٹکٹ لے کر دلی سے کلکتہ کا سفر کیا۔ اس سفر کی بدولت دریافت کیا کہ بھارتی عوام کی اکثریت اندرا کے بیٹے راجیوگاندھی کو وزیر اعظم منتخب کرنا چاہ رہی ہے۔ کلکتہ میں 6روز قیام کا ایک ایک لمحہ مجھے آج بھی نہیں بھولا۔

کلکتہ سے جڑی یادوں کی وجہ سے میں نے حال ہی میں بھارتی بنگال میں ہوئے انتخابات پر گہری توجہ مرکوز رکھی۔ ہندوتوا کے انتہا پسند کم از کم ایک دہائی سے مغربی بنگال پر قبضے کو بے چین تھے۔ ممتا بنیرجی مگر ان کے تمام حربے ناکام بناتی رہی۔ اب کی بار مگر بچ نہیں پائی۔ تاریخ میں پہلی بار بھارتی بنگال پر ہندوتوا انتہا پسندی کا غلبہ قائم ہوگیا ہے۔ اس غلبے کو یقینی بنانے کے لئے گزشتہ کئی برس سے یہ کہانی پھیلائی گئی ہے کہ "مسلم دہشت گرد" بنگالی مسلمانوں کو "جہاد" کی تربیت دے کر بھارتی بنگال اور آسام بھجوادیتے ہیں۔ مبینہ "دخل اندازی" کا حتمی ہدف بھارتی بنگال کو ایسے خطے میں بدلنا ہے جو مسلسل عدم استحکام کی زد میں ہو۔ شاید مجھے یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان کو مبینہ دخل اندازی کا حتمی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

بھارتی بنگال میں مسلم اور پاکستان دشمنی کی جو آگ بھڑکائی جاری ہے اس کا ذکر اس کالم میں کئی بار تفصیل سے بیان کیا ہے۔ مجھے گماں تھا کہ بھارتی بنگال میں ہندوتوا کی مذموم انداز میں چلائی مسلم اور پاکستان دشمن مہم پر جو کالم لکھ رہا ہوں اسے قارئین کی کثیر تعداد حیرت و توجہ سے پڑھے گی۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارموں پر بھارتی بنگال کے بارے میں لکھے کالموں کے شیئرز اور لائیکس پر توجہ دی تو علم یہ ہوا کہ قارئین کی محدود تعداد نے انہیں پڑھنے کے لائق گردانا۔ نہایت دیانتداری سے تسلیم کرتا ہوں کہ میری بے ہنری اس کا کلیدی سبب ہوسکتی ہے۔ سوشل میڈیا پر دی توجہ کی بدولت مگر دریافت یہ بھی کیا ہے کہ میرے علاوہ دیگر دوستوں کی بھارتی بنگال کے حقائق کے بارے میں لکھی تحریروں کو بھی عموماََ نظرانداز کردیا جاتا ہے۔

ٹھوس اعدادوشمار کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرنے کے باوجود مگر میں بھارتی بنگال کے بارے میں تسلسل سے لکھنا چاہتا ہوں۔ اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر خوف لاحق ہے کہ مودی سرکار مسلمان اور پاکستان دشمنی کی جو آگ بھڑکارہی ہے وہ فقط بھارتی بنگال تک ہی محدود نہیں رہے گی۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.