گزرے ہفتے کی صبح انگریزی کے ایک اخبار کے صفحہ اوّل پر دو خبریں ایک دوسرے کے ساتھ چھپی ہوئی تھیں۔ پہلی خبر نے ہمارے دل مطمئن کرنے کے لئے اطلاع دی کہ آئی ایم ایف کے بورڈ آف گورنر نے پاکستان کیلئے ایک ارب 20کروڑ ڈالر کی قسط جاری کردی ہے۔ یہ قسط تین سال تک پھیلے اس معاہدے کا حصہ ہے جس کے ذریعے عالمی معیشت کا نگہبان ادارہ پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچارہا ہے۔ جاں بلب معیشت کے بچائو کے لئے دوا میسر ہوجانے کی خبر دینے کے ساتھ ہی مگر پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی تفصیلات بھی نمایاں انداز میں چسپاں کردی گئیں۔
مذکورہ بالا خبروں کا ایک دوسرے کیساتھ چھپنا محض اتفاق نہیں تھا۔ یہ نیوز ایڈیٹر کی ذہانت کا قابلِ ستائش اظہار تھا۔ آئی ا یم ایف سے ملی قسط اور پٹرول کی قیمت میں اضافے کی خبروں کو اخبار کے صفحہ اوّل پر ایک دوسرے کا ہمسایہ بناتے ہوئے اس نے اپنی جانب سے ایک لفظ لکھے بغیر معیشت کی مبادیات کے بارے میں مجھ جیسے نابلد افراد کو بھی سمجھادیا کہ جس قسط کا اعلان ہوا ہے اس کے اجراء کے لئے لازمی تھا کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان ہو۔
عمران حکومت کو اپریل 2022ء میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گھر بھیجنے کے بعد سے سرکار مائی باپ ہم رعایا کو مسلسل سمجھارہی تھی کہ عالمی منڈی سے مہنگے داموں پٹرول خرید کر اسے قومی خزانے سے فراہم کردہ زرِ تعاون (Subsidy)کے ذریعے عوام کے لئے قابل خرید رکھنا معاشی اصولوں کی احمقانہ خلاف ورزی ہے۔ ایسی حماقتیں ریاستِ پاکستان کو دیوالیہ کی جانب دھکیل چکی ہیں۔ ملکی معیشت بچانا ہے تو پٹرول پمپ پر ہر پاکستانی صارف کو بلااستثناء ان ہی داموں پٹرول اور ڈیزل خریدنا ہوگا جو عالمی منڈی میں طے ہوتے ہیں۔ وطن عزیز کو دیوالیہ سے بچانے کی خاطر ہم اپنے گھروں پر مہنگائی کے تازیانے برداشت کرنا شروع ہوگئے۔ خود کو اس کا عادی بنالیا تو تین ماہ قبل امریکہ اور اسرائیل نے باہم مل کر ایران پر حملہ کردیا۔ اس کے نتیجے میں تیل عالمی منڈی میں تقریباَ نایاب ہونا شروع ہوگیا۔ پٹرول کی قیمت مزید ناقابلِ برداشت ہوگئی۔
جمعہ کی شام مگر پٹرول کی قیمتوں میں جس اضافے کا اعلان ہوا ہے وہ عالمی منڈی میں خام تیل کی موجودہ قیمتوں کا دیانتدارانہ عکاس نہیں۔ آبنائے ہرمز کی راہداری جنگ بندی کے باوجود تیل کی تجارت کے لئے ابھی تک محفوظ نہیں۔ عالمی منڈی میں لیکن تیل کی قیمت میں اضافے کے بجائے کمی کا رحجان ہے۔ مذکورہ رحجان کو نگاہ میں رکھتے ہوئے امید تھی کہ حکومت ہمارے پٹرول پمپوں پر بکنے والے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو برقرار رکھے گی۔ قیمتوں کو برقرار رکھنے کے بجائے ان میں یکمشت 15روپے اضافے کا اعلان کردیا گیا۔
محض سرکاری اعلان کے ذریعے عوام کو بدخبری سنا دینے کے کئی گھنٹے گزرجانے کے بعد جواں سال وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک ہفتے کی شام اپنے سینئر اور تجربہ کار وزیر خزانہ کے ہمراہ ٹی وی سکرینوں پر نمودار ہوئے۔ محمد اورنگزیب صاحب نے سپاٹ چہرے کے ساتھ محض چند لفاظ ادا کرنے کی زحمت اٹھائی۔ اپنی کمر کرسی پر ٹکائے نوجوان وزیر کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کے ہذیانی دفاع کا ممتحن کی نگاہ سے جائزہ لیتے رہے۔ وزیر خزانہ اور وزیر پٹرولیم کا کیمروں کے روبرو ایک ساتھ نمودار ہونا "کرے کوئی اور بھرے کوئی" کی عملی مثال تھا۔
وطن عزیز کو دیوالیہ سے بچانے کے لئے آئی ایم ایف سے جو معاہدہ ہوا ہے اس کی ایک ایک شق بینکاری کا طویل تجربہ رکھنے والے محمد اورنگزیب صاحب نے آئی ایم ایف کے ساتھ طے کی ہے۔ علی پرویز ملک آئی ایم ایف کے ساتھ ہوئے مذاکرات کے دوران شاید وفاقی کابینہ کا حصہ بھی نہیں تھے۔ آئی ایم ایف سے ہوئے معاہدے کے نتیجے میں لئے حکومتی فیصلوں سے عوام میں جو بے چینی اور اضطراب ابھرتے ہیں ان کا سامنا کرنے کے لئے مگرجواں سال علی پرویز ملک کو کیمرے کے سامنے بٹھادیا جاتا ہے۔
گزرے جمعہ کی رات ختم ہونے سے قبل پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں جس اضافے کا اعلان ہوا ہے اس کا دفاع علم معاشیات کا باواآدم -ایڈم سمتھ- بھی قبر سے اٹھ کر فراہم نہیں کرسکتا۔ معاشی مبادیات اصرار کرتی ہیں کہ اجناس کی قیمتوں کا تعین طلب اور رسد کی تقابل حرکیات کی بدولت ہوتا ہے۔ فی لیٹر پٹرول کی مگر جو قیمت ہم ادا کرتے ہیں اس کا تقریباََ 50فی صد تیل بیچنے والے کو نہیں حکومتِ پاکستان کے خزانے میں ٹیکس یا لیوی کی صورت چلاجاتا ہے۔ پٹرول کا ہر صارف خواہ امیر ہو یا غریب موٹرسائیکل یا گاڑی چلاتے ہوئے ماحول خراب کرنے اور فضائی آلودگی کا مجرم شمار ہوتا ہے۔ فضائی آلودگی کے "جرم" کا جرمانہ پٹرولیم لیوی ہے۔
تلخ ترین حقیقت مگر یہ ہے کہ پاکستان کے 25 کروڑ عوام عالمی سطح پر پھیلی فضائی آلودگی میں بمشکل ایک فی صد اضافے کے مجرم ہیں۔ بحیثیت قوم ہم بلکہ امیر وخوشحال ممالک کی جانب سے سرزد ہوئی فضائی آلودگی کی بھاری قیمت ادا کرتے ہیں۔ ہمارے دریائوں کو رواں رکھنے والے گلیشیر ترقی یافتہ صنعتی ممالک کے پیداواری نظام اور طرزِ زندگی کی وجہ سے تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دریا خشک ہونے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ دنیا میں انصاف نام کی کوئی شے ہوتو پاکستان فضائی آلودگی کے ذمہ دار ممالک سے "جرمانہ" وصول کرنے کا حقدار ہے۔
"فضائی آلودگی" پاکستان میں پٹرول کی قیمت پر بھاری بھر کم ٹیکس عائد کرنے کا جواز بنائی ہی نہیں جاسکتی۔ آئی ایم ایف کو بھی پٹرول کی ناقابل برداشت قیمتوں کا ذمہ دار ٹھہرانا بددیانتی ہے۔ بنیادی اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہماری سرکار مائی باپ اپنی آن بان اور شان برقرار رکھنے کے لئے معاشرے کے ان طبقات سے ٹیکس وصول کرنے کی صلاحیت وسکت سے یکسر محروم ہے جو راحتوں سے مالا مال ہیں۔ حکومتی اخراجات پورے کرنے کے لئے ٹیکس کے ذریعے جمع ہوئی رقوم میسر نہ ہوں تو دیگر ممالک سے قرض لینا پڑتے ہیں۔ وہ آپ کو قرض دینے کے قابل نہ سمجھیں تو آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے سوا کوئی راستہ میسر نہیں۔
دیگر ممالک یا بازار کے مقابلے میں سستی ترین شرح سود پر قرض فراہم کرنے سے قبل آئی ایم ایف مگرتقاضہ کرتا ہے کہ حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے شہریوں سے واجب الادا ٹیکس جمع کرے۔ آئی ایم ایف کا یہ دردِ سر نہیں کہ حکومتی آمدنی اور خرچ میں توازن برقرار رکھنے کے لئے معاشرے کے کونسے حصے یا طبقے سے کس شرح کے ساتھ کتنا ٹیکس وصول کیا جائے۔ حکومت نے محاصل کے ذریعے جو رقم اکٹھا کرنے کا وعدہ کررکھا ہوتا ہے وہ مختلف طبقات پر ان کی بساط کے مطابق ٹیکس لگاکر جمع نہ ہوپائے تو ذہین وفطین حکومتوں کیلئے محمد اورنگزیب صاحب جیسے نابغے پٹرول پر "ڈیوٹی" کی جگاڑ نکال لیتے ہیں۔ یوں پٹرول کا ہر لیٹر خریدنے کا ہم ٹیکس نہیں بھتہ ادا کرتے ہیں اور اس بھتے کا معاشیات کے کسی بھی اصول کے تحت دفاع کیا نہیں جاسکتا۔ علی پرویز ملک صاحب کا ہذیان اس تناظر میں کسی کام نہیں آئے گا۔