Thursday, 14 November 2019

Khel Khatam, Paisa Hazam

مولانا فضل الرحمن کو یہ کریڈٹ تو جاتا ہے کہ انہوں نے پاکستانی ریاست اور سیاست کے بیانئے سے مسئلہ کشمیر، کرپشن اور احتساب کو بے دخل کر دیا۔ مسئلہ کشمیر کی جگہ مولانا کا آزادی مارچ اور دھرنا زیر بحث ہے اور کرپشن و احتساب کا ذکر صرف عمران خان کی تقریروں میں ملتا ہے، میڈیا پر لانگ مارچ اور دھرنے کا چرچا ہے۔ نجی محفلوں میں موضوع گفتگو اب سرینگر، صورہ اور شوپیاں کی صورت حال نہیں، اسلام آباد میں لانگ مارچ روکنے کی تیاریاں اور مسلم لیگ ن و پیپلز پارٹی کی نیمے دروں، نیمے بروں پالیسی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے لانگ مارچ اور دھرنے کے لئے اکتوبر کا مہینہ کیوں منتخب کیا اور مسلم لیگ(ن) و پیپلز پارٹی سرتوڑکوششوں کے باوجود دسمبر تک موخر کرنے پر آمادہ کیوں نہ ہوئے؟یہ سربستہ راز ہے، مولانا کے حامی جو توجیہہ پیش کرتے ہیں وہ عذر گناہ بدتر از گناہ ہے۔ کشمیری عوام کی جدوجہد سے قوم اور بین الاقوامی اداروں کی توجہ ہٹا کر سیاسی فوائد کا حصول اگر ممکن ہوبھی تو کسی محب وطن پاکستانی اور انسان دوست فرد کے لئے باعث شرم ہے۔ سونے پر سہاگہ مولانا اور ان کے ساتھیوں کی تقریریں ہیں جن میں وہ عمران خان سے زیادہ سرحدوں پر بھارت سے نبردآزما فوجی جرنیلوں کو ٹارگٹ کر رہے ہیں، مولانا کی تقریریں سن کر کوئی ہوش مند شخص اس سازشی کہانی پر تھوکنا پسند نہیں کرتا کہ انہیں کہیں سے اشارہ ملا ہے اور وہ مدت ملازمت میں توسیع کو روکنے کے علاوہ عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے منصب سے علیحدہ کرنے کے مشن پر ہیں۔ یہ تقریریں مولانا کی مایوسی اور اندرونی اضطراب کی مظہر ہیں، کسی اشارے یا یقین دہانی کی نہیں، جیسا کہ مولانا کے بعض اندھے عقیدت مندوں اور عمران مخالف تجزیہ کاروں کو خوش فہمی لاحق ہے۔

مولانا نے مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کو یہ دانہ ڈالنے کی کوشش کی کہ لانگ مارچ اور دھرنے کے نتیجے میں نئے، شفاف اور حسب منشا نتائج کے حامل انتخابات کی منزل قریب آ سکتی ہے اور احتساب کی بساط لپیٹی جائے گی لیکن سیاست کی سردگرم چشیدہ قیادت نے یہ دانہ چگنے سے انکار کر دیا، 1977ء جیسی تحریک کے دعوئوں نے انہیں مزید خوفزدہ کر دیا کہ وہ تو مارشل لاء پر منتج ہوئی جس کا سب سے زیادہ نقصان پیپلز پارٹی اور فائدہ شریف خاندان نے اٹھایا۔ یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ مارشل لاء کی راہ دھاندلی زدہ انتخابات میں اقتدار پر قابض ہونے والے مرحوم وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ہموار کی، بھٹو صاحب کے قابل اعتماد ساتھی، قومی اتحاد سے مذاکرات میں شریک اور "سوہنے منڈے" حفیظ پیرزادہ نے صحافی مطیع اللہ جان سے انٹرویو میں برملا یہ اعتراف کیا کہ بھٹو مذاکرات کو ادھورا چھوڑ کر شرق اوسط کے دورے پر نہ چلے جاتے تو مارشل لاء کی نوبت نہ آتی کیونکہ جنرل ضیاء الحق آخری وقت تک مزاحمت کرتے اوربھٹو کو باور کراتے رہے کہ آپ سیاسی تصفیہ کریں تاکہ فوجی مداخلت کو روکا جا سکے۔ مولانا ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں اور اپنے قریبی ساتھیوں قاضی حسین احمد وغیرہ کو چکمہ دے کر فوجی آمرجنرل پرویز مشرف کی باوردی صدارت کی راہ ہموار کر چکے ہیں، جبکہ اب بھی اندر خانے رابطوں کا تاثر نمایاں ہے اسی باعث حقیقی جمہوریت پسند حلقے خائف اور مشکوک ہیں، نہیں جانتے کہ مولانا کا مارچ اور دھرنا صرف کشمیریوں کی جدوجہد سے توجہ ہٹانے کی مجنونانہ کوشش ہے یا اسٹیبلشمنٹ کے عمران مخالف حلقے سے مل کر ایسا کھیل رچانے کی تدبیر جس کے نتیجے میں مولانا کے پوبارہ ہوں مگر رہی سہی جمہوریت کا کریا کرم ہو جائے۔

آزادی مارچ اسلام آباد پہنچ پاتا ہے یا نہیں؟ یہ سوال ہر جگہ زیر بحث ہے، حکومت چند روز پہلے تک نظر انداز کرنے کی پالیسی پر گامزن تھی اور اس بات پر خوش کہ مولانا نے اپوزیشن ہی نہیں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی میں اندرونی دراڑیں ڈال دی ہیں۔ لیکن خٹک کمیٹی کی تشکیل کے بعد یہ تاثر برقرارنہیں رہا۔ میرے خیال میں اگرچہ یہ کمیٹی بھی پنجابی زبان کے محاورے کے مطابق "گونگلوئوں سے مٹی جھاڑنے "کے مترادف ہے۔ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے۔ کمیٹی کی تشکیل کے بعد عمران خان سمیت حکومتی زعما کے بیانات سے ہرگز نہیں لگتا کہ حکومت مذاکرات میں۔ سنجیدہ ہے اور خٹک کمیٹی نتیجہ خیز مذاکرات کے لئے تیار۔ مذاکرات ہوئے بھی تو ون پوائنٹ ایجنڈا پر ہوں گے کہ بھارت کے عزائم، کنٹرول لائن اور مغربی سرحدی صورت حال اور پاکستان کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر احتجاج کی کال واپس لیں، زیادہ سے زیادہ اسلام آباد میں جلسہ کی اجازت دے دی جائے گی بشرطیکہ یہ پرامن اور ڈنڈا بردار کارکنوں کی موجودگی سے یکسر پاک ہو، اگر مولانا نہ مانے جس کا امکان موجود ہے تو وزیر دفاع پرویز خٹک حکومت کے ردعمل کے بارے میں پیشگی اطلاع دے چکے ہیں۔ مولانا اور ان کے سیکولر، لبرل ساتھی جانتے ہیں کہ ریاست اس وقت کسی کشیدگی، محاذ آرائی اور تصادم کی متحمل ہے نہ پاکستان اور حکومت کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اس منفی پروپیگنڈے کو برداشت کرنے پر تیار کہ یہاں جمہوری حقوق معطل ہیں اور اظہار رائے کی آزادی پر قدغن عائد، بعض دانشور اور تجزیہ کار مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کے وحشیانہ مظالم اور ذرائع ابلاغ پر غیر انسانی، غیر اخلاقی پابندیوں سے قومی و بین الاقوامی رائے عامہ کی توجہ ہٹانے اور اپنے پاکستان دشمن جذبات کی ادھوری تسکین کے لئے سرگرم عمل ہیں مگر بات بن نہیں پا رہی۔ مولانا کی اپیل محدود ہے، عزائم مشکوک اور حکمت عملی مشتبہ۔ جب وہ اپنے سیاسی اتحادیوں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کو مطمئن نہیں کر پائے، ان کے شکوک و شبہات کا ازالہ کرنے میں ناکام رہے تو قوم کس طرح اعتماد کرے۔

مولانا نوابزادہ نصراللہ خان نہیں جو آگ اور پانی کو اکٹھا، شیر بکری کو ایک گھاٹ پر پانی پلانے کی صلاحیت رکھتے تھے نہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخواہ کے مقبول رہنما کہ ان کی عوامی قوت و طاقت سے کوئی مرعوب و خائف ہو" ہر حکومت کا ساتھ دینے اور مراعات سمیٹنے کی وجہ سے سیاسی و مذہبی ساکھ بھی برائے نام ہے۔ مذہبی جماعتوں کے کارکنوں سے میڈیا خدا واسطے کا بیر رکھتا ہے اور ہر باریش، عمامہ پوش انہیں تحریک طالبان پاکستان کا کارکن نظر آتا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے گرداب میں پھنسی حکومت کسی باریش، عمامہ پوش ڈنڈا بردار ہجوم کو اسلام آباد پر لشکر کشی کی اجازت دے سکتی ہے نہ یہودی قادیانی کی گردان کرنے والوں کو معاشرے میں موجود رہی سہی مذہبی یگانگت و برداشت ختم کرنے کی آزادی، مولانا لاکھ کہیں کہ ان کا ایجنڈا سیاسی ہے مگر ان کے پرجوش و جذباتی ساتھیوں کی تقریروں اور بیانات کے علاوہ انصار الاسلام کی سرگرمیوں سے کچھ اور ہی تاثر ملتا ہے، کچھ شہر دے لوگ وی ظالم سن، کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی، فرد جرم تیار ہے، مذاکرات کی ناکامی پر خواہشات کے غبارے سے ہوا نکلے گی اور مولانا کو بانس پر چڑھانے والوں کی کم مائیگی عیاں ہو گی، کھیل ختم، پیسہ ہضم۔