Saturday, 07 November 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Hameed Ullah Bhatti
  4. Wast Mudati Intikhab Sadar Trump Ka Muhasba

Wast Mudati Intikhab Sadar Trump Ka Muhasba

تین نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات نے امریکی سیاست کا اہم موڑ ہے کانگرس کے دونوں ایوانوں، ایوانِ نمائندگان اور سینٹ میں صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ری پبلکن اکثریت سے محروم ہوچکی ہے اور اب اِن کا کنٹرول ڈیموکریٹک کے پاس آگیا ہے۔ یہ انتخابی نتائج محض نشستوں کی تبدیلی نہیں بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں، طرزِ حکمرانی اور عوامی ترجیحات کے درمیان بڑھتے فاصلے کی عکاسی کرتے ہیں۔ نتائج کے ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق ڈیموکریٹس کی سینٹ میں کم ازکم سات نشستوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ری پبلکن سے ایوانِ نمائندگان کی دو درجن سے زائد نشستیں بھی چھن گئی ہیں۔

دستیاب نتائج کے مطابق اب ایوانِ نمائندگان میں ڈیمو کریٹس کی 251 جبکہ ری پبلکنز کے پاس صرف155 نشستیں رہ گئی ہیں۔ کچھ حلقوں میں ابھی گنتی جاری ہے یوں 100 رُکنی سینٹ میں دو آزاد ارکان کے شامل ہونے سے ڈیمو کریٹس کی مجموعی تعداد 54 ہوگئی ہے۔ الاسکا اور مسیسیپی کی دو اہم نشستوں کے نتائج ابھی مکمل نہیں ہوئے مگر ڈیموکریٹس کو حریف امیدواروں پر کچھ برتری حاصل ہے اگر یہ دونوں نشستیں بھی ڈیموکریٹس جیت جاتے ہیں تو سینٹ میں اُن کی عددی برتری مزید مستحکم ہوجائے گی جہاں پہلے ہی اُنھیں غلبہ حاصل ہو چکا ہے۔

امریکی نظام میں وسط مدتی انتخابات صدر کے چار سالہ دورِ حکومت کے درمیان منعقد ہوتے ہیں۔ اِن انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینٹ کی تقریباََ ایک تہائی نشستوں پر ووٹ ڈالے جاتے ہیں۔ اِس مرتبہ سینٹ کی 35 نشستیں انتخابی عمل کا حصہ تھیں جبکہ 36 ریاستوں میں گورنروں کے انتخاب ہوئے۔ وسط مدتی انتخابات میں صدر خود اُمیدوار نہیں ہوتے لیکن اُن کی کارکردگی انتخابی مُہم کا اہم موضوع ہوتی ہے۔ وسط مدتی انتخابات کو صدر کی مقبولیت اور عوامی اعتماد کا امتحان سمجھا جاتا ہے۔ اِس امتحان میں صددٹرمپ عوامی اعتماد کھوبیٹھے ہیں جس سے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگیسیتھ کو نااہل اور بدعنوان کہنے کا مطالبہ شدت اختیار کرنے لگا ہے۔ اِس کا مطلب جلد برطرفی ہے مواخذے کے حامیوں میں کچھ ری یپبلکن تک شامل ہیں۔

ڈیموکریٹس کی کامیابی کا اہم پہلو یہ ہے کہ وہ ایسی ریاستوں میں بھی کامیاب ہوئے جہاں سے ٹرمپ نے نمایاں حثیت سے برتری حاصل کی تھی۔ ٹیکساس، کنساس، آئیووا، اوہائیو اور شمالی کیرولائنا میں سینٹ کی نشستیں ڈیموکریٹس کو مل چکی ہیں۔ ٹکساس میں جیمزٹالاریکو اور کنساس میں ایڈم ہیملٹن کی کامیابی کافی حیران کُن ہے کیونکہ مذکورہ ریاستوں میں ری پبلکن جماعت طویل عرصے سے مقبول اور مضبوط رہی ہے۔ علاوہ ازیں کئی ریاستوں میں ڈیمو کریٹک گورنروں کی کامیابی نے انتخابی نتائج کو مزید اہم بنا دیا ہے جس سے صدر ٹرمپ کے لیے بقیہ مدت کے دوران مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

عوام نے ٹرمپ کی جماعت سے آخر کیوں منہ موڑ لیا ہے؟ انتخابی تجزیوں میں مہنگائی، پٹرول اور توانائی کی بلند قیمتوں کے ساتھ روزمرہ اخراجات اور ایران کے ساتھ جنگ کے اثرات کو اہم عوامل قرار دیا جارہا ہے۔ امریکی ووٹرز کی اکثریت کو ابتدا میں توقع تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ مہنگائی پر قابو پائے گی اور روزمرہ کے اخراجات کو کم کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوسکا جس سے حکمران جماعت کی عوامی مقبولیت متاثر ہوئی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے انتخابی سروے میں دس میں سے سات ووٹروں کا خیال تھا کہ صدر کے اختیارات پر کانگرس مناسب نگرانی نہیں کررہی جو ظاہر کرتا ہے کہ حکومتی احتساب کا مطالبہ بھی عوامی سطح پر انتخابی فیصلے میں اہم رہا ہے۔

نتائج کے بعد اب اہم سوال یہ ہے کہ ٹرمپ حکومت کے لیے مستقبل میں کیا راستہ ہوگا؟ قانون سازی، بجٹ، حکومتی اخرجات اور انتظامیہ کی نگرانی میں امریکی کانگرس کا بنیادی کردار ہوتا ہے جہاں اب ڈیموکریٹس ٹرمپ کے کئی قانون سازی کے منصوبوں کو روکنے، بجٹ پر سخت مذاکرات کرنے، اہم تقریوں کی مخالف کرنے اور حکومتی اِداروں کی تحقیقات شروع کرنے کی پوزیشن میں آگئے ہیں۔ اب نہ صرف ایوانِ نمائندگان میں کمیٹیوں کی سربراہی تبدیل ہوگی بلکہ کانگرس کے سامنے وائٹ ہائوس کو زیادہ جواب دہ ہونا پڑے گا۔ ڈیمو کریٹک رہنما ہاکیم جیفریز کے ایوانِ نمائندگان کا اسپیکر بننے کا امکان بھی ہے جس سے امریکی سیاست میں ایک تاریخی قسم کی تبدیلی رونما ہو ہوسکتی ہے مگر یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ کانگرس میں شکست کے بعد صدر کے اختیارات ختم ہو گئے ہیں۔ ٹرمپ بدستور صدر رہیں گے اور اپنے آئینی و انتظامی اختیارات بھی استعمال کرتے رہیں گے۔ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے کئی معاملات میں صدر کا کردار کلیدی ہوتا ہے البتہ کانگرس کی مخالفت کی وجہ سے بجٹ، دفاعی اخراجات اور نئے قوانین کی منظوری میں مشکلات آسکتی ہیں لیکن مخالف قانون سازی کے جواب میں صدر کو حاصل ویٹو کا اختیار بھی اہم ہے، البتہ اگردونوں جماعتوں میں کسی معاملے پر اتفاق نہیں ہوتا تو حکومتی شٹ ڈائون جیسے بحران جنم لیتے رہیں گے۔

امریکی خارجہ پالیسی پر حالیہ وسط مدتی انتخابات کے اثرات مرتب ہونے کا امکان موجود ہے۔ یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ، ایران، چین اورنیٹو کے ساتھ ایسے معاملات ہیں جن پر امریکی فیصلے ساری دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔ ڈیموکریٹس، ٹرمپ انتظامیہ سے ایران کے ساتھ جنگ، دفاعی اخراجات اور اتحادی ممالک سے تعلقات بارے وضاحت طلب کرنے کی پوزیشن میں آگئے ہیں مگر یہ توقع رکھنا کہ کانگرس کی تبدیلی کے ساتھ ہی امریکی خارجہ پالیسی مکمل طورپر بدل جائے گی ایسا ممکن نہیں کیونکہ اِس کا انحصار صدر کے فیصلوں، کانگرس کی قانون سازی اور عالمی حالات پر ہوگا۔

وسط مدتی انتخابی نتائج 2028کے صدارتی انتخابات کے لیے بھی اہم اِشارہ ہیں ڈیمو کریٹس کے لیے کانگریس میں کامیابی یہ ثابت کرنے کے لیے اچھا موقع ہے کہ وہ صرف صدر ٹرمپ کی مخالفت ہی نہیں کرتے بلکہ عوامی مسائل کا قابلِ عمل حل بھی رکھتے ہیں۔ دوسری طرف ری پبلکن کو اپنی شکست کا جائزہ لینا اور سمجھنا ہوگا کہ مہنگائی، روزگار اور عوامی ضرویات کو نظر انداز کرنے کی بھاری سیاسی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ امریکی انتخابات کا دنیا کی دوسری جمہوریتوں کے لیے بھی سبق ہے کہ جمہوریت میں اقتدار مستقل اختیار کا نام نہیں بلکہ یہ عوام کے سامنے جواب دہی کا نظام ہے۔ مضبوط پارلیمان حکومت کی تائید کرنے کے ساتھ اِس کی نگرانی اور احتساب بھی کرتی ہے۔ امریکی ووٹرز نے اپنے ووٹ کے زریعے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی صدر اور کوئی بھی جماعت عوامی فیصلے سے بالاتر نہیں۔ ٹرمپ سے یہ نتائج بقیہ صدارتی مدت میں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی اور سیاسی مفاہمت کا تقاضا کرتے ہیں جبکہ ڈیمو کریٹس کے لیے یہ کامیابی ایک نئی ذمہ داری کا آغاز ہے۔