کہنے والے کہا کیے کہ "لکھنے والو پڑھا کرو"۔ پَر لکھنے والے لکھا کیے اورلکھ لکھ کر اپنے پڑھنے والوں پر ہنسا کیے کہ "پڑھنے کی ایسی تیسی۔ بے پڑھے لکھنے والے لکھاریوں کی ایسی ایسی تحریریں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ اُن پر تو اب کُڑھنے کا بھی جی نہیں چاہتا۔ یہ زمانہ برقی ذرائع ابلاغ کا زمانہ ہے۔ ہر شے کا ابلاغ برق رفتاری سے ہو رہا ہے۔ علم کا بھی، لاعلمی کا بھی۔ تیار مال، مل جائے توپڑھنے میں کون سر کھپائے؟ وہاں سے نقل کرو، یہاں چسپاں کر دو۔ اللہ اللہ خیر صلّا۔ تحقیق ہوگئی۔ محقق کی سند مل گئی۔ لوگ ڈاک ساب، ڈاک ساب، کہہ کر پُکارنے لگے۔ ڈاک ساب، خوش ہو ہو کر دُم ہلانے لگے۔
لکھنے والے یہ سمجھنے لگے ہیں کہ جو جی میں آئے لکھ دیجے، قاری دُم ہلاتا ہوا پڑھنے آجائے گا۔ مگر صحیح سمجھے تو نصیر پروازؔ سمجھے کہ
پڑھنے والا کوئی نہیں تھا، سارے لکھنے والے تھے
ہر اُجلے کاغذ پر کتنے دھبے کالے کالے تھے
اب سے کئی برس پہلے کا قصہ ہے۔ سعودی عرب سے ہمارے مربی سید شہاب الدین نے پاکستان کے ایک وقیع اُردو اخبار کے ایک اداریے کا تراشہ بھیجا۔ تراشے کے ساتھ ہی اپنا دل بھی تراش کر بھیج دیا۔ فرمایا:
"السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ یہ آج کے اخبار کا اداریہ ہے۔ اس میں ایک شعر علامہ اقبالؔ سے منسوب کیا گیا ہے، جب کہ یہ شعر اقبالؔ کا نہیں، مولانا ظفرؔ علی خان کا ہے۔ شعر کے دوسرے مصرعے میں غلطی بھی ہے۔ مصرعے کی غلطی برداشت بھی کر لی جائے تو شعر کے شاعر کا نام غلط لکھنا کیسے برداشت کیا جائے؟ سماجی ذرائع ابلاغ پر تو اقبالؔ کے نام سے نہ جانے کیا کیا الا بلا پیش کیا جا رہا ہے۔ مگر ایک مؤقر قومی روزنامے سے اس جہل کا صدور ناقابلِ معافی ہے"۔
ہوگا ناقابل معافی مگر ہمیں یقین ہے صاحب! کہ اداریہ نگارنے بڑی فراخ دلی سے اپنے آپ کو معاف کر دیا ہوگا۔ شعر یہ تھا:
خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
اکثر لکھنے والے اس شعر کو لاوارث جان کراس پر ترس کھاتے ہوئے اِسے کبھی مولاناحالیؔ سے منسوب کردیتے ہیں، کبھی علامہ اقبالؔ سے۔ حالاں کہ یہ شعر مولانا ظفرؔ علی خان کے شعری مجموعے "بہارستان" میں شامل ہے۔ مولانا کا یہ مجموعہ1937ء میں شائع ہوا تھا، جب اقبال ؔابھی بقیدِ حیات تھے۔
اس شعر کامرکزی خیال قرآنِ مجید کی ایک آیت سے ماخوذ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بڑے بڑے علما فضلا اس آیت کو قوم کی حالت میں مثبت تبدیلی لانے کی شرط کے طور پرپیش کرتے ہیں۔ اس آیت کا حوالہ دے کر عموماًیہی کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی قوم اپنی خراب حالی کو خود نہ بدلناچاہے تو اللہ بھی اس قوم کی بُری حالت کو نہیں بدلتا۔ جب کہ قرآنِ حکیم میں اس کا سیاق و سباق مختلف ہے۔ وہاں خود کردہ، کو قومی خوش حالی کے بدحالی میں تبدیل ہوجانے کا سبب بتایا گیا ہے۔ یعنی اللہ کسی قوم کے اچھے حالات اُس وقت تک برباد نہیں کرتا جب تک وہ قوم بحیثیتِ مجموعی خود ہی اپنی بربادیوں پر نہ تُل جائے۔
اس آیت سے قبل کی آیات میں فرعونیوں، کو عذابِ الٰہی اور بربادی میں مبتلا کرنے کا ذکرکرنے کے بعدارشادِ باری تعالیٰ ہوا کہ
"ایسا اس وجہ سے ہوا کہ اللہ کسی قوم کو جو نعمت دیتا ہے اُسے اُس وقت تک نہیں بدلتا (یعنی اُس قوم سے نہیں چھینتا) جب تک وہ قوم خود اپنی حالت نہ بدل ڈالے"۔ (سورۃ الانفال، آیت: 53)
اسی طرح سورۃ الرعد کی آیت نمبر 11 میں ارشاد ہوا: "حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کونہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی روش نہ بدل دے۔ پھر اللہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کر لے تووہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی۔ نہ اللہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی و مدد گارہو سکتا ہے"۔
خیر، یہ تو سیاق و سباق نہ جاننے کے (اور جاننے کے لیے نہ پڑھنے) کی وجہ سے کی جانے والی غلطی ہائے مضامین، کا ذکر تھا۔ ورنہ حقیقت یہی ہے کہ برے حالات کو بدلنے کے لییمثبت تبدیلی بھی اُس وقت تک رُونما نہیں ہوتی جب تک کوئی قوم خود اپنے اندر مثبت تبدیلیاں نہ لے آئے۔ سورۃ الاعراف کی آیت نمبر 96 میں ارشاد ہوا: "اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اورتقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم اُن پر آسمان اور زمین دونوں طرف سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے"۔
گویا رزق کی فراوانی ہو جاتی۔ بد حالی کی جگہ خوش حالی آجاتی۔ مگرایمان لانااتنا آسان نہیں۔ دیکھیے، ہم من حیث القوم تو سُود کے حرام ہونے پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر جس طرح خنزیر کا گوشت کھانے سے بچتے ہیں، اُسی طرح سُود کھانے سے بچنے کو تیار نہیں ہوتے۔ بلکہ سُود سے بچنے کو ناممکن بتاتے ہیں۔ سُود نہ کھائیں تو IMF کی حکم عدولی ہوگی اوربہت بڑا پاپ ہو جائے گا۔ بس اسی وجہ سے تقویٰ کی روش اختیار نہیں کرتے۔ بے شک بدحالی میں مبتلا رہنا پڑے۔ سو، اپنے مفروضات، اپنے رویوں اور اپنی رَوِش میں تبدیلی لانا کوئی آسان کام نہیں۔ ارے بھئی، لوگ تو کسی لفظ کے اُس غلط تلفظ کو بھی تبدیل نہیں کر پاتے جو بچپن سے ان کی زبان پر چڑھ گیا ہے۔ پس اے صاحبو! خود کو بدلنے کا مرحلہ بہت مشکل مرحلہہے۔ یہ کام بڑے بڑوں سے نہیں ہو پاتا۔ بلکہ بڑوں پر تو اقبالؔ بھی کُڑھا کرتے تھے کہ
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
یہ شعرضربِ کلیم، میں ہے۔ مگر اسی خیال کو اقبالؔ نے بال جبریل، میں بھی پیش کیا ہے۔ بس الفاظ مختلف ہیں:
احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پاژند
یہ پاژند، کا قصہ بھی بڑا دلچسپ ہے۔ زرتشت کی کتاب "اوستا" کی "ژند" زبان جب ناقابلِ فہم اور متروک ہوگئی، بلکہ بقولِ البیرونی اس کے پڑھنے سے طبیعت گھبرانے لگی، تو اس کے مفسرین نے "پاژند" نامی زبان میں ایک نئی کتاب تصنیف کر لی۔ خود بدلنے کے بجائے کتاب ہی بدل ڈالی۔ یہی کام قرآن سے قبل نازل ہونے والی آسمانی کتابوں کے ساتھ بھی ہوا۔ ہم پڑھیں تو پتا چلے نا۔
لو صاحبو! پڑھنے سے بات شروع ہوئی تھی پھر بات سے بات نکلتی چلی گئی۔ کہنے کی بات یہ تھی کہ اُردو میں لکھنے والوں کو اور اُردو میں نشریات پیش کرنے والوں کو اپنی تضحیک سے بچنے کے لیے اُردو کی معیاری کتابوں کو ضرور پڑھ لینا چاہیے۔ وہ لوگ جو یہ کہتے اور لکھتے ہیں کہ اُردو علمی زبان نہیں ہے، اُنھیں اپنے علم میں اضافہ کرنا چاہیے۔ اُردو کے ذخیرۂ علوم سے استفادہ کرنا چاہیے۔ جن لوگوں کا قلم اور جن کی زبان یہ کہتے نہیں تھکتی کہ اُردو میں سائنسی علوم کی تعلیم نہیں دی جاسکتی، اُن کی اِس بات سے اُردو کی کمی یا کوتاہی کی نہیں، خود اُن کی علمی کمی کوتاہی ظاہر ہو جاتی ہے۔ اُن لوگوں کو اُردو کی سائنسی کتب پڑھنے کی شدید ضرورت ہے۔ دیکھیے، کیسی پتے کی بات جون ایلیا کہہ گئے تھے: "بہت سے لوگ جنھیں پڑھنا چاہیے تھا، وہ لکھ رہے ہیں"۔