پچھلے کالم میں دیوانِ غالبؔ کے مرتبین کا ذکر تھا۔ نہ جانے کس جھونک میں آکر ہم علامہ آسی، کو علامہ آلوسی، لکھ گئے۔ اپنی آنکھ کا شہتیر تو خیر ہمیں بھی نظر نہیں آتا۔ مگر ہماری آنکھ (کی خطا) کا یہ تنکا دوسروں کو بھی دکھائی نہ دیا۔ الحمدللہ تا دمِ تحریر کسی قاری نے اس خطا پر ہماری گرفت نہیں کی۔ وہ تو اللہ بھلا کرے برادر عبدالخالق بٹ کا جنھوں نے چپکے سے فون کرکے ہم سے پوچھا کہ "حاطب بھائی! محض اپنی اُلجھن دُور کرنے کے لیے پوچھ رہا ہوں، کیا علامہ آلوسیؒ نے بھی دیوانِ غالبؔ مرتب کیا ہے؟ وہی جن کی تفسیر روح المعانی، مشہورہے!"
حاطب بھائی کیا کہتے؟ ہر چند علامہ محمود شہاب الدین ابوثنا حسینی آلوسیؒ خود بھی ایک شاعر تھے، لیکن افسوس، اُنھیں دیوانِ غالبؔ مرتب کرنے کی توفیق ہوئی نہ اس کا خیال آیا۔ گو اُنھوں نے بھی غالبؔ کا زمانہ پایا، مگر وہ تو عمر بھر عراق کے شہر آلوس کے آس پاس ہی گھومتے رہے۔ بہت ہوا تو استنبول اور بغداد چلے گئے۔ نیز علامہ آلوسیؒ ساری زندگی تفسیر، حدیث اور فقہ کی درس و تدریس یا تصنیف و تالیف ہی میں مصروف رہے۔ شاید اِنھیں مصروفیات (اور اُردو سے عدم رغبت) کے باعث علامہ آلوسیؒ نے کلامِ غالبؔ سے خود کو آلودہ کرنا پسند نہ کیا۔
صاحبو! دیوانِ غالبؔ مرتب کرنے اور اُس کی شرح لکھنے کی سعادت توعلامہ عبدالباری آسیؔ الدنی کو حاصل ہوئی تھی۔ ہماری آنکھوں نے خطا کی توآسی کو آلوسی پڑھ لیا۔ قلم نے خطا کی تو یہی لکھ دیااوریہی چھپ گیا۔ محولہ کالم کے کوئی چار پانچ ہزار سے زائد قارئین میں سے شاید ہی کسی ایک قاری کی نظر اس خطا پر پڑی ہو۔ پَر، اُس ایک اکیلے قاری کے لیے زیڈ اے بخاری کی لغت میں بہت بُرا لفظ ملا۔
ریڈیو پاکستان کے اوّلین ڈائریکٹر جنرل جناب ذوالفقار علی بخاری نے ایک بار اپنی نشری گفتگو میں لفظ زَعم، (ز، پر زبر) کو نہ جانے کس جھونک میں آکر زُعم، (ز، پر پیش کے ساتھ) پڑھ دیا۔ ریکارڈنگ سنی تو اِس خطا کا احساس ہوا، (اپنا ہی) سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ اُٹھے تو پروگرام کے پیش کار سے کہا: "میاں! تلفظ کی یہ غلطی پکڑی جائے گی۔ چلو، گفتگو دوبارہ ریکارڈ کرو!"
پروگرام کے پروڈیوسر نے غالباً دوبارہ محنت سے جان چھڑانے کے لیے کہا: "سر! جانے دیجیے۔ سَو میں سے کوئی ایک ہی سامع ایسا ہوگا جوپوری گفتگو میں سے بس اتنی ذرا سی غلطی پکڑ کے کھڑاہوجائے گا"۔
بخاری صاحب بولے: " اُسی ایک، زادے سے تو ڈر رہا ہوں!"
مشہور مقولہ ہے: " انسان خطا و نسیان کا پُتلا ہے"۔
یوسفیؔ صاحب نے اس مقولے میں نسیان، کی جگہ نسوان، استعمال کیا ہے، مگر یہ اُن کی خطا نہیں، اُن کی عطا ہے۔
خطا کا مطلب بھول چوک، قصور، غلطی، سہو، جرم اور گناہ ہے۔ مگرجرم اور گناہِ بے ارادہ۔ بے ارادہ، پر یاد آیا کہ ابھی چند روز قبل "عالمی یومِ اساتذہ"منایا گیا ہے۔ ہماری طرف سے ہر اُستادِ محترم کو سلام۔ مگر بچپن میں بعض ایسے جلّاد اساتذہ سے بھی سابقہ پڑا جنھیں دیکھتے ہی پیشاب خطا، ہو جاتا تھا۔ مرکھنے اساتذہ کا ذکراس لیے کیا کہ آپ کو خطا، کے بے اراد سر زد ہوجانے کی مثال یاد دلا دی جائے۔
یہ بات توآپ جانتے ہی ہوں گے کہ خطا، شمالی چین (ترکستان، تاتار) کے ایک شہر کا نام بھی ہے۔ ہمارے ہاں نانِ خطائی، نے بڑی شہرت پائی۔ ہم نے تو پاکستان میں بنی ہوئی نانِ خطائی، بھی مزے لے لے کر کھائی۔ تاہم اُردو میں خطا، کے اتنے مزے نہیں ہیں۔ قواعد و انشا کے اساتذہ کہتے ہیں کہ "خطاہونا" فعلِ لازم ہے، اس سے بچنا مشکل ہے۔ اِنھیں میں سے ایک پروفیسر اقبالؔ عظیم کا کہنا ہے:
ہم آدمی سے فرشتے تو بن نہیں سکتے
وہ چاہتے ہیں کہ ہم سے کوئی خطا ہی نہ ہو
پروفیسر صاحب مرحوم اپنی خطا کوتو آدمیت، کی علامت جانتے تھے، مگر قوم کو ڈانٹ ڈانٹ کریوں اپنی پروفیسری جھاڑتے تھے کہ
نقاب پوشوں کو للہ رہنما نہ کرو
خطا کرو، مگر اتنی بڑی خطا نہ کرو
پھر بھی قوم نے اُن کی ایک نہ سُنی۔ اِس معاملے میں ہمیشہ خطا کار اور خطا وار ہی رہی۔ خطا کار، قصورکرنے والا ہوتا ہے اورخطا وار، وہ ہوتا ہے جس پر قصور ثابت ہو جائے یا ثابت نہ ہو رہا ہو تو وہ خود مان لے کہ مجھ سے یہ قصور ہوا۔ ہمارےاہلِ تھانہ، قصور منوانے میں ماہر ہیں۔ کبھی کبھی کسی کو منانے کے لیے بھی قصور ماننا پڑجاتاہے۔ مولوی سید احمد دہلوی (مؤلف "فرہنگِ آصفیہ") فرماتے ہیں:
خفا گرچہ ناحق بھی پاتے ہیں ہم
خطا وار بن کر مناتے ہیں ہم
ماننے اور منانے پر ایک پُرانا محاورہ یاد آگیا، جس کا تعلق بزرگوں کو ماننے سے یا بزرگوں کی ماننے سے ہے۔ عام طور پر"خطائے بزرگاں گرفتن خطاست" کا مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ بزرگوں کی خطا پکڑنا خود ایک خطا ہے۔ فہم کی یہ خطا شیخ سعدیؒ کے ایک شعر سے عام ہوئی۔ مگرشیخ سعدیؒ نے تو خطائے بزرگاں، نہیں خطا بر بزرگاں، کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ سعدیؔ کا شعر یوں ہے:
نہ در ہر سخن بحث کردن رواست
خطا بر بزرگاں گرفتن خطاست
یعنی بات بات پربحث کرنا ٹھیک نہیں۔ کا ش یہ بات سماجی ذرائع ابلاغ پر بحثیائے، ہوئے لوگوں کو بھی سمجھادی جاتی۔ شیخ سعدیؒ کے درست مصرعے کی جگہ جو غلط مصرع، زباں زدِ خاص و عام ہوگیا ہے، وہ بھی ہمارے کسی بزرگ ہی کی خطا ہوگی۔ ہماری نسل کی تو نہیں ہے۔ مگر یہ بات ہمارے دل میں ہمیشہ کھٹکتی رہی کہ بزرگوں کی کسی خطا پر گرفت، خطا کیسے ہوگئی؟ خطا تو ہوتی ہی قابلِ گرفت ہے۔ ایک دن ہمارے ایک استاد نے اس گرفت پر دل گرفتہ دیکھا تو سمجھایا: "بیٹا اس محاورے میں گرفتن، کا مطلب تھامنا، ہے۔ یوں سمجھو کہ بزرگوں کی خطاؤں کو مضبوطی سے تھامنا خطا ہے"۔
اب بات سمجھ میں آگئی۔ ہمارے دین کی تعلیم یہی ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر170 میں ارشاد ہوا: "ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو احکام نازل کیے ہیں اُن کی پیروی کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اُسی طریقے کی پیروی کیے جائیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے، اچھا اگر ان کے باپ دادا نے عقل سے کچھ بھی کام نہ لیا ہو اور راہِ راست نہ پائی ہو تو کیا پھر بھی یہ اُنھیں کی پیروی کیے چلے جائیں گے؟"
تو صاحب! یہ ہوا "خطائے بزرگاں گرفتن خطاست" کا برحق مفہوم۔ عربی زبان میں بھی گرفتن، کے مفہوم کا ایک لفظ خُذ، استعمال ہوتا ہے۔ جس کے معنی مضبوطی سے تھام لینے کے علاوہ کسی کو پکڑلینے اور گرفتار کرنے کے ہیں۔ مواخذہ، اورماخوذ، اسی سے نکلاہے۔ مشہور عربی محاورہ ہے: خُذ ما صفا و دَع ما کَدِر۔ یعنی صاف ستھری، پاک چیزیں تھام لو اور گندی ناپاک چیزیں چھوڑ دو۔ عزیزؔ لکھنوی لکھتے ہیں:
صاف باطن دیر سے ہیں منتظر
ساقیا! خُذ ما صَفا، دَع ما کَدِر
سورۃ الحشر کی آیت نمبر7 میں اہلِ ایمان کو حکم ہے کہ" رسول اللہ ﷺ جو عطا فرمائیں اُسے تھام لو (فَخُذُوُہ) اور جس چیز سے منع فرمادیں اُس سے باز رہو"۔ پس، اے لوگو! بزرگوں کی خطائیں تھام کراُن ہی پرڈٹے نہ رہو۔ خطا کرو، مگر اتنی بڑی خطا نہ کرو!