Monday, 02 February 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Haider Javed Syed
  4. Sab Acha Kese Banaya Bataya Jata Hai?

Sab Acha Kese Banaya Bataya Jata Hai?

لاہور میں داتا دربار کے قریب ماں بیٹی کے کھلے مین ہول میں گرکر جاں بحق ہونے کا معاملہ جس "خوش اسلوبی" سے نمٹایا گیا اس سے ہم اور آپ سب اچھا کشید کر سکتے ہیں۔ فقط یہی نہیں بلکہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا کہ علاقے کے اسسٹنٹ کمشنر ایس پی پولیس اور ایس ایچ او معطل کر دیئے گئے۔ 5 افراد کو (ان کا تعلق مختلف محکموں سے ہے) کو گرفتار کرکے ریمانڈ پر لیا گیا اور یہ کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے حکم دیا ہے کہ مرحومہ ماں بیٹی کے ورثا کو ٹھیکیدار سے ایک کروڑ روپے ہرجانہ دلایا جائے گا۔ اب پتہ نہیں کون اس تاریخ ساز اقدامات کا دشمن ہے جو یہ خبر اڑا رہا ہے کہ اس افسوسناک واقعہ پر کارروائی میں جس متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کو ہٹایا گیا اسے اے سی ہیڈ کوارٹر لگادیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس واقعہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں مرحومہ خاتون کے شوہر پر تشدد کا ذمہ دار ایس پی اور ایس ایچ او کو قرار دیا گیا نیز یہ کہ اس واقعہ کے حوالے سے متضاد اطلاعات کی تحقیقات کے لئے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ آگے بڑھنے سے قبل آپ کو یہ بھی بتادوں کہ واقعہ کو فیک نیوز قرار دینے والی پنجاب کی خاتون وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اپنے عمل پر معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ابتدائی بیان یعنی "مین ہول میں ماں بیٹی کے گرنے کی خبر کو جھوٹ ریسکیو 1122 کے ایک اہلکار کی رپورٹ کی بنیاد پر قرار دیا تھا"، یہ بھی کہ میں مستعفی ہونا چاہتی تھی لیکن وزیر اعلیٰ نے کہا تمہارا کوئی قصور نہیں۔

اسی واقعہ کے حوالے سے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی صدارت میں منعقدہ ایک اجلاس میں وزیراعلیٰ کی گفتگو کے ایک حصے کی وائرل ویڈیو نے نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے چند سکینڈ کے اس ویڈیو کلپ میں وزیراعلیٰ اجلاس میں موجود افسران سے کہہ رہی ہیں "یہ لاہور ہے، لیہ راجن پور یا بھکر نہیں جہاں کوئی نہیں جاتا"۔

سرائیکی بولنے والی آبادی کے ان تین اضلاع سمیت سرائیکی وسیب میں اس پر شدید ردعمل ظاہر کیا گیا سرائیکی قوم پرستوں نے ایک بار پھر عاشق بزدار کی مشہور زمانہ نظم "اساں قیدی تخت لہور دے" الاپنا شروع کردی ہے۔

داتا دربار کے قریب پیش آنے والے افسوسناک واقعہ میں جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر نے پولیس پر سنگین الزامات لگائے۔ ابتداً پولیس حکام نے یہ کہہ کر معاملہ سنبھالنے کی کوشش کی کہ "ہم نے مرحومہ کے شوہر کے سسرال والوں کی جانب سے ظاہر کیئے گئے خدشات پر تحقیقات کی تھیں"۔ سسرال والے ایسے خدشات سے پولیس کو آگاہ کرنے سے انکاری ہیں بہرطور یہ عجیب بات اور رویہ ہے کہ ایک شخص متعلقہ تھانے پہنچ کر اطلاع دیتا ہے کہ اس کی اہلیہ اور کمسن بچی کھلے مین ہول میں گر گئی ہیں۔ پولیس دادرسی کے لئے متعلقہ محکموں سے رابطے کی بجائے فریادی کو ہی دھر لے اور وہ سب کہے جو مرحومہ کا شوہر بیان کررہا ہے۔

بیان کردہ تفصیلات پر محض افسوس کافی نہیں بلکہ اس سے اُس عمومی رویے کی نشاندہی ہوتی ہے جو پولیس اہلکاروں کا ہوتا ہے۔ مرحومہ خاتون کے شوہر نے الزام لگایا کہ اس پر تشدد کرکے پولیس یہ منوانے کی کوشش کررہی تھی کہ واقعہ کا ذمہ دار وہ خود ہے اور یہ کام کسی گھریلو ناچاکی پر انجام دیا ہے۔ اس نے یہ الزام بھی لگایا کہ اسے کہا گیا تمہاری بیوی مرضی سے کسی کے ساتھ چلی گئی اب تم ڈرامہ کررہے ہو۔

کیا ہم امید کریں کہ متضاد اطلاعات کی تحقیقات کیلئے جو نئی کمیٹی بنائی گئی ہے وہ مرحومہ کے شوہر کے پولیس پر الزامات کا بھی جائزہ لے گی اور الزامات درست ہونے کی صورت میں ان اہلکاروں کو ملازمت سے فراغت کی سفارش کریگی تاکہ آئندہ کسی فریادی کی اس طرح تذلیل نہ ہو سکے؟

پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے قلب میں واقع داتا دربار کے قریب پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کو فیک نیوز قرار دینے پر پنجاب کی وزیر اطلاعات نے تو معافی مانگ لی لیکن پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکرنے تادم تحریر اپنی بات پر شرمندگی ظاہر کی نہ معافی مانگی۔

اس افسوسناک واقعہ پر پنجاب حکومت کو اس کے سیاسی مخالفین نے خوب آڑے ہاتھوں لیا لیکن اسی دوران فیصل آباد میں کھلے مین ہول میں گرنے سے ایک بچی کے جاں بحق ہونے کی خبر کو ذرائع ابلاغ میں نمائیاں کوریج نہ مل سکی۔ اندریں حالات یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پنجاب میں سب اچھا اتنا بھی اچھا نہیں جتنا رنگین سرکاری اشتہارات میں بتایا جاتا ہے۔ مثال کے طور گندم کے بعد آلو مٹر پیاز اور دوسری سبزیاں کاشت کرنے والے کاشتکاروں کی فریادیں آسمان کو تو چھورہی ہیں برسرِزمین ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔ گندم کی طرح سبزیاں کاشت کرنے والے کاشتکاروں کو بھی شکوہ یہی ہے کہ انہیں مناسب دام نہیں مل رہے جس سے کاشت کی لاگت بھی پوری نہیں ہورہی۔

یہ صورتحال افسوسناک تو ہے ہی لیکن اس سے حکومت وقت کی ترجیحات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ زرعی شعبہ کہیں چوتھی پانچویں ترجیح بھی نہیں ہے۔

ان دنوں لاہور میں بسنت منانے کی تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے پنجاب حکومت کا رنگین بسنت اشتہار بڑے میڈیا ہاوسز کے مالکان کا پیٹ بھر رہا ہے۔ 6 سے 8 فروری تک تین روزہ بسنت فیسٹیول پوری چوتھائی صدی یعنی 25 برس بعد حکومت کی سرپرستی میں منایا جا رہا ہے۔ قبل ازیں دھاتی ڈوروں کی وجہ سے پیش آئے حادثات کی بدولت بسنت پر پابندی لگی تھی۔ بسنت پنجاب کا ایک قدیم موسمی تہوار ہے، ماضی میں کچھ مسیتڑ مولوی اسے خلاف اسلام بھی قرار دیتے رہے تب بھی عوام الناس کا بڑا حصہ یہ سوال کرتا تھا کہ موسمی تہواروں کا دین دھرم کب سے ہونے لگا؟

سانحہ بھاٹی دروازہ اور بسنت کے بعد جو معاملہ ان دنوں ذرائع ابلاغ اور عوام میں زیر بحث ہے وہ اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو لاحق آنکھوں کی بیماری ہے۔

ابتداً اس حوالے سے متضاد اطلاعات تھیں پھر وفاقی حکومت کے بعض ذمہ داران نے تسلیم کیا کہ عمران خان کو آنکھوں کی بیماری لاحق ہے اور انہیں علاج معالجے کیلئے جیل سے پمز ہسپتال اسلام آباد لیجایا گیا۔ اس معاملے کو لے کر اڈیالہ جیل کے باہر اور بعد ازاں سپریم کورٹ کے احاطے میں تحریک انصاف کی جانب سے دھرنے بھی دیئے گئے۔ دونوں مقامات پر جوشیلی تقاریر اور نعرے بازی ہوئی اب تحریک انصاف کے وکلا نے اڈیالہ جیل حکام سے عمران خان کے حالیہ طبی معائنہ کی تفصیلات تحریری طور پر مانگ لی ہیں۔ یہ مطالبہ بھی کیا جارہا کہ انہیں (عمران خان کو) علاج معالجے کیلئے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال لاہور منتقل کیا جائے۔

بظاہر یہ مطالبہ پورا ہوتا دیکھائی نہیں دے رہا مگر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عمران خان کو علاج معالجے کی مکمل سہولت فراہم کی جانی چاہئے تاکہ ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔ یہ بھی کہ ان کے ذاتی معالجین کو ان تک رسائی دی جانی چاہئے یہ ان کا قانونی حق ہے۔

اب آئیے کچھ باتیں تحریک تحفظ آئین المعروف عمران خان رہائی کمیٹی کی 8 فروری کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال پر کرلیتے ہیں۔ تحریک انصاف اس ہڑتال کو اپنی سٹریٹ مئوومنٹ سے جوڑ رہی ہے۔ عمران خان کی بہنوں نے گزشتہ دنوں اڈیالہ جیل کے باہر پختونخوا سے آئے کارکنوں سے کہا کہ وہ پنجاب کی بجلی پانی بند کرنے کیلئے تربیلہ ڈیم کو بند کریں اور ساتھ ہی کے پی کے سے پنجاب آنے والے راستے بند کردیں یہ خالص غیرسیاسی بہنوں کی ہدایات ہیں۔

دوسری جانب قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی 8 فروری کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کیلئے سرگرم عمل ہیں جبکہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر راجہ ناصر عباس جعفری اسے معرکہ حق و باطل کے طور پر پیش کرتے ہوئے عوام سے حسینی جذبے کے ساتھ میدان میں نکلنے کی اپیلیں کررہے ہیں۔

8 فروری کو اتوار کا دن ہے اتوار کو ملک کے اکثر بڑے شہروں کے علاوہ کنٹونمنٹ والے شہروں کے بڑے حصوں میں معمول کے کاروباری مراکز بند ہوتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ تحریک تحفظ آئین کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل کتنی مئوثر ثابت ہوتی ہے۔

کالم کی آخری سطور میں بلوچستان میں جمعے اور ہفتے کے روز پیش آئے افسوسناک واقعات کا تذکرہ از بس ضروری ہے۔ لگ بھگ سولہ چھوٹے بڑے شہروں میں مسلح عسکریت پسندوں نے سرکاری اور نجی مقامات پر حملے کئے ان واقعات میں سیکورڑی فورسز کے پندرہ جوان جاں بحق ہوئے جبکہ 90 سے زائد عسکریت پسند بھی مارے گئے۔ یہ سطور اتوار کی صبح لکھ رہا ہوں اس وقت بھی ان سولہ شہروں میں سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں ان واقعات نے بلوچستان کی ابتر صورتحال کو دوچند کردیا ہے یہ صورتحال سب اچھا بتانے والوں کے لئے سوالیہ نشان ہے۔