کئی برسوں سے میں اور میری بیوی مستقل دیہاڑی دار ہیں۔ ہماری محنت ومشقت کے باوجود 2016ء کے برس سے بجلی کابل ادا کرنا ناقابل برداشت محسوس ہونا شروع ہوا تو 2019ء میں گھر کی چھت پر سولر پینل لگوالیے۔ انھیں لگواتے وقت کئی سیانوں نے مشورہ دیا تھا کہ یکدم نیٹ میٹرنگ پر جانے سے گریز اختیار کیا جائے۔ بہتر یہی ہوگا کہ گرمیاں گزارلینے کے بعد سردیوں کے موسم میں بتدریج سولر کی طرف بڑھتے ہوئے جدید ترین بیٹریوں کی بدولت واپڈاکی محتاجی سے کامل نجات کی راہ بنائی جائے۔ معاشی امور کی مگر ککھ سمجھ نہیں۔ ریاستِ پاکستان کے دائمی اداروں پر کامل اعتماد ویسے بھی فدوی کی عرصہ ہوا جبلت کا حصہ بن چکا ہے۔
بازارمیں اچھی ساکھ رکھنے والی جس کمپنی نے ہمارے ہاں سولر پینل لگانے تھے اس کے پلان کے مطابق واپڈا سے نیٹ میٹر لینا بھی اسی کی ذمہ داری تھی۔ پینل نصب ہوجانے کے دو ہفتے گزرجانے کے باوجود مگر واپڈا حکام سے نیٹ میٹر حاصل نہیں ہوپارہا تھا۔ بالآخر کمپنی نے شرمندہ ہوکر مجھے صحافیانہ اثرورسوخ استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ مبینہ اثرورسوخ سے عمر تمام صحافت کی نذر کردینے کے باوجود آگہی تک میسر نہیں ہوپائی ہے۔ اسے استعمال میں لانا تو دور کی بات ہے۔ پریشانی کے عالم میں دو صحافتی برخورداروں سے رابطہ کیا اور میرے رابطے کے عین تیسرے دن نیٹ میٹرنصب ہوگیا۔ اس کی تنصیب نے مجھے قائل کردیا کہ یقیناََ یہ میٹر بہت کام کی شے ہوگی جس کی بے تحاشا طلب نے واپڈا کو سفارشوں پر عمل کرنے کو مجبور کردیا ہے۔ اوپر کی کمائی، کا الزام ہرگز ذہن میں نہیں آیا۔
نیٹ میٹرنگ پر شفٹ ہوجانے کے بعد کئی ماہ تک میں شاہ کے مصاحب کی طرح اِتراتا رہا۔ وہ مہینہ تو خاص طورپر بہت ہی اچھا لگتا جب ہمارے ہاں آئے بجلی کے بل میں واپڈا ہمارا قرض دار نظر آتا۔ واپڈا ہم سے قرض پر بجلی خریدنے کی عادی ہوگئی تو ایک سیانے نے یہ بتاکر دل توڑ دیا کہ نیٹ میٹرنگ کے تحت آئے بل میں جو رقم واپڈا کے ذمے دکھائی جاتی ہے آپ اسے نقدی کی صورت وصول نہیں کرسکتے۔ واپڈا کے ذمے واجب الادارقم میرے بچپن میں بنی ایک فلم سات لاکھ، کے ایک مکالمے کی طرح ہے جس میں سات لاکھ ر وپے نقدی کی صورت اپنے پاس ر کھنے والا اس رقم کو گن تو سکتا ہے مگر خرچ نہیں کرسکتا۔ مزا کرکرا ہوجانے کے باوجود دل کو یہ سمجھاتے ہوئے بہلایا کہ میں بھی ایک چھوٹاسا آئی پی پی ہوں جس کی پیداکردہ بجلی کی قیمت واپڈا کے گردشی قرضوں کا حصہ بن رہی ہے۔
گردشی قرض کے خمار میں 2024ء کی سردیاں آتے ہی اپنے ہاں نصب ایرکنڈیشنرز کمروں کو سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں سرد رکھنے والے انورٹر میں بدلوالیے۔ جنوری 2025ء کے اختتام پر اس کی وجہ سے جو بل ادا کرنا پڑا اس نے حیران کے علاوہ پریشان بھی کردیا۔ تھوڑی بھاگ دوڑ کے بعد علم یہ ہوا کہ واپڈا نے پیک آورز (Peak Hours)نام کی شے لاگو کررکھی ہے۔ دن کی روشنی میں سولرکے ذریعے پیدا کرنے والوں کی بجلی سے ان گھنٹوں میں واپڈا کی فراہم کردہ بجلی کے دام تقریباً دو سے تین گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ سرد موسم کے دوران سورج کی حدت بھی چند گھنٹوں سے زیادہ عرصہ تک برقرار نہیں رہتی۔ قصہ مختصر آپ موسم سرما میں واپڈا کے بنائے نظام سے گھریلو پیداوار کے مقابلے میں زیادہ بجلی حاصل کرتے ہیں اور وہ بھی پیک آورز، میں۔ میرے کمرے میں اس سے قبل جوہیٹر نصب تھا وہ ماحول کو انورٹر کے مقابلے میں خوشگوار حد تک گرم رکھتا تھا اور وہ زیادہ بجلی خرچ کرنے کا عادی بھی نہیں تھا۔ بونگی، مگر لگ چکی تھی۔ صبر کے دو گھونٹ پی کر ہورہے گا کچھ نہ کچھ والی بے نیازی اختیار کرلی۔
ابھی تک لکھ چکا تو خیال آیا کہ میرے چند بہت ہی قریب اور انتہائی پرخلوص دوست یہ تقاضا کرتے ہیں کہ جو کالم آپ کے لیے لکھتا ہوں وہ ذاتی ڈائری، کی طرح محسوس نہ ہوں۔ پاکستان کی سیاست ا ور عالمی امور کا دیرینہ شاہد ہوتے ہوئے مجھے اپنی تحریروں میں تھوڑی فراست، کا مظاہرہ کرتے ہوئے قارئین کو یہ سمجھانا چاہیے کہ حالاتِ حاضرہ وطن عزیز ہی نہیں بلکہ دنیا کو کس جانب لے جارہے ہیں۔ کوشش ہونی چاہیے کہ میرے مرجانے کے دو یا تین دہائیاں گزرجانے کے بعد بھی کچھ لوگ میرے کسی کالم کا حوالہ دے کر یہ کہہ سکیں کہ وہ جو دیکھ رہے ہیں اس کا اندازہ تو نصرت جاوید نامی صحافی نے 2026ء ہی میں لگالیا تھا(تالیاں)۔
پرخلوص دوستوں کے سمجھانے کی وجہ سے میں ذاتی تجربات کی بنیاد پر کالم لکھنے سے گریز کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہوں۔ کبھی کبھار اگرچہ یہ خیال آتا ہے کہ سرہانے رکھے غالب کے خطوط، جب بھی کھول کر ان میں سے جو بھی صفحہ سامنے آتا ہے وہاں سے پڑھنا شروع کرتا ہوں تو اکثر ایسے مقامات آجاتے ہیں جہاں ہاتھ سے کتاب کو بستر پر رکھ کر غالب کے کسی فقرے کی چستی یا گہرائی کو سراہنا پڑتا ہے۔ یوں کرتے ہوئے اس سوال نے بھی اکثر پریشان کیا کہ غالب، کو میری ستائش کا کیا فائدہ۔ وہ اپنے دور کی اشرافیہ سے تعلق رکھنے کے باوجود بدترین معاشی ہی نہیں بے تحاشا جذباتی مشکلات کا سامنا بھی کرتا رہا۔
1857ء کے نوحے لکھنے کے با وجود ہائے دلی، وائے دلی، بھاڑ میں گئی دلی، لکھنے کو مجبور ہوا۔ یہ بھی اعتراف کیا کہ موصوف موت سے نہیں بلکہ فقدانِ راحت، سے گھبراجاتے ہیں۔ غالب جیسا تخلیقی ذہن اگر فقدانِ راحت، سے گھبراکر دلی کی عظمت رفتہ بھول جانے کو مجبور ہوگیا تھا تو میں بے ہنر کس قابل ہوں؟ صحافت ہمارے ہاں ویسے بھی ضرورت سے زیادہ آزاد ہوگئی ہے۔ کبھی کبھاراس کی بہتات اور آزادی سے بلکہ یہ خوف محسوس ہوتا ہے کہ یہ بہتات ہمیں فکری ہیضے میں مبتلا نہ کردے۔
نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے تاہم جو لکھ رہا ہوں وہ اتنا بھی ذاتی نہیں ہے۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے واٹس ایپ اور ایکس کے ذریعے آنے والے پیغامات کا طومار مصر ہے کہ حکومتِ پاکستان اپنے گھروں پر نیٹ میٹرنگ نصب کرنے والے تمام افراد کو بلااستثنا مراعات یافتہ طبقات میں شمار کرتی ہے۔ مسلسل تحقیق کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اپنے گھروں پر سولر پینل لگواکر نیٹ میٹرنگ کا حصہ بننے والے صارفین بجلی کی قیمتوں کو غریب افراد، کے لیے ناقابل برداشت بنارہے ہیں۔ غریب، کے لیے سستی بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے لہٰذامنصوبہ یہ بنایا جارہا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کا نظام ختم کردیا جائے۔ اسے ختم کرنا اگر ممکن نہیں تو گھروں میں پیدا ہوئی بجلی کی ان دنوں جو قیمت واپڈا ادا کررہی ہے وہ نصف پر لے آئی جائے۔ ایسا ہوجانے کے بعد نیٹ میٹرنگ سے لوگ ازخود دور بھاگنا شروع ہوجائیں گے۔
مجھ سے نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے مسلسل فریادی رابطہ کرنے والوں کی بے پناہ اکثریت ہرگز مراعات یافتہ طبقات سے تعلق نہیں رکھتی۔ انھوں نے لوگوں سے قرض لے کر یا بیوی کا کوئی زیور بیچ کر اپنی مہینوں تک پھیلی بچت میں شامل کرکے سولر پینل لگوائے تھے۔ بے شمار کاشتکاروں نے قسمیں کھاتے ہوئے یہ انکشاف بھی کیا کہ اس تناظر میں انھوں نے اپنی زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے کئی جانور بیچ کر سولر سے چلائے ٹیوب ویل نصب کیے تھے۔
ان سب لوگوں کی تعداد کو ذہن میں رکھتے ہوئے بآسانی یہ دعویٰ کرسکتا ہوں کہ نیٹ میٹرنگ سے استفادہ کرنے والے صارفین کی 50فیصد تعداد مراعات یافتہ نہیں بلکہ سفید پوش گھرانوں سے تعلق رکھتی ہے۔ ان کے لیے اس سہولت کو ناقابل برداشت بنادیا گیا تو موجودہ حکومتی بندوبست کو بددعائوں کے سوا کچھ نصیب نہیں ہوگا۔
کالم ختم کرنے سے قبل اپنے پیٹ سے قمیض اٹھانے کی ضرورت بھی محسوس کررہا ہوں۔ پرخلوص دوستوں کے آباد کیے پندار کے صنم کدے، کو ویراں کرتے ہوئے اطلاع آپ کو یہ دینا ہے کہ جس روز میرے ہاں نیٹ میٹرنگ کا نظام چالو ہوگیا اور مجھے اس کو نصب کرنے والی کمپنی کو کامل ادائیگی کرنا پڑی تو ا سے ادا کرنے کے بعد میرے بینک اکائونٹ میں فقط 15ہزار روپے باقی رہ گئے تھے۔ مبینہ طورپر مراعات یافتہ، طبقے سے تعلق رکھنے والے اس قلم گھسیٹ کی حیثیت ہے تو فقط اتنی۔ سفید پوشی بچت کے امکانات کو محدود سے محدود تر کررہی ہے۔ مذکورہ امکانات کی عدم موجودگی کا ذکر مگر ہمارے ہاں ہو نہیں رہا۔ سب اچھا، دکھانا صحافی کا فرض بنادیا گیا ہے۔ اسے نبھانا دشوار سے دشوار تر ہورہا ہے۔