صفدر عباس ترمذی بھائی جب بھی لندن سے چھ ماہ بعد پاکستان آتے ہیں تو اکثر ان کے پاس میرے لیے نایاب پرانی کتابیں ہوتی ہیں جو وہ انٹرنیٹ پر دنیا بھر سے ڈھونڈ لیتے ہیں۔ ان سے بہتر بک سینس شاید ہی کسی میں دیکھی ہو۔ اعلی پرانی کتاب اور سستی بھی۔
خیر اس دفعہ انہوں نے اپنی پوٹلی سے ایک خوبصورت سمارٹ اسمانی رنگ کی جیکٹ نکال کر مجھے پیش کی اور فرمایا یہ کئی برس سے میرے پاس رکھی تھی۔ شاید آپ کی قسمت میں تھی۔
صفدر بھائی میں ویسے تو کئی خوبیاں ہیں لیکن ان کی بڑی خوبی ان کا داستان گو ہونا ہے۔ وہ عام سی بات کو بھی اس ڈرامائی انداز میں سنائیں گے کہ آپ سب کچھ بھول کر ان کی باتیں سنتے رہیں۔
ایسے انداز میں وہ کہانی سناتے بلکہ اس پر کچھ ایکٹنگ کا تڑکہ لگاتے ہیں کہ آپ محو ہو کر سنتے رہیں۔ شاید کسی جنم میں وہ کسی قدیم سرائے میں قصہ گو ہوں گے جو رات کو تھکے ہارے مسافروں کو آگ کے الائو کے گرد قصے سناتے ہوں گے۔
کہنے لگے اس جیکٹ کا دلچسپ قصہ ہے۔ ویسے تو ان ہر قصہ ہی دلچسپ ہوتا ہے نہ بھی ہو تو دلچسپ بنا لیتے ہیں۔
کہنے لگے برسوں پہلے وہ ایک ہمارے مشترکہ دوست کے ساتھ لندن میں کسی ایسی جگہ موجود تھے جہاں مشینیں ہوتی ہیں جن کے ساتھ آپ جوا کھیل سکتے ہیں۔ وہ دوست اب تک ساڑھے چار سو پونڈ جیت چکا تھا۔ صفدر بھائی اسے کہہ رہے تھے چل اب نکل چلیں کافی جیت لیا۔
دوست ضدی تھا بولا اب تو مزہ آرہا ہے۔ صفدر بھائی سمجھانے لگے کہ مزے لیتے لیتے وہ سب پونڈز بھی ہار بیٹھو گے۔
دوست بولا یہی تو اس کھیل کا تھرل ہے جو لوگوں کو یہاں لے آتا ہے۔
اتنی دیر میں ایک بندہ صفدر بھائی کے پاس آیا اور بڑے ٹوٹے لہجے میں کہا آپ زرا ادھر سائیڈ پر میری بات سنیں گے۔ مجھے آپ کی مدد درکار ہے۔
کسی کو مشکل میں پا کر یا کسی کا دکھ سن کر صفدر بھائی کے اندر کی ممتا جاگ اٹھتی ہے۔ عام لوگوں میں اگر ایک مامتا ہوتی ہے تو ان کے اندر بیک وقت دس ممتا چھپی ہوئی ہیں۔ بس آپ ان کے اندر کی ممتا کو جگانے کا فن جانتے ہوں۔
وہ بندہ بولا میں یہاں اپنا سب کچھ ہار چکا ہوں۔ اس وقت حالت بہت خراب ہے۔ آپ مجھے کچھ پونڈز دے سکتے ہیں؟
اس موقع پر لوگ عموماََ مدد کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ جواری ہے۔ جوا کھیل رہا ہے مزید ہارے گا۔
صفدر بھائی کے چہرے پر تذبذب دیکھ کر فوراََ بولا میں اٹلی میں جیکٹس کا کاروبار کرتا ہوں۔ ساتھ ہی اس نے بیگ سے جیکٹس نکالیں اور دکھائیں۔ صفدر بھائی ویسے ہی فیصلہ کر چکے تھے کہ اس جواری کی مدد کرنی ہے۔ اس نے دو جیٹکس پکڑا دیں اور صفدر بھائی نے پونڈز نکال کر اسے پکڑا دیے اور اب برسوں بعد، میں وہی خوبصورت نیلے رنگ کی میڈ ان اٹلی جیکٹ پکڑے ان کی کہانی سن رہا تھا۔
میں نے کہا صفدر بھائی ہوسکتا ہے اسے پورے ہال میں آپ ہی شکل سے ایسے لگے رہے ہوں جو اس اٹالین سے یہ جیکٹس خرید لے گا یا مدد کرے گا۔
بولے بس کیا کریں بعض لوگوں کے ماتھے پر لکھا ہوتا ہے اور ہر کوئی ادھر ہی چلا آتا ہے۔
میں نے کہا ممکن ہے یہ اس کا جیکٹس بیچنے کا کاروبار ہو۔ یہ اس کی مارکیٹنگ کی تیکنک ہو۔ وہاں وہ اس گیمبلنگ شاپ پر سارا دن ہر بندے کو یہی دکھی کہانی سنا کر یہی جیکٹیس بیچتا ہو؟ ممکن ہے شاپ والوں نے ہی وہ بندہ خود ہائر کر رکھا ہو اور سائید بزنس کے طور پر سارا دن یہی دردناک کہانیاں درجن بھر جیکٹس بیچ لیتا ہو؟
صفدر بھائی ہنس کر بولے مجھے تو آپ جانتے ہی ہیں۔ اس کا شکریہ کہ چلیں دو جیکٹس دے گیا ورنہ میں تو اس ٹوٹے بکھرے اور افسردہ جواری کی دردناک کہانی سن کر اپنی جیب میں پہلے ہی ہاتھ ڈال چکا تھا۔