Monday, 02 February 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Muhammad Irfan Nadeem
  4. Ilm o Fikr Aur Riwayat Ka Ameen

Ilm o Fikr Aur Riwayat Ka Ameen

ہر ملک اور ہر سماج کے علمی منظر نامے پر کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو کسی تمہید، تعارف اور کسی رسمی تعریف کی محتاج نہیں ہوتیں۔ ان کی پہچان ان کے القابات نہیں بلکہ ان کے کام ہوتے ہیں۔ ان کی آواز دھیمی مگر اثر گہرا ہوتا ہے۔ وہ منظر پر کم اور پس منظر میں زیادہ رہ کر علم و امن کی شمعیں روشن کرتے ہیں۔ ان کی خدمات کسی اشتہار کی محتاج نہیں ہوتیں بلکہ وقت خود ان کا تعارف بن جاتا ہے۔ وہ شور کے زمانے میں خاموشی سے علمی وفکری روایت کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ان کا کام وقتی داد کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے ہوتا ہے۔ ایسے لوگ ادارے نہیں بناتے بلکہ ادارے خود ان کے گرد تشکیل پاتے ہیں۔ علمی دیانت، فکری سنجیدگی اور اخلاقی وقار ان کی شخصیت کے بنیادی اوصاف ہوتے ہیں۔ یہ لوگ تاریخ کے صفحوں پر نہیں بلکہ تاریخ کے ضمیر میں جگہ پاتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد شہباز منج بھی انہی خاموش مگر گہرے اثرات رکھنے والی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کسی رسمی تعارف یا تعریفی جملوں کے محتاج نہیں بلکہ ان کی اصل شناخت ان کا علمی سفر، تدریسی خدمات، تحقیقی کاوشیں اور فکری اثرات ہیں جو بذات خود ان کا تعارف ہیں۔ ڈاکٹرصاحب صرف ایک استاد اور محقق نہیں بلکہ ایک فکری روایت اور تاریخی تسلسل کے وارث بھی ہیں۔ ان کی شخصیت کو محض ایک فرد کے طور پر دیکھنا محدود نقطہ نظر ہوگا کیونکہ ان کی زندگی اور خدمات متعدد جہات پر محیط ہیں اور ان کا اثر طالب علموں، محققین اور علمی حلقوں میں واضح محسوس کیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کا تعلق پنجاب کے منج راجپوت خاندان سے ہے جس کی تاریخ محض جاگیردارانہ حیثیت یا سماجی مقام تک محدود نہیں بلکہ یہ خاندان صدیوں سے عسکری، سیاسی اور سامراج مخالف جدوجہد میں اپنی پہچان رکھتا آیا ہے۔ ان کے پردادا نواب زادہ رحمت علی خان منج انیسویں صدی کے ان مزاحمتی کرداروں میں شامل تھے جنہوں نے 1857 کی جنگِ آزادی میں براہِ راست حصہ لیا اور بعد ازاں عرب دنیا اور عثمانی خلافت کے ساتھ روابط کے ذریعے برطانوی سامراج کے خلاف مزاحمت جاری رکھی۔ یہ تاریخی پس منظر صرف ایک داستان نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی مزاحمتی دائرہ کار کی علامت۔

نواب زادہ رحمت علی خان کی ولادت سلطنتِ عثمانیہ کے منیسا محل میں 1842ء میں ہوئی اور ان کی تربیت نہ صرف عسکری بلکہ علمی و ادبی انداز میں ہوئی۔ انہوں نے بمبئی یونیورسٹی سے بھی تعلیم حاصل کی اور رائل ملٹری کالج لندن سے بھی وابستگی رکھی۔ وہ عربی، فارسی، ترکی، انگریزی اور پنجابی زبانوں پر مہارت رکھتے تھے اور ان کی تحریریں، خطوط اور دستاویزات آج بھی برصغیر میں ایک تاریخی شاہد کے طور پر موجود ہیں۔ اسی تاریخی اور فکری تسلسل نے ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کو ایک منفرد علمی شناخت اور پہچان عطا کی۔ قیام پاکستان کے بعد ان کے خاندان نے ہجرت، معاشی مشکلات اور مشکل سماجی حالات کے باوجود تعلیم و تعلم کو ایک قیمتی سرمایہ کے طور پر برقرار رکھا۔ اوراس سرمایے نے ڈاکٹر صاحب کو ایک وسیع علمی افق فراہم کیا جہاں علم، تحقیق، تدریس اور ادارہ سازی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔

ڈاکٹر صاحب کا تعلیمی سفر متنوع اور شاندار ہے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم اے عربی، ایم اے اسلامیات، پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کی سطح تک تعلیم حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں ملک کے معتبر علمی و فکری شیوخ شامل تھے جنہوں نے ان کے تحقیقی مزاج، تدریسی صلاحیت اور علمی استقامت پر گہرا اثر ڈالا۔ اس دوران انہوں نے نہ صرف نصابی بلکہ ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی نمایاں حصہ لیا جو ان کے متوازن علمی اور عملی کردار کی بنیاد بنی۔

ڈاکٹر صاحب کا تدریسی و تحقیقی سفر تقریباً تین دہائیوں پر محیط ہے۔ انہوں نے سرکاری کالجز، یونیورسٹی آف سرگودھا اور یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں نہ صرف تدریس کی بلکہ تحقیق، نصاب سازی اور ادارہ جاتی ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ سرگودھا یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی پہلی کلاس سے لے کر سینئر کلاسز تک طلبہ کی تربیت اور تحقیقی مقالہ جات کی نگرانی ان کی ذمہ داری رہی جس کے نتیجے میں سیکڑوں طلبہ و محققین نے ان سے علمی و فکری تربیت حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں ان کا کردار تدریسی اور تحقیقی حدود سے آگے بڑھ کر ادارہ جاتی نوعیت کا رہا ہے۔ شعبہ علومِ اسلامیہ کی بنیاد رکھنا، بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز کا آغاز اور مختلف قومی و بین الاقوامی سیمینارز و کانفرنسز کا انعقاد یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ علم کو صرف کلاس روم تک محدود نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک ادارہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

مختلف بورڈز، کمیٹیوں اور اعلیٰ سطح ادارہ جاتی عہدوں میں ان کی شمولیت علمی اعتماد، پیشہ ورانہ دیانت اور ادارہ جاتی بصیرت کی علامت ہے۔ تحقیق کے میدان میں ڈاکٹر صاحب کا کام استشراق، بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی، مذہبی انتہاپسندی کے فکری اسباب اور اسلامی فکر و جدید مغربی تہذیب کے باہمی تعامل پر محیط ہے۔ ان کی تحریروں اور تحقیقی مقالات کو نہ صرف ملک میں بلکہ امریکہ، یورپ اور دیگر ممالک کے علمی حلقوں میں بھی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ اب تک درجنوں کتب اور سو سے زائد تحقیقی مقالات ان کے علمی سفر کی شہادت ہیں، جبکہ متعدد دیگر کتب اور مقالہ جات زیر تصنیف ہیں۔

ادارہ سازی کے حوالے سے بھی ڈاکٹر صاحب کا کردار نمایاں ہے۔ القمر اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور اس کے تحت شائع ہونے والا تحقیقی مجلہ القمر ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں تحقیق اور علم کو عام اور مؤثر انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی امن اور ہم آہنگی کے لیے قائم کردہ تنظیموں میں ان کی شمولیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ان کے نزدیک علم صرف نظری بحث کا نام نہیں بلکہ عملی دنیا سے جڑا ایک اخلاقی فریضہ بھی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی علمی شناخت کسی خودنمائی، سیاسی تشہیر یا مبالغہ آرائی کے ذریعے قائم نہیں ہوئی بلکہ یہ ان کی خدمات کا اعتراف ہے جو سماج نے انہیں لوٹایاہے۔ ان کا مزاج اعتدال، توازن اور فکری دیانت پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں اور خطابات میں نہ شدت پائی جاتی ہے اور نہ سطحی مصالحت، بلکہ ایک سنجیدہ، متوازن اور تحقیق پر مبنی مکالمہ نظر آتا ہے، جو اختلاف کو بھی علمی دائرے میں رکھتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کی خدمات محض موجودہ عہد کی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی علمی تربیت میں بھی کردار ادا کریں گی۔ ان کی تحریروں، تقاریر اور تحقیقی مقالہ جات نے نہ صرف طلبہ و محققین کی فکری تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا ہے بلکہ سماجی اور مذہبی مکالمے میں بھی اثر چھوڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا علمی مقام صرف قومی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم شدہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی خدمات اور کردار اس بات کی علامت ہیں کہ علم اور تحقیق صرف ذاتی مقام یا شہرت کے لیے نہیں بلکہ معاشرتی خدمت، فکری تربیت اور عالمی مکالمے میں اثر پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ان کی شخصیت، خدمات اور اثرات نہ صرف آج بلکہ آنے والے وقت میں بھی علمی دنیا اور سماجی حلقوں میں روشنی پھیلائیں گے کیونکہ وہ خود اور ان کا خاندان ایک ایسی روایت کا امین ہے جس نے صدیوں سے سماج کی خدمت اپنی پہچان بنا رکھی ہے۔