Monday, 02 February 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Najam Wali Khan
  4. Generation Z Aur Kuch Mughalte

Generation Z Aur Kuch Mughalte

کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ 1997ء سے 2012ء کے درمیان پیدا ہونے والی پوری جنریشن زی ہی ماں، باپ سمیت بزرگوں کو کچرا سمجھتی ہے اور خود کو عقل کل، جیسے ایک فنکارہ کے بیٹے کا پیش کردہ نظریہ جو "بُومرز" (یعنی 1964ء سے 1946ء کے درمیان پیدا ہونے والوں) کو مسترد کرتا ہے، ان کی خدمات کی نفی کرتا ہے مگر کیا یہ دلچسپ نہیں کہ وہ جس انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کی بنیاد پر خود کو جینئس سمجھتا ہے وہ بومرز کی ہی ایجاد کی ہوئی چیزیں ہیں۔

خود کو ارسطو، افلاطون، بقراط اور سقراط سے بھی عقل مند سمجھنے والی اس "جنریشن زی" سے آپ انٹرنیٹ اور کمپیوٹر لے لیں، ان کی حیثیت اس الو سے زیادہ نہیں ہوگی جسے مئی، جون کی دھوپ میں باہر بٹھا دیا گیا ہو۔ اس جنریشن کے امتحانات میں کیلکولیٹر ہی نہیں بلکہ سمارٹ فونز اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال کی اجازت دی جا رہی ہے مگر اس کے باوجود ان کی اکثریت کاپی پیسٹ کرنے میں بھی نکمی، نکھٹو اور نااہل ہے جبکہ اس سے پہلے ریاضی اور فزکس کے مسائل میں بھی کیلکولیٹر تک کے استعمال کی اجازت نہیں ہوتی تھی، مشینوں کی بجائے اپنا دماغ استعمال کرنا پڑتا تھا۔

جنریشن زی کے حوالے سے کچھ مغالطے بہت اہم ہیں جن میں سب سے پہلا یہ ہے کہ یہ بہت سمارٹ ہیں کیونکہ یہ سمارٹ فونز کا استعمال جانتے ہیں مگر میرا مدعا یہ ہے کہ جدید مشینوں کے استعمال کے جاننے آپ کی فطری ذہانت اور قدرتی صلاحیت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ میٹرک کی ڈگری والے کے کام کے آزمائے بغیر یہ سمجھیں کہ وہ ڈگری کے بغیر والے سے زیادہ بہتر ہے۔ آج کے دور میں ڈگری محض آپ کے باپ کے تعلیمی اداروں کو دی ہوئی فیسوں کی رسید کے علاوہ کچھ نہیں ہے کیونکہ آپ کی ڈگریوں کو دیکھنے کے بعد تمام ادارے آپ کا ٹیسٹ لیتے ہیں کہ آپ نے پڑھا کیا ہے اور سیکھا کیا ہے۔

مجھے اس وقت بہت ہنسی آتی ہے جب میں سولہ، سولہ اور بیس، بیس سال کی ڈگری والوں کواحمقا نہ باتیں کرتے ہوئے دیکھتا ہوں بلکہ ایک جدید ترین تحقیق کے مطابق ان ڈگریوں والے بیشتر اپنے زمانے اور حالات سے ناواقف ہوتے ہیں۔ بہت ساروں کی ڈگریاں ایک پنجرے کی طرح ہوتی ہیں جو انہیں اس میں بند کرکے رکھتی ہیں۔ ابھی حال ہی میں ایک خاتون پروفیسر نے ایک میڈیکل کالج کے داخلے کے لئے آنے والوں سے جنرل نالج اور انٹرسٹس کے بارے میں پوچھے گئے سوالوں کے جواب شئیر کئے ہیں جو بتاتے ہیں کہ رٹوطوطے کس طرح حقیقی علم اورتجربات سے دور ہیں۔

بہرحال جنریشن زی کو ڈسکس کرتے ہوئے مجھے اپنے تعلیمی نظام کی خامیوں کو ہرگز کالم کا موضوع نہیں بنانا جو وکالت، صحافت اور طب کی ڈگریاں تو دے رہا ہے مگر انہیں سماجیات اور اخلاقیات کی الف ب تک نہیں سکھا رہا۔ ہماری جنریشن زی جس دور میں پروان چڑھی ہے وہ کمرشل ازم کا دور کہلاتاہے۔ میں نے ایک وزیر کو کچھ سال پہلے یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہمیں تاریخ اور سماج سمیت دیگر سوشل سائنسز پڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ ہمیں صرف اور صرف بچوں کو پروفیشنل ڈپلومے کروانے چاہئیں۔

یہ سوچ بہت سارے گھرانوں کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل کو تاریخ اور سماج کا کوئی شعور نہیں ہے اور میری بنیادی فلاسفی یہی ہے کہ آپ اس وقت تک ایک اچھے جج، جرنیل، بیوروکریٹ یا تاجر نہیں ہوسکتے جب تک آپ ایک اچھے انسان نہ ہوں۔ میں نے بہت سارے برے انسانوں کو تیز و طرار کھلاڑی بنتے ہوئے دیکھا اور شاطرسیاستدان بھی مگر وہ اچھے انسان نہیں تھے لہٰذا وہ گند کر گئے بلکہ سب کچھ گندا کر گئے۔ میں باربار کہتا ہوں کہ ہمیں کسی بھی قسم کی سائنسی اور پروفیشنل ایجوکیشن دینے سے پہلے پرائمری اور میٹرک تک اخلاقیات کی تعلیم دینی چاہئے تاکہ ہمارے نوجوانوں کو بزرگوں کا ادب، قانون کا احترام آسکے۔ کچھ عاقبت نااندیشوں نے انہیں گمراہ کر دیا ہے کہ گستاخی ہی جرأت ہے اور گالی ہی بہادری ہے۔

بہرحال، بات ہو رہی ہے ایک فنکارہ کے کاٹھے انگریز بیٹے کی جس کے غلط سلط انگریزی میں لکھے ہوئے مضمون کو آسمانی صحیفہ بنا لیا گیا مگر مجھے کہنا ہے کہ ایکس، ٹک ٹاک یا انسٹا جیسے پلیٹ فارموں پر ہی جنریشن زی موجود نہیں بلکہ اسی عرصے میں پیدا ہونے والے دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت کے ساتھ نوجوان ایسے ہیں جو اپنے ماں باپ ہی نہیں بلکہ باپ دادا تک کا احترام کرتے ہیں۔

میں نے اپنے اردگرد اسی فیصد تک گھرانوں میں باپ، دادا کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنے گھروں پر حکمرانی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میرے ارد گرد ٹوئیٹر اور فیس بک پر گالم گلوچ کرتے ہوئے نوجوانوں سے کہیں زیادہ بڑی تعداد میں وہ جنریشن زی موجود ہے جو اپنے ماں باپ کو مسترد نہیں کرتی بلکہ ان سے محبت کرتی ہے، ان کی رائے، ان کی خوشی کو مقدم سمجھتی ہے۔ ان میں سے بہت سارے ایسے ہیں جو پٹرول پمپوں، کھانے پینے کی دکانوں، فوڈ پانڈوں اور بائیکیوں جیسی نوکریاں کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بڑوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں، ان کا ہاتھ بٹانا چاہتے ہیں۔

مجھے کہنے میں عار نہیں کہ جس قسم کی جنریشن زی فنکارہ کا بیٹا دکھا رہا ہے اس کی بھاری اکثریت وہ ہے جو منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوتی ہے، وہ اچھی اچھی یونیورسٹیوں میں جاتی ہے، اس کے پاس سمارٹ فونز جیسے بہت سارے آلات ہوتے ہیں اور موٹرسائیکلیں، گاڑیاں بھی اور وہی سب سے بڑے ناشکرے ہوتے ہیں، وہی اپنے والدین سے کہتے ہیں کہ تم نے ہمیں دیا ہی کیا ہے اور وہی اپنے وطن کو چھوڑ کر بھاگ جانے کی باتیں کرتے ہیں چاہے اس کے لئے انہیں ڈنکی ہی کیوں نہ لگانی پڑے اور چاہے اس چکر میں انہیں کتے کی موت ہی کیوں نہ مرنا پڑے مگر وہ اپنے گھر اور اپنے ملک میں شیر کی زندگی بھی پسند نہیں کرتے۔

اس ممی ڈیڈی گمراہ نسل نے بومرز کے لے کر دئیے ہوئے سمارٹ فونوں کی وجہ سے تباہی مچا رکھی ہے، برائلر مرغیوں کی طرح پل کے جوان ہونے والے ان ڈھیلے ڈھالے ناشگرگزاروں نے ہر طرف ناشکری اور افسردگی پھیلا رکھی ہے کیونکہ چیٹ جی پی ٹی کی ریسرچ کے مطابق ہی ان میں سے آدھے سے زیادہ فرسٹریشن اور ڈپریشن کے مریض ہیں جو ان سے پہلے والی نسل کے مقابلے میں دوگنی تعداد ہے۔

مجھے کہنا ہے کہ یہ جنریشن زی اپنا موازنہ یورپ والی جنریشن زی سے نہ کرے کہ انہیں تو اٹھارہ برس کا ہوتے ہی پیٹھ پر لات مار کے باہر نکال دیا جاتا ہے کہ جائو اپنا بوجھ خود اٹھائو مگر یہ اٹھارہ تو کیا، بیس، پچیس، تیس اور پینتیس، پینتیس سال تک خرچے کے لئے اپنے باپوں کے محتاج رہتے ہیں چاہے ان کی شادیاں ہی کیوں نہ ہوجائیں۔ انہیں دوسروں کا منہ لال دیکھ کے اپنا منہ چانٹے مار کے لال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے ایسی ناشکرگزار جنریشن زی کی سوشل میڈیا پر نمائندگی کچھ زیادہ ہی ہوگئی ہے۔