بلوچستان میں 30 اور 31 جنوری کے واقعات کے بعد قومی اسمبلی میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کی دھواں دار تقاریر پر مختلف آرا سامنے آرہی ہیں۔ ملکی آبادی اور وفاقی محکموں و اداروں میں بڑی نمائندگی رکھنے والے صوبہ پنجاب کے اہل دانش سیاسی و سماجی کارکن اور صحافیوں کی غالب اکثریت نے نہ تو بلوچستان میں رونما ہوئے حالیہ واقعات کو اہمیت دی نہ ہی خواجہ آصف اور محمود خان اچکزئی کی تقاریر پر لب کشائی کی۔
دوتین صحافیوں اور اتنے ہی سیاسی کارکنوں نے اس معاملے پر ضرور بساط سے بڑھ کر بات کی لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ ہاں پنجاب سے تعلق رکھنے والے چند افراد نے 31 جنوری کے واقعات (مسلح جنگجووں کے حملوں اور سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی) پر بات کرتے ہوئے بلوچ عسکریت پسندوں کے ہاتھوں غیر مقامی محنت کشوں کے قتلوں کے واقعات کو حالیہ صورتحال سے ملاکر دیکھا اور رائے دی۔
بلوچ مسئلہ پر بات کرنے والے ہوں یا غیر مقامی محنت کشوں کے قتل کے واقعات پر ہردو کی تعداد انگلیوں پر شمار کی جاسکتی ہے۔ کیا 12 کروڑ سے زائد آبادی والا صوبہ جو اپنی آبادی کے حجم کے بل بوتے پر وفاق کے محکموں اور اداروں کے علاوہ قومی اسمبلی میں بھی غالب نمائندگی رکھتا ہے کے باسیوں نے خود کو بلوچستان کی صورتحال سے شعوری طور پر لاتعلق کرلیا ہے یا ان کے خیال میں یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں چند درجن یا چند سو مسلح افراد ہیں ان سے ریاست حساب کتاب کر لے گی؟
جان کی امان رہے تو عرض کروں کہ ریاست کے حساب کتاب نے ہمیں یعنی اہلِ پاکستان کو آج جہاں لاکھڑا کیا ہے یہ نہ تو کوئی قابل فخر مقام ہے نہ قابل ذکر ہم یہاں تک کیوں پہنچے؟
اس کا سادہ سا جواب ہے "ہمارا اجتماعی ہانکا ہوا اور ہانکنے والے ہی ہمیں یہاں تک لے آئے" آپ کے ذہنوں میں یقیناً یہ سوال کلبلا رہا ہوگا کہ کیا ریاست تنہا ذمہ دار ہے یا اس کے ساجھے دار طبقات سیاسی و مذہبی جماعتیں بھی؟
مجھ طالبعلم کا جواب یہ ہے کہ سیکورٹی اسٹیٹ کے طبقاتی نظام کے کوچے میں دھمال ڈالنے والا ہر طبقہ اور جماعت بلا امتیاز برابر کے ذمہ دار ہیں یہ اور بات ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اپنی پسند کی جماعت اور شخصیت کو کلین چٹ دینے کی عادتِ بد میں گردن تک دھنسا ہوا ہے۔
کبھی جو ان سے ان کے ممدوح وہ شخصیت ہو طبقہ یا جماعت بارے سوال پوچھا جائے تو جواب ملتا ہے اور کیا کرتے؟
حالانکہ انہیں جواباً سوال کرنے کی بجائے یہ بتانا چاہئے کہ ان کے ممدوح نے طبقاتی نظام کے کوچے میں سے عوام کو عوامی جمہوریت کی گلی میں لیجانے کیلئے کیا کیا اور یہ کہ کیا وجہ بنی کہ طبقاتی نظام کو جمہوری نظام کے طور پر پیش کیا جاتا آرہا ہے؟
ہماری دانست میں بالائی سطور میں درج سوالات کا جواب ہمیں معروضی حالات کی سنگینی اجتماعی بے سمتی و بے حسی اور ان مسائل کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے جو ہمارے چار اور رقصاں ہیں۔
یہاں یہ بھی عرض کردوں کے دستیاب سیاسی جماعتوں نے رعایا کو عوام بنانے کیلئے کچھ نہیں کیا میں نے مذہبی جماعتوں کا نام اس لئے نہیں لیا کہ مذہبی جماعتیں تو عقیدت و اطاعت پسندوں کے دم سے چلتی پلتی ہیں وہ اگر رعایا کو عوام بنانے کی سوچ اپنا لیں یا عمل کریں تو خود ان کا عقیدت و اطاعت پہ مبنی تام جھام خطرے میں پڑتا ہے۔
عقیدت و اطاعت ایک ایسا منافع بخش کاروبار ہے جس سے سلسلہ امارت پر فائز خاندانوں کی نسلیں سنور جاتی ہیں۔ گو اسی طرح کی بیماری سیاسی جماعتوں میں بھی موجود ہے لیکن ایک سہولت ہے وہ یہ کہ ہم اور آپ گردن زدنی کے فتوے کے ڈر کے بغیر ان پر تنقید کرلیتے ہیں جبکہ عقیدت و اطاعت کے دھندوں میں تو سیدھا ایمان سے محرومی کا خطرہ منڈلاتا رہتا ہے۔
آپ حیران ہو رہے ہوں کہ کالم اپنی ابتدائی سطور کے برعکس کیوں آگے بڑھ رہا ہے، حیران نہ ہوں میں یہی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آئیں ہم اس پر غور کرتے ہیں کہ آج کے صوبہ پنجاب میں بسنے والے پنجابی ہوں کہ سرائیکی دونوں پچھلی صدی کے اختتام تک کھلے دل سے پشتونوں بلوچوں اور سندھیوں کے سیاسی شعور کو بہتر ہی نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس کی مثال بھی دیا کرتے تھے۔ رواں صدی کے آغاز کے ساتھ یا بعد کے ماہ و سال میں دنیا میں تشریف لائے اہل پاکستان کے لئے شاید نئی بات ہو لیکن یہ حقیقت ہے جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے خلاف بنے سیاسی اتحاد ایم آر ڈی کی پاکستان بچاو تحریک میں سب سے زیادہ گرفتاریاں صوبہ سندھ کے مختلف الخیال سیاسی کارکنوں کی ہوئیں۔ دوسرے نمبر پر پنجاب اور تیسرے نمبر پر صوبہ سرحد (آج کا خیبرپختونخوا) رہا اور بلوچستان چوتھے نمبر پر۔
بلوچ عوام میں بھٹو دور کے فوجی آپریشن اور عراقی اسلحہ کیس والے معاملات پر ناراضگی تھی اس کے باوجود میر غوث بخش بزنجو مرحوم کی پاکستان نیشنل پارٹی کے بلوچ کارکنوں نے حق ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
پچھلی صدی کی آٹھویں دہائی میں پنجاب میں فرقہ وارانہ منافرت کا دور دورہ ہوا اُس وقت کے صوبہ سرحد میں افغان جہاد کی کاشت ریاست کی نگرانی میں کی گئی افغان جہاد سے دوسرے صوبے بھی متاثر ہوئے لیکن جس طرح صوبہ سرحد کی دیواروں پر جہاد کیلئے بھرتی کے اشتہارات لکھے ہوتے تھے۔ تب پنجاب کی دیواروں پر چند فرقہ ورانہ نعروں کے علاوہ مردانہ کمزوری دور کرنے والے حکیموں کے اشتہارات لکھے ہوتے تھے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جہادی اشتہارات اور جہاد فرقہ واریت اور مردانہ کمزوری کے اشتہارات و کاروبار نے سیاسی عمل کو اسی طرح نقصان پہنچایا جس طرح سیاسی کارکنوں کی جگہ لینے والے نالی موری کے ٹھیکیداروں نے سیاسی عمل کا چہرہ داغ دار کیا۔
ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان سے جمہوری سیاسی شعور کے خاتمے کیلئے ریاست نے دامے درمے اور سخنے کردار ادا کیا اسی دوران مزاحمتی شعور رکھنے اور اجاگر کرنے والوں کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ ہماری ملکی و سیاسی تاریخ کا حصہ ہے۔
اس لئے آج اگر ہم اپنے چار اور ناچتی بے حسی اور عدم دلچسپی کا تجزیہ کرنے کے خواہش مند ہیں تو ہمیں جولائی 1977 کے بعد کی ملکی و سیاسی تاریخ کے اوراق الٹنا ہوں گے تب ہم یہ جان پائیں گے کہ ریاست ہمارا اجتماعی ہانکا کرنے میں کیونکر کامیاب ہوئی۔
یہ سمجھے بغیر ہم یہ نہیں جان پائیں گے کہ آج بلوچستان جس آتش فشاں کے دہانے پر کھڑا ہے وہ یہاں تک پہنچا کیسے؟
حدِ ادب کے احساس کے باوجود مجھے یہ عرض کرنے دیجئے کہ بلوچستان کے حالیہ واقعات کے بعد قومی اسمبلی میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کی تقاریر بے حسی اور کھٹور پن سے عبارت تھیں ہر دو رہنماوں کے ہم خیالوں کے لئے ممکن ہے۔ اس میں دلپشوری کا سامان ہو مگر سیاسیات تاریخ اور صحافت کے مجھ ادنیٰ طالبعلم کو دونوں رہنماوں کی تقاریر پر افسوس ہی ہوا۔
میری دانست میں دونوں نے بلوچستان کے مسئلہ کو زمینی حقائق کی روشنی میں ایڈریس کرنے سے گریز اس لئے کیا کہ پورا سچ بولتے تو بہت ساری کجیوں کوتاہئیوں اور جرائم کا اعتراف کرنا پڑتا۔
حرف آخر یہ ہے کہ پاکستانی فیڈریشن کی اقوام کے ان طبقات یا حصوں کو جو معروضی حالات سے لاتعلقی اختیار کیئے ہوئے ہیں اپنی روش بدلنا ہوگی ہمیں اپنے عصری شعور (اگر ہے تو) کی بنیاد پر سوالات اٹھانا ہوں یہ سوالات سیاسی جماعتوں اور ریاست دونوں کے سامنے اٹھانا ازبس ضروری ہے۔
کسی قسم کی عدم دلچسپی پہلو تہی اور چشم پوشی کا خمیازہ ہماری آئندہ نسلوں کو بھگتنا پڑے گا مسائل کا سورج صرف بلوچستان میں سوا نیزے پر نہیں ہمارے چار اور بھی سوا نیزے پر ہے۔
سو پیارے قارین! ہم یہی لکھ اور عرض کرسکتے ہیں یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ کم از کم میں ایک طالبعلم کے طور پر تاریخ کے کٹہرے میں مجرم کی طرح سر نیواڑے کھڑا نہیں ہونا چاہتا۔
ہم نیک و بد حضور کو بتلائے دیتے ہیں۔۔