Friday, 25 September 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Farhat Abbas Shah
  4. Jahaz Se Jamood Tak

Jahaz Se Jamood Tak

جب بھی پاکستان سے خارجی محاذوں کی مدد لی گئی ہے، اسے داخلی سطح پر الجھا کر رکھا گیا ہے۔ میں نے اپنے بچپن سے لے کر آج تک پاکستان کو سیاسی جماعتوں کے درمیان، سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمینٹ کے درمیان اور کبھی ریاستی اداروں کے باہمی تعلقات کے تناظر میں ایک مسلسل کشمکش کی حالت میں دیکھا ہے۔ مجھے ہمیشہ یہ محسوس ہوتا رہا ہے کہ یہ محض اتفاقات کا سلسلہ نہیں بلکہ کوئی ایسا پیچیدہ انتظامی و سیاسی مسئلہ ضرور ہے جس کی طرف سنجیدگی سے دیکھنے کی اجازت ہی نہیں دی گئی۔ آج صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ یہ سمجھنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان کی حکمرانی کے تانے بانے صرف داخلی راہداریوں تک محدود ہیں۔ اس لیے ہر مسئلے کا ذمہ دار صرف فوج یا صرف سیاست دانوں کو قرار دینے والا روایتی فیشن بھی اب اپنی معنویت کھوتا جا رہا ہے۔

اسٹیبلشمینٹ کو سیاسی جماعتوں سے الگ نوعیت کے چیلنجز درپیش رہے ہیں اور سیاسی جماعتوں کو بھی ریاستی اداروں کے ساتھ اپنے تعلقات میں مسلسل آزمائشوں کا سامنا رہا ہے۔ لیکن لمحۂ موجود میں سیاسی جماعتوں، ریاستی اداروں، معیشت اور انتظامی ڈھانچے کے درمیان جو پیچیدگی پیدا ہوچکی ہے، اسے کسی ایک فریق کے کھاتے میں ڈال دینا مسئلے کو سمجھنے کے بجائے اس سے فرار اختیار کرنا ہے۔ پاکستان کا اصل سوال شاید یہی ہے کہ ریاستی طاقت، سیاسی اختیار، معاشی آزادی اور انتظامی کارکردگی ایک دوسرے سے کس طرح جڑی ہوئی ہیں۔

پہلے بہت کم لوگوں کو معلوم ہوتا تھا کہ سیاسی جماعتیں صرف ووٹ سے اقتدار میں نہیں آتیں۔ آج یہ بات بچے بچے کی زبان پر ہے کہ اقتدار کی تشکیل میں صرف عوامی مینڈیٹ ہی واحد عامل نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کے ایک بڑے حصے میں سیاسی عمل کے بارے میں اعتماد کا بحران پیدا ہوا ہے۔ اقتدار کو ایک مخصوص طبقے، مخصوص خاندانوں، مخصوص مفادات اور مخصوص ادارہ جاتی حلقوں کے درمیان گردش کرنے والی چیز سمجھنے کا رجحان عام ہوا ہے۔ اس تصور کی صحت یا غلطی پر الگ بحث ہوسکتی ہے، مگر یہ تصور بہرحال عوامی ذہن میں موجود ہے اور کسی بھی سنجیدہ سیاسی تجزیے میں اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

اسی طرح جہازوں، گاڑیوں، پروٹوکول اور بیرونی دوروں کی خبریں بھی ہماری صحافت کا مستقل موضوع بنی ہوئی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہی پاکستان کا بنیادی مسئلہ ہے؟ عام آدمی کے لیے اصل مسئلہ جہاز نہیں، روزگار ہے، گاڑی نہیں، مہنگائی ہے، بیرونی دورہ نہیں، بچوں کی تعلیم ہے، پروٹوکول نہیں، علاج ہے اور سیاسی بیان نہیں، گھر کا چولہا ہے۔ اس لیے اگر قومی مباحث کا بڑا حصہ حکمرانوں کے سفر، گاڑیوں اور مراعات تک محدود ہوجائے تو ہم ریاست کے اصل سوالات سے خود کو دور کرتے چلے جاتے ہیں۔

یہاں سے ایک زیادہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا پاکستان کی معاشی کمزوری اور داخلی انتشار کو عالمی معاشی نظام کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے؟ بلاشبہ پاکستان کی معیشت بیرونی قرضوں، مالیاتی ضرورتوں اور عالمی اداروں کے ساتھ تعلقات سے الگ نہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق 2026ء میں بھی پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے منظم اصلاحات، مالی نظم اور بیرونی مالی ضروریات اہم چیلنجز ہیں۔ لیکن اس حقیقت کو کسی سازشی مفروضے میں تبدیل کرنے کے بجائے ہمیں یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ معاشی خود انحصاری کس طرح پیدا ہوگی اور ریاست اپنے فیصلوں کے لیے کتنی گنجائش پیدا کرسکے گی۔

کیونکہ ایک حقیقت بالکل سامنے کی ہے، جس طرح پاکستان خارجی اور عسکری محاذ پر اپنی صلاحیتوں کو بہتر بناتا ہے، اگر اسی سطح پر معاشی پیداوار، برآمدات، تعلیم، زراعت، ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل میں بھی خود انحصاری پیدا ہوجائے تو پاکستان کے لیے اپنے قومی فیصلے زیادہ آزادانہ انداز میں کرنا ممکن ہوگا۔ معاشی آزادی دراصل سیاسی آزادی کی ایک بنیادی شرط ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے دانشورانہ اور میڈیا مباحث کا ایک بڑا حصہ اب بھی سطحی علامتوں میں الجھا ہوا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے جہاز کی خبر بن جاتی ہے، مگر پنجاب کی ثقافت کے فروغ، زراعت میں پانی کی بچت، جدید مشینری، کسانوں کی مالی سہولت، زرعی گریجویٹس کے لیے انٹرن شپ اور نئی زرعی ٹیکنالوجی کے منصوبے وہ توجہ حاصل نہیں کرتے جس کے وہ مستحق ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق 2026-27ء میں کسان کارڈ، گرین ٹریکٹر پروگرام، زرعی گریجویٹس کی انٹرن شپ، ہائی ٹیک فارم مشینری، پانی کے مؤثر استعمال اور مختلف علاقوں میں زرعی تبدیلی کے منصوبے جاری ہیں۔ ان منصوبوں کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ اعداد و شمار، شفافیت، نتائج اور عوامی فائدے سے ہونا چاہیے، نہ کہ صرف سیاسی وابستگی سے۔

یہی اصول صحت، تعلیم، ماحولیات، خواتین، نوجوانوں اور مقامی حکومت کے شعبوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ پنجاب حکومت نے اپنی سرکاری ترجیحات میں تعلیم، صحت، زراعت، ماحولیات، مقامی حکومت اور نوجوانوں کو نمایاں شعبوں کے طور پر شامل کیا ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ ان ترجیحات کا نتیجہ عام آدمی کی زندگی میں کتنا دکھائی دیتا ہے۔ حکومتوں کو محض منصوبے بنانے پر نہیں بلکہ نتائج دینے پر پرکھا جانا چاہیے اور پھر تعلیم کا سوال ہے۔ یونیورسٹیوں کو سیاسی اور انتظامی کشمکش سے نکال کر علمی خود مختاری، شفاف مالی نظم اور تحقیق کے مرکز میں لانا ہوگا۔

پنجاب یونیورسٹی کے بارے میں حالیہ مہینوں میں مالیات، انتظامی نظم اور اندرونی اختلافات پر مختلف فریقوں کی جانب سے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں، خود یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنی کارکردگی کا گرین پیپر جاری کیا جبکہ بعض اساتذہ و ملازمین کے گروہوں نے مالی و انتظامی اعتراضات اٹھائے۔ دوسری طرف یونیورسٹی نے 2026-27ء کے لیے 20.87 ارب روپے کے بجٹ اور تقریباً 10 ارب روپے کی سبسڈی و اسکالرشپس کی سفارش بھی کی ہے۔ یہی تضادات بتاتے ہیں کہ ہمیں الزام تراشی کے بجائے ادارہ جاتی آڈٹ، شفافیت اور قابلِ پیمائش کارکردگی کی ضرورت ہے۔

اب آتے ہیں اس سوال کی طرف جسے شاید سب سے زیادہ سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے: اگر ایک صوبہ آبادی، انتظام، وسائل اور خدمات کے اعتبار سے بہت بڑا ہوجائے تو کیا انتظامی وحدت برقرار رکھنا بذاتِ خود کوئی مقدس اصول ہے؟ پاکستان میں نئے صوبوں اور چھوٹی انتظامی اکائیوں کی بحث نئی نہیں، مگر 2026ء میں یہ بحث دوبارہ نمایاں ہوئی ہے۔ حکومت کے حلقوں میں نئے انتظامی یونٹس پر گفتگو مسلسل سامنے آ رہی ہے، جبکہ جنوبی پنجاب کے الگ صوبے کا مطالبہ بھی پارلیمانی سطح پر دوبارہ اٹھایا گیا۔

لیکن یہاں بھی جذبات نہیں، انتظامی منطق فیصلہ کن ہونی چاہیے۔ نیا صوبہ صرف نقشے پر ایک لکیر کھینچنے کا نام نہیں۔ اس کے لیے مالی وسائل، ادارہ جاتی ڈھانچہ، انتظامی صلاحیت، پولیس، عدلیہ، تعلیم، صحت، ملازمتوں، آبادی کی نمائندگی اور وسائل کی تقسیم کا مکمل منصوبہ درکار ہوگا۔ آئینی اعتبار سے بھی صوبائی حدود میں تبدیلی ایک باقاعدہ پارلیمانی عمل کی متقاضی ہے، جس میں متعلقہ اسمبلیوں اور پارلیمان کی آئینی منظوری شامل ہے۔ اس لیے اگر نئی صوبائی تشکیل کی مخالفت سامنے آئے تو سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کون مخالفت کر رہا ہے۔

اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ مخالفت کی بنیاد کیا ہے؟ کیا مسئلہ انتظامی لاگت ہے؟ وسائل کی تقسیم ہے؟ لسانی یا علاقائی خدشات ہیں؟ سیاسی مفادات ہیں؟ یا اس کے مقابلے میں موجودہ ڈھانچے کو برقرار رکھنے کی کوئی مضبوط انتظامی دلیل ہے؟ اسی طرح حمایت کو بھی صرف سیاسی نعرہ نہیں بلکہ قابلِ عمل انتظامی منصوبے کے ساتھ آنا چاہیے۔ پاکستان کو آج راستوں کی ضرورت ہے۔ منزل کی ضرورت ہے۔ پروٹوکول سے زیادہ کنٹریبیوشن کی ضرورت ہے۔ سیاسی نعروں سے زیادہ معاشی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے اور سب سے بڑھ کر معاشی جمود توڑنے کی ضرورت ہے۔

ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ پاکستان کی سیاست کا مرکز اقتدار کی گردش ہوگی یا عوامی زندگی کی بہتری۔ اگر جواب دوسرا ہے تو پھر انتظامی ڈھانچے، صوبائی حدود، مقامی حکومت، معیشت، تعلیم اور ادارہ جاتی اصلاحات سب کو ایک ہی قومی سوال کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ ورنہ ہم ایک دوسرے کے جہاز گنتے رہیں گے، جبکہ پاکستان اپنی جگہ کھڑا رہے گا۔ جہاز اڑتے رہیں گے، گاڑیاں چلتی رہیں گی، وفود بیرونِ ملک جاتے رہیں گے، مگر یہ سوال وہیں کا وہیں رہے گا کہ عوام کے دکھ کب کم ہونگے؟