Thursday, 12 March 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Arif Anis Malik
  4. Sri Lanka, Jaye Ho

Sri Lanka, Jaye Ho

صبح کے پانچ بج کر آٹھ منٹ تھے۔ بحرِ ہند کی تاریکی میں ایک پیغام ابھرا جو کسی نے بھیجا تھا مگر جانتا تھا کہ شاید کوئی سنے نہ سنے۔ ایرانی فریگیٹ آئی آر آئی ایس دینا نے ڈسٹریس کال بھیجی، دھماکے کی اطلاع دی اور پھر دو سے تین منٹ کے اندر بحرِ ہند کی تہہ میں چلی گئی۔ 87 ملاح ڈوب کر مر گئے۔ 32 بچے۔ قریب ساٹھ کے بارے میں ابھی تک کوئی نہیں جانتا۔ یو ایس ایس شارلوٹ نے دو Mk 48 ٹارپیڈو فائر کیے تھے، ایک خطا گیا، ایک نے جہاز کی کمر توڑ دی۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد پہلی بار امریکی آبدوز نے کسی بحری جہاز کو ٹارپیڈو سے غرق کیا تھا اور وہ جگہ گال، سری لنکا سے صرف 19 ناٹیکل میل دور تھی۔

یہ جہاز کوئی بھٹکا ہوا مسافر نہیں تھا۔ آئی آر آئی ایس دینا سات دن پہلے تک ہندوستان کی بندرگاہ وشاکھاپٹنم میں بھارتی بحریہ کی مشقوں "میلان 2026" میں شریک تھا۔ 74 ملکوں کی بحریہ اس تقریب میں آئی تھی۔ ملاحوں نے تاج محل دیکھا تھا، شہری پریڈ میں حصہ لیا تھا، کیلاش گری کی چوٹی پر کھڑے ہو کر افق دیکھا تھا۔ 25 فروری کو جہاز بھارتی پانیوں سے رخصت ہوا، گھر کی طرف روانہ ہوا۔ بھارتی فوج نے رسمی الوداع کہا۔ دس دن بعد وہی جہاز سمندر کی تہہ میں تھا۔

اب سوال صرف ایک نہیں، سوال تین ہیں جن کا جواب کوئی نہیں دے رہا۔

کیا بھارت نے دینا کی پوری آبی روئیداد امریکہ کو دی؟ کیا انفارمیشن فیوژن سینٹر، جو بحرِ ہند میں تمام بحری نقل و حرکت کو ٹریک کرتا ہے اور جس میں بھارت بھی شریک ہے، نے اس جہاز کو دیکھا تھا؟ اگر نہیں دیا تو امریکی آبدوز کو کیسے معلوم تھا؟ اور اگر دیا تو بھارت نے اپنی دعوت پر آئے مہمان کے ساتھ کیا کیا؟ ہندوستانی اسٹریٹجک تجزیہ کار برہما چیلانی نے یہ سوال اٹھایا تو نئی دہلی نے جواب دینے کے بجائے اسے "بے بنیاد" کہہ کر رد کر دیا۔ مگر خاموشی سے سوال ختم نہیں ہوتے، وہ بڑے ہو جاتے ہیں۔ چیلانی نے لکھا کہ ایک ٹارپیڈو نے بھارت کی نرم قوت کا کمر توڑ دیا جسے وہ دہائیوں سے بنا رہا تھا۔ مگر بھارت نے ابھی تک ایک لفظ نہیں بولا اور اس سارے منظر کے درمیان، ایک جزیرہ کھڑا ہوگیا۔

سری لنکا وہ ملک ہے جو 2022 میں دیوالیہ ہوا، جو آج بھی آئی ایم ایف کی شرائط میں جکڑا ہے، جس کے ذمے چین کے اربوں ڈالر کا قرض ہے، جس کی سیکیورٹی بھارت کے سائے تلے ہے۔ اس جزیرے کے پاس کوئی بحری طاقت نہیں، کوئی فوجی اتحاد نہیں، کوئی ویٹو نہیں۔ مگر 5 مارچ کو صدر انورا کمارا ڈسانائیکے کیمروں کے سامنے آئے اور کہا: "ہم کسی ریاست کے حق میں جھکیں گے نہ کسی کے سامنے سر خم کریں گے"۔ یہ الفاظ کاغذ پر سادہ لگتے ہیں۔ عمل میں یہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کو براہِ راست "ابسالیوٹلی ناٹ" کہنا تھا اور پھر انہوں نے وہ کیا جو کرنا تھا۔

دینا کے 32 بچ جانے والوں کو گال کے کاراپیتیہ ہسپتال میں طبی امداد دی گئی۔ آئی آر آئی ایس بُشہر، 208 ملاحوں کا بیڑا جس کا انجن خراب ہو چکا تھا، کو سری لنکا نے سرپرستی میں لیا اور ٹرنکومالی بندرگاہ بھیج دیا۔ یہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد پہلی بار ہوا کہ کسی ملک نے کسی غیر ملکی بحری جہاز کو غیر جانبدار بندرگاہ میں انٹرن کیا۔ امریکہ نے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے کولمبو پر دباؤ ڈالا کہ ان 32 گواہوں تک رسائی دو جنہوں نے کلاسیفائیڈ حملہ دیکھا تھا کیونکہ کچھ طاقتور لوگوں کو خدشہ ہے کہ انہیں اس بزدلانہ حملے کی وجہ سے وار کرائمز کی تفتیش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سری لنکا نے ترنت انکار کر دیا۔ بین الاقوامی قانون کے آرٹیکل 98 کا حوالہ دیا، ہیگ کنونشن XIII کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس قانون کا احترام کیا جائے گا۔

یہاں ایک اور پرت بھی ہے جو اکثر نظر سے اوجھل رہتی ہے۔ جس بحرِ ہند میں یہ ٹارپیڈو چلا، اس کے ساحل پر صرف 90 کلومیٹر دور ہمبنٹوٹا بندرگاہ ہے جو چین کے پاس 99 سال کی لیز پر ہے۔ چین نے ایک لفظ نہیں کہا۔ اس کا قرض خاموشی سے بول رہا ہے۔

قرض میں ڈوبے اور ڈھیلے ڈھالے سری لنکا نے ثابت کیا کہ قانون ابھی مرا نہیں اگر کوئی اسے تھامنے کی ہمت رکھے۔ اقوامِ متحدہ کے رہائشی کوآرڈینیٹر نے سری لنکا کے اقدام کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ غیر جانبداری اور امن کے عزم کا اظہار ہے۔ وزیرِ اعظم ہری نی امراسوریہ نے اسی ہفتے اعلان کیا کہ سری لنکا 2026 میں بھارت کی صدارت کے دوران برکس میں شمولیت کی تیاری میں ہے۔ یعنی ایک دروازہ بند کیا تو دوسرا کھولا۔

1961 میں ناوابستہ تحریک کا بیج اسی جزیرے کی مٹی میں بویا گیا تھا۔ آج اس بیج نے پھل دیا ہے، لہو میں لت پت ضرور، مگر پھل دیا ہے۔ تاریخ عجیب کاریگر ہے۔ کبھی کبھار وہ اپنے سب سے بڑے اسباق کمزور ترین ہاتھوں سے لکھتی ہے۔