Thursday, 09 April 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Arif Anis Malik
  4. Deal Ki Chabi Islamabad Ke Pas Hai

Deal Ki Chabi Islamabad Ke Pas Hai

کیتھی گینن اپنی دوست ہیں۔ 35 سال ایسوسی ایٹڈ پریس کی چیف نمائندہ۔ افغانستان اور پاکستان۔ 2014 میں سات گولیاں کھائیں اور بچ گئیں۔ شوہر پاکستانی معمار نعیم پاشا۔ 2001 میں واحد مغربی صحافی جنھیں طالبان نے کابل میں رہنے دیا۔ اس خطے کو بہت اندر سے سمجھنے والے لوگوں میں سے ہیں۔ جب یہ خاتون لکھتی ہیں تو غور سے پڑھنا چاہیے۔

آج 8 اپریل 2026 کو انھوں نے لکھا: "معاہدے کا فن نہ امریکی حکومت کے پاس ہے نہ ایرانی حکومت کے پاس۔ اصل فن پاکستان کے پاس ہے"۔

پھر لکھا: "پاکستان جنگ کے فریقین کے درمیان بہترین مقام پر ہے اور خود بھی بے وزن نہیں۔ ایٹمی وزن رکھتا ہے"۔

گینن نے تفصیل سے بتایا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اس پورے عمل کے مرکزی کردار رہے ہیں۔ فون پر ایران سے بات کی، امریکہ سے بات کی اور گینن نے لکھا کہ اگرچہ کسی نے رپورٹ نہیں کیا مگر یقیناً سعودی عرب کو بھی ایک دو فون کیے ہوں گے۔ وزیر اعظم شریف نے اپنی سطح پر بات کی مگر گینن نے واضح لکھا ہے: "پاکستان میں ہر سویلین حکومت کے پیچھے طاقتور فوج ہوتی ہے اور آج سے زیادہ کبھی نہیں تھی"۔

مگر اس مضمون کی اصل طاقت آخری گیارہ لمحے کی بات میں ہے۔ گینن نے لکھا: "ایسا معاہدہ جو ناممکن لگ رہا تھا، ایسے ٹرمپ کے ساتھ جو کھلم کھلا جنگی جرائم کی دھمکی دے رہا تھا اور جس نے صاف مانا کہ اسے کوئی فکر نہیں، وہ معاہدہ آخری لمحے میں ہوگیا۔ عارضی ہے مگر ٹرمپ جب ایک بار جنگ سے نکل گیا تو واپس آنے کا امکان نہیں۔ وہ پہلے سے فتح کا اعلان کر رہا ہے، اس سے بے خبر کہ حقیقت کیا ہے"۔

پھر گینن نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل خرابی ڈال سکتا ہے۔ اسحاق ڈار نے رات بھر کے مذاکرات کے دوران اسی بات کی وارننگ دی تھی اور صبح ہوتے ہی نیتن یاہونے پہلا رنچ پھینکا اور کہا کہ دو ہفتے کی جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہوگا۔ گینن نے لکھا کہ اسرائیل کا حملہ بظاہر حزب اللہ کے خلاف ہے مگر واضح طور پر لبنانی زمین دریائے لیطانی تک ہتھیانے اور دس لاکھ سے زائد لبنانیوں کو ان کے گھروں سے نکالنے کے بارے میں بھی ہے۔

مگر گینن نے لکھا: "پھر بھی پاکستان کا معاہدہ ساز کے طور پر ابھرنا، ممکنہ طور پر کسی بھی حتمی معاہدے کے پیچھے طاقت ہونا، یہ واقعی دلچسپ ہے"۔

پھر اصل نکتہ آیا۔ گینن نے لکھا کہ یہ تبدیلی راتوں رات نہیں آئی اور نہ یہ ایران جنگ سے شروع ہوئی۔ تبدیلی مئی 2025 سے شروع ہوئی جب پاکستان نے اپنے سے بہت بڑے پڑوسی بھارت کے خلاف چار روزہ جنگ میں فتح حاصل کی۔ خود ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان جیتا۔ گینن نے لکھا: "اس چار روزہ جنگ نے جنوبی ایشیا میں بھارتی فوجی بالادستی کے دہائیوں پرانے مفروضے کا خاتمہ کر دیا اور پاکستان کو نئی خود اعتمادی دی"۔ چینی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پاکستان نے فضاؤں میں جنگ جیتی اور کئی بھارتی طیارے مار گرائے جن میں تین فرانسیسی ساختہ رافیل شامل تھے۔

گینن نے لکھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس فتح کو فوری طور پر سفارتی سرمائے میں تبدیل کیا۔ جنگ بندی کے ہفتوں بعد ٹرمپ کے ساتھ کھانے پر بیٹھے تھے، وہ ملاقات جو چار روزہ جنگ سے پہلے ناممکن تھی۔ انھوں نے واشنگٹن میں پاکستان کی تصویر بدلی: بوجھ نہیں بلکہ استحکام کی قوت۔ ضرورت مند ملک نہیں بلکہ فوجی طاقت اور قابل قدر دوست جو کسی ایک سپر پاور یا براعظم تک محدود نہیں۔

امریکہ سے تعلقات بحال کرتے ہوئے چین سے رشتہ برقرار رکھا جسے اسلام آباد میں "ہمالیہ سے اونچی، سمندروں سے گہری دوستی" کہا جاتا ہے۔ خلیجی ممالک اور خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ سلامتی کے تعلقات مضبوط کیے اور اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ کیا۔ لیبیا کے ساتھ ساڑھے چار ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ کیا۔ گینن نے لکھا: "اس توازن کے عمل اور فوجی صلاحیت کے اسٹریٹیجک استعمال نے پاکستان کو ایک نادر ثالث بنا دیا جو ایک دوسرے سے مسابقت کرنے والے جغرافیائی سیاسی دائروں میں بیک وقت کام کر سکتا ہے"۔

مگر گینن نے خبردار بھی کیا ہے۔ لکھا کہ مئی کی فتح نے پاکستان کا فوجی سینہ پھلایا اور بین الاقوامی سطح پر نئی جگہ دلائی مگر اس کے ساتھ جنوبی ایشیا میں خطرہ بھی بڑھا ہے جہاں دونوں ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں۔ پاکستان کے پاس تقریباً 170 ایٹمی وار ہیڈز ہیں اور بھارت کے پاس 180۔ بھارت کا اپنا مشرق وسطیٰ میں دوست ہے: اسرائیل۔ جنگ شروع ہونے سے دو دن پہلے مودی اسرائیل میں تھے اور نیتن یاہو کے ساتھ دس ارب ڈالر کا سلامتی معاہدہ کر رہے تھے۔

گینن نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان کا حوالہ دیا جنھوں نے کہا کہ پاکستانی انٹیلی جنس رپورٹیں بتاتی ہیں کہ بھارت فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے۔ آصف نے بھارت کو خبردار کیا: "کسی بھی غلط مہم جوئی کی صورت میں پاکستان جنگ کلکتہ تک لے جائے گا۔ جواب فوری، منظم اور فیصلہ کن ہوگا"۔

گینن نے آخری جملے میں لکھا: "اگلی جنگ بندی کے مذاکرات شاید جنوبی ایشیا میں ہوں"۔

یہ جملہ یاد رکھیں۔ کیتھی گینن نے لکھا ہے۔ پینتیس سال کے تجربے نے لکھا ہے۔ سات گولیاں کھانے والی صحافی نے لکھا ہے۔ اس کا وزن ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ٹرمپ نے 2015 میں کتاب لکھی تھی "The Art of the Deal"۔ آج 2026 میں وہ فن ٹرمپ کے ہاتھ سے نکل کر اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔ وہ اسلام آباد جہاں فیصل مسجد کے مینار مارگلہ کی پہاڑیوں کے سامنے کھڑے ہیں۔ وہ اسلام آباد جہاں 10 اپریل کو امریکہ اور ایران کے وفود آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ وہ اسلام آباد جو ایک سال پہلے "ناکام ریاست" کا دارالحکومت تھا اور آج دنیا کی امن کی امید ہے۔

پاکستان۔ ہاتھ میں ٹوپی لے کر کھڑا رہنے والا ملک نہیں رہا۔ اب وہ ملک ہے جس کی ٹوپی دوسرے اٹھاتے ہیں۔