جنگ کے تیسرے دن کا سورج طلوع ہوتے ہی وہ تمام مفروضے ریت کی دیوار ثابت ہو رہے ہیں جن پر واشنگٹن اور تل ابیب کے جنگی کھیلوں کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ یہ کوئی فلمی کہانی نہیں بلکہ ایک ہولناک حقیقت ہے کہ جس حکومت کی تبدیلی کا خواب دیکھا گیا تھا، اس کے آثار فی الحال دور دور تک نظر نہیں آرہے۔ امریکا اور اسرائیل کو سرپرائز اٹیک کا ایڈوانٹیج تو مل گیا، مگر رجیم چینج کے آثار نظر نہیں آرہے۔ جنگ کے دوسرے دن اسرائیل، امریکی اڈوں اور عرب ممالک پر ایرانی ڈرون اور میزائل مسلسل برس رہے ہیں۔
ایران کی موجودہ حکمتِ عملی کا واحد مقصد امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ابتدائی جھٹکے کو صرف جذب کرنا، اپنی پوزیشن پر قائم رہنا اور جنگ کے مزید پھیلاؤ کا واضح اشارہ دینا ہے۔ تہران اس وقت انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر گامزن ہے، جہاں وہ پریشان حال علاقائی کھلاڑیوں کی جانب سے جنگ بندی کی ثالثی کا منتظر ہے۔ ایرانی منصوبہ سازوں کا یہ پختہ یقین ہے کہ اگر صدر ٹرمپ کو اس مہم جوئی میں فوری فتح حاصل نہ ہوئی، تو وہ جلد ہی واپسی کا راستہ تلاش کرنا شروع کر دیں گے اور اس کے بعد ہونے والے مذاکرات کی نوعیت اور شرائط بالکل مختلف ہوں گی۔
وال اسٹریٹ جرنل کی آج کی رپورٹ نے پینٹاگون کے ماتھے پر پسینہ لا دیا ہے کیونکہ امریکی جاہ و جلال کے پیچھے ایک چھپا ہوا بحران سر اٹھا رہا ہے اور وہ ہے اسلحے اور گولہ بارود کی شدید کمی۔ اس رپورٹ کے مطابق، مسلسل فضائی کارروائیوں اور میزائلوں کے تبادلے نے امریکی اسلحہ خانوں میں جدید ترین ہتھیاروں کی قلت پیدا کر دی ہے۔ ایک ایسی جنگ جو ہفتوں یا مہینوں تک کھینچ سکتی ہے، وہاں گولیوں اور میزائلوں کا یہ قحط ٹرمپ انتظامیہ کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت محض اس لیے پیچھے ہٹ جائے کہ اس کے پاس داغنے کے لیے مزید میزائل نہیں بچے؟ یہ وہ سوال ہے جو آج ہر تزویراتی تھنک ٹینک میں گونج رہا ہے۔
سب سے زیادہ حیران کن منظر تہران، مشہد اور اصفہان کی سڑکوں پر دیکھنے کو ملا جہاں لاکھوں کے مجمع سے سڑکیں ابل رہی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا اندازہ تھا کہ قیادت کے خاتمے کے بعد عوام سڑکوں پر جشن منائیں گے، مگر ہوا اس کے برعکس کیونکہ یہ لوگ حکومت کی تبدیلی کے لیے نہیں بلکہ اپنی قیادت کے سوگ اور بیرونی جارحیت کے خلاف احتجاج کے لیے نکلے ہیں۔ قوم پرستی کا وہ جذبہ جو اکثر بحرانوں میں سو جاتا ہے، آج ایک آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا ہے اور یہ لاکھوں لوگ ثابت کر رہے ہیں کہ کسی قوم کی روح کو بمباری سے نہیں کچلا جا سکتا۔ تہران کی سڑکوں پر موجود یہ سمندر ٹرمپ کے آزادی والے بیانیے کا سب سے بڑا جواب ہے۔
علی ہاشم کا تجزیہ اس وقت کی سب سے کڑوی سچائی بیان کر رہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران دونوں ہی اس خونی معرکے کو جلد ختم کرنا چاہیں گے کیونکہ دونوں کے پاس اپنی اپنی فتح کا دعویٰ کرنے کا جواز موجود ہے۔ ایران کے لیے فتح کا مطلب اس کے سیاسی نظام کی بقا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ علی خامنہ ای کے خاتمے کو اپنی تاریخی کامیابی قرار دے کر پیچھے ہٹ سکتی ہے۔ ایران اس وقت اپنی تاریخ کے سب سے فیصلہ کن اور وجودی بحران سے گزر رہا ہے جس کا مقصد تہران کے پچھلے پانچ دہائیوں سے قائم ڈھانچے کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ ایرانی ماہرین اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی دشمن کو روکنے کی صلاحیت کا زوال دو ہزار بیس میں قاسم سلیمانی کی شہادت کے ساتھ ہی شروع ہوگیا تھا اور موجودہ بحران اسی پرانے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
جنگ اب خطرناک ترین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی نے اس تنازعے کو ایک عالمی خطرے میں بدل دیا ہے کیونکہ اس سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں زلزلہ آ جائے گا۔ ایرانی فوجی کارروائیاں اتفاقی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جن کے ذریعے تہران یہ پیغام دے رہا ہے کہ اگر اسے نشانہ بنایا گیا تو اس کی قیمت پوری دنیا کو چکانی پڑے گی۔ اگرچہ اٹھائیس فروری کے حملوں میں ایران کے کمان اور کنٹرول کے نظام کو نشانہ بنایا گیا، مگر ایرانی جوابی کارروائی ثابت کرتی ہے کہ تہران نے پچھلی جنگوں سے سبق سیکھ لیا ہے اور ایک غیر مرکزی نظامِ قیادت کی موجودگی میں قیادت کا کھونا ان کے جوابی وار کو نہیں روک پائے گا۔
اس جنگ میں عمان کا کردار نہایت اہم رہا ہے کیونکہ اسے ایک متبادل سفارتی راستے کے طور پر محفوظ رکھا گیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ایران میدانِ جنگ میں محض بقا کے لیے ایک واپسی کا راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے۔ جہاں تک جانشینی کا تعلق ہے تو علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد تہران ایک بڑے نظریاتی امتحان میں مبتلا ہے جہاں مجتبیٰ خامنہ ای، علی رضا اعرافی یا صادق لاریجانی جیسے نام گردش میں ہیں۔ موروثی اقتدار کی منتقلی موجودہ نظام کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو سکتی ہے جبکہ پاسدارانِ انقلاب وہ واحد منظم ادارہ ہوگا جو ملک کو متحد رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بقا کی خاطر حسن روحانی یا حسن خمینی جیسے اعتدال پسند چہروں کو بھی ایک عارضی سمجھوتے کے طور پر آگے لایا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ اس حملے میں علی خامنہ ای کے ساتھ ان کی صاحبزادی بشریٰ خامنہ ای، داماد، ان کے مشیر آیت اللہ گولپائگانی، جنرل محمد پاکپور اور وزیرِ دفاع امیر ناصر زادہ بھی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ یہ ایک ہولناک جانی نقصان ہے مگر ایران کا سیاسی نظام بحرانوں میں زندہ رہنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اصل جنگ فوجی برتری کی نہیں بلکہ بیانیے کے کنٹرول اور بقا کی ہے۔ تہران کا واحد مقصد یہ ہے کہ وہ اتنا وقت نکال لے کہ دشمن پر پڑنے والا معاشی اور فوجی بوجھ اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دے۔ ٹرمپ کی فتح کا دعویٰ اب وقت کی دھول میں دھندلا رہا ہے اور تہران کا تزویراتی صبر ایک نئی حقیقت بن کر ابھر رہا ہے۔