ٹائمز آف انڈیا نے خصوصی فیچر پر سرخی لگائی: "منیر اینڈ کمپنی نے ٹرمپ، چین اور ایران کو استعمال کرکے دنیا بھر میں پاکستان کی سفارتی واپسی کا چمتکار کیسے دکھایا؟"
دنیا بھر میں دہشت گردی کی فیکٹری کے طور پر بدنام ملک، جس کا برانڈ بن لادن اور طالبان کے ساتھ نتھی ہوا، ہوا ہے، 21 ویں صدی کے سب سے بڑے امن مذاکرات کی میزبانی کرے تو چمتکار تو یقیناً ہوا ہے۔
یہ سرخی کسی پاکستانی اخبار کی نہیں ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی ہے۔ بھارت کے سب سے بڑے انگریزی اخبار کی اور جب حریف خود تسلیم کرے تو سمجھ لیں کہ بات میں دم ہے۔
مگر بھارت میں صرف ٹائمز آف انڈیا نہیں بول رہا۔ بزنس سٹینڈرڈ نے لکھا کہ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق پاکستان کی ثالثی کی اصل وجہ ٹرمپ کے اندرونی حلقے تک رسائی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ٹرمپ سے قریبی لوگوں کے ساتھ ذاتی تعلقات بنائے۔ واشنگٹن ایگزامنر نے تفصیل سے بتایا کہ کشمیر حملے کے دو دن بعد پاکستان نے جیولن ایڈوائزرز کی خدمات حاصل کیں جو ٹرمپ کے سابق ذاتی باڈی گارڈ کیتھ شلر اور ٹرمپ آرگنائزیشن کے سابق ایگزیکٹو جارج سوریال کی فرم ہے۔ نوبل امن انعام کی نامزدگی کی۔ معدنی ذخائر کے معاہدے کیے اور یہ سب ٹرمپ کی شخصیت کو سمجھ کر کیا۔
واشنگٹن ایگزامنر کا ایک ذریعہ جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی، اس نے کہا: "اسلام آباد کو ایران کا اعتماد حاصل تھا، چینی طاقت استعمال کر سکتا تھا اور وہ جانتے ہیں کہ ٹرمپ کو کیسے کھیلنا ہے"۔ یہ الفاظ "they know how to play Trump" ریکارڈ پر ہیں۔
ایشیا ٹائمز نے لکھا کہ مشرف کے نائن الیون کے بعد والے اچانک یوٹرن کے بعد سے پاکستان نے اتنی تیزی اور جرات سے خود کو امریکی اسٹریٹیجک سوچ کے مرکز میں نہیں رکھا۔ مگر اس بار فرق ہے۔ ایشیا ٹائمز نے لکھا: "اگر اسلام آباد ایران اور امریکہ کے تنازعے میں ایک عارضی فریم ورک بھی بنا لے تو اس نے بیک وقت ایشیا کے دو سب سے خطرناک تھیٹرز میں ناگزیر ثالث کی حیثیت قائم کر لی ہوگی۔ یہ وہ مقام ہے جو افغان جنگ کے ابتدائی برسوں کے بعد سے پاکستان نے حاصل نہیں کیا تھا اور جو بھارت کی پسندیدہ بیانیے کو مستقل طور پر تباہ کرتا ہے کہ پاکستان ایک ناکام اور حاشیے کی ریاست ہے"۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ نیویارک ٹائمز کے مطابق جنگ بندی کا اعلان کرنے سے عین پہلے ٹرمپ نے دو فون کال کیے: ایک نیتن یاہو کو اور دوسرا فیلڈ مارشل منیر کو۔ یعنی ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کرنے سے پہلے جن دو لوگوں سے بات کی ان میں اسرائیل کا وزیر اعظم تھا اور پاکستان کا فیلڈ مارشل۔ فری پریس جرنل نے لکھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو اور پاکستانی قیادت دونوں سے مشاورت کرکے "پاکستان کو ایران اور مغربی ایشیا کے بحران میں اسرائیل کے برابر اسٹریٹیجک مقام دے دیا"۔
اب بھارتی ردعمل دیکھیں۔ یہاں بھارت دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔
ایک طرف وزیر خارجہ جے شنکر ہیں جنھوں نے آل پارٹی میٹنگ میں کہا کہ بھارت "دلال" قوم نہیں ہے اور پاکستان "تنازعات میں گھسنے کا پرانا ماہر" ہے۔ انھوں نے 1971 کا حوالہ دیا کہ اس وقت بھی پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان ثالثی کی تھی۔
دوسری طرف بھارت کے اپنے سینئر سیاست دان ششی تھرور ہیں جنھوں نے انڈین ایکسپریس میں لکھا: "پڑوسی کی کامیاب ثالثی کا جشن منانا بھارت کی حیثیت کو کم نہیں کرتا۔ اس کا مذاق اڑانا دنیا کو یہ پیغام دے گا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی جوہر سے نہیں بلکہ حسد سے چلتی ہے"۔
یہ الفاظ بھارت کے اپنے سینئر اور انیٹیلکچول سمجھے جانے والے سیاست دان کے ہیں۔ "حسد سے نہیں، جوہر سے"۔
بھارتی فوج کے سابق افسر اور دفاعی تجزیہ کار منوج چنن نے انڈین ایکسپریس میں لکھا: "پاکستان نے، تہران سے اپنے گہرے تعلقات اور شیعہ ایران کے مقابلے سنی توازن کی حیثیت سے، خود کو دیانت دار ثالث بنا لیا۔ جبکہ سپر پاورز نمائش کر رہی تھیں، راولپنڈی کے سفارت کار خاموشی سے بیک چینلز چلا رہے تھے جو افغان ثالثی کے دہائیوں کے تجربے سے تیار کیے گئے تھے۔ ریاستی حکمت عملی کا شاہکار۔ اسلام آباد نے امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر گھسیٹا اور دس نکاتی امن منصوبہ تیار کروایا جسے اب امریکی صدر نے منظور کر لیا ہے۔ یہ خیرات نہیں، ریئل پالیٹیک ہے"۔
یہ الفاظ بھارتی فوجی افسر کے ہیں۔ "ریاستی حکمت عملی کا شاہکار"۔
نیوز مِنٹ نے ایک تجزیے میں سرخی لگائی: "حقیقت پسندی: بھارت پاکستان کے کردار کو کم کر سکتا ہے مگر انکار نہیں کر سکتا"۔ لکھا کہ "نئی دہلی کی پاکستان پالیسی پچھلے سال کی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ نام نہاد طاقت کی نمائش بند کریں اور نئی خارجہ پالیسی پر غور کریں"۔ لکھا کہ پاکستان کی یہ نمایاں حیثیت تین دہائیوں سے "دہشت گردی کی فیکٹری" کے بدنام لیبل سے 180 ڈگری مکمل تبدیلی ہے۔ لکھا کہ خواہ پاکستان ٹرمپ کے فرنٹ آفس کے طور پر کام کر رہا تھا یا چین کے یا اپنے طور پر، جنگ بندی پاکستان کے لیے بہت بڑا سفارتی سنگ میل ہے۔
برطانوی اخبار گارڈین نے رپورٹ کیا کہ پاکستان کی ثالثی کی اصل وجہ وقار نہیں بلکہ خود بقا تھی۔ پاکستان خلیجی تیل پر منحصر ہے۔ آبنائے ہرمز بند ہونے سے ایندھن کی قیمتیں آسمان پر تھیں۔ سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کا سایہ سر پر تھا جو پاکستان کو براہ راست جنگ میں کھینچ سکتا تھا۔ بیس فیصد شیعہ آبادی ایران پر بمباری سے بے چین تھی۔ پاکستانی تجزیہ کار عائشہ صدیقہ نے کہا کہ درحقیقت پاکستان نے ثالثی کو دفاعی معاہدے پر عمل سے بچنے کے لیے استعمال کیا۔
یعنی پاکستان نے ایک ساتھ پانچ مسئلے حل کیے: آبنائے ہرمز کھلوائی تاکہ تیل کی قلت پیدا نہ ہو سکے۔ جنگ بندی کروائی تاکہ شیعہ آبادی پرسکون ہو۔ ثالثی کی تاکہ سعودی دفاعی معاہدے پر عمل سے بچ جائے۔ ٹرمپ کو باعزت راستہ دیا تاکہ واشنگٹن سے تعلقات مضبوط ہوں اور اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی حاصل کی تاکہ عالمی وقار بڑھے۔
ایشیا ٹائمز نے لکھا کہ پاکستان کے ساختی فوائد حقیقی ہیں: ایران کے بعد دنیا کی سب سے بڑی شیعہ آبادی تقریباً چار کروڑ، سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ جو ریاض اور واشنگٹن دونوں میں ساکھ دیتا ہے اور عمان اور قطر کے برعکس پاکستان ایٹمی طاقت ہے جو ایٹمی خواہشات رکھنے والے اور ایٹمی سپر پاور کے درمیان ثالثی کر رہا ہے۔ اس کا اس طاقت کے کھیل میں اپنا حصہ ہے جو کسی خلیجی تجارتی ریاست کا نہیں ہو سکتا۔
اٹلانٹک کونسل کے سینئر فیلو مائیکل کوگل مین نے ایکس پر لکھا: "پاکستان نے برسوں میں اپنی سب سے بڑی سفارتی فتح حاصل کی ہے۔ اس نے بہت سے شکیوں اور تنقید کرنے والوں کو غلط ثابت کیا جو سمجھتے تھے کہ پاکستان اتنے پیچیدہ اور اعلیٰ داؤ والے کام کی صلاحیت نہیں رکھتا"۔
وائی نیٹ نیوز، جو اسرائیلی نیوز آؤٹ لیٹ ہے، نے سرخی لگائی: "ایران جنگ کا غیر متوقع فاتح: پاکستان کا اہم سفارتی عروج"۔ لکھا کہ یہ ایسے ملک کے لیے بڑی سفارتی واپسی ہے جو برسوں سے حاشیے پر دکھائی دیتا تھا۔ واشنگٹن میں اسے طویل عرصے سے غیر معتبر اتحادی سمجھا جاتا تھا۔ سابق صدر بائیڈن نے اپنے پورے دور میں پاکستان کے وزیر اعظم سے فون پر بات تک نہیں کی۔ ٹرمپ نے خود اپنے پہلے دور میں الزام لگایا تھا کہ پاکستان نے اسامہ بن لادن کو پناہ دی اور امریکہ کو "جھوٹ اور فریب" کے سوا کچھ نہیں دیا۔
اور اب وہی ٹرمپ اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں پاکستان کے دو ناموں کا ذکر کرکے جنگ بندی کا اعلان کرتا ہے۔
اب بھارتی فوجی افسر منوج چنن کے الفاظ دوبارہ پڑھیں: "جب بھارت سپر پاورز کے ساتھ اٹکھیلیاں کر رہا تھا، راولپنڈی کے سفارت کار خاموشی سے بیک چینلز چلا رہے تھے جو ریاستی حکمت عملی کا شاہکار ہے"۔
جب بھارت کا اپنا فوجی افسر کہے "شاہکار" تو اس سے بڑی تصدیق اور کیا ہو سکتی ہے۔
جب بھارت کا اپنا سینئر سیاست دان کہے "مذاق اڑانا حسد کی علامت ہے" تو اس سے بڑا اعتراف اور کیا ہو سکتا ہے۔
جب بھارت کا اپنا سب سے بڑا اخبار لکھے "منیر اینڈ کمپنی نے پاکستان کی سفارتی واپسی کا منظرنامہ لکھا" تو اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے۔
حریف کی تعریف سے بڑی تعریف نہیں ہوتی اور آج دشمن تعریف کر رہا ہے۔ مجبوراً۔ دانت پیس کر۔ مگر کر رہا ہے۔ کیونکہ حقائق اتنے واضح ہیں کہ انکار کا راستہ نہیں بچا۔
چمتکار کا کریڈٹ بہت سے لوگ لے سکتے ہیں مگر یہ سب سے بڑا ہمارے پروردگار کا کرم ہے، جس نے یہ دن پھیرے ہیں۔ ابھی بہت سی کہانی باقی ہے، منزل بہت دور ہے۔ پاکستان کو اپنا برانڈ بہتر کرنا ہے اور پھر اس کا ثمر اس کے عوام تک پہنچانا ہے جن کی کمر دوہری ہو چکی ہے، دوا اور دعا دونوں بھرپور طریقے سے چلنے چاہییں۔