آج شام ایک مرتبہ پھر تین دوستوں سے شرط جیتی جو ایران امریکہ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے حوالے سے تھی۔ جنگ سنجیدہ چیز ہے، اس پر شرطیں نہیں لگنی چاہئیں۔ تاہم میری شرط امن کے حوالے سے تھی۔ میں پہلے دن سے ہی واضح تھا کہ 22 اپریل کو جنگ نہیں چھڑے گی۔ یہ پیشین گوئی کرنے کے لیے بین الاقوامی تعلقات میں مہارت یا آئن سٹائن نہیں ہونا چاہیئے، بس طاقت کی نفسیات سمجھنا ضروری ہے۔
7 اپریل کو جب ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پاکستان کی ثالثی قبول کرکے دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا، میں اس دن سے واضح تھا کہ یہ جنگ بندی قائم رہے گی۔ دھکے لگیں گے، پوسچرنگ ہوگی، فریقین اپنے اپنے گھریلو سامعین کے لیے منہ سے میزائل پھینکیں گے، مگر جنگ کی آگ پھر سے نہیں بھڑکے گی۔ کیونکہ اسے بھڑکنے کی اجازت اب کوئی بھی فریق نہیں دینا چاہتا اور اگر سارے کھلاڑی اپنی اپنی وجوہات کی بنا پر سیز فائر ٹوٹتے نہیں دیکھنا چاہتے، تو وہ ٹوٹتا نہیں ہے۔
ٹرمپ نے ابھی ٹروتھ سوشل پر وہ اعلان کر دیا جس کا اربوں لوگ بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔ اس نے لکھا، "حکومتِ ایران کے گہرے داخلی انتشار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست کی بنا پر، میں جنگ بندی کو اُس وقت تک توسیع دیتا ہوں جب تک اُن کی تجویز پیش نہ ہو جائے اور بات چیت ایک یا دوسرے نتیجے پر نہ پہنچ جائے"۔ غور کیجیے اس جملے پر۔ کوئی نئی تاریخ نہیں۔ کوئی دو ہفتے کی حد نہیں۔ کوئی بڑی ڈیڈلائن نہیں۔ بلوم برگ، سی این این، سی بی ایس نیوز، تینوں نے اسے اس طرح رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ نے تاریخ اٹھا لی ہے اور نتیجے تک انتظار کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یعنی جنگ بندی عملی طور پر اُس دن تک قائم ہے جب تک معاہدہ نہ ہو جائے۔ ایک یا دوسرے رخ پر اور ایک رخ بہت مشکل ہے، دوسرا ناگزیر۔
تسنیم کے مطابق ایران نے ٹرمپ کے سیزفائر کے اعلان کو مسترد کردیا اور اس کے امن کی نیت پر گہرے شکوک شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ساتھ نیول بلاکیڈ ختم کرنے کے لیے جنگی کاروائی کی دھمکی بھی دی ہے۔ تاہم یہ بیانات ہیں اور ایران کو فی الحال ایسے بیانات ہی دینے چاہئیں۔
اب بات کو اس کی جڑ سے دیکھیں۔ 28 فروری 2026 کو جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا اور چند گھنٹوں میں علی خامنہ ای، کئی سپاہی کمانڈر اور درجنوں جوہری سائنس دان ایک ساتھ شہید ہو گئے، ٹرمپ اور نیتانیاہو کی جنگی مشین نے سوچا یہ ایک مختصر جنگ ہوگی۔ تین ہفتے، زیادہ سے زیادہ چھ اور ایران ٹوٹ جائے گا۔ مگر ہوا کیا؟ ایران ٹوٹا نہیں، ایرانیوں کی حمیت اور شجاعت نے کمال کر دیا۔ ایران نے جدید ترین جنگی طیاروں کی ہولناک بمباری برداشت کی اور پھر 40 سال کا تیار کردہ پلان چالو کردیا۔
اسرائیل اور خلیجی ممالک کو میزائلوں اور ڈرونز کی باڑھ پر رکھ لیا۔ 4 مارچ کو ہرمز بند کر دیا۔ برینٹ کروڈ چند دنوں میں 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، امریکا کے گیس پمپ پر فی گیلن قیمت 2.98 ڈالر سے چار ڈالر گیارہ سینٹ پر چھلانگ لگا گئی، یورپ میں ڈچ ٹی ٹی ایف گیس کا نرخ دگنا ہوگیا۔ آئی ایم ایف نے عالمی ترقی کا تخمینہ ایک لمحے میں کم کر دیا، ایران کی اپنی معیشت کے لیے 6.1 فی صد سکڑاؤ کی پیش گوئی آ گئی، تل ابیب میں ایک ہزار سے زیادہ گھر ایرانی میزائلوں سے ناقابلِ رہائش ہو گئے اور بحرین، قطر، کویت جیسی خلیجی ریاستوں میں خوراک اور پینے کے پانی کی سپلائی پر بحران چھا گیا۔ امارات کو صدر ٹرمپ سے ڈالرز کی سپلائی کے حوالے سے درخواست کرنی پڑ گئی۔
ٹرمپ، جو "پریزیڈنٹ آف پیس" کا نعرہ لے کر آیا تھا، اب ایک ایسی جنگ میں پھنسا تھا جس کا کوئی قابلِ عزت اختتام اس کے پاس نہیں تھا۔ اس کی اپنی ماگا اتحاد بکھرنے لگی۔ ٹکر کارلسن اور سٹیو بینن سرِعام اس جنگ کو ایک "نیتن یاہو کی جنگ" کہہ رہے تھے۔ اٹلی کی جورجیا میلونی نے سسلی کا فوجی اڈہ امریکا کو ایران پر حملے کے لیے دینے سے انکار کر دیا۔ برطانیہ، جرمنی، سپین، سوئٹزرلینڈ اور کئی یورپی ممالک نے کھل کر کہ دیا "ایبسالئوٹلی ناٹ"۔ جان کیری نے ایک ٹیلی ویژن مکالمے میں سیدھے الفاظ استعمال کیے۔ "نیتن یاہونے یہ منصوبہ بش کو بھی دیا تھا، اوباما کو بھی، بائیڈن کو بھی۔ سب نے ٹھکرا دیا۔ صرف ٹرمپ نے قبول کیا"۔
اب ٹرمپ کو ایک ایسی پتلی گلی کی ضرورت تھی جس سے وہ عزت کے ساتھ نکل سکے۔ چہرہ بچانے والی راہ اور یہاں پاکستان کا مضبوط ایٹمی کاندھا استعمال ہوا۔ اللہ کرے کہ پاکستان ان خدمات کو اب پاکستانی عوام کے فائدے میں بدل سکے۔
مجھے کیوں اس بات کا یقین تھا کہ پاکستان ہی یہ کردار ادا کرے گا؟ کیونکہ پاکستان کے پاس ایک ایسا اثاثہ ہے جسے خلیج کی کوئی عرب ریاست یا عمان یا قطر کی ثالثی کی تاریخ بھی حاصل نہیں کر سکی۔ ایک وردی پوش فیلڈ مارشل جس کا براہِ راست تعلق واشنگٹن اور تہران، دونوں کے ساتھ بنا ہوا ہے۔ عاصم منیر جو ایک سال پہلے تک طاقت کے ایوانوں میں ایک گھس بیٹھیے تھے، آج ٹرمپ کے "فیورٹ فیلڈ مارشل" ہیں اور تہران کی جانب سے بھی وہ اکلوتے غیر ملکی فوجی سربراہ ہیں جنہیں جنگ کے بعد ایرانی فوجی قیادت نے وردی میں استقبال کیا۔ شہباز شریف کی وزارتِ عظمیٰ اس میں مددگار ہے، مگر اصل انجن وہی ہیں۔ پنڈی ایک مرتبہ پھر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہے۔
23 مارچ کو جب منیر نے براہِ راست ٹرمپ سے بات کی اور ٹرمپ نے ایران کی توانائی کے ڈھانچے پر پانچ دن کی مشروط بندش کا اعلان کیا، تو یہ محض ایک فون کال نہیں تھی۔ یہ ٹرمپ کے لیے سانس لینے کی ایک کھڑکی تھی۔ پاکستان نے وہ پیش کش کی جو امریکا کو زبانی طور پر مانگنی بھی محال تھی۔ ایک ایسی جگہ جہاں سے وہ ایران سے بات کر سکے، بغیر یہ مجبوری مانے کہ اسے بات کرنی پڑ رہی ہے۔ اسلام آباد آج وہ کمرہ ہے جہاں 50 برس بعد امریکا کا نائب صدر اور ایران کا وزیرِ خارجہ ایک ہی وقت میں داخل ہو سکتے ہیں۔ یہ پاکستان کی خوش قسمتی نہیں، اس کی بنائی ہوئی شناخت ہے اور 70 برس میں اس کی قیمت ادا کی گئی ہے۔
اب آئیے اس کی سب سے پیچیدہ تہہ پر۔ ٹرمپ کا اصل ٹرمپ کارڈ جنگ بندی نہیں، وہ محاصرہ ہے جو اس نے 13 اپریل سے ایران کی بندرگاہوں پر قائم رکھا ہے، جبکہ جنگ بندی بھی قائم ہے۔ سی این این بزنس کے تجزیے کے مطابق امریکی بحریہ اب تک 27 سے 28 بحری جہاز واپس موڑ چکی ہے۔ کپلر کے مطابق ایران کی روزانہ تیل برآمدات، جو فروری میں 1.84 ملین بیرل پر تھیں، بتدریج دم توڑ رہی ہیں۔ ایرانی معیشت کے پاس دو تین مہینوں کا تیل کا ذخیرہ تھا، جو آہستہ آہستہ خالی ہو رہا ہے۔ ولسن سنٹر، بروکنگز اور انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز کے تجزیہ کار ایک ہی بات کہہ رہے ہیں۔ محاصرہ جتنا طویل ہوگا، تہران پر اتنا ہی وقت کم ہوگا۔ یعنی ٹرمپ جنگ بندی بھی جاری رکھے ہوئے ہے اور گُن ایران کی کنپٹی پر بھی رکھی ہوئی ہے اور اس گن کو چلانے کی ضرورت نہیں۔ گن خود کام کر رہی ہے۔ وہ جب چاہے گا یہ گن ہٹا لے گا اور اسلام آباد مذاکرات اس کی بڑی وجہ بن سکتے ہیں۔
اور یہاں ایران کی مجبوری کو سمجھنا ضروری ہے۔ آپ تجزیہ کریں کہ سیزفائر کے دوران اگر تہران کی پاسدارانِ انقلاب کسی تیل کے جہاز پر حملہ کر دے، یا کسی امریکی اتحادی ریاست کی تنصیبات کو نشانہ بنائے، یا ہرمز میں کسی کروز شپ پر آگ کھول دے، تو کیا ہوگا؟ اندرونی طور پر ایران کا حکومتی ڈھانچہ پہلے ہی دراڑ زدہ ہے۔ قلیباف، پزشکیان اور ایران کی مذاکراتی ٹیم ایک چیز پر متفق ہے اور ایک پر نہیں۔ متفق اس پر ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کی شرائط توڑی ہیں۔ غیر متفق اس پر ہے کہ کیا مزید ٹکراؤ کا خطرہ اٹھایا جائے۔ کوئی بھی غلط قدم ٹرمپ کو سیاسی طور پر وہ جواز دے دے گا جو آج اسے اندرونِ امریکا حاصل نہیں۔ یورپ کی ناراضگی مدھم پڑ جائے گی اور "ایران نے پہلے حملہ کیا" کا بیانیہ ایک رات میں پوری دنیا میں چھپ جائے گا۔ تہران یہ بات جانتا ہے۔ اسی لیے وہ زبانی دھمکیاں دیتا ہے، مگر سرخ لکیر عبور نہیں کرتا۔ کرنی بھی نہیں چاہیے۔
سیزفائر کیوں جاری رہے گا؟ کیونکہ سب فریقوں کی اپنی اپنی مصلحت جنگ بندی کو جاری رکھنے میں ہے۔ ٹرمپ کو اپنی ماگا بنیاد واپس چاہیے اور وہ جنگ سے نکلے بغیر نہیں ملے گی۔ ایرانی حکومت ایک نئی شکل میں اپنے آپ کو بچانا چاہتی ہے اور اس کے لیے پابندیوں میں ڈھیل، منجمد اثاثوں کی واپسی اور محاصرہ اٹھانے سے کم پر بات نہیں بنے گی۔ پاکستان اپنے نئے سفارتی سرمائے کو ضائع ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا۔ سعودی عرب، قطر، مصر، ترکی، چین، سب کی خواہش ایک ہی ہے۔ جنگ فوراََ ختم ہو جائے۔
میرے دوست اور پاکستان کے امریکی ماہر پروفیسر سٹیون کوہن نے ایک بار مجھ سے کہا تھا، "پاکستان جغرافیے کا قیدی ہے"۔ پچھلے پچاس دنوں نے دکھایا ہے کہ بعض اوقات قیدی کی بیڑیاں اس کے کنجیاں بن جاتی ہیں۔ پاکستان اس جنگ میں فریق نہیں بنا، ایران کا پڑوسی ہے، امریکا کا پرانا اتحادی ہے، چین کا گہرا شراکت دار ہے، سعودی عرب کا بھائی ہے۔ اسی لیے وہ تنہا کھلاڑی ہے جو تینوں کمروں میں داخل ہو سکتا ہے اور اسی لیے جب ٹرمپ کو ایک سانس لینے کی راہ چاہیے تھی، وہ پاکستان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نکلا اور اس نے پاکستان کو کریڈٹ بھی دیا، جو ٹرمپ کی تاریخ میں شاید ہی کسی کو اتنے کھلے الفاظ میں ملا ہو۔
میں امن کے ساتھ کھڑا ہوں، ہر وہ دن بابرکت ہے جو جنگ کے بغیر ہو، کیونکہ اس کا ایندھن کمزور لوگ ہیں، جنگ زورآوروں کا شیرہ ہے۔ غزہ میں خون آشامی دیکھنے کے بعد ایران اور خلیج میں مزید بربریت دیکھنے کی ہمت نہیں ہے۔ صلح کرانے والے لوگ مبارک ہیں، ہر وہ شخص بابرکت ہے جو پل بنانے پر یقین رکھتا ہے۔
اُمید کوئی پالیسی نہیں، تو مایوسی بھی کوئی پالیسی نہیں۔ مگر پتلی گہری راہ سے واقف ہونا، پالیسی ہے اور آج رات ٹرمپ کی اس ایک پوسٹ نے وہ راہ کھول دی ہے۔ معاہدہ قریب ہے۔ دیر ہو سکتی ہے، شکل بدل سکتی ہے، شرائط پر جھگڑا رہے گا، سوشل میڈیا پر جنگ جاری رہے گی۔ مگر معاہدہ ہو کر رہے گا اور اس کا رستہ بھی اسلام آباد، پیر ودھائی سے گزر کر جائے گا۔ ایک علاقائی جنگ جو عالمی جنگ میں بدل سکتی ہے، ہر ایک کا ڈراؤنا خواب ہے۔ معاہدہ ہوگا کیونکہ اس کے بغیر کسی کا گزارہ نہیں اور جب کسی کا گزارہ نہ ہو، تو معاہدہ کوئی انتخاب نہیں رہتا، مجبوری بن جاتا ہے۔