Tuesday, 28 April 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Arif Anis Malik
  4. Bhai Tao Jari Hai

Bhai Tao Jari Hai

اسلام آباد کے سرینا ہوٹل کے ایک کمرے میں ایک تکونی میز رکھی ہوئی تھی۔ تین کنارے، تین کرسیاں، تین جھنڈے۔ ایک طرف امریکی، ایک طرف ایرانی اور ایک طرف پاکستانی۔ یہ میز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ذاتی طور پر معائنہ کی تھی۔ ایک تاریخی دستخط کے لیے۔ ایک ایسا دستخط جو دو مہینے کی جنگ، ایک محاصرے اور ایک ٹوٹتی ہوئی عالمی منڈی کے بعد، اسلام آباد کو دنیا کے نقشے پر اُسی طرح ثبت کر دیتا جس طرح اوسلو، کیمپ ڈیوڈ، یا ڈیٹن ثبت ہیں۔

یہ میز اب وہاں موجود نہیں ہے۔

پچھلے ہفتے کے آخر میں، ایک امریکی اخبار کے نمائندے نے اس کمرے میں قدم رکھا، تو میز کے کنارے کھول دیے گئے تھے اور تینوں جھنڈے سلیقے سے تہہ کیے جا رہے تھے۔ امریکی وفد کبھی نہیں آیا تھا۔ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اپنی پروازوں سے چند گھنٹے پہلے روک لیے گئے تھے۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھ دیا، "ہمارے پاس سارے پتے ہیں۔ ایرانی فون کر سکتے ہیں اگر چاہیں" اور پھر فاکس نیوز سے کہا، "اٹھارہ گھنٹے کی پرواز پر کیوں جائیں، صرف گپ شپ کے لیے؟"

پاکستانی فضائی اڈے سے دو سی ون سیون بوئنگ گلوب ماسٹر طیارے امریکی سکیورٹی ساز و سامان لے کر واپس روانہ ہو گئے۔ ایرانی وفد کو رات میرئٹ ہوٹل سے روانہ کرکے اپنے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ پہلے مسقط، پھر دوبارہ اسلام آباد اور پیر کے روز سینٹ پیٹرز برگ کے بورس یلتسن پریذیڈنشل لائبریری بھیج دیا گیا۔ وہاں پوتن منتظر تھے۔

دنیا بھر کے میڈیا نے سرخی لگا دی۔ "اسلام آباد عمل ناکام"۔ "ٹرمپ نے بات چیت ٹھکرا دی"۔ "ایران رُوس کی طرف لپکا"۔ گولڈ مین سیکس نے برینٹ کا تخمینہ نوّے ڈالر فی بیرل تک بڑھا دیا۔ تیل ایک سو آٹھ ڈالر پر چلا گیا۔ ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد جنگ سے پہلے کے پانچ فیصد پر آ گئی ہے۔

میں ابھی بھی پراعتماد ہوں کہ ہم ایران امریکا ڈیل کے زیادہ قریب پہنچ چکے ہیں۔ ذرا تین تہوں میں اس صورتِ حال کو دیکھتے ہیں۔

پہلی تہہ یہ ہے کہ ایران نے پچھلے ہفتے ایک ایسی پیش کش کی ہے جو اس جنگ کی اب تک کی سب سے بڑی پیش رفت ہے۔ الجزیرہ، اے پی، واشنگٹن پوسٹ اور سب سے پہلے ایکسیوس نے، جس نے یہ خبر سب سے پہلے بریک کی، رپورٹ کیا ہے کہ تہران نے مذاکراتی میز پر ایک نیا فارمولا رکھ دیا ہے۔ ہم آبنائے ہرمز کھول دیں گے، اپنا کنٹرول ختم کریں گے اور بحری راہداری پر آپ کی کسی شرط کے بغیر، اگر آپ ہماری بندرگاہوں پر بحری محاصرہ اُٹھا لیں اور جنگ کا باضابطہ خاتمہ تسلیم کر لیں اور سب سے بڑی بات، نیوکلیئر مذاکرات بعد میں ہوں گے۔ پہلے امن، پھر نیوکلیئر۔ پہلے ٹریفک کھلے، پھر یورینیم پر بات ہوگی۔

یہ ایران کی پوزیشن میں ایک بڑا شفٹ ہے۔ ایران، جس نے 28 فروری کے بعد اسرائیل اور امریکا کو واضح کہا تھا کہ سب کچھ اکٹھا ہوگا یا کچھ بھی نہیں ہوگا، اب پہلی بار قبول کر رہا ہے کہ مسائل کو الگ الگ کرکے بھی حل کیا جا سکتا ہے۔

دوسری تہہ یہ ہے کہ یہ پیش کش بالکل وہی فارمولا ہے جو امریکا کے سب سے سنجیدہ سفارتی ادارے، کونسل آن فارن ریلیشنز، نے بیس اپریل کو اپنے ایک تجزیے میں تجویز کیا تھا۔ سینئر فیلو میکس بُوٹ نے لکھا تھا کہ امریکا اور ایران دونوں کے لیے فوری مفاد یہی ہے کہ ہرمز کے دو محاصرے، یعنی ایرانی اور امریکی، ایک ہی جھٹکے سے ختم کیے جائیں اور نیوکلیئر بات چیت طویل المدت سفارت کاری کے لیے رکھ لی جائے۔ "اوپن فار اوپن" انہوں نے اس فارمولے کا نام رکھا۔ ایک محاصرے کے بدلے دوسرے محاصرے کا خاتمہ۔ ایران دو سو ستر ارب ڈالر کے جنگی نقصان کی بحالی کے لیے تیل بیچنا چاہتا ہے۔ امریکا کو پمپ پر گیلن کی قیمت کم کرنا ہے، نومبر کے وسط مدتی الیکشن سے پہلے۔ دونوں کی ضرورت ایک ہی ہے، بس دونوں کے غرور الگ ہیں۔

اور یہ دیکھیں۔ سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز، جسے واشنگٹن کا بااثر ترین تھنک ٹینک سمجھا جاتا ہے، نے ایک متناقضی توازن کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ایران ہرمز پر کنٹرول کو دباؤ میں استعمال کرتا ہے۔ امریکا "محاصرہ کرنے والوں کا محاصرہ" کرتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو دکھ پہنچا رہے ہیں اور دونوں جانتے ہیں کہ یہ سلسلہ ہمیشہ جاری نہیں رہ سکتا۔ سی ایس آئی ایس کا تجزیہ ایک تلخ بات کہتا ہے۔ "ایران، خاص طور پر اس کے پاسدارانِ انقلاب، یہ یقین رکھتے ہیں اور کسی حد تک درست رکھتے ہیں، کہ وہ امریکا سے زیادہ معاشی اور فوجی دباؤ برداشت کر سکتے ہیں"۔

یہ جملہ پڑھ کر میں رُکا۔ کیونکہ یہی وہ بات ہے جو اصل ٹرمپ کارڈ ہے۔ ٹرمپ کہتا ہے ہمارے پاس سارے پتے ہیں۔ تھنک ٹینک کہتا ہے، نہیں جناب، آپ کے پاس کم وقت ہے۔ ایران کے پاس زیادہ صبر ہے۔ امریکی عوام کو پمپ پر چار ڈالر گیارہ سینٹ فی گیلن چھ مہینے سے زیادہ برداشت نہیں ہوگا اور ٹرمپ کو یہ علم ہے۔ اسی لیے اس کی تقریر اور اس کی شمشیر کے درمیان ایک خلا ہے۔ تقریر میں وہ ببر شیر ہے۔ ایکشنر میں وہ شطرنج کا کھلاڑی ہے اور شطرنج کا کھلاڑی پہلے سے زیادہ مہرے ضائع نہیں کرتا۔

اب آئیں تیسری تہہ پر، جو شاید سب سے دلچسپ ہے۔

ٹرمپ نے اسلام آباد مزاکرات کے التوا پر یہ نہیں کہا کہ "ایرانی پیش کش کوڑے دان میں جا رہی ہے"۔ اس کے سیکریٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو نے، جو اس انتظامیہ کا سب سے سخت گیر ایران مخالف ہے، کہا کہ "یہ پیش کش اُس سے بہتر ہے جو ہم نے سوچا تھا کہ وہ پیش کریں گے"۔ یہ سنہری جملہ ہے۔ اس میں مسترد کرنے سے زیادہ مذاکرات کی دعوت ہے۔ روبیو نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ نیوکلیئر سوال نظرانداز نہیں ہوگا۔ یعنی پیغام واضح ہے۔ پیش کش بنیاد ہے، آخری شکل نہیں ہے۔ اس پر بات ہو سکتی ہے، شرائط جوڑی جا سکتی ہیں اور آخر میں اسی شکل میں کوئی معاہدہ ہوگا۔

اور سی این این کے ذرائع نے اتوار کی شام یہ بھی بتایا ہے کہ "دونوں طرف کے فاصلے اتنے زیادہ نہیں ہیں جتنے سرخیوں سے لگتے ہیں۔ پسِ پردہ بات چیت پوری شدت سے جاری ہے اور ایک مرحلہ وار معاہدے کا ڈھانچہ سامنے آ رہا ہے، جس کا پہلا حصہ ہرمز کا کھلنا ہے اور دوسرا حصہ نیوکلیئر سوال کا حل ہے"۔ یعنی وہی جو ایران نے پیش کیا۔ وہی جو میکس بُوٹ نے تجویز کیا۔ یعنی وہی جو واشنگٹن میں اس وقت سب سے سنجیدہ سرکاری تجزیہ کاروں کا اصرار ہے۔

تو پھر تکونی میز کیوں اُٹھائی گئی؟

کیونکہ ٹرمپ کا کھیل پبلک ڈرامہ ہے اور اصل کاروبار خاموشی سے ہو رہا ہے۔ ایک امریکی صدر جس کی ماگا بنیاد ابھی بھی اسے "نیتن یاہو کی جنگ" پر گالی دے رہی ہے، جس کی اپنی پارٹی میں ٹکر کارلسن اور سٹیو بینن مسلسل واویلا کر رہے ہیں کہ یہ امریکا کی جنگ نہیں تھی، جسے دو سو سینتیس کانگریس مین خط لکھ چکے ہیں کہ مزید جنگ کے لیے قانونی منظوری چاہیے، وہ سرِعام معاہدہ پر دستخط کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ تکونی میز کا ڈراپ سین اس کے لیے ضروری تھا۔ پہلے دکھائے کہ "ہم نے ٹھکرا دیا"، پھر بعد میں دکھائے کہ "ہم نے منوا لیا"۔ یہ پُرانا ٹرمپ کارڈ ہے۔

اب ذرا پاکستان کی طرف دیکھیں۔ کیونکہ یہ ساری کہانی پاکستان کے بغیر ادھوری ہے۔

امریکی وفد نہ آنے کی خبر کے باوجود اسلام آباد سے شٹل ڈپلومیسی نہیں رُکی۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عراقچی نے دو دنوں میں دو بار اسلام آباد آنے کی زحمت کی ہے، جس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ایران کو اس عمل میں پاکستان پر اعتماد ہے۔ یہی نہیں، ایران نے باضابطہ طور پر کہا کہ "ہم پاکستان میں مذاکرات کریں گے، کہیں اور نہیں، کیونکہ ہم پاکستان پر بھروسہ کرتے ہیں"۔ یہ جملہ، تہران کے سفیر رضا مغدم کا، چند دن پہلے ریکارڈ پر آیا تھا۔

تکونی میز کا اُٹھنا اس عمل کا اختتام نہیں ہے۔ یہ اس عمل کا ایک پڑاؤ ہے، جس کے بعد دوبارہ بات شروع ہوگی، شاید اگلے ہفتے، شاید اگلے دس دن میں۔ شکل بدلے گی۔ شاید فون پر بات ہوگی، جیسا کہ ٹرمپ نے کہا۔ شاید مسقط میں ہوگی، جیسا کہ عراقچی نے سلطان ہیتھم بن طارق سے ملاقات میں اشارہ کیا۔ شاید ماسکو اور پوتن کا ایک کردار ہوگا، خاص طور پر یورینیم کے ذخیرے کو روس میں رکھنے کے امکان کے بارے میں جس پر امریکی صدر اور پُتن دونوں اشارے دیتے رہے ہیں۔ ہاں بھاؤ تاؤ زوروں پر ہے اور جیسے جرمن چانسلر نے کھل کر تسلیم کیا کہ ایرانی سفارتکار اپنے پتے خوب مہارت سے کھیل رہے ہیں۔

مگر معاہدہ ہو کر رہے گا اور وہ ٹھیک اُسی وجہ سے ہوگا جس وجہ سے میں نے پہلے دن کہا تھا۔ ٹرمپ کو امن چاہیے، نیتن یاہو کے حصار سے نکلنے کے لیے۔ ایران کو راستہ چاہیے، اپنی معیشت بچانے کے لیے۔ پاکستان کو کریڈٹ چاہیے، اپنی نئی شناخت محفوظ کرنے کے لیے۔ خلیج کی ریاستوں کو سپلائی چین کھلنی چاہیے۔ یورپ کی صنعت کو گیس چاہیے۔ ہندوستان کو تیل چاہیے۔ چین کو تجارت چاہیے۔

دنیا میں ایسی جنگ بہت کم ہوتی ہے جس کا انجام اس قدر متعین ہو اور پھر بھی ٹیلی وژن دیکھنے اور موبائل پر سکرول کرنے والے ہر روز یہی سمجھتے ہوں کہ کل صبح بم گرنے والے ہیں۔ مگر یہ جنگ ایسی ہی ہے۔ اس کی شکل میں ڈرامہ ہے، اس کی روح میں ضرورت ہے اور جب ضرورت اور ڈرامے کے درمیان جنگ ہوتی ہے، تو ضرورت جیتتی ہے۔ ہمیشہ۔

تو بازار کھلا ہے، بھاؤ تاؤ آن ہے، بڑھکیں اور ڈرامہ بازی بھی چل رہی ہے تاہم بازار اڑنے سے بچنے کے لیے سودا ہر صورت ہو کر رہے گا۔