Wednesday, 11 February 2026
  1.  Home
  2. Express
  3. Zulfiqar Ahmed Cheema
  4. Shehr e Iqbal Mein Hazri

Shehr e Iqbal Mein Hazri

جی سی ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی وائس چانسلر ڈاکٹر شازیہ بشیر صاحبہ جب جی سی یونیورسٹی لاہور کی وائس چانسلر تھیں تو اس وقت ان کے ساتھ ایک دو مرتبہ فون پر گفتگو ہوئی جس سے اندازہ ہوگیا کہ وہ ایک جیّد اقبال شناس ہیں۔ وہ جہاں جاتی ہیں، طالبات کی شخصیّت کی تعمیر میں ایک ایسے جذبے کے ساتھ جُت جاتی ہیں جس میں ایک معلّمہ کی دانش بھی شامل ہوتی ہے اور ماں کی شفقت اور محبّت بھی۔ پچھلے دس ماہ سے وہ گوجرانوالہ ڈویژن کی سب سے بڑی ویمن یونیورسٹی یعنی جی سی ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی وائس چانسلر ہیں۔ ان کی جانب سے ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ میں اقبالیات پر لیکچرکی دعوت ملی تو میں نے بڑی خوشی کے ساتھ حامی بھرلی، کیونکہ شہرِ اقبال کا وزٹ میرے لیے ہمیشہ مسرّت وافتخار کا موجب رہا ہے۔

کچھ سال پہلے جب میں سیالکوٹ سمیت چھ اضلاع پر مشتمل ڈویژن کی پولیس کا سربراہ تھا تو باقی اضلاع کے تو دورے ہوتے تھے مگر شہرِ اقبال کے لیے میں دورے کی بجائے "حاضری" کا لفظ استعمال کیا کرتا تھا۔ میرے آنے کی اطلاع ملنے پر سیالکوٹ کے ممتاز ترین صنعتکار خواجہ مسعود صاحب (فیفا ورلڈ کپ کے مقابلوں میں انھی کا تیار کردہ فٹ بال استعمال ہوتا ہے) اور خواجہ خاور صاحب بھی تشریف لے آئے۔ وی سی صاحبہ کی دعوت پر اولڈ راونیز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری شہباز شیخ لاہور سے آگئے اور گوجرانوالہ ڈویژنل پولیس کے ایک سابق سربراہ کے آنے کی وجہ سے اخلاقاً یا احتراماً ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر فیصل شہزاد بھی یونیورسٹی پہنچ گئے۔

ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ میں گیارہ ہزار سے زیادہ طالبات زیرِ تعلیم ہیں، طالبات کی اتنی بڑی تعداد خواتین کے کسی اور تعلیمی ادارے میں نہیں پڑھ رہی۔ ڈاکٹر شازیہ بشیر صاحبہ اس جامعہ کی تعمیر وترقّی کے لیے دن رات کوشاں رہتی ہیں۔ ڈاکٹر افضال بٹ اور ڈاکٹر صاحبہ بھی ان کے شانہ بشانہ مصروفِ عمل ہیں۔ انتہائی دکھ کی بات ہے ہمارے ماضی کے کچھ حکمرانوں نے بیرونی دباؤ کے تحت حکیم الامّت کی نظموں کو نصاب اور کتاب سے ہی نکال دیا تھا۔ اس لیے نوجوان طلبا وطالبات اپنے عظیم محسن کا کلام اور پیغام تو کیا نام تک بھولتے جارہے ہیں۔ ہماری نئی نسل علّامہ اقبالؒ کی خدمات اور احسانات سے مکمّل طور پر ناآشنا ہے۔

اس لیے جس تعلیمی ادارے میں جاکر اس موضوع پر گفتگو ہوتی ہے وہاں لیکچر کے بعد تمام اساتذہ بیک زبان کہتے ہیں کہ "نئی نسل کو ان حقائق سے روشناس کرانا اور اپنے قومی شاعر کے حیات آفریں پیغام سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے"۔ پاکستانی طلبا وطالبات حیرانی، مسرّت وافتخار کے ملے جلے جذبات کے ساتھ یہ باتیں سنتے ہیں کہ علامہ اقبال پر دنیا کی پینتالیس سے زیادہ زبانوں میں چھ ہزار سے زیادہ کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ اقبالؒ کے بعد جس شاعر پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہے وہ شیکسپئیر ہے۔ ایرانی شاعر اور ادیب اقبالؒ کی فارسی شاعری کو ایک معجزہ قرار دیتے ہیں۔ وہ یہ سوچ کر حیران اور ششدر رہ جاتے ہیں کہ فارسی اقبالؒ کی مادری زبان نہیں تھی، وہ کبھی ایران نہیں جاسکے۔ مگر فارسی شعر وادب کے رموز کا مکمل ادراک رکھتے تھے بلکہ وہ فارسی کو نئے الفاظ اور تراکیب بھی دے گئے ایرانی شاعر یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ جب تک اقبالؒ حیات تھے، فارسی کے سب سے بڑے شاعر بھی وہی تھے۔

جب ہم لیکچر کے لیے وی سی صاحبہ کی معیّت میں آڈیٹوریم پہنچے تو طالبات نے بڑی گرمجوشی سے استقبال کیا۔ آڈیٹوریم اساتذہ اور طالبات سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ میں نے اپنے لیکچر میں شاعرِ مشرق کے غیر معمولی عملی اور فکری مرتبے کی بھی بات کی اور چند واقعات بھی سنائے۔ انھیں بتایا کہ سینٹرل ایشیا کی ریاستوں کے باشندے اقبالؒ کی فکر سے کس قدر متاثر ہیں۔

ایک مرتبہ جب میں تاجکستان کے سفیر سے پوچھ بیٹھاکہ "کیا آپ اقبالؒ کو جانتے ہیں؟" تو اس نے یہ بتا کر مجھے شرمندہ کردیا کہ "اگر آپ تاجکستان کے کسی پانچ سالہ بچّے سے بات کریں گے تو وہ آپ کو اقبالؒ کے کئی شعر سنا دے گا"۔ پھر سفیر صاحب نے بتایا کہ "میں پچھلے دنوں اپنی بیگم اور بچوں کو لے کر سیالکوٹ گیا اور اس گھر کی زیارت کی جہاں ڈاکٹر اقبالؒ پیدا ہوئے تھے۔ وہاں میں نے اس قلم کو بوسہ دیا جو قلم ان کے زیرِ استعمال رہا تھا"۔ میں نے ان کی عقیدت کا سبب دریافت کیا تو کہنے لگے "ہماری آزادی ہی اقبالؒ کی انقلابی شاعری کی مرہونِ منّت ہے"۔

اس بار طالبات کے سامنے مغربی تہذیب کی یلغار اور اس کے مضر اثرات پر بھی بات ہوئی۔ انھیں بتایا گیا کہ ڈاکٹر اقبالؒ یورپی تہذیب کے گڑھ میں کئی سال تک رہے، وہ اس تہذیب کے تمام پہلوؤں کو جتنا علامہ اقبالؒ سمجھتے تھے کوئی اور نہیں سمجھ سکا، مگر وہ نہ صرف اس تہذیب کی چکاچوند سے کبھی متاثر نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے بڑی جرأت کے ساتھ اور بڑے ٹھوس دلائل کے ساتھ اس کے تاریک اور ضرر رساں پہلوؤں کو بے نقاب کیا۔ وہ مغربی تہذیب کی چکاچوند کو ہمیشہ جعلی اور نقلی زیورات کی چمک قرار دیتے تھے۔

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ مغرب کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

وہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندانِ مغرب کو
ہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغِ کار زاری ہے

پھر ایک جگہ کہا چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر۔ طالبات کو بتایا گیا کہ اقبال مغربی تہذیب کے جس پہلو پر شدید تنقید کرتے تھے، وہ ان کی بے حیائی اور vulgarity ہے، کہتے ہیں ؎

فسادِ قلب ونظر ہے فرنگ کی تہذیب
کہ روح اس مدنیّت کی ہوسکی نہ عفیف

اقبالؒ کہتے ہیں کہ مغربی تہذیب کی روح حیا اور پاکیزگی سے خالی ہے، اورجس تمدّن میں پاکیزگی اور حیا نہ ہو وہ تہذیب کسی بھی انسانی معاشرے کے لیے مضر تو ہوسکتا ہے مفید ہرگز نہیں ہوسکتا۔

خالقِ کائنات نے دو چیزیں عورت کی فطرت میں ہی رکھ دی ہیں ایک حیا اور دوسرا اولاد سے محبّت۔ حیا ہماری بہنوں اور بیٹیوں کا زیور اور سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ اسلام، عورت کو تحفّظ بھی دیتا ہے اور عزّت وتکریم بھی۔ مغربی تہذیب عورتوں کو تکریم نہیں دیتی۔ اس نے عورت کا سب سے قیمتی سرمایہ چھین کر اسے مال بنانے کا ذریعہ بنادیا ہے، اس نے عورت کو بازاری اور اشتہاری ضروریات کے لیے استعمال ہونے والی کمرشل commodity بنا کر بیچ بازار لاکر بٹھا دیا ہے۔ مغرب، عورت کے اعضا کی تشہیر کرکے اس سے پیسے کماتا ہے۔ ویسٹ نے اپنے معاشرے سے حیا کو نکال باہر کیا ہے مگر وہ اس پر مطمئن نہیں۔ وہ دنیا بھر کے معاشروں سے حیا اور پاکیزگی کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ وہ ہمارے ہاں بھی حیا کے قلعے مسمار کرنے کے لیے حملہ آور ہوچکا ہے۔ اس میں اسے کچھ کامیابی بھی ہوئی ہے کیونکہ مغربی تہذیب کے علمبرداروں اور حیا کے قلعے پر حملہ کرنے والوں نے ہماری بیٹیوں سے دوپٹّہ چھین لیا ہے، چند سال پہلے تک وہ دوپٹہ (کسی بھی شکل میں) استعمال کرتی تھیں مگر اب انھوں نے دوپٹہ اتار پھینکا ہے۔

مغربی تہذیب کے پرچارک اور کھربوں ڈالر کی فیشن انڈسٹری چلانے والے یورپی اور امریکی اپنے لاؤ لشکر یعنی موبائل فون، پرائیویٹ چینلز، یورپی نصابِ تعلیم پڑھانے والے انگریزی میڈیم اسکول اور این جی اوز سمیت حیا کے قلعے کو برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں، وہ عریاں جسم اور بے حیائی کو گلیمرائز کرنے کے لیے vulgrity کو کبھی بہادری (Boldness) کا نام دیتے ہیں اور کبھی عورت کو یہ کہہ کر عریاں ہونے پر آمادہ کرتے ہیں کہ "اپنا حسن دکھانا تمہارا حق ہے۔

اور اعتراض کرنے والے حسد کرتے ہیں " اگر کوئی غیر مناسب لباس پر اعتراض کردے تو غیر ملکی فورسز کے کرائے پر رکھے گئے مقامی ایجنٹ یہ کہہ کر اس پر چڑھ دوڑتے ہیں کہ "لباس میں کوئی خرابی نہیں۔ یہ تو دیکھنے والے کی سوچ میں خرابی ہے"۔ سیدھی سی بات ہے کہ جو لباس عورت کے جسمانی خدوخال چھپائے وہ ڈیسنٹ اور باوقار لباس کہلائے گا اور جو reveal کرے وہ نامناسب اور vulgar لباس کہلائے گا۔ خوش آئیند بات یہ ہے کہ یونیورسٹی کی طالبات نے یہ عہد کیا کہ ہم حیا کے قلعے کا دفاع کریں گی اور حملہ آوروں کا رخ موڑ دیں گی۔ ہمارا لباس وہی ہوگا جس میں ہمارے خالق اور مالک کی خوشی اور خوشنودی ہوگی۔

وی سی صاحبہ نے آخر میں طالبات کے ساتھ مل کر وہ دعا پڑھی جو اقبالؒ نے طلباء کے لیے لکھی ہے اور طلبا وطالبات کے لیے اس جیسی دعا دنیا کی کسی اور زبان میں نہیں لکھی گئی

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری