پاکستان اور ازبکستان کے درمیان حالیہ سفارتی و معاشی پیش رفت محض دو ریاستوں کے مابین تعاون کی ایک اور مثال نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی و علاقائی منظرنامے میں ایک نئی جیو اکنامک حکمتِ عملی کا واضح اعلان ہے۔ دونوں ممالک کا آئندہ پانچ برسوں میں دوطرفہ تجارتی حجم کو دو ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ اب تعلقات رسمی بیانات اور علامتی ملاقاتوں سے آگے بڑھ کر ٹھوس معاشی اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج کی سمت گامزن ہو چکے ہیں۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب خطہ جنوبی اور وسطی ایشیا نئے تجارتی راستوں، توانائی روابط اور علاقائی شراکت داریوں کی ازسرِنو تشکیل کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔
پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارت، آئی ٹی، زراعت، غذائی تحفظ، کان کنی، دفاعی تعاون، عوامی روابط، ماحولیاتی تبدیلی، کھیل و ثقافت، ادویہ سازی، انسدادِ منشیات اور دیگر اہم شعبوں میں 29 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط اس امر کا ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک تعلقات کو کثیرالجہتی بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں۔ خاص طور پر کراچی، گوادر اور پورٹ قاسم کی بندرگاہوں پر کارگو کنٹینرز سے متعلق معاہدہ ازبکستان کے لیے گرم پانیوں تک رسائی کے دیرینہ خواب کو عملی صورت دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جبکہ پاکستان کے لیے یہ معاہدہ وسطی ایشیا تک تجارتی رسائی اور ٹرانزٹ حب بننے کے امکانات کو تقویت دیتا ہے۔
صدر شوکت مرزائیوف اور پاکستانی قیادت کے درمیان ہونے والی انفرادی ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات نے اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کی۔ مشترکہ اعلامیے اور دوطرفہ تجارتی پروٹوکول پر دستخط نہ صرف معاشی تعاون کا واضح لائحہ عمل پیش کرتے ہیں بلکہ اس امر کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ریاستیں مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ باہمی اعتماد اور عملی تعاون کے ذریعے کرنا چاہتی ہیں۔ اسلام آباد میں تاشقند اسٹریٹ اور بابر پارک کی یادگاری تختیوں کی نقاب کشائی علامتی طور پر اس تاریخی اور ثقافتی رشتے کی تجدید ہے جو صدیوں سے برصغیر اور وسطی ایشیا کو ایک دوسرے سے جوڑے ہوئے ہے۔
حکومتِ پاکستان کی جانب سے پانچ سالہ ایکشن پلان کے اعلان میں یہ پیغام واضح ہے کہ تعلقات وقتی مفادات تک محدود نہیں بلکہ طویل المدتی معاشی شراکت داری کی بنیاد رکھنا مقصود ہے۔ ازبک صدر شوکت مرزائیوف کا یہ بیان کہ پاکستان ازبکستان کا قریبی دوست اور قابلِ اعتماد شراکت دار ہے، محض سفارتی جملہ نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں ایک اسٹریٹجک انتخاب کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں ممالک کا عالمی اور علاقائی امور پر مل کر آگے بڑھنے کا عزم اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مستقبل میں یہ شراکت داری صرف تجارت تک محدود نہیں رہے گی بلکہ سیاسی ہم آہنگی اور سفارتی تعاون میں بھی وسعت اختیار کرے گی۔
افغانستان، پاکستان اور ازبکستان کے مابین مجوزہ ریلوے منصوبہ اس پورے عمل کا ایک مرکزی ستون ہے، جسے دونوں حکومتوں نے وسطی ایشیا اور پاکستانی سمندری بندرگاہوں کے درمیان علاقائی روابط کا ایک اہم محرک قرار دیا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف تجارتی لاگت کم کرنے اور رسد کے وقت کو مختصر کرنے میں مدد دے گا بلکہ خطے میں اقتصادی انضمام اور استحکام کے نئے امکانات بھی پیدا کرے گا۔ ایسے وقت میں جب عالمی سپلائی چینز سیاسی تنازعات اور جغرافیائی کشیدگی کا شکار ہیں، یہ ریلوے منصوبہ علاقائی معیشت کے لیے ایک متبادل اور محفوظ راستہ فراہم کر سکتا ہے۔
سیاسی سطح پر بھی دونوں ممالک کے مؤقف میں ہم آہنگی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے غزہ میں امن کی بحالی، تعمیر نو اور مسئلہ فلسطین کے حل کو دیرپا عالمی امن سے جوڑنا اور کشمیر کے مسئلے کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا، ایک اصولی اور مستقل خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ ازبکستان کی جانب سے علاقائی اور عالمی معاملات میں پاکستان کے ساتھ مل کر چلنے کے عزم کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک نہ صرف معاشی بلکہ اخلاقی اور سیاسی سطح پر بھی مشترکہ قدروں کے حامل ہیں۔
اس دورے کے موقع پر ازبک صدر کو نسٹ اسلام آباد کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ اور پروفیسر شپ دینا اور پاکستان کے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ نشانِ پاکستان پر مبارکباد پیش کرنا، تعلقات کے اس نئے باب کو ایک وقار اور احترام کا رنگ دیتا ہے۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی قیادت، علمی تعاون اور قومی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس کا قیام اس بات کی ضمانت ہے کہ معاہدے محض کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عملی سطح پر پیش رفت کو یقینی بنایا جائے گا۔
مجموعی طور پر پاکستان اور ازبکستان کے درمیان یہ نئی پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا طاقت کی سیاست سے نکل کر معاشی روابط اور علاقائی انضمام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اگر دونوں ممالک طے شدہ اہداف پر مستقل مزاجی سے عمل درآمد کرتے رہے تو نہ صرف دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہوگا بلکہ جنوبی اور وسطی ایشیا ایک نئے اقتصادی بلاک کی صورت میں ابھر سکتا ہے۔ یہ شراکت داری اس امر کی مثال بن سکتی ہے کہ کس طرح تاریخی رشتوں، جغرافیائی قربت اور مشترکہ مفادات کو بروئے کار لا کر قومیں اپنے عوام کے لیے ترقی، استحکام اور خوشحالی کے نئے راستے ہموار کر سکتی ہیں۔