لبرا Libra اسٹار کے بارے میری یہی رائے رہی ہے کہ جب خدا نے دنیا بنائی تو سوچا ہوگا یہ تو سارے پھڈے باز پیدا کر دیے ہیں۔ یہ زمین پر وہاں جھگڑے فساد، دنگا اور خون خرابہ کریں گے۔ وہاں ان کے درمیان کوئی محبت پیار سکون بانٹنے، انصاف اور امن کی بات کرنے والے بھی ہونے چاہیں۔ یوں لبرا کو پیدا کیا گیا۔
گاندھی جی ہوں یا پھر رومی۔۔ دونوں لبرا تھے۔ رومی تیس ستمبر 1207 میں افغانستان کے شہر بلخ میں پیدا ہوئے تھے۔ ٹرکش ادیبہ ایلف شفق کا ان پر لکھا گیا ناول Forty rules Of Love ان بڑے ناولز میں سے ایک ہے جو مجھ پر بیت گیا تھا اور اس ناول نے میری سوچ کو کئی لحاظ سے ایک سو اسی کے زاویے پر بدل دیا تھا۔
حیرت ہوتی ہے رومی کا اثر کئی صدیوں بعد بھی ختم نہیں ہوا۔
ویسے لبرا غلط کام اپنے باپ کے کہنے پر بھی نہیں کرتے۔ میرا بڑا بیٹا لبرا ہے۔ اس وقت وہ چودہ برس کا تھا جب دونوں بیٹے میرے پاس بیٹھے تھے۔ پتہ نہیں مجھے کیا سوجھی اور کہا اگر مجھے کسی دوست نے کبھی کہا آپ کے فلاں بیٹے سے کام ہے تو اسے فون کرکے سفارش کر دو تو میں بڑے بیٹے احمد کو تو نہیں کہوں گا کہ اس نے کام کرنا ہی نہیں ہے۔ ہاں چھوٹے کو کہوں گا تو وہ باپ کے کہنے کو نہیں ٹالے گا۔
احمد نے اپنے فون سے نظریں ہٹائے بغیر مجھے کہا تھا نہیں بابا آپ فون کر دینا، اگر غلط نہ ہوا تو کر دوں گا۔
یہ ہوتا ہے لبرا کا کریکٹر ہوتا ہے کہ غلط کام باپ بھی کہے گا نہیں کریں گے۔ انصاف اور توازن ان کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔
لیکن یاد آیا کہ جب رومی کے مرشد شمس نے اسے کہا جائو شراب خانے میں کچھ وقت گزارو، شرابیوں کے ساتھ رک کر گپیں مارو اور گھر واپسی پر دو وائن کی بوتلیں بھی پکڑے آنا اور چھپا کر بھی نہ لانا تو رومی اپنے مزاج اور کردار کے برعکس مرشد کو انکار نہ کرسکا تھا۔
مرشد کا مقصد رومی کو شہر کے لوگوں کی نظروں میں شرابی ثابت نہیں کرنا تھا کہ پورا شہر دانتوں میں انگلیاں دبا کر حیرت زدہ ہوگیا تھا کہ رومی جیسا نیک انسان شراب خانے میں؟
مرشد شمس کا مقصد رومی کو زعم تقوی سے بچانا تھا کہ اپنے نیک ہونے کا خمار اسے اپنا شکار ہی نہ کر لے۔ وہ ایک انسان ہے اور انسان ہی رہے۔
اس ناول کو پڑھ کر میں نے اپنے اندر موجود کچھ خامیوں کو پہچان کر دور کرنے کی کوشش کی تھی اور بڑی حد تک کامیاب رہا تھا۔۔ ایک بڑا سبق تو یہ تھا خود کو دوسروں سے زیادہ نیک نہ سمجھا کرو۔ نیک سمجھ کر فتوے بھی نہ دیا کرو کیونکہ جس کے ذہن میں یہ فتور ہو یازعم بھر جائے کہ وہ دوسروں سے نیک انسان ہے اور باقی اس سے کم تر، برے یا گناہگارہیں تو اس سے زیادہ خطرناک مخلوق اور خداکے نزدیک ناپسندید اور کوئی نہیں ہوسکتا۔