Saturday, 26 November 2022
  1.  Home/
  2. Zulfiqar Ahmed Cheema/
  3. Pakistan Ka Aik Gumnaam Mohsin (3)

Pakistan Ka Aik Gumnaam Mohsin (3)

جناب محمد اسد لکھتے ہیں، "اِدھرانگریز حکمرانوں کے حکم پر ہندوستان بھر میں جرمن اور آسٹرین پاسپورٹ رکھنے والوں کی گرفتاریاں شروع ہوگئیں اور اسی پکڑ دھکڑ میں مجھے بھی گرفتار کرلیا گیا۔

نازیوں کے بارے میں میرے شدید مخالفانہ نظریات کسی سے مخفی نہیں تھے مگر کسی نے اس طرف توجہ نہ دی اور مجھے احمد نگر کیمپ میں بھیج دیا گیا جہاں میں واحد مسلمان قیدی تھا۔ جرمن قیدیوں میں زیادہ تر نازیوں کے حامی تھے، اُن سے ہماری توتکار اور لڑائی جھگڑے بڑھنے لگے تو ہماری درخواست پر ہمیں علیحدہ بیرک میں منتقل کردیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد مجھے ریڈ کراس کے ذریعے معلوم ہوا کہ میرے والد اور بہن نازی جرمنی کے قیدیوں کے کیمپوں (Concentration Camps)میں ہی ظلم و ستم کا نشانہ بنتے رہے اور بالآخر وہیں جان سے ہار گئے۔

میں چھ سال تک مختلف کیمپوں میں قید رہا۔ ہندوستان کے بہت سے بااثر مسلمان میری رہائی کے لیے کوششیں کرتے رہے مگر ان کی کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں۔ دسمبر 1945 میں مجھے رہائی ملی اور میں سیدھا جمال پور چوہدری نیاز علی کے فارم ہاؤس پر گیا جہاں میری بیوی اور بیٹا طلال چھ سال سے میرا انتظار کررہے تھے۔ چند دنوں بعد میں اپنی فیملی کے ساتھ جمال پور کے قریب ہی ایک سرد مقام ڈلہوزی شفٹ ہوگیا۔

وہیں سے میں نے عرفات، کے نام سے اپنے رسالے کا اجراء کیا۔ عرفات نام میں نے اس لیے پسند کیا کہ سب سے پہلے اسی نام کے میدان میں مختلف علاقوں کے لوگ ایک لباس میں جمع ہوئے جہاں رسول کریمﷺنے رنگ نسل اور قبیلے وغیرہ کے تمام امتیازات ختم کرکے اُمّۃ الواحد یعنی ایک مسلم قوم کا تصور دیا۔"

پھر لکھتے ہیں، "مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک پاکستان، کے لیے تحریک زوروں پر تھی۔ میں نے عرفات، میں "پاکستان کیسا ہوگا" کے موضوع پر (انگریزی میں) مضامین لکھنے شروع کیے تاکہ پڑھے لکھے طبقے میں پاکستان کے حق میں فضا ہموار کی جائے۔

مئی 1947کے شمارے میں مرکزی مضمون کا عنوان تھا "What do you mean by Pakistan" (پاکستان کا مطلب کیا؟) اس میں وضاحت کی گئی تھی کہ " پاکستان کا مطلب مسلمانوں کے لیے زیادہ نوکریاں یا صرف معاشی مواقعے نہیں بلکہ اس کا مطلب ہے کہ دنیا میں ایک ہزار سال بعد ایک اسلامی مملکت قائم ہونے جارہی ہے۔" عرفات، کے پرچے اور میرے مضامین ہندوستان کے مسلمانوں میں بہت مقبول ہوئے۔

آزادی کا اعلان ہوا تو ہمیں پورا یقین تھا کہ ڈلہوزی سمیت پورا ضلع گورداسپور پاکستان کا حصہ بنے گامگر جب ہندو سپرنٹنڈنٹ پولیس نے میونسپل کمیٹی کے دفتر پر بھارت کا جھنڈا لہرایا تو ہمارا ماتھا ٹھنکا اور جب معلوم ہوا کہ ماؤنٹ بیٹن کے کہنے پر باؤنڈری کمیشن نے بدترین بددیانتی کا مظاہرہ کیا ہے اور گورداسپور ہندوستان کو دے دیا ہے تو پھر ہماری امیدوں پر اوس پڑگئی۔ دوسرے شہروں کی طرح ڈلہوزی میں بھی مسلمانوں پر حملے شروع ہوگئے۔ ایک دو روز تو راتوں کو جاگ کر اپنی حفاظت خود کرتے رہے، پھر ایک ملٹری کانوائے کے ساتھ وہاں سے روانہ ہوئے اور بحفاظت لاہور پہنچ گئے۔

"جواہر لال نہرو نے (جس کے پاس دفاع کا قلمدان تھا) مسلمان فوجی یونٹوں کو مغربی پاکستان سے جنوبی ہندوستان تبدیل کرادیا تھا جس سے مسلمان مہاجرین تحفظ سے محروم کردیے گئے۔ لاہور پہنچ کر مجھے چوہدری نیاز علی اور ان کے کنبے کی فکر لاحق ہوئی۔ حسنِ اتفاق سے لاہور کی ٹرانسپورٹ کا عارضی چارج ڈاکٹر محمد اقبالؒصاحب کے ایک معتقد خواجہ عبدالرحیم کو ملا، وہ مجھے جانتے تھے۔

اس لیے میں نے ان سے مل کر جمال پور والوں کو لاہور لانے کی بات کی تو انھوں نے مجھے تین بسیں دیں جنھیں لے کر میں پُر خطر مشن پر جمال پور روانہ ہوگیا۔ اﷲ نے جس طرح جمال پور پہنچایا اور وہاں سے جس طرح ہم چوہدری نیاز علی، مولانا مودودیؒ اور ان کے کنبوں اور عزیزوں کو بسوں کے ذریعے بحفاظت لاہور لانے میں کامیاب ہوئے یہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا، یہ ایکmission impossible (ناممکن)لگتاتھا، جو صرف اﷲ کی خاص رحمت سے مکمل ہوا۔ نئے ملک میں اُس وقت ایک عجیب فضاء تھی، جس میں قربانی، جذبے اور ولولے بھی تھے اور ہرس، ہوس اور دھوکے بازی بھی تھی۔

گورنر جنرل محمد علی جناح صاحب نے ایک باکردار اور دردِدل رکھنے والے انسان نواب افتخار حسین ممدوٹ کو سب سے بڑے صوبے پنجاب کا وزیرِاعلیٰ مقرر کیا۔ لوگوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی کے پیشِ نظر وزیرِاعلیٰ نے مجھ سے رابطہ کیا اور ان کے کہنے پر میں نے ریڈیو پاکستان پر تقاریر کا سلسلہ شروع کیا تاکہ لوگوں کی مایوسی دور کی جائے اور ان کا حوصلہ بڑھایا جائے۔

نواب آف ممدوٹ اپنی جاگیر ہندوستان میں ہی چھوڑ آئے تھے اور لاہور میں ایک درمیانے سے گھر میں رہائش پذیر ہوگئے تھے۔ آزادی کے دو ماہ بعد ایک روز ممدوٹ صاحب نے مجھے اپنے دفتر بلایا اور کہا کہ "اسد صاحب جس نظریے کی بنیاد پر پاکستان بنا ہے، آپ بھی اس بارے میں لکھتے رہے ہیں مگر اب عمل کا وقت آگیا ہے۔" میں نے کہا، نواب صاحب! مرکزی حکومت تو مہاجرین کی آبادکاری کے مسائل میں پھنسی ہوئی ہے، لیکن آپ کو ہی آغاز کر دینا چاہیے، نواب ممدوٹ نے اتفاق کیا اور وہیں "Department of Islamic Reconstruction" کے قیام کا فیصلہ ہو گیا جس کا سربراہ مجھے (محمد اسد کو) مقرر کیا گیا۔

محمد اسد مزید بتاتے ہیں کہ "جنوری1948میں مجھے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان نے بلایا اور کہا، "آپ مڈل ایسٹ کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں اور عربی زبان پر بھی عبور رکھتے ہیں، ہمیں ایسے شخص کی وزارتِ خارجہ میں ضرورت ہے لہٰذا آپ کی خدمات کچھ عرصے کے لیے فارن آفس کے سپرد کی جائیں تو آپ کو اعتراض تو نہیں ہوگا۔" ان کے کہنے پر میں وزارتِ خارجہ میں شامل ہوگیا جہاں مجھے مڈل ایسٹ ڈیسک کا انچارج بنادیا گیا۔

میں نے پاکستان کی گلف پالیسی پر ایک نوٹ سیکریٹری خارجہ کو بھیجا۔ سیکریٹری خواجہ اکرام اللہ نے اُس پر ناراضی کا اظہار کیا کہ آپ نے حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ میں اپنے موقف پر قائم رہا۔ بہرحال انھوں نے میرا نوٹ وزیرِ خارجہ ظفراللہ خان کو بھیج دیا۔ وریرِ خارجہ نے کوئی اعتراض کیے بغیر میرا نوٹ اسی طرح وزیرِ اعظم کو بھیج دیا۔ وزیرِ اعظم لیاقت علی خان نے چند روز بعد مجھے کراچی بلالیا۔

میں نے مجوزہ بغداد پیکٹ کو پاکستان کے لیے نقصان دہ قرار دیا اور اس کے بجائے "لیگ آف مسلم نیشنز" قائم کرنے کی تجویز دی۔ لیاقت علی خان نے بڑے کھلے دل سے میرے ساتھ تبادلہء خیال کیا اور میری سخت باتیں حوصلے کے ساتھ سنیں۔ کچھ دنوں بعد پرائم منسٹر نے مجھے ایک سرکاری وفد کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ جانے کا عندیہ دیا اور یہ بھی کہا کہ "عرب ملکوں کی قیادت سے لیگ آف مسلم نیشنز کے بارے میں تبادلہ خیال کریں اور ان کی رائے جاننے کی کوشش کریں۔" میں نے خوشی خوشی اس عرب دنیا میں جانے کی تیاری شروع کردی جہاں میں اٹھارہ سال پہلے رہ کر آیا تھاجس سے میرا جذباتی رشتہ تھا اور جہاں میرے ذاتی دوست بھی بہت تھے۔

مگر پھر پاسپورٹ کا مسئلہ آن پڑا کیونکہ میرے پاس آسٹریا کا پاسپورٹ تھا۔ میں نے پاسپورٹ آفیسر کو بلا کر پاسپورٹ بنانے کو کہا تو اس نے پوچھا Nationality کے خانے میں کیا لکھوں؟ میں نے کہا، پاکستانی۔ اس نے کہا، سر پاکستانی سٹیزن شپ بل اسمبلی میں زیرِبحث ہے، اس لیے پاکستانی شہری کی تعریف ابھی طے ہونا باقی ہے، اس وقت تک ہم سب کو British subject کا درجہ دے رہے ہیں۔ میں نے اس پر ناراضی کا اظہار کیا کہ نہیں میں برطانوی شہری کہلانا پسند نہیں کروں گا۔ ویسے مجھے پاسپورٹ بنتا نظر نہیں آ رہا تھا، لہٰذا مجھے یہ مسئلہ وزیرِ اعظم کے نوٹس میں لانا پڑا۔

وزیرِاعظم نے فورا پاسپورٹ آفیسر کوطلب کیا اور حکم دیا کہ محمد اسد کی نیشنلٹی کے خانے میں لکھو "پاکستانی سٹیزن۔"اس طرح مجھے پہلے پاکستانی شہری کے طور پر پاکستانی پاسپورٹ حاصل کا اعزاز حاصل ہوا"۔ انھی دنوں جواہر لال نہرو نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور وہاں ہندوستان کا سفارت خانہ قائم کردیا، لہٰذا پاکستان میں محسوس کیا جانے لگا کہ عربوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں بھارت پاکستان سے آگے نکل گیا ہے۔

اسی ضمن میں محمد اسد کو ایک وفد (جس کے سربراہ مولوی تمیزالدین خان، اسپیکر قانون ساز اسمبلی تھے) کے ساتھ عرب ممالک کے دورے پر بھیجا گیا۔ وفد کے ارکان نے اپنے مضامین میں یہ تسلیم کیا کہ "سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانہ قائم کرنے، تعلقات کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے اور نہرو کا اثر زائل کرنے میں محمد اسد صاحب کے سعودی حکمرانوں کے ساتھ ذاتی تعلقات نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔"جناب محمد اسد نے مشرقِ وسطیٰ کا دورہ کیا اور پاکستان کا مقدمہ بڑی کامیابی کے ساتھ پیش کیا۔

کچھ عرصہ بعد انھیں اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمایندے کے طور پر نیویارک بھیج دیا گیا۔ مگر وہاں ان کی مستقل مندوب احمد شاہ بخاری(پطرس) سے نہ بن سکی اور وہ بد دل ہو کر یورپ چلے گئے۔ کئی ملکوں میں رہنے کے بعد انھوں نے اسپین میں مستقل سکونت اختیار کی۔ ایک بار جنرل ایوب خان اور پھر جنرل ضیاء الحق کی دعوت پر علّامہ اسد چند دنوں کے لیے پاکستان تشریف لائے۔ 1992 میں یہ عظیم مسلم اسکالر اور پاکستان کا محسن اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا اور غرناطہ کے چھوٹے سے قبرستان میں مدفون ہوا۔ اﷲ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائیں۔ (آمین)