"فوجیوں کی شہادت کو بار بار اجاگر کیا جاتا ہے، لیکن وہ ملک کے دفاع کے لیے تنخواہ دار ملازم ہیں"۔ بظاہر مولانا علامہ زیرک سیاستدان کہلانے والا شخص جو الفاظ بول رہا ہے اس کا آسان مفہوم یہ ہے کہ سیکیورٹی فورسز ملک کی حفاظت کے لیے معاوضہ وصول کرتی ہیں لہذا ان کی شہادت ھم پر کوء احسان نہیں؟ انسان کی زبان اسے کسی عمر میں بھی ایکسپو ز کرکے دم لیتی ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول مبارک ہے "انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہے"۔
اقتدار، پاور اور پارٹیاں آتی جاتی رہتی ہیں، حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں، لیکن جو لوگ ملک و قوم کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں، ان کا رتبہ بہت بلند ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص یا گروہ اپنے سیاسی فائدے یا غصے کی وجہ سے شہدا کی قربانیوں کو متنازع بناتا ہے، تو وہ کسی اور کا نہیں بلکہ اپنی۔ اوقات ایکسپوز کرتاہے۔ پاور یا شہرت کا چھن جانا انسان کے لیے ایک بہت بڑا نفسیاتی دھچکا ہوتا ہے نفسیات کی زبان میں اسے "Syndrome Post-Power" یا شدید ذہنی صدمہ کہا جا سکتا ہے۔ جب ایک انسان عروج سے زوال کی طرف آتا ہے، تو اس کی ذہنی کیفیت ویسی ہو جاتی ہے جیسی آجکل پاور چھن جانے والے افراد کی ہو چکی ہے۔
سیاست میں اقتدار حاصل کرنے یا اسے برقرار رکھنے کے لیے اکثر مقتدر حلقوں کی حمایت کو ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ جب تک مفادات کا ملاپ رہتا ہے اور اقتدار محفوظ رہتا ہے، تب تک تعریفوں کے پُل باندھے جاتے ہیں اور ہر اقدام کو درست قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ پاور ہاتھ سے نکلتی ہے یا سیاسی پوزیشن تبدیل ہوتی ہے، تو وہی تعریفیں شدید تنقید اور مخالفت میں بدل جاتی ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کو اپنی عوامی مقبولیت برقرار رکھنے یا دوبارہ اقتدار میں آنے کے لیے ایک مضبوط بیانیے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب وہ اپوزیشن میں یا دباؤ میں ہوتے ہیں، تو وہ خود کو مظلوم ثابت کرنے اور عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے ہر اس قوت کو نشانہ بناتے ہیں جو ان کے خیال میں ان کی بے دخلی کی ذمہ دار ہے۔
اس عمل میں اکثر سیاسی گرما گرمی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اخلاقی حدود پامال ہونے لگتی ہیں۔ کسی بھی قوم کے لیے اس کے شہدا اور دفاعی ادارے ایک انتہائی حساس اور جذباتی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن جب سیاست دان یا ان کے حامی شدید مایوسی، غصے یا انتقام کی آگ میں جل رہے ہوں، تو وہ اس حساسیت کو بھول جاتے ہیں۔ اپنے مخالفین کو نیچا دکھانے کے چکر میں، شعوری یا لاشعوری طور پر، ایسی باتیں یا مذاق کر دیے جاتے ہیں جو براہِ راست شہدا کی قربانیوں کی توہین کا باعث بنتے ہیں۔ یہ دراصل سیاسی پسماندگی اور اخلاقی دیوالیہ پن کی انتہا ہے۔
پاور ختم ہونے کا صدمہ اور غصہ انسان سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لیتا ہے اور وہ یہ بھول جاتا ہے کہ جن شہدا کا وہ مذاق اڑا رہا ہے، انہوں نے اسی مٹی کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں دی ہیں۔ پاور اور شہرت انسان کو ایک ایسے دھوکے میں مبتلا کر دیتی ہے جہاں اسے لگتا ہے کہ اس کا یہ عروج کبھی ختم نہیں ہوگا۔ جب روزانہ سینکڑوں لوگ آپ کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوں اور آپ کی ہاں میں ہاں ملائیں، تو آہستہ آہستہ دماغ سے یہ بات محو ہو جاتی ہے کہ یہ سب کچھ عارضی ہے۔ اقتدار کا نشہ انسان کو حال میں ایسا قید کرتا ہے کہ اسے اپنا انجام نظر ہی نہیں آتا۔
جب انسان ہر چیز کو اپنے اشارے پر بدلتے دیکھتا ہے، تو اس کی انا اتنی بڑی ہو جاتی ہے کہ وہ خود کو عام انسانوں سے برتر اور قوانینِ قدرت سے ماورا سمجھنے لگتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ موت عام لوگوں کے لیے ہے، وہ تو کوئی "خاص" مخلوق ہے۔ صاحبِ اقتدار اور مشہور شخصیات کے گرد اکثر ایسے لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے جو اپنے مفادات کے لیے ان کی ہر غلط بات کو بھی صحیح کہتے ہیں۔ یہ خوشامدی لوگ انسان کو کبھی زمین پر قدم نہیں رکھنے دیتے۔ جب کسی کو اپنی برائی یا زوال کا احساس دلانے والا کوئی نہ رہے، تو وہ خود کو ناگزیر سمجھنے لگتا ہے اور یہی فرعونیت کی شروعات ہے۔
پیسہ، طاقت اور شہرت انسان کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے فیصلے کرے اور دوسروں کی زندگیوں کو متاثر کرے۔ یہ 'اختیار' ایک ایسی لت ہے جو انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔ انسان کو لگتا ہے کہ جب وہ دنیا کے بڑے بڑے مسائل اپنی طاقت سے حل کر سکتا ہے، تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ انسان اندر سے جانتا ہے کہ وہ کمزور ہے اور ایک دن مٹ جائے گا۔ اس خوف کا سامنا کرنے کے بجائے، وہ دنیا پر اپنی طاقت کا رعب جما کر خود کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ طاقتور اور لافانی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ سکندرِ اعظم سے لے کر نمرود اور فرعون تک، کسی کی طاقت نے موت کا راستہ نہیں روکا۔ انسان کا المیہ یہ ہے کہ وہ تاریخ سے سبق نہیں سیکھتا، انسان اس عارضی چمک دمک کے جال میں پھنس کر خود کو خدا سمجھنے کی فاش غلطی کربیٹھتا ہے۔