Saturday, 11 July 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Tayeba Zia
  4. Madina Se Baltistan Tak

Madina Se Baltistan Tak

اکثر لوگ پوچھتے ہیں مومنہ چیمہ فاؤنڈیشن سکالرشپ پروگرام پورے ملک میں کام کر رہے تھے۔ پھر گلگت بلتستان اورسکردو سے بھی آگے انتہائی پسماندہ دیہات تک پراجیکٹس پھیلانے کی ضرورت کیوں کر پیش آئی؟ اس سوال کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ ایک عمرہ کے دوران مسجد نبوی میں مجھے کچھ مدینہ یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس ملے۔ ان میں سے ایک سٹوڈنٹ کا نام عبداللہ ناصر شگری تھا اور انہوں نے گزارش کی کہ میڈم آپ ہمارے علاقے میں بھی آئیں۔ وہاں بھی بہت غربت ہے اور وہاں بھی لڑکیوں کو ایجوکیشن سکالرشپ کی ضرورت ہے۔

میں نے ان کے ساتھ حامی بھر لی اور پھر جب میں جون 2021ء میں پاکستان گئی تو سکردو سے عبداللہ شگریُ کی کال آگئی اور سکردو آنے کی دعوت دی۔ میں زندگی میں گلگت بلتستان کبھی گئی اور نہ ہی گلگت کے علاوہ کسی شہر کے نام سے آشنا تھی۔ خاص طور پر شگر نام پہلی بار سنا تھا۔ لیکن مسجد نبوی میں کیا وعدہ سبب بنا اور امریکہ سے آئی اکیلی عورت انجان خطہ میں اجنبی لوگوں کے پاس چل دی۔ 2021ء گرمیوں میں جبکہ دنیا ابھی تک کرونا وائرس کا شکار تھی۔

میں نے لاہور سے سکردو کی فلائٹ لی، بلند و بالا پہاڑوں کا نظارہ کرتے ہوئے ایک گھنٹہ بعد سکردو ائیر پورٹ لینڈ کر گئی۔ باہر نکلی تو مدینہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل عبداللہ شگری اپنی اہلیہ اور ننھے بچوں کے ہمراہ پھول اٹھائے کھڑے تھے۔ عبداللہ نے کرائے کی گاڑی لی اور اپنے چھوٹے سے گھر میں لے گیا۔ گھر کے حالات بتا رہے تھے کہ پورا ہفتہ رہنے کی آرزو دم توڑ دے گی۔ نہ انگریزی ٹائلٹ تھا نہ دیگر بنیادی سہولت۔ ان کے کلچر میں خاندان سردیوں میں کچن میں زمین پربستر لگا کر سوتے ہیں۔ ایک کمرے میں بیڈ رکھا تھا جو مجھے دے دیا گیا۔

سرد علاقوں کے چھوٹے بند گھروں میں بستروں اور گھر سے مخصوص بو آتی ہے۔ سرد علاقوں میں سفید پوش لوگوں کیبہت مسائل ہوتے ہیں۔ رات جیسے تیسے گزری، اگلے روز ضلع شگر جانا تھا۔ شگر میں عبداللہ کا آبائی گاؤں تھا۔ رات بھر میرے دماغ میں ٹوائلٹ کی تکلیف کا بوجھ رہا۔ سکردو شہر کیبازار سے گزرتے ہوئیعبداللہ شگری کو کموڈ خریدنے کی ہدایت دی۔ عبد اللہ نوجوانی میں شگر سے مدینہ یونیورسٹی چلا گیا تھا۔ انگریزی ٹائلٹ بھی اس نے سعودی عرب میں دیکھا تھا۔ سمجھ گیا اور ہم انگریزی ٹائلٹ گاڑی میں رکھے ڈیڑھ گھنٹے میں شگر ٹاؤن پہنچ گئے۔

تمام راستے اس قدر حسین وادیاں تھیں کہ سفر کا احساس ہی نہیں ہوا۔ شگر ٹاؤن سے آدھ گھنٹہ مزید مسافت کے بعد چھورکا یونین کونسل شروع ہوگئی اور قریب ہی عبداللہ کاگاؤں گمبہ کھور آگیا۔ منظر انتہائی دلکش تھا۔ تقریباََ ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد میں ضلع شگر پہنچی۔ اس کے گاؤں پہنچے۔ عبداللہ اپنے خاندان کے ہمراہ مقیم تھا جبکہ اہلیہ کی جاب کے سلسلے میں سکردو میں بھی چھوٹا سا ٹھکانہ بنا رکھا تھا۔ ضلع شگر زرخیز علاقہ ہے۔ یہاں لوگوں کا پیشہ کاشتکاری اور گلہ بانی (بکریاں چرانا) ہیں۔ سادہ سے کمرہ اور قریب ہی ایسٹرن لیٹرین تھی۔ اپنے ہمراہ لایا ہوا انگریزی ٹوائلٹ اسی بیت الخلا میں رکھ دیا گیا۔ مزید تبصرہ بے معنی ہے۔ تکلیف بدستور موجود رہی۔ اب مسئلہ پانی کا شروع ہوتا ہے۔ بالٹی میں پانی لایا گیا تو دیکھ کر رہی سہی حالت بھی بدتر ہوگئی۔ گرد آلود مٹیالا رنگ کا گندا پانی بیت الخلا میں بھی استعمال کے قابل نہیں تھا۔ کجا یہاں کے عوام یہ پانی پیتے تھے؟ یہ جان کر مجھ پر جیسے سکتہ طاری ہوگیا۔

ذرا سوچیئے شگر ٹاؤن میں سرینا فورٹ ہوٹل بھی موجود تھا جہاں تمام سہولیات میسر تھیں مگر میرے ضمیر نے مجھے اجازت نہ دی اور میں نے ایک ہفتہ اسی گاؤں کے کمرے، پانی اور ماحول میں گزارا۔ برتن میں پانی ڈالتے مٹی نیچے بیٹھ جاتی تو اوپر سے پانی استعمال کرنا مجبوری تھا۔ مجھے اس ایک ہفتہ میں جہاں قدرتی نظاروں نے متاثر کیا وہاں ان حسین وادیوں کے مکینوں کی سفید پوشی اور بنیادی ضروریات سے محرومیوں نے رُلا دیا۔

میرے ضمیر نیانہیں اس حال میں چھوڑ کر جانے کی اجازت نہ دی۔ نیویارک سے مدینہ اور لاہور سے بلتستان شگر تک کے سفر کا روحانی پس منظر سمجھ آنے لگا۔ صاف پانی انسان کے جینے کی بنیادی ضرورت ہے۔ لوگ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ گلگت بلتستان دریا چشموں آبشاروں جھیلوں کا خطہ ہے پھر پانی کا کیا مسئلہ ہو سکتا ہے؟ تو اس کو سمجھنے کے لئے مقامی دیہات کے اندر سفر کرنا ہوگا۔ سیاح باہر کی قدرت اور اعلیٰ ہوٹلوں کے قیام سے لطف اندوز ہو کر لوٹ جاتے ہیں مگر گلگت بلتستان کی مقامی زندگی اور پسماندگی کا مشاہدہ اور فلاحی خدمات کم لوگوں کو ہی نصیب ہے۔

گلگت اور بلتستان دو الگ خطے، زبانیں اور کلچر ہے۔ گلگت کے چار آضلاع ہیں اور گلگت ہنزہ کے علاقوں میں آغا خان فاؤنڈیشن ایسی چند تنظیموں نے ان علاقوں کو بنیادی سہولیات دے رکھی ہیں جبکہ بلتستان بھی چار اضلاع پر مشتمل ہے مگر قدرے پسماندہ حالات سے دوچار ہے۔ ان علاقوں میں جہاں مٹی کے پہاڑ ہیں گرمیوں میں جب برف کے گلیشئرز پگھلتے ہیں تو اپنے ساتھ مٹی ریت بہا لاتے ہیں، دیہات کے لوگ ندی نالوں کے اس پانی کو زیر زمین کنواں کھود کر جمع کر لیتے ہیں تا کہ گندگی نیچے بیٹھ جائے اور رسی اور ڈول کی مدد سے اوپر سے پانی نکال کر کھانے پینے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

سردیوں میں برف کے منجمند پہاڑوں سے یہ گدلا پانی بھی نصیب نہیں ہوتا۔ تقریباََ پورا بلتستان ہی اس صورتحال سے دوچار ہے۔ مٹیالے گندے پانی کے سبب پیٹ اور گردوں ایسی بیماریاں بھی عام ہیں۔ پہلا ہفتہ گزارنے کے بعد لاہور واپسی پر ہم نے شگر کی صورتحال مومنہ چیمہ فاؤنڈیشن بورڈ کے سامنے رکھی۔ بورڈ نے فیصلہ کیا کہ شگر میں میڈیکل کیمپ لگایا جائے اور پانی کا اصل مسئلہ حل کرنے کی بھی کوشش کی جائے۔ لہذا اسی سال ایک ماہ بعدبچوں کے سرجن ڈاکٹر خالد چودھری، جلد کی ماہر ڈاکٹر تنزیلہ خالد اور امریکی بورڈ کے کوالیفائیڈ ماہر امراض ڈاکٹر تاثیر چیمہ پر مشتمل ٹیم شگر پہنچ گئی۔

دو روزہ میڈیکل کیمپ میں جوق در جو ق مریض آئے، فری ادویات دی گئیں۔ ڈاکٹروں کی ٹیم نے بتایا کہ معدے کے امراض کے مریضوں کی تعداد 80فیصد تھی جس کا سبب فقط گندا پانی ہے۔ صاف پانی مہیا کرنے کو اولین ترجیح بنائی جائے اور یوں بلتستان ضلع شگر کے چھورکاہ ٹاؤن کے دیہات میں زیر زمین بورنگ کرانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ مجھے سکردو یونیورسٹی میں تعلیمی وظائف دینے کے لئے بلایا گیا تھا جبکہ ایجوکیشن سے بھی زیادہ جو چیز ضروری ہے وہ ہے صاف پانی۔ ان لوگوں کو تو صاف پانی میسر نہیں تو ایجوکیشن کی کیا بات کریں۔

پہاڑی علاقہ ہے پہاڑی علاقے میں تقریباً دو ڈھائی سو فٹ گہرا بورنگ کرواتے ہیں تو صاف پانی میسر آسکتا تھا۔ تو ہم وہ پہلے لوگ ہیں جنہوں نے ان کو صاف پانی دیا پہلا بور ہم نے عبداللہ ناصر شگری کے گاؤں میں کروایا۔ وہ کامیاب ہوا، پانی گلگت لیب سے بھی ٹیسٹ کرایاگیا۔ دنیا بہت خوش ہوئی لوگوں نے صدیوں بعد سفید صاف پانی پیا اور یوں یہ سلسلہ چل نکلا اور اس وقت جولائی 2026ء میں جب یہ تحریر رقم کر رہی ہوں، تقریباََ 15 کنویں یعنی بورنگ کروا چکے ہیں، ایک کنویں سے اطراف تین چار دیہات کی آبادی سیراب ہوتی ہے۔

شکرکے علاوہ ضلع گانچھے میں بھی مومنہ چیمہ واٹر پراجیکٹ لگا ئے جا رہے ہیں۔ ضلع شگر گلگت بلتستان کا سب سے بڑا ضلع ہے اور سب سے زیادہ برا حال بھی گندے پانی کا اس علاقے میں ہے۔ تو یوں ہم نے خدمت کی غرض سے وہاں ڈیرے جما لیے۔ اس گاؤں میں کلینک تھا نہ صاف پانی اور نہ ہی کوئی اچھا سکول تھا۔ چھوٹے بچے سکول نہیں جاسکتے تو ہم نے کرائے کے کمروں سے سکول کی شروعات کیں، تین سال تک کرائے کے گھر میں سکول چلتا رہا پھر مومنہ چیمہ فائونڈیشن نے نیویارک میں مقیم ڈاکڑ عارف حمید کے عطیہ کی مدد سے پرائمری سکول کی عمارت قائم کر دی۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کے لئے ہم نے گورنمنٹ پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے تحت مومنہ چیمہ پروفیشنل ٹرینگ سینٹر قائم کیا۔

ہماری فاؤنڈیشن قربانی پروجیکٹ کا اہتمام بھی کرتی ہے، ہر سال مقامی کمیونٹی سے ان کے جانور خریدتے ہیں کیونکہ ان کا پیشہ ہی کھیتی باڑی اور مویشی رکھنا ہے تو ان غریب لوگوں سے ہم جانور خریدتے ہیں اور انہی میں گوشت تقسیم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ چھوٹے کاروبار کراتے ہیں۔ دودھ دینے والے جانور بکری دیسی مرغیاں سلائی مشین وغیرہ تا کہ لوگ خود محنت کرکے کمائیں۔ ضلع شگر میں پہلی ایمبولینس بھی مومنہ چیمہ فاؤنڈیشن نے دی۔ چھورکاہ کے دیہات کے لئے پہلا کلینک بھی فاؤنڈیشن نے مہیا کیا۔

ہم نے ایک مدرسہ بھی بنایا ہے جدید طرز کا جس میں سینکڑوں بچے قرآن حفظ کرتے ہیں اور ناظرہ قرآن سیکھتے ہیں۔ اس میں مدینہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل حافظ محمد حسین بہترین تعلیم دے رہے ہیں۔ یونیورسٹی آف بلتستان سکردو میں طالبات کے لئے وظائف کا بھی اجرا ہو چکا ہے۔ خدمت خلق کا جنون لئیے ہم نے اپنا آرام سہولیات لائف سٹائل سب پس پشت ڈال کر امریکہ سے پاکستان پنجاب، خیبر پختونخواہ، بلوچستان، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کیبے دریغ سفر کئیے اور ہنوز سلسلہ جاری ہے الحمد للہ۔