Wednesday, 08 July 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Tayeba Zia
  4. Gham Ko Kamzori Mat Banne Dein

Gham Ko Kamzori Mat Banne Dein

غم کو کمزوری بنانے کی بجائے اپنی طاقت میں تبدیل کرنا انسان کا خود پر سب سے بڑا احسان ہوتا ہے۔ دکھ، صدمہ اور تکلیف انسانی زندگی کا حصہ ہیں، لیکن یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس آگ میں جل کر راکھ ہو جاتے ہیں یا کندن بن کر نکلتے ہیں۔

طاقتور بننے کا پہلا اصول یہ ہے کہ آپ اپنے دکھ کا انکار نہ کریں۔ روئیں، دل ہلکا کریں اور تسلیم کریں کہ آپ تکلیف میں ہیں۔ جذبات کو زبردستی دبانے سے وہ اندر ہی اندر انسان کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ جب آپ غم کو تسلیم کر لیتے ہیں، تو اس کی شدت آپ کو توڑنے کے بجائے آپ کو لچکدار بنانا شروع کر دیتی ہے۔

اولاد کا بچھڑنا ایک ایسا صدمہ ہے جس کا درد صرف وہی دل سمجھ سکتا ہے جس پر یہ گزری ہو۔ ایسے میں ایک دوسرے کا سہارا بننا دکھی ماؤں کے لیے ایک بہترین مرہم ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک مشترکہ سپورٹ گروپ ان ماؤں کے لیے زندگی بدلنے والا ثابت ہو سکتا ہے: ایک محفوظ اور ہمدرد ماحول جہاں مائیں بغیر کسی جھجک، ملامت یا فیصلے کے ڈر کے اپنے جذبات کا اظہار کر سکیں اور دل کا غبار ہلکا کر سکیں۔ عام طور پر اردگرد کے لوگ کچھ وقت بعد اپنی زندگیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں، لیکن ماں کا غم وہیں رہتا ہے۔ گروپ میں رہنے سے انہیں یہ احساس ملتا ہے کہ وہ اس تکلیف میں اکیلی نہیں ہیں۔

مائیں ایک دوسرے کو دیکھ کر حوصلہ پاتی ہیں کہ اس گہرے صدمے کے ساتھ کس طرح جینا ہے اور کس طرح اپنے باقی خاندان اور زندگی کو سنبھالنا ہے۔ اس پلیٹ فارم پر وہ اپنے بچوں کی اچھی یادیں، ان کے خواب اور ان کی باتیں بلا جھجک شیئر کر سکتی ہیں، جس سے بچوں کا ذکر زندہ رہتا ہے اور دل کو سکون ملتا ہے۔ شدید ترین صدمے میں انسان کو لگتا ہے کہ کوئی بھی اس کے درد کو نہیں سمجھ سکتا۔ " جس تن لاگے سو تن جانے "۔۔ جب آپ ایسے گروپ میں بیٹھتے ہیں جہاں دوسرے لوگ بھی اسی راستے سے گزر رہے ہوں، تو یہ احساس ختم ہوتا ہے کہ "میں اس دنیا میں اکیلا ہوں"۔ عام طور پر دوست یا رشتہ دار کچھ عرصے بعد توقع کرنے لگتے ہیں کہ اب آپ کو "نارمل" ہو جانا چاہیے یا "صبر" کر لینا چاہیے۔ سپورٹ گروپ میں کوئی آپ کو جلدی کرنے کا نہیں کہتا۔ وہاں آپ جتنی بار چاہیں اپنے پیارے کا ذکر کر سکتے ہیں اور رو سکتے ہیں۔ یہ سب فطری جذبات ہیں۔

گروپ میں دوسروں کو سن کر یہ تسلی ملتی ہے کہ آپ کے یہ تمام احساسات غیر فطری نہیں ہیں، بلکہ غم کا ایک حصہ ہیں۔ سپورٹ گروپ کسی پیشہ ور ماہرِ نفسیات کا متبادل نہیں ہوتا، لیکن یہ ایک ایسا جذباتی سہارا اور "برادری" فراہم کرتا ہے جو دنیا کا کوئی دوسرا رشتہ یا دوا فراہم نہیں کر سکتی۔ دکھ بانٹنے سے ہمیشہ ہلکا ہوتا ہے۔ غم میں ایک زبردست توانائی ہوتی ہے۔ اگر اس توانائی کو بے مقصد چھوڑ دیا جائے تو یہ انسان کو ڈپریشن کی طرف لے جاتی ہے، لیکن اگر اسے کسی عظیم مقصد سے جوڑ دیا جائے تو یہ دنیا بدل سکتی ہے۔

اپنے دکھ کو دوسروں کے کام آنے کا ذریعہ بنائیں۔ کسی ایسے منصوبے، فاؤنڈیشن، یا فلاحی کام کا آغاز کریں جو دوسروں کو اس تکلیف سے بچائے جس سے آپ گزرے۔ جب آپ دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں، تو آپ کے اپنے زخم سب سے پہلے بھرتے ہیں۔ دنیا کا بہترین ادب، شاعری، فن اور فلسفہ گہرے غم کے بطن سے پیدا ہوا ہے۔ اپنے اندر کے طوفان کو الفاظ دیں، ڈائری لکھیں، قلم اٹھائیں، یا کسی بھی مثبت تعمیری کام میں مصروف ہو جائیں۔ صدمے کی توانائی جب تخلیق میں بدلتی ہے، تو وہ لافانی بن جاتی ہے۔ غم انسان کو زندگی کے عارضی ہونے کا احساس دلاتا ہے۔

یہ احساس انسان کو سطحی چیزوں (جیسے کہ غرور، لالچ یا چھوٹی چھوٹی رنجشوں) سے دور کرکے گہرا بنا دیتا ہے۔ اپنے اندر شکر گزاری اور صبر کا مادہ پیدا کریں۔ جب آپ مشکل ترین وقت سے گزر کر کھڑے ہوتے ہیں، تو آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ آپ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں۔ اپنی کہانی خود لکھیں، مظلوم نہ بنیں۔ یہ سوچنے کے بجائے کہ "میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا؟"، یہ سوچیں کہ "اس تجربے نے مجھے کیا سکھایا اور اب میں آگے کیسے بڑھ سکتا ہوں؟"۔ خود پر ترس نہ کھائیں۔