Sunday, 08 February 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Tayeba Zia
  4. Dehshat Gardi Ki Nai Lehr

Dehshat Gardi Ki Nai Lehr

ایک ایسے وقت میں جب دو برادر ممالک تاجکستان اور ازبکستان کے ساتھ معاشی معاہدے ہو رہے ہیں، کیپٹل میں خود کش حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن دس مئی کے زخم چاٹ رہا ہے۔ شکست کا بزدلانہ کارروائیوں سے بدلہ لے رہا ہے۔ پاکستان کا ازلی دشمن بھارت افغانستان کے ذریعے حملے کرا رہا ہے۔ پاکستان سے کرائے کے حملہ آوروں کو پڑوسی ملک میں تربیت اور اسلحہ دیا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کا ماضی دہرایا جا رہا ہے۔ دشمن سے پاکستان کی عزت اور ترقی برداشت نہیں ہو پارہی۔

لاہور میں بیس برس بعد بسنت تہوار سے دنیا بھر میں سافٹ امیج اور امن کا جو پیغام وائرل ہو رہا تھا دشمن کو پاکستانیوں کی خوشی ہضم نہیں ہو سکی۔ یہ ملک دو دہائیوں سے دہشت گردی کی آگ میں جھلس رہا تھا، دشمن نے اندرون بیرون ملک ہر طرح سے پاکستان کی افواج کو انگیج کر رکھا تھا، برسوں بعد کچھ ریلیف ملا تھا کہ دشمن کو دس مئی کی شرمناک شکست نے زخمی سانپ بنا دیا ہے۔ وہ پاکستان کے اندر باہر سے سازشیں اور دہشت گردی کرا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکہ ایران کشیدگی کے تناظر میں بھی پاکستان کو متنازعہ صورتحال میں دھکیلنے کی سازش کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام آباد اہل تشیع امام بارگاہ اور بلوچستان پر حملیبھی اس کی واضح کڑیاں ہیں۔ المختصر دشمن پڑوسی ملک کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ طریقہ واردات پچیس سال پرانا ہے اور پاکستان اس مکروہ جنگ میں لاکھوں جانوں کے نذرانے پیش کر چکا ہے۔ حالیہ برس حملوں میں بھی ہزاروں شہادتیں ہو چکی ہیں۔

پاکستان چاروں اطراف سازشوں میں گھرا ہوا ہے۔ حاسدین کو ملک کی معاشی ترقی ہضم نہیں ہو رہی۔ ملک کو پھر سے فرقہ واریت میں تقسیم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ صدرِ ترک نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کو روکنے کیلئے بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ ادھر امریکہ پاکستان کو بطور ثالثی استعمال کرنے کے موڈ میں ہے۔ پاکستان کواندرونی بیرونی مختلف محاذوں پر حکمت عملی کا ثبوت دینا ہوگا۔ سب سے پہلے پاکستان ہے۔ عوام کو بھی ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ دشمن کی چال سمجھ جائیں، باہمی سیاسی اختلافات ختم کریں اور پاک افواج کا آہنی بازو بنیں۔

اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں خودکش حملے میں شہادتوں نے ملک بھر کو سوگوار بنا دیا ہے۔ واقعہ نائن الیون کے بعد افغان جنگ کے رد عمل میں پاکستان میں دہشت گردی کی جس ہولناک لہر نے بیس برس تباہی مچائی، حالیہ بلوچستان اور اسلام آباد کے سانحات نے پھر سے دہشت گردی کی یاد تازہ کر دی ہے۔۔

اس خود کش حملے کے ایک عینی شاہد نے میڈیا کوبتایا کہ وہ جمعے کی نماز کی ادائیگی کے لیے امام بارہ گاہ میں واقع مسجد کی طرف جا رہے تھے کہ انھوں نے دیکھا کہ دو افراد نے، جن کے پاس جدید اسلحہ موجود تھا، امام بارگاہ کے مرکزی دروازے پر سکیورٹی پر مامور افراد پر فائرنگ شروع کر دی۔ انھوں نے کہا کہ فائرنگ کے نتیجے میں سکیورٹی پر مامور دو افراد گولیاں لگنے کی وجہ سے نیچے گر گئے جبکہ تیسرے نے جوابی فائرنگ کی۔ انہوں نے کہا کہ جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ایک حملہ آور وہاں سے فرار ہو کر گلیوں میں چھپ گیا جبکہ دوسرے خودکش حملہ آور نے فائرنگ جاری رکھی۔

خودکش حملہ آور سکیورٹی کی فائرنگ کے نتیجے میں سکیورٹی پر مامور تیسرا شخص بھی زخمی ہو کر نیچے گر گیا تاہم اس کے باوجود اس نے فائرنگ جاری رکھی۔ خودکش حملہ آور امام بارگاہ کے اندر داخل ہوا جبکہ جو شخص نیچے گرا ہوا تھا اس کی فائرنگ کے نتیجے میں کچھ گولیاں خودکش حملہ آور کو بھی لگیں جس کے بعد وہ نیچے گرا اور ایک زبردست دھماکہ ہوا۔ امام بارگاہ کے مرکزی دروازے کے اندر جا کر جس جگہ پر حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑایا وہاں پر کافی سارے لوگ مسجد کی طرف جا رہے تھے۔

عینی شاہدین کاکہنا تھا کہ امام بارگاہ کے اندر واقع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ اگر خودکش حملہ آور اس مسجد میں پہنچ جاتا تو اس سے بھی زیادہ نقصان ہونے کا خدشہ تھا۔