Sunday, 08 February 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  4. May 2025 Ki Pak Bharat Fauji Jharap

May 2025 Ki Pak Bharat Fauji Jharap

مئی 2025ء میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی فوجی جھڑپ کو اگر محض اس سوال میں سمیٹ دیا جائے کہ "کون جیتا" تو یہ تنازع اپنی اصل پیچیدگی کھو دیتا ہے۔ ایسے بحرانوں میں فتح کا تصور میدانِ جنگ کے چند مناظر، تباہ شدہ اہداف یا وقتی عسکری برتری تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کا تعلق اس بات سے جڑ جاتا ہے کہ کشیدگی کہاں رکی، کن حدود میں رہی، کن راستوں کو بند یا کھلا چھوڑ گئی اور عالمی نظام نے اسے کس نظر سے دیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ دی اکانومسٹ کے حالیہ تجزیے اور پاکستانی مؤقف کے درمیان فرق محض بیانیاتی نہیں بلکہ دو مختلف اسٹریٹجک فریم ورکس کی عکاسی کرتا ہے۔

دی اکانومسٹ نے اپنے مضمون میں بھارتی دعوؤں کو نمایاں کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بھارت نے پاکستان کے اندر مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا اور یوں درست حملوں کو کامیابی کا معیار بنا کر پیش کیا۔ اس زاویۂ نظر میں عسکری کامیابی کو تکنیکی مہارت، ہدف کی درست نشاندہی اور محدود وقت میں کارروائی کی تکمیل سے ناپا گیا۔ بظاہر یہ دلیل سادہ اور پرکشش محسوس ہوتی ہے، مگر یہی سادگی اس کی سب سے بڑی کمزوری بھی ہے، کیونکہ جنوبی ایشیا جیسے ایٹمی خطے میں تنازع کا وزن محض اہداف کی تباہی سے نہیں تولاجاتا۔

پاکستانی حکام اور متعدد علاقائی و بین الاقوامی تجزیہ کار اس جھڑپ کو ایک وسیع تر اسٹریٹجک تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اصل سوال یہ نہیں کہ کس نے کہاں حملہ کیا، بلکہ یہ ہے کہ کشیدگی کہاں تک بڑھی، کون سے سرخ خطوط عبور نہ ہو سکے اور کس حد تک دونوں ریاستیں ایک مکمل جنگ کی دہلیز سے واپس آئیں۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو پاکستان کا ردِعمل محض دفاعی نہیں تھا بلکہ ایک سوچا سمجھا پیغام تھا کہ محدود کارروائی کے باوجود توازنِ طاقت اور ڈیٹرنس برقرار ہے۔

یہاں یہ نکتہ نہایت اہم ہے کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کسی بھی جھڑپ میں کامیابی کا سب سے بڑا پیمانہ بحران کا نظم و ضبط ہوتا ہے۔ مئی 2025ء کے واقعات میں اگرچہ عسکری سطح پر تناؤ بڑھا، مگر وہ ایسی نہج تک نہ پہنچ سکا جہاں کنٹرول ختم ہو جاتا۔ یہ امر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دونوں فریقین، بالخصوص پاکستان، نے کشیدگی کو اس سطح پر روکے رکھنے کی صلاحیت دکھائی جہاں پیغام بھی دیا گیا اور جنگ کا دروازہ بھی بند رکھا گیا۔ یہی وہ پہلو ہے جسے اہداف کی تباہی پر مرکوز فریم ورک نظر انداز کر دیتا ہے۔

علاقائی عسکری تجزیے بتاتے ہیں کہ اس جھڑپ میں پاکستان نے اپنی دفاعی تیاری، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور ردِعمل کے وقت کو اس انداز میں استعمال کیا کہ بھارت کو یہ واضح پیغام ملا کہ محدود دراندازی یا حملے کے نتائج قابو میں نہیں رہیں گے۔ اس طرح کامیابی کا تصور صرف ایک فریق کی کارروائی تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک متوازن ردِعمل کے ذریعے اسٹریٹجک مساوات کو اجاگر کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ کئی مبصرین کے نزدیک یہ جھڑپ بھارت کے لیے اس قدر موافق نہیں تھی جتنا بعض مغربی تجزیوں میں ظاہر کیا گیا۔

سفارتی محاذ پر بھی تصویر یک رخی نہیں۔ جھڑپ کے فوراً بعد عالمی طاقتوں کا محتاط ردِعمل اس بات کی علامت تھا کہ بین الاقوامی برادری کسی ایک فریق کے بیانیے کو مکمل طور پر قبول کرنے کے بجائے کشیدگی میں کمی کو ترجیح دے رہی تھی۔ پاکستان کی جانب سے ذمہ دارانہ بیانات، بحران کو محدود رکھنے پر زور اور سفارتی چینلز کے ذریعے رابطے نے اس تاثر کو تقویت دی کہ اسلام آباد کا مقصد تصادم کو پھیلانا نہیں بلکہ ڈیٹرنس کو مؤثر بنانا تھا۔ اس کے برعکس اگر کامیابی کو صرف عسکری حملے کی بنیاد پر جانچا جائے تو یہ سفارتی پہلو پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

اس اختلافِ رائے کی اہمیت مستقبل کے لیے زیادہ تشویشناک ہے۔ اگر ایک فریق یہ مان لے کہ محدود اور درست حملے بغیر بڑے نتائج کے کیے جا سکتے ہیں، تو اگلی بار غلط اندازے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں بحرانوں کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ معمولی سمجھی جانے والی کارروائیاں بھی تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔ اس لیے اہداف کی تباہی کو کامیابی کا بنیادی پیمانہ ماننا دراصل تنازع کی نوعیت کو غلط سمجھنے کے مترادف ہے۔

مئی 2025ء کی جھڑپ نے ایک بار پھر یہ واضح کیا کہ میدانِ جنگ کی کارروائیاں کس طرح متضاد بیانیوں میں ڈھل جاتی ہیں۔ ایک طرف تکنیکی برتری اور درست حملوں کا دعویٰ ہے، تو دوسری جانب اسٹریٹجک توازن، ڈیٹرنس اور بحران کے نظم کی بات کی جا رہی ہے۔ ان دونوں تعبیرات میں فرق محض الفاظ کا نہیں بلکہ سوچ کا ہے۔ ایک سوچ فوری عسکری نتائج کو مرکز بناتی ہے، جبکہ دوسری دیرپا اثرات اور خطے کے استحکام کو۔

بالآخر اس تنازع سے نکلنے والا سبق یہی ہے کہ جنوبی ایشیا میں فتح کا تصور روایتی جنگی معیارات سے کہیں آگے جا چکا ہے۔ یہاں اصل کامیابی وہی ہے جو کشیدگی کو قابو میں رکھے، غلط فہمیوں کے امکانات کم کرے اور سفارتی راستوں کو کھلا رکھے۔ اگر عالمی تجزیے اس پیچیدگی کو نظر انداز کریں گے تو نہ صرف موجودہ بحران کی غلط تشریح ہوگی بلکہ مستقبل کے فیصلے بھی انہی غلط فریم ورکس کے اسیر رہیں گے۔ مئی 2025ء کی جھڑپ اس اعتبار سے ایک وارننگ بھی ہے اور ایک موقع بھی کہ خطے میں طاقت کے استعمال کو نئے اور زیادہ ذمہ دارانہ معیارات پر پرکھا جائے۔