حبیبِ لبیب جناب اسلم الوری سے ایک دن کسی نے پوچھ لیا: "مردم شماری کو مردم شماری کیوں کہا جاتا ہے؟ اس عمل میں تو خواتین بھی شمار کی جاتی ہیں"۔
الوری صاحب نے سوال سنتے ہی معاملہ ہماری طرف منتقل کردیا۔ کہنے لگے کہ "بھائی! ، تم ہی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟"
پوچھنے والے کو اُلجھن شاید اس وجہ سے ہوئی کہ مرد اور مردُم، دونوں الفاظ کو حضرت ہم معنی سمجھے بیٹھے تھے۔
نہیں صاحب! ایسا نہیں ہے۔ دونوں الفاظ ہرگز ہرگز ہم معنی نہیں۔ دونوں کے الگ الگ معانی ہیں۔
مَردُم، اسمِ جنس ہے۔ اس کا مطلب ہے انسان، یا آدم زاد، یعنی آدم کی اولاد۔ مردُم، کے معنوں میں مرد، عورتیں، بوڑھے، بچے، جوان اور نوجوان سب شامل ہیں۔ جہاں بھی لفظ مردُم، استعمال ہوتا ہے اس سے مراد عام لوگ یا تمام لوگ لیے جاتے ہیں۔ مثلاً جو شخص لوگوں سے دُور بھاگتا ہو وہ مردُم بیزار، کہلاتا ہے۔ جوآدمی دوسرے آدمیوں کو بے سبب یا عادتاً تنگ کرتا اور ستاتا ہو اُسے مردُم آزار، کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ انگریز سے ورثے میں ملی ہوئی نوکر شاہی میں ایسے لوگ بکثرت پائے جاتے ہیں۔ اگر آپ کی سمجھ میں مردُم آزار، کے معنی نہ آتے ہوں تو کسی خرانٹ نوکر شاہ، سے جا کر مل لیجے، مطلب فوراً سمجھ میں آجائے گا۔
جس خطے یا جس شہر میں عالم و فاضل اور لائق و فائق لوگ زیادہ پیدا ہوئے ہوں، اُسے مردُم خیز، خطہ یا مردُم خیز، شہر کہا جاتا ہے۔ حالاں کہ ہر خطہ اور ہر شہر مردُم پیدا کرنے میں خاصا خودکفیل ہوتا ہے۔ مردُم خیز، کے لفظی معنی ہیں "جہاں انسان بکثرت پیدا ہوں"۔
لیجے، مردُم کے ذکر پر ہمیں شیخ نذیرکے دو اشعار یاد آگئے۔ پہلا شعر غالباً بڑھاپے میں کہا گیا ہے۔ فرماتے ہیں:
اِس منزلِ ہستی پہ ٹھہرنا ہے مناسب
آگے تو خدا جانے سڑک ہے کہ نہیں ہے
سب مردُمِ مردان ہیں پنڈی میں فروکش
رستے میں وہ دریائے اٹک ہے کہ نہیں ہے؟
جو لوگ اچھے بُرے انسانوں کی پرکھ رکھتے ہیں وہ مردُم شناس، کہے جاتے ہیں۔ مردُم شناسی، کمیاب صفت ہے۔ جو اہل کار ملک بھر کے اچھے بُرے سب لوگوں کوگِن کرآبادی کے اعداد و شمار میں گڑبڑ کردیتے ہیں وہی مردُم شمار، سمجھے جاتے ہیں۔ مردُم شماری ایک ضرورتِ سرکاری ہے۔ شریر انسانوں کے ڈنک سے ڈسے ہوئے لوگ خود کو مردُم گزیدہ، کہتے ہیں جیسا کہ چچا اسد اللہ خان غالبؔ نے کہا:
پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسدؔ
ڈرتا ہوں آئینے سے کہ مردُم گزیدہ ہوں
مردُم، جمع مذکر ہے۔ تاہم اس کا اطلاق واحد پر بھی ہوتا ہے اور جمع پر بھی۔ شعورؔ پوچھتے پھرتے تھے:
کیوں آسماں پہ مردُمِ خاکی کا ہے دماغ
یہ لوگ رہنے والے گڑھی کے سرا کے ہیں
جب کہ سوداؔ نے اپنے جی میں ٹھان لی تھی کہ گھر میں بے کار پڑے پڑے اینڈنے والے تمام نکھٹو شہریوں کو کام پر لگا کر رہیں گے:
یہ جی میں آئی ہے یوں روئیے کہ مردُمِ شہر
گھروں سے پانی کو باہر کریں جھکول جھکول
ویسے مردُم آنکھ کی پُتلی کو بھی کہتے ہیں۔ پُتلی اگر چھوٹی ہو تو مردُمک، کہلاتی ہے۔ چچا غالبؔ ہی نے "چکنی ڈلی" (یعنی ثابت چھالیہ) کا قصیدہ لکھتے ہوئے اسے مردمک سے تشبیہ دینے کی (ناکام) کوشش کی تھی:
کیوں اسے گوہرِ نایاب تصور کیجیے
کیوں اِسے مردمکِ دیدۂ عنقا کہیے
کہنا یہ تھا کہ مردُم شماری، کا مطلب فقط مرد، شماری نہیں۔ اگر آپ ملک بھر میں صرف مرد شمار کرنے نکلیں گے تو بڑی مشکل میں پڑ جائیں گے۔ اس ملک میں مرد ہیں ہی کتنے؟ ہمیں تو اپنے حکمرانوں اور اپنے حکام میں بھی ایسا کوئی مرد یا مَردوں کا مرد نظر نہیں آتا جو مردانہ وار فیصلہ کرسکے کہ اب سے اس قوم کا ہر کام صرف قومی زبان میں ہوگا۔ ہم غلامی کے شکنجوں سے اپنے گلے کو، اپنے حلق کو، اپنے ذہن کو اور اپنی زبان کو آزاد کراکے پرائی زبان کی جگہ قومی زبان کو سربلند کریں گے۔ یوں قوم کا سر بھی ہم فخر سے بلند کردیں گے۔ ہے کوئی ایسا مرد؟
ہماری قومی زبان میں مرد، کا لفظ صرف خاوند، شوہر یا جنسِ ذکور کے کسی فرد ہی کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں سُورما، بہادر، شجاع اور دلیر شخص کے لیے بھی مرد، ہی کا لفظ بولا جاتا ہے۔ فارسی کی بڑی مشہور کہاوت ہے جو اُردو میں بھی بکثرت استعمال ہوتی ہے:
مشکلے نیست کہ آساں نہ شود
مرد باید کہ ہراساں نہ شود
"کوئی مشکل ایسی نہیں جو بالآخر آسان نہ ہوجائے۔ مرد وہ ہوتا ہے جو مشکل حالات سے ڈر نہیں جاتا"۔ دلیری اور جرأت کو دوسرے الفاظ میں مردانگی، کہا جاتا ہے۔ جواں مردی، بھی بہادری ہی کو کہتے ہیں۔ لوہے کی طرح مضبوط اعصاب کے مالک اور جرأت کے ساتھ فیصلے کرنے والا رہبر اپنی قوم کا مردِ آہن، قرار پاتا ہے۔ اپنے شعبے میں کامیاب اور فاتح شخص کو مردِ میدان، کہا جاتا ہے۔ بحرانوں سے کامیابی کے ساتھ عہدہ برآ ہوجانے والا شخص مردِ بحران، ہوتا ہے۔
آدمی اگر شریف ہو تو اُسے بھی مردِ آدمی، قرار دیا جاتا ہے۔ دیکھیے، سحر ؔ اپنی شرافت و نیک نامی کا دعویٰ اس طرح کرتے ہیں کہ
افشائے رازِ عشق کریں ان میں ہم نہیں
اِک مردِ آدمی کو نہ بدنام کیجیے
حوصلہ مند شخص کو بھی مرد، ہی قرار دیا جاتا ہے۔ مولانا الطاف حسین حالیؔ "حبِ وطن" کے موضوع پر اپنی طویل نظم میں اہلِ وطن کے حوصلے کو جھنجھوڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ
مرد ہو تو کسی کے کام آؤ
ورنہ کھاؤ، پیو، چلے جاؤ
کسی کو حوصلہ دلانے کے لیے اکثر کہا جاتا ہے کہ "مرد بنو مرد"۔ مگر مرد بننا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ حفیظ آزرؔ کہتے ہیں:
آزرؔ کچھ ہم پر ہی نہیں الزام شکستہ پائی کا
عشق کے نام پہ ہو جاتے ہیں اچھے اچھے مرد ہوا
ملک و قوم سے عشق کا دعویٰ کرنے والے تو بہت ہیں، مگر جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ استعماری زبان کی غلامی سے قوم کو آزاد کراؤ، تو یہ سنتے ہی ہراساں ہو کر ہوا ہوجاتے ہیں۔ اب آپ اُن سے لاکھ کہتے رہیے کہ "مرد باید کہ ہراساں نہ شود"۔ یا یہ کہ "میاں! مرد بنومرد"۔