وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی، اس کے بال الجھے ہوئے تھے اور آنکھیں نیند سے سرخ تھیں، دکان دار نے دکان کھولی اور اس کی طرف متوجہ ہوگیا، وہ تیزی سے کائونٹر کی طرف آئی اور بند مٹھی سے دس روپے نکال کر کائونٹر پر رکھ دیے، دکان دار نے نوٹ کی طرف دیکھا اور پوچھا، آپ کو کیا چاہیے، وہ دکھی آواز سے بولی، میں نے کل آپ سے سودا خریدا تھا، آپ نے مجھے بقایا دیا اور غلطی سے میرے پاس آپ کے دس روپے زیادہ آ گئے، میں یہ پیسے واپس کرنے آئی ہوں۔
دکان دار نے حیرت سے کائونٹر پر پڑے دس روپے دیکھے اور پھر عورت کی طرف دیکھا، وہ درمیانی عمر کی غریب لیکن پڑھی لکھی عورت تھی، دکان دار نے اس سے ہنس کر کہا، میری بہن میں حیران ہوں کل تم نے دس روپے کی رعایت کے لیے مجھ سے آدھ گھنٹہ بحث کی تھی لیکن اب دس روپے واپس کرنے آ گئی ہو، مجھے تمہاری سمجھ نہیں آئی، عورت نے اطمینان سے عرض کیا، رعایت مانگنا، بھائو تائو کرنا اور سستا سودا خریدنا میرا حق ہے لیکن لین دین میں آپ کی اضافی رقم میرے پاس آ جانا آپ کا حق ہے اور کسی کا حق مارنا ظلم اور زیادتی ہے، یہ رقم میرے اوپر حرام ہے۔
میرے مرحوم خاوند نے مجھے وصیت کی تھی تم نے اپنے بچوں کو حرام نہیں کھلانا، بچے اگر حرام کھائیں گے تو یہ حرام راستوں پر چلیں گے اور اس کا عذاب ہم دونوں پر ہوگا، میں یہ دس روپے اپنے پاس رکھ کر اپنے بچوں کے لیے حرام کا راستہ نہیں کھول سکتی، میں رات کو بھی آئی تھی لیکن اس وقت تک دکان بند ہو چکی تھی، مجھے رات بھر نیند نہیں آئی چناں چہ میں صبح صبح یہاں پہنچ گئی، آپ پلیز اپنی رقم رکھ لیں تاکہ مجھے اطمینان ہو سکے، دکان دار نے دس روپے اٹھا لیے، اس کا شکریہ ادا کیا اور روزمرہ کے کاموں میں لگ گیا لیکن یہ واقعہ اس کے ذہن میں چبھتا رہا۔
وہ بار بار سوچتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس عورت کو ایمان کی کتنی بڑی قوت سے نواز رکھا ہے جب کہ میں روز لین دین میں بے ایمانی کرتا ہوں اور میں پوری زندگی اپنے بچوں کو حرام کھلاتا رہا، میں کتنا بدبخت ہوں، دکان دار کو اس رات نیند نہیں آئی، وہ ساری رات کروٹیں بدلتا رہا یہاں تک کہ صبح ہوئی اور اس نے لین دین میں ایمان داری اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا، وہ اٹھا، جیب سے تین سو روپے نکالے اور گھر سے باہر نکل گیا، اس کی بیوی اسے روکتی رہ گئی، وہ بار بار کہہ رہی تھی آپ ناشتہ تو کرتے جائیں لیکن اس نے اس کی آواز پر توجہ نہیں دی، اسے محسوس ہو رہا تھا وہ عورت اگر دس روپے کے لیے صبح صبح منہ دھوئے بغیر میری دکان پر آ سکتی ہے تو میں کیوں نہیں؟
وہ تین چار گلیاں کراس کرکے سیدھا ایک دروازے پر گیا اور دستک دے دی، دروازہ نہیں کھلا، اس نے دوسری بار دستک دی تو درمیانی عمر کا ایک فربا شخص باہر نکلا، وہ دکان دار کو دروازے پر دیکھ کر حیران رہ گیا، دکان دار نے جیب سے سو سو کے تین نوٹ نکالے، اسے پکڑائے اور ہاتھ جوڑ کر بولا، بھائی صاحب میں آپ سے معافی چاہتا ہوں، آپ کل میری دکان پر سودا لینے آئے تھے، میں نے آپ کو تین سو روپے اوور چارج کیا تھا، ہمارے لڑکے روز گاہکوں کے بلوں سے تین چار سو روپے زیادہ چارج کرتے ہیں اگر کسی کو پتا چل جائے تو ہم معافی مانگ کر واپس کر دیتے ہیں ورنہ کھا جاتے ہیں۔
اس کا کہنا تھا میں یہ پریکٹس برسوں سے کر رہا ہوں، میرے نوے فیصد گاہکوں کو اس کا علم نہیں ہوتا لیکن میں نے آج سے یہ بند کر دی ہے، کل رات آپ آخری گاہک تھے جس سے ہم نے اوور چارج کیا، میں یہ رقم آپ کو واپس کرنے آیا ہوں، آپ یہ وصول کریں اور مجھے معاف کر دیں، وہ گاہک حیرت سے کبھی دکان دار کی طرف دیکھتا تھا اور کبھی ہاتھ میں پکڑے ہوئے تین سو روپے کی طرف، دکان دار خاموش ہوا تو گاہک نے پوچھا، تین سو روپے میرے اور تمہارے لیے بڑی رقم نہیں، تمہیں اس کے لیے صبح صبح آنے کی کیا ضرورت تھی؟
دکان دار نے اسے اس عورت کا واقعہ سنایا اور پھر کہا، وہ ایک غریب بیوہ عورت تھی، مجھ سے اس نے کبھی ہزار بارہ سو روپے سے زیادہ کا سودا نہیں خریدا وہ اگر اس غربت کے ساتھ اپنے بچوں کو حلال کا لقمہ کھلا رہی ہے، اسے اگر دس روپوں نے سونے نہیں دیا تو میں بہت گناہ کار ہوں، میں بڑے عرصے سے بے ایمانی کر رہا ہوں اور میں بے شمار لوگوں کے پیسے مار کر بیٹھا ہوا ہوں، میں اطمینان کی نیند کیسے سو سکتا ہوں؟ مجھے یہ سوچ سوچ کر بے چینی ہوتی رہی لہٰذا میں صبح صبح آپ کے پاس آ گیا، میں آج سے مختلف انسان ہوں، میں اپنے تمام گاہکوں سے معافی مانگوں گا اور مجھے جس کی جو رقم یاد آئی میں اسے واپس کردوں گا، گاہک نے اسے گلے لگایا اور وہ واپس چلا گیا۔
وہ گاہک سرکاری ملازم تھا، وہ روز تھوڑی بہت رشوت لیتا تھا اور یہ رقم گھر کے سودا سلف کے لیے استعمال کرتا تھا، وہ اس دن دفتر جاتے ہوئے راستہ بھر سوچتا رہا، میں اپنے بچوں کو مدت سے حرام کھلا رہا ہوں، یہ حرام کبھی نہ کبھی میرے سامنے آئے گا، میرے بچے جرائم پیشہ بن سکتے ہیں، یہ اگر نہ بنے تو یہ مجھے بڑھاپے میں اکیلا چھوڑ جائیں گے اور میں دربدر پھرتا رہوں گا اور اگر یہ بھی نہ ہوا تو میں اور میرے بچے کسی نہ کسی بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں، میں اللہ کا یہ عذاب کیوں پال رہا ہوں، یہ سوچ کر اسے شرم آنے لگی، وہ دفتر گیا اور اس نے اس دن سے رشوت نہ لینے کا فیصلہ کر لیا۔
اس نے گزشتہ روز اپنے ایک سائل سے لاکھ روپے میں سودا کیا تھا، وہ لاکھ روپے لے کر آ گیا، اس نے سب سے پہلے سائل کی فائل منگوائی، اس کا کام کیا اور پھر اسے لاکھ روپے واپس کرکے بولا، آپ کا کام جائز تھا، میں آپ سے معافی چاہتا ہوں، آپ کی رقم میرے لیے حرام ہے، میں اپنے بچوں کو حرام نہیں کھلانا چاہتا، آپ میرے لیے دعا کر دیجیے گا، سائل حیرت سے کبھی رقم کو دیکھتا تھا اور کبھی اس کی طرف، اس نے آخر میں وجہ پوچھی تو سرکاری ملازم نے اسے دکان دار اور غریب عورت کی کہانی سنا دی، سائل نے کہانی سن کر اس کے لیے دعا کی اور فائل اٹھا کر اپنے دفتر کی طرف روانہ ہوگیا۔
وہ چھوٹا سا بزنس مین تھا، اس کا ایک ہی بیٹا تھا اور وہ بھی پیدائشی معذور تھا، وہ سارا راستہ اس واقعے کے بارے میں سوچتا رہا، وہ جوں جوں سوچتا جاتا تھا اس کے ذہن میں اس کے مرحوم دوست کا خیال آ جاتا تھا، اس نے دوست سے پندرہ لاکھ روپے ادھار لیے تھے، وہ دوست اچانک فوت ہوگیا، اس رقم کے بارے میں کسی کو علم نہیں تھا لہٰذا یہ چپ رہا، اس کا خیال تھا اس کا دوست کروڑ پتی تھا۔
دس پندرہ لاکھ روپے اس کے خاندان کے لیے کوئی اہم رقم نہیں، دوسرا کسی نے اس کے انتقال کے بعد کلیم نہیں کیا تھا، وہ بے ایمان نہیں تھا لیکن اس کے باوجود اس نے سوچ رکھا تھا اگر دوست کے لواحقین میں سے کسی نے رقم کا مطالبہ کر دیا تو وہ اسے ادا کر دے گا لیکن جب تک خاموشی ہے اسے بھی خاموش رہنا چاہیے مگر اس دن اسے محسوس ہوا اس رقم کے بارے میں دو لوگ جانتے تھے، میرا مرحوم دوست اور میں، میرا دوست چلا گیا لیکن میں تو زندہ ہوں اور مجھے وہ رقم یاد بھی ہے تو پھر دنیا میں مجھ سے برا کون ہوگا؟
دوسرا یہ پندرہ لاکھ میرے لیے بڑی رقم بھی نہیں، مجھے اللہ تعالیٰ نے بہت کچھ دے رکھا ہے اور اگر میں یہ رقم بچا بھی لوں گا تو مجھے کیا فائدہ ہوگا؟ میرا ایک ہی بیٹا ہے اور وہ بھی معذور ہے، میں یہ گناہ کس کے لیے کر رہا ہوں، وہ سیدھا بینک گیا، پندرہ لاکھ روپے نکالے اور اپنے مرحوم دوست کی فیملی کو تلاش کرنا شروع کر دیا، وہ پہلے اس کی کوٹھی پر گیا، پتا چلا کوٹھی پر مرحوم دوست کے بھائی نے قبضہ کر لیا ہے اور دوست کی بیوہ بچے لے کر کسی دوسرے محلے میں شفٹ ہوگئی ہے، وہ اس محلے میں گیا تو معلوم ہوا بیوہ چند ماہ اس گھر میں رہی لیکن زیادہ عرصہ کرایہ نہیں دے سکی چناں چہ وہ کچی آبادی میں شفٹ ہوگئی۔
وہ اسے تلاش کرتا ہوا وہاں چلا گیا، اس نے وہاں کچی گلیاں، گندی نالیاں اور ٹوٹے پھوٹے مکان دیکھے تو اسے بہت افسوس ہوا، اس کا دوست بہت خوش حال تھا، اس نے بیوی بچوں کو بہت سکھی رکھا ہوا تھا لیکن قسمت کے پھیر کی وجہ سے دوست کے بیوی بچے خوار ہو کر رہ گئے، وہ مشکل سے مکان تلاش کرتا ہوا بیوہ تک پہنچا، وہ عورت دو کمرے کے مکان میں رہ رہی تھی، سکول میں پڑھاتی تھی اور تنگی کے ساتھ بچے پال رہی تھی۔
وہ جب اس کے صحن میں داخل ہوا تو خاندان کی حالت دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ دوست کی بیگم کے پائوں میں بیٹھ کر رونے لگا، وہ بھی رو رہا تھا اور بیوہ بھی، وہ دیر تک روتے رہے، اس کی حالت ذراسی سنبھلی تو اس نے 15 لاکھ روپے اس کے حوالے کیے، سارا قصہ سنایا، اس سے اپنی کوتاہی بلکہ بے ایمانی پر معافی مانگی اور اسے بتایا میں نے یہ رقم کاروبار میں لگائی تھی، مجھے اس سے کروڑوں روپے کا فائدہ ہوا تھا، آپ لوگ بھی اس فائدے کے حصہ دار ہیں، میں ٹرک لانے جا رہا ہوں، آپ سامان باندھیں، آپ میرے گھر شفٹ ہو رہے ہیں، آپ لوگ میرے پاس رہیں گے، بیوہ عورت روکتی رہ گئی لیکن وہ ٹرک لینے چلا گیا۔ آپ یقیناََ سوچ رہے ہوں گے یہ بیوہ عورت کون تھی؟ یہ عورت وہی گاہک تھی جو دس روپے واپس کرنے کے لیے صبح صبح اس دکان دار کی دکان پر گئی تھی اور یہ ایمان داری کے اس دس روپے کا بٹر فلائی افیکٹ تھا۔
بہ شُکریہ: جاوید چوہدری ڈاٹ کام