Friday, 02 October 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Tayeba Zia
  4. Aye Makkah Tu Gawah Hai

Aye Makkah Tu Gawah Hai

مکہ مکرمہ کا دورِ نبوت اسلامی تاریخ کا وہ دردناک اور صبر آزما دور تھا جہاں نبی کریم ﷺ اور ان کے صحابہ کرام کو دینِ اسلام کی دعوت کی پاداش میں سخت ترین مصائب اور مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ قریشِ مکہ نے دعوتِ حق کو دبانے کے لیے ہر ممکن تشدداور معاشی و سماجی طریقہ اپنایا۔ جب آپﷺ خانہ کعبہ میں نماز ادا فرما رہے ہوتے تو قریش کے بدبخت ان پر نجاست یا اوجھڑی پھینک دیتے۔

ایک بار عقبہ بن ابی معیط نے حالتِ نماز میں آپ ﷺ کی گردن میں چادر ڈال کر اس زور سے کھینچی کہ آپﷺ کا دم گھٹنے لگا جس پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے آگے بڑھ کر آپ ﷺ کو بچایا اور فرمایا: "کیا تم ایک شخص کو صرف اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے؟" ابو لہب کی بیوی ام جمیل آپﷺ کی گزرگاہوں میں رات کو خاردار جھاڑیاں اور کانٹے بچھایا کرتی تھی۔ آپ ﷺ جب بھی مکہ کی گلیوں سے گزرتے یا اپنے گھر میں ہوتے تو ان پر گندگی اور کوڑا پھینک کر زدوکوب کرنے کی کوشش کی جاتی۔

قریش نے آپ ﷺ کو نعوذ باللہ "مجنوں"، "شاعر"، "جادوگر" اور "کاہن" جیسے القابات سے پکارا اور راستوں میں صف بندی کرکے آپﷺ پر آوازے کسے جاتے تاکہ عوام الناس آپ کی بات نہ سنیں۔ جب آپ ﷺ کے فرزند حضرت قاسم اور حضرت عبداللہ کا بچپن میں انتقال ہوا تو عاص بن وائل اور دیگر کفار نے آپ ﷺ کو "ابتر" (جس کی نسل ختم ہو جائے) کا طعنہ دیا، جس پر سورۃ الکوثر نازل ہوئی۔ آپ ﷺکے اپنے سگے چچا ابو لہب نے نہ صرف آپ کی کھل کر مخالفت کی بلکہ اپنے بیٹوں (عتبہ اور عتیبہ) کو پابند کیا کہ وہ آپ ﷺ کی صاحبزادیوں (حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم) کو طلاق دیں۔

قریش نے نبی کریم ﷺ کو تو ان کے چچا ابو طالب کی حمایت کی وجہ سے کسی حد تک سیدھے قتل سے روکے رکھا، لیکن بے سہارا اور غریب صحابہ کرام پر مظالم کی انتہا کر دی: حضرت بلال حبشی ؓ: ان کے مالک امیہ بن خلف نے ان کی گردن میں رسی ڈال کر بچوں کے حوالے کر دیا اور دوپہر کی سخت گرمی میں مکہ کی دہکتی ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیا جاتا تھا، مگر ان کی زبان پر صرف "َاحَد، اَحَد" کا نعرہ رہتا۔ حضرت یاسر، ان کی زوجہ حضرت سمیہ اور ان کے بیٹے حضرت عمار بن یاسر ؓم پر دلخراش مظالم ڈھائے گئے۔ حضرت سمیہؓ کو ابو جہل نے نیزہ مار کر شہید کر دیا، جو اسلام کی پہلی شہید بنیں۔ حضرت خباب بن الارت ؓ: ان کو دہکتے

ہوئے کوئلوں پر ننگی پیٹھ لٹایا جاتا تھا یہاں تک کہ ان کی پیٹھ کی چربی سے کوئلے بجھ جاتے تھے۔ نبوت کے ساتویں سال قریش کے تمام قبیلوں نے مل کر بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کا مکمل معاشی اور سماجی بائیکاٹ کر دیا۔ آپ ﷺ اور آپ کا خاندان (بشمول مسلم و غیر مسلم رشتہ دار جنہوں نے حمایت کی) شعب ابی طالب (ایک گھاٹی) میں تین سال تک محصور رہے۔ اس دوران وہاں غلہ اور پانی پہنچنا بند کر دیا گیا۔ مسلمانوں کو درختوں کے پتے اور خشک چمڑا چبا کر دن گزارنے پڑے۔ بھوک سے بچوں کی چیخ و پکار کی آوازیں گھاٹی سے باہر سنائی دیتی تھیں۔

نبوت کے دسویں سال، حضرت ابو طالب اور ام المؤمنین حضرت خدیجہؓ کے انتقال (عام الحزن) کے بعد آپﷺ نے دعوتِ حق کے لیے طائف کا سفر کیا۔ طائف کے سرداروں نے نہ صرف دعوت رد کی بلکہ آوارہ لڑکوں اور اوباشوں کو آپﷺ کے پیچھے لگا دیا۔ انہوں نے آپ ﷺ پر اس قدر پتھراؤ کیا کہ آپ کا جسم اطہر خون سے لہولہان ہوگیا اور جوتے مبارک خون سے بھر گئے۔ اس حالت میں بھی جب پہاڑوں کے فرشتے نے ان پر پہاڑ الٹنے کی اجازت مانگی، تو رحمتِ عالمﷺ نے فرمایا: "مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کریں گے"۔

جب اسلام مکہ سے باہر مدینہ میں پھیلنے لگا تو قریش نے "دار الندوہ" میں اجلاس بلا کر تمام قبیلوں کے نمائندوں کے ذریعے نبی کریم ﷺ کو نعوذ باللہ یکمشت قتل کرنے کا حتمی منصوبہ بنایا۔ آپ ﷺ کے گھر کا گھیراؤ کر لیا گیا، جس کے بعد اللہ تعالی کے حکم سے آپ ﷺ نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ ان تمام تر مظالم، جسمانی اذیتوں، بھوک اور ہجرت کے دکھوں کے باوجود، رسول اللہﷺ نے صبر، حکمت اور معافی کا وہ عالمگیر اسوہ قائم فرمایا جس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ جس کا عروج فتحِ مکہ کے موقع پر عالمگیر عمومی معافی کے اعلان کی صورت میں سامنے آیا۔